Al-Risala · December 1976

مطالعہ

Al-Risala, December 1976, pp. 11–14

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر عبد العلیم (۱۹۰۵ء - (1905-1976) نے برلن کے یہودی اور مسیحی پروفیسروں کے مشورہ سے ایک انگریزی یہاں تک کہ چوتھی صدی ہجری کے آخر تک وہ جامد عقیدہ عوامی نفسیات ہے کہ بے بنیاد افواہیں وقت گزرنے کے بعد تاریخ کا جزو بن جاتی ہیں، اسی طرح یہ مقالہ لکھا تھا۔ اس کا موضوع تھا "قرآن کا اعجاز"۔ یہ مقالہ ۱۹۳۶ میں کتابی شکل میں شائع ہوا تھا۔ یہی وہ مقالہ ہے جس پر برلن یونیورسٹی نے موصوف کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی۔ اگرچہ یہ مقالہ علمی اعتبار سے اتنا ہلکا ہے کہ اس کو مقالہ کے بجائے محض ایک بیان کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔

مصنف کا کہنا ہے کہ قرآن کے اعجاز کا عقیدہ محض ایک اذعانی عقیدہ ( Dogma ) ہے ۔ پورے مقالہ میں خود ان کے اپنے عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ملتی۔ مقالہ کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن محمد کے اپنے مذہبی تجربات کا ایک اظہار ہے۔ ایک امی کی زبان میں ایک کلام کا تیار ہونا عقیدہ بھی تاریخ اسلامی کا جزو بن گیا۔

راقم الحروف کے لئے ناقابل فہم ہے کہ منورجہ بالا قسم کی کوئی بات کس طرح یہ ثابت کرتی ہے کہ قرآن ایک انسانی کتاب ہے اور اس کے اس چیلنج کی کوئی حقیقت نہیں کہ اس کے جیسی کتاب کوئی نہیں بنا سکتا۔ مصنف کو اعتراف ہے کہ ” ایک امی کی زبان سے غیر معمولی طور پر ایک طاقت در کلام صادر ہوا ۔ کہ اس غیر معمولی واقعہ کی کوئی توجیہہ ہونی چاہئے۔ انسانی دائرہ میں اس کی کوئی توجیہہ موجود نہیں ہے تو اس کے بعد دوسرا مفروضہ یہی ہو سکتا ہے کہ یہ غیر انسانی ذہن سے نکلا ہوا کلام ہے ۔ اس کے سوا کوئی اور توجیہہ نہ ممکن ہے اور نہ مصنف کے فدویانہ تکرار میں کوئی کشش کی مادہ ہے۔ زبان کے لحاظ در زبان میں ایک کلام کا معیار ہوتا قدیم عرب میں ایک انوکھا واقعہ تھا۔ ان حالات میں یہ بات چل پڑی کہ یہ خدائی کلام ہے اور ایسا کلام کوئی بنا نہیں سکتا۔ قرآن کے چیلنج کے جواب میں کسی نے دوسرا قرآن بنانا چاہا تو اس کو کچل دیا گیا اور اس کے بنائے ہوئے کلام کو بھی مٹا دیا گیا ۔ اسود عنسی کے صرف ایک دو فقرے تاریخ میں باقی رہے ۔ ابن مقفع کی بنائی ہوئی کچھ آیتیں ملتی ہیں۔ مگر وہ اتنی معمولی ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان نے خود ساختہ فقرے مذاق کے طور پر بنا کر ان کی طرف سے مشہور کر دیئے ۔ قرآن کو معجزہ سمجھنے کا یہ سلسلہ جاری رہا Dr. Abdul Aleem Aligarh, 1936, pp. 54 اور نہ مصنف کے پوری کتاب میں، کہیں پیش کیا ہے ۔ لوگوں کا بنایا ہوا قرآن، مصنف کے دعوے کے مطابق اگر ضائع کیا گیا ہو تو یہ واقعہ بہر حال دور اقتدار میں ہوا ہو گا ۔ اسلام کے اقتدار میں آنے سے پہلے ۲۰ سال تک قریش نے اور مخالف عربوں اور یہودیوں نے یہ کام کیوں نہ کیا۔ انھوں نے پیغمبر اسلام کو زیر کرنے کی تمام ممکن صورتیں اختیار کیں ۔ مگر یہی ایک تدبیر نہ کی کہ قرآن کے چیلنج کے مطابق قرآن جیسا ایک کلام بنا کر پیش کر دیتے ۔ حالاں کہ آپ کو زیر کرنے کا یہ سب سے آسان طریقہ تھا ۔ اور بالفرض کسی وجہ سے ماضی کے نادان مخالف اس ممکن تدبیر کو اختیار نہ کر سکے تو آج عربی زبان کے بے شمار ماہرین دنیا میں موجود ہیں، جو ڈاکٹر عبدالعلیم صاحب کی طرح قرآن کے انسانی کلام ہونے کے مدعی ہیں، انھیں

کیا چیز روک رہی ہے کہ وہ ایسا کلام بنا کر دنیا کے سامنے اس طرح وہ اپنے دعوے کو زیادہ بہتر طور پر ثابت کر سکیں گے۔

تاہم زیر نظر کتاب کے صفحہ 11 پر اس کی ایک چھوٹی سی مثال موجود ہے۔ قرآن کی آیت لایا تون بمثلہ (بنی اسرائیل - (۴۸) کے مفہوم کو مصنف نے اپنے طور پر یعجزون عنہ کے لفظوں میں لکھا ہے عربی جاننے والوں کے لئے انھیں دونوں فقروں کا تقابل قرآن کے دعوے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کیسی عجیب بات ہے، انسان اس ایک فقرے کے مانند بھی کوئی فقرہ وضع نہیں کر سکتا کہ " وہ ایسا قرآن بنا کر نہ لاسکیں گے ، پھر بھی اس کو اصرار ہے کہ قرآن کوئی ادبی معجزہ نہیں۔ سائنسی دور میں اس سے زیادہ غیر سائنسی موقف کی کوئی دوسری مثال نہیں ملے گی ۔

وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے جو ۔

چوتھی صدی ہجری کے آخر میں جب اسپین میں طوائف الملوکی شروع ہوئی اور صوبوں کے گورنر مرکز سے بغاوت کرنے لگے تو چھوٹی چھوٹی بہت سی آزاد حکومتیں بن گئیں۔ مثلاً قرطبہ میں بنو حمود، اشبیلیہ میں بنو عباد، بطلیوس میں ابن افطس، وغیرہ ۔ اشبیلیہ میں بنو عباد کی حکومت ۱۳۵۲ھ میں قائم ہوئی اور ۸۰ برس رہ کر ختم ہوگئی ۔ یوسف بن تاشفین نے جب اسپین پر چڑھائی کی تو اس کا آخری فرماں روا معتمد بن عباد اشبیلیہ کے تخت پر تھا۔ میں اس نے معتمد کو گرفتار کر لیا اور اس کو مراکش کے ایک مقام اغماث میں قید کر دیا۔ چار سال قید میں رہ کر وہ ۱۴۴۸ھ میں مرگیا معتمد بن عباد جس زمانہ میں قید میں تھا ، عید کے دن اس کی لڑکیاں اس سے ملنے کے لئے آئیں، اس وقت اس کے غم انگیز تاثرات اشعار کی صورت میں ڈھل گئے ۔ چند اشعار یہ ہیں : فيما مضى كنت بالاعياد مسرورا - فساءك العيد في اغمات مأسورا ترى بناتك في الاطمار جائعـة - يغزلن للناس ما يملكن قطميرا يطأن في الطين والاقدام حافيـة - كانها لم تطأ مسكا وكافورا قد كان دهرك ان تامره امتثلا - فرادك الدهر منهيا و مامورا من بات بعدك في ملك يسرُ بـه - فانما بات بالاحلام مغرورا ماضی میں تو خوشی کے ساتھ عید مناتا تھا، مگر آج اغمات کے قید میں تیرے لئے عید کی کوئی خوشی نہیں ۔ تو اپنی بیٹیوں کو دیکھ رہا ہے کہ وہ بھوکی، پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ وہ لوگوں کے لئے سوت کاتتی ہیں اور ان کے پاس کچھ بھی نہیں۔

وہ کیچڑ میں ننگے پاؤں چلتی ہیں، گویا کہ ان پیروں نے کبھی مشک اور کافور کو روندا ہی نہیں ۔ ایک وقت وہ تھا کہ زمانہ تیرے حکم کا تابع تھا، آج زمانہ نے تجھ کو محروم و محکوم بنا دیا ہے۔ تیری اس حالت کو دیکھنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص حکومت پر خوش ہوتا ہے تو وہ خوابوں کے فریب میں مبتلا ہے۔

دبی خلیج فارس کی چھوٹی سی ریاست ہے۔ کی آبادی صرف دو لاکھ ہے۔ تاہم وہ تیل کی دولت سے مالامال ہے۔ دبئی کے شیخ نے منصوبہ بنایا کہ اپنے شہریوں کی رہائش کا انتظام کرنے کے لئے ۲۰۰ مکانا ت ہر مکان کا تعمیری رقبہ ۲۵۰ مربع میٹر ہوگا۔ مختلف ملکوں میں اشتہار دیئے گئے۔ سے تعمیری ٹھیکہ داروں نے اپنی اپنی درخواستیں بھیجیں حتیٰ کہ ان کے نقشوں اور حسابات اور سامان تعمیر کے نمونوں سے کئی بڑے بڑے کمرے بھر گئے ۔ مزاج شیخ کو محسوس ہوا کہ محض نقشوں اور سامانؤں کو دیکھ کر ان کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ نے کہا کہ آپ مطلوبہ گھر کا ایک نمونہ بنا کر دکھائیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ کس حد تک وہ ہمارے معیار کے مطابق ہے اور ہماری ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے۔ یہ شرط ٹھیکیداروں کو منظور نہ تھی۔ چلے گئے ۔ ان کو محسوس ہوا کہ نمونہ کا گھر بنا کر دکھا نے قرآن ، درسیات اور ہر قسم کی کتابیں کسی بھی ادارہ کی چھپی ہوئی اردو، ہندی ، انگریزی اور دوسری زبانوں میں ہم سے طلب کیجئے رسالہ بک ڈپو ۱۰۳۶ کشن گنج دہلی ۶

سے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی درخواست کو واپس لے لیں ۔ تاہم پونا ( مہاراشٹر ) کا ایک ہندوستانی انجینئر ہمت نہیں ہار ا ۔ اس نے کہا : میں آپ کی مطکوبہ شرط کو پورا کروں گا ۔ اس نے شیخ کو بتایا کہ دبئی میں وہ جس قسم کے مکانات چاہتے ہیں ، ویسے ہی کئی مکان اس نے مہاراشٹر میں بنائے ہیں ۔ یہ مکانات سیمی ائیر کنڈیشینڈ وہ خواہ صحرا میں کیوں نہ ہوں ان کے اندر کا درجہ حرارت باہر کی فضا سے دس درجہ سنٹی گریڈ کم ہوتا ہے ۔ اس کے برعکس سردیوں میں ان کا درجہ حرارت باہر کی فضا سے دس درجہ سنٹی گریڈ زیادہ ۔ باوجود ان کا تعمیری خرچ عام مکانات سے تقریباً ۱۰ فی صد کم ہوگا ۔

ہندوستانی انجینئر مسٹر یوایو راؤ جی ۔ شر کے نے پیش کش کی آپ اپنے قابل اعتماد افسروں کی ایک ٹیم میرے ساتھ بھیجے ۔ وہ پونا میں چھ کارخانوں کے اندر بنے ہوئے ہمارے مکانات کو دیکھیں ۔ اس نے مزید کہا ان کا سفر خرچ ہمارے ذمہ ہوگا۔

اس پیش کش کے مطابق دبئی کے افسروں کی ایک ٹیم ہندوستان آئی ۔ اس نے یہاں کے مکانات کو دیکھا اور واپس جا کر شیخ کو اس کی رپورٹ پیش کی ۔ ۱۹2۷ء کو یہ ٹھیکہ ہندوستانی فرم لو مل کیا ۔ تخمینہ کی رقم ۵٫۷ کروڑ روپے ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ ظاہر حالات ہمیشہ اضافی ہوتے ہیں ۔ جہاں لوک نا امید ہو چکے ہوں ، وہاں بھی امید کی ایک صورت موجود رہتی ہے۔ استعمال کرنے والا اس کو استعمال کرنا جانتا ہو۔ کا لفظ ، بقول نپولین صرف بیوقوفوں کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے مہا بھارت سے موت کے بعد آدمی سورگ یا نرک میں چلا جاتا ہے وہ دوبارہ اس دنیا میں واپس نہیں آتا۔

"آدمی تپ اس لوگ میں کرتا ہے اور پھل دوسرے لوک میں پاتا ہے"

Printed page