Al-Risala · December 1976

تاج محل کو دیکھ کر

Al-Risala, December 1976, pp. 15–21

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ مرنے والوں کی یادگاریں کھڑی کرتے رہے حالاں کہ وہ زندوں کی دنیا بھی تعمیر کر سکتے ہر وہ شخص جس نے "تاج محل" کا نام سنا ہے ، میل تیزی سے گزر کر بتاتا کہ اب منزل کچھ اور قریب آگئی ہے۔ اس کے دل میں سنگ مرمر کی اس تاریخی یادگار کو دیکھنے شام کے تین بجے ہم آگرہ میں داخل ہو گئے " اب کا چھپا ہوا شوق ہنوز موجود رہتا ہے۔ ۱۶ جولائی ہم تاج کے شہر میں آ گئے ہیں"، یہ احساس میرے دل کی کو میرے لئے وہ "تاریخ آئی" جب کہ میں اپنے دھڑکنیں تیز کر رہا تھا۔ مگر شہر کی زندگی مجھے معمول کے بڑے بھائی کے ساتھ دہلی سے آگرہ کے لئے روانہ ہوا۔ مطابق دکھائی دی ۔ لوگ اپنے اپنے کام میں اسی طرح تارکول کی چکنی سڑک پر ہماری گاڑی چالیس میل کی رفتار مشغول تھے جیسے ہر شہر میں ہوا کرتے ہیں ، جیسے یہ بات سے بھاگتی چلی جارہی تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں ایک سنگ انھیں یاد ہی نہ ہو کہ وہ ایسے شہر میں ہیں جہاں دنیا کا ایک مغربی سیاح ہندوستان آیا اور ملک کی دوسری یادگار چیزوں کے ساتھ تاج محل کو بھی اس نے خاص طور پر دیکھا۔ بعد اس نے اپنا جو سفر نامہ شائع کیا، اس میں لکھا تھا: "تاج محل کے دونوں طرف دو مسجدیں ہیں"۔

ظاہری مشاہدہ کے اعتبار سے اس کی بات صحیح تھی۔ کے اعتبار سے صحیح نہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ تاج محل کے پہلو میں صرف ایک مگر عمارتی توازن قائم رکھنے کے لئے یہ کیا گیا ہے کہ مسجد کے مقابل سمت میں ٹھیک اسی شکل کا ایک اور ڈھانچہ کھڑا کر دیا ہے۔ دوسری عمارت مسجد نہیں ہے۔ اگر چہ بظاہر دیکھنے والے کو وہ مسجد ہی نظر آتی ہے یہ واقعہ اس دور کی ایک یادگار ہے جب کہ عمارتوں میں توازن و تناسب کو ضروری سمجھا جاتا تھا۔ اب مغربی ذوق نے اس کے برعکس طرز تعمیر کو ساری دنیا میں رواج دے دیا ہے ۔

قدیم طرز تعمیر میں دو طرفہ توازن اور یکسانی عمارتی حسن کا ضروری جزو اب عدم توازن اور عدم یکسانیت کسی عمارت کے حسن کے لئے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ تعمیری یکسانی کی جگہ تعمیری عدم یکسانی نے لے لی ہے۔ اس تصویر میں اوپر تاج محل ہے۔ نیچے جدید وضع کی کئی منزلہ عمارت

سب سے بڑا عمارتی عجوبہ کھڑا ہوا ہے۔ تاج محل کے سامنے پہنچا تو آنے جانے والے زیادہ تر بیرونی سیاح تھے۔ "تاج شاید صرف ان لوگوں کے لئے تاج ہے" میں نے سوچا" جنھوں نے ابھی تاج کو دیکھا ہو۔ جس نے ایک بار تاج کو دیکھ لیا ہو، اس کے لئے تاج کی کوئی اہمیت نہیں۔ تاج محل شاہ جہاں (۱۶۵۸-۱۶۳۲) نے بنوایا تھا۔ یہ شاہ جہاں کی بیگم ممتاز محل کا مقبرہ ہے جو ۱۵۹۲ میں ١٤١٢ میں نکاح ہوا۔ شاہجہاں سے اس کا ارچودہ پیدا ہوئی ۔

بچوں کی پیدائش کے بعد 1631میں اس کی وفات ہوگئی۔ تاج محل کی تعمیر 1631میں شروع ہوئی اور 1653 میں وہ بن کر تیار ہوا۔ پہلے اس میں ممتاز محل دفن کی گئی تھی۔ اس کے بعد جب شاہجہاں کی وفات ہوئی تو اس کو بھی اس کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ دونوں کی قبریں ساتھ ساتھ ایک تہ خانہ کی سی غیر جاذب کوٹھری میں بنی ہوئی ہیں اور اس کے اوپر وہ عظیم الشان عمارت ہے جو تاج محل کے نام سے

"تاج محل کو دیکھ کر مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ برس میں بن کر تیار ہونے والی یہ عمارت بلا شبہ آرٹ کا ایک نمونہ ہے۔ مگر کاش وہ تعمیر اسلام کا ایک نمونہ نہ ہوتا۔ ایک عورت کی قبر کے لئے اتنی عظیم الشان عمارت کھڑی کی گئی ہے، حالاں کہ انھیں پتھروں سے ایک عظیم ملی ادارہ بھی بنایا رشید رضا مصری ستر برس پہلے ہندوستان آئے تو انھوں نے کہا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کی سلطنت ایک ہزار برس تک رہی، مگر یہاں شاہی دور کی کوئی بڑی درس گاہ نہیں۔ مگر جن لوگوں کو قبر گاہ بنانے سے دل چسپی ہو، وہ ملت کی زندگی کے لئے درس گاہ کب تعمیر کر سکتے تھے ایک شاعر دو گھنٹہ تک قلم کا غذ میں مشغول رہ کر ایک عدد غزل“ کا خالق بن سکتا ہے مگر ایک زندہ اور مؤثر کتاب اسی وقت وجود میں آتی ہے جب کہ برسوں تک اس کے لئے علمی اور تحقیقی جد وجہد کی گئی ہو۔

ایک بہت بڑے شاعر کو میں نے ایک بار دیکھا۔ وہ ایک غزل لکھ رہے تھے۔ غزل کا آخری لفظ تھا : ”انساں بنا دیا "۔ میں نے دیکھا کہ کاغذ کے کنارے انھوں نے بہت سے ہم وزن الفاظ لکھ رکھے ہیں۔ چمنستاں، زنداں، خموشاں، ویراں، بہاراں وغیرہ۔ ان الفاظ کو ذہن میں رکھ کر مضامین سوچتے ہیں اور جب لندن کے اخبار ٹائمز میں اشتہار دیا کہ جن لوگوں نے م. ب. ۱۹ کے درمیان ہندوستان میں کام کیا ہے وہ اپنے پتے سے ہم کو مطلع کریں۔ جواب میں ان کو دو ہزار انھوں نے ان تمام لوگوں کے پاس اپنی ٹیم بھیج کر انٹرویو لئے اور رپورٹ تیار کی۔ ہندوستان، پاکستان اور برطانیہ کے تین سفر کئے اور مختلف کوئی مضمون اس ردیف و قافیہ میں ڈھل جاتا ہے تو اسے بچاسنے کا غذ پر لکھ لیتے ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ دو گھنٹے کے بعد وہ اس پوزیشن میں تھے کہ مشاعرہ میں یہ کہہ سکیں کہ: "تازہ غزل حاضر ہے"

میں نے پزندگ شاعر سے کہا: آپ کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی صلاحیت دی ہے۔ آپ اردو، عربی، فارسی جاننے والوں سے مل کر بارہ ہزار انٹرویو تیار کئے ۔ تحقیق اور دستاویزات اور انٹرویو کے کاغذات کا وزن ایک ٹن سے زیادہ تھا۔ مگر ان کے فرانس کے دفتر میں ان کو اس طرح ترتیب سے رکھا گیا تھا کہ ان کی خاتون سیکرٹری کسی مخصوص کاغذ کو صرف ایک منٹ میں نکال سکتی تھی ۔ اب انھوں نے کتاب لکھنا شروع کی۔ اور انگریزی زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ آپ کو تو نثْر کی چیزیں لکھنی چاہئیں ۔ اس قسم کی شاعری آپکے شایانِ شان نہیں " انھوں نے جواب دیا : تم سچ کہتے ہو۔ مگر نثْر میں لکھنے کے لئے مطالعہ اور تحقیق کی ضرورت ہے اور وہ مجھ سے ہوتی نہیں۔ اگر مطالعہ اور تحقیق کے بغیر نثر لکھوں تو ایک پارہ ادب ضرور تیار ہو جائے گا۔ ایسی کوئی کتاب نہیں بن سکتی جس کی آج کی دنیا میں قدر و قیمت ہو۔

یہ شعر کی مثال تھی ۔ اب دیکھئے کہ ایک " کتاب" کس طرح لکھی جاتی ہے ۔

ایک امریکی لاری کولنس (Larry Collins)

اور فرانسیسی ڈومینیک لپیری Dominique Lapierre نے مل کر ہندوستان کی آزادی پر ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے : " نصف شب کی آزادی " اس کتاب کی تیاری میں ان کے چار سال سے زیادہ لگے۔

۳۰ سال پہلے وہ کہتے تھے کہ ہمارے کارخانوں کی چمنیاں جب تک دھواں اگل رہی ہیں، ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں۔ مگر آج یہ بڑھتا ہوا دھواں ان کی زندگی کے لئے خطرہ بن گیا ہے۔ ڈوئس برگ (Duisburg) مغربی جرمنی کا ایک شہر ہے جو ملک کی لوہے کی صنعت کا مرکز ہے۔ جرمنی کی لوہے کی پیداوار کا ایک تہائی حصہ یہیں تیار

دوسری جنگِ عظیم کے زمانے تک یہاں کے لوگ کہا کرتے تھے کہ ہماری چمنیاں جب تک دھواں اگل رہی ہیں، ہمارے لیے کوئی مسئلہ مسئلہ نہیں۔ مگر آج اس علاقہ میں پیسہ کی بہتات کے باوجود " دھواں " عظیم ترین مسئلہ بن گیا ہے ۔ کیونکہ اس نے فضائی کثافت " کا خطرہ ایک افسر نے کہا :

ہم و کس ویگن پر قانع رہ کر زیادہ لمبی زندگی حاصل کرنا پسند کریں گے یا مرسیڈیز حاصل کر کے پہلے ہی مر جائیں گے یورپ کی مادی ترقی آج خود اپنے ہی ہاتھوں شکست کھا رہی ہے ۔

ڈاکٹر رینے ڈوبوز (Rene Dubos)

راک فلر یونیورسٹی نیو یارک میں انوائرنمنٹل بائیو میڈیسن پیدا کر دیا ہے۔ ڈوئس برگ مغربی جرمنی کی دو ندیوں کے مقام اتصال پر واقع ہے اس لئے وہ ایک آئیڈیل صنعتی کیونکہ دریاؤں کی وجہ سے نقل و حمل نہایت سستی قیمتوں پر ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شہر کے صدر (Environmental Biomedicine)

انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے : So Human an Animal ڈاکٹر موصوف نے امریکی رسالہ لائف (۲۲ جولائی ۱۹۶۰ء) کو زبردست ترقی حاصل ہوئی ۔ یہاں چمنیوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی رہی ۔ مگر دھوئیں کے اضافہ نے یہاں کی پوری فضا کو کثیف بنا دیا۔ یہاں لوہے کے علاوہ تانبا، کوئلہ، کیمیکلس اور ہیوی انجینئرنگ کی صنعتیں قائم بیشتر صنعتیں دریائے رینی (Rhine) کے کنارے واقع ہیں جو شہر کے مغربی کنارے بہتا ہے۔ مغربی جرمنی کے سامنے اب یہ سوال ہے کہ کم ترقی پر راضی رہ کر اپنی زندگی کو بچائیں یا زیادہ مادی ترقی کی قیمت میں اپنے آپ کو قبل از وقت موت کے منہ میں کے ایک مضمون میں دنیا کو تنبیہ کی ہے کہ وہ تیزی سے ایک نئے خطرہ کی طرف جا رہی ہے۔ وہ خطرہ یہ کہ نئے حالات انسان کی بہت سی خصوصیات اس سے چھین اگر اس نے زندگی کی نئی اہلیت اپنے اندر نہ پیدا کی تو مستقبل میں وہ کمتر درجہ کا انسان بن کر

یہ خطرہ جو حیاتیاتی طبیعیات کی دنیا میں انسان کے لئے موجود ہے، وہی خطرہ اس کے لئے اخلاقی دنیا میں پیدا ہو گیا ہے۔ جدید دنیا میں انسان اپنے اخلاقی

اوصاف کو تیزی سے کھوتا جا رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو بالآخر وہ ایک قسم کا حیوان بن کر رہ جائے گا اور انسانی آبادیوں کی حیثیت ایک نئے قسم کے جنگل سے زیادہ نہ ہوگی۔

"میں یہ سنتے سنتے اکتا گیا ہوں، وہ لکھتے ہیں کہ انسان فنا (Extinction) کے راستے پر جا رہا مگر میرا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں انسان ایسے خطرات سے دوچار ہے جو فنا سے بھی زیادہ ہولناک مجھے یقین ہے کہ ہماری ٹکنالوجی اور ہماری بے قید بڑھتی ہوئی آبادیاں نیو یارک اور ٹوکیو جیسے شہروں کو غلاظت (Dirt) آلودگی (Pollution) اور شور و غل (Noise) سے بھر رہی ہیں۔ اور یہ سب سے بڑی ٹریجڈی ہے۔

جنگلی جانور چڑیا خانوں میں رہ سکتے ہیں۔ اس قیمت پر کہ وہ اپنی بہت سی فطری خصوصیات کھو دیں۔ اسی طرح انسان بھی اپنی تکنیکی تہذیب کے بنائے ہوئے کثیف کٹہرہ میں رہ سکتا ہے۔ مگر ایسی حالت میں ہم اپنی انسانیت کی بہت سی چیزیں قربان کر دیں گے۔ ان کے نزدیک یہ خطرہ انسان کی صلاحیت مطابقت (Adaptabilit) میں ہے۔ عالم حیاتیات لوئی پاسچر نے ۱۸۶۷ میں تجربہ سے ثابت کیا تھا کہ انسان کے ایک مجموعہ کو اگر ایک ایسے کمرہ میں بھر دیا جائے جس میں ہوا کا گزر کم ہو تو وہ دھیرے دھیرے اس سے مطابقت کر لیتے ہیں حتی کہ اس احساس سے بھی خالی ہو جاتے ہیں کہ وہ کمتر ہوا میں سانس لے رہے ہیں اگرچہ اس مطابقت میں وہ اپنی صحت کا بڑا حصہ کھو دیں گے۔

پاسچر نے ایک چڑیا کو ایک ایسے پنجرے میں رہنے کا عادی بنایا جس میں ہوا بہت کم ملتی تھی۔ دھیرے دھیرے اس کی عادی ہو گئی۔ وہ زندہ تھی اگرچہ ایک غیر متحرک پرندہ کے طور پر۔ اس کے برعکس پاسچر نے اسی پنجرہ میں اچانک ایک اور پرندہ ڈالا تو وہ فوراً مر گیا۔

ڈاکڑ موصوف کے نزدیک کثافت(pollution) Pollution کا مسئلہ اصلا یہ مسئلہ نہیں ہے کہ انسان مر جائے گا بلکہ یہ کہ وہ انسانی اوصاف کھودے گا۔ انسان کی خطرناک حالات سے مطابقت پیدا کر لینے کی صلاحیت اس کے لئے اصل مسئلہ ہے۔ اب انسان یا تو زندگی کی خصوصیات کو ترقی دے گا یا نئے تمدنی حالات میں وہ انسان سے کمتر درجہ کی ایک چیز ہو کر رہ جائے گا : Man must improve the quality of life, or he may become something less than human ڈاکٹر چانسی لیک (طبی مرکز کیلی فورنیا یونیورسٹی) نے شور وغل کے مسئلہ کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ شور وغل صرف کان ہی کو تکلیف نہیں دیتا بلکہ اس کی وجہ سے پورے جسم کا توازن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ آواز کی کمی بیشی کو ناپنے کے لئے اس کی ایک اکائی مقرر کی گئی ہے جس کو ڈیسیبل کہتے ہیں۔ فٹ کے فاصلے پر ایک ٹرک تیزی سے گزر جائے تو اس سے نوے ڈیسیبلیں آواز پیدا ہوگی۔ پانچ سو فٹ کے فاصلے پر ریل گاڑی بجائے تو اس سے بھی نوے ڈیسیبلیں آواز ہو گی۔ زیر زمین ریل گاڑی اگر پچاس فٹ کے فاصلے پر گزر جائے تو اس سے جو آواز آئے گی وہ پچانوے ڈیسیبلیں ہوگی۔ تعمیراتی کاموں کے سلسلے میں جہاں مختلف مشینیں استعمال کی جاتی ہیں وہاں تقریباً ایک سو دس ڈیسیبلس کے برابر شور ہوگا۔ جیٹ ہوائی جہاز جب پانچ سو فٹ کے فاصلے پر اڑتا ہے تو ایک سو پندرہ ڈیسیبلس کے برابر شور ہوتا ہے۔ شور وغل کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جسم کے اندر پانی اور نمک کا توازن درہم برہم ہو جاتا ہے۔ دیر تک اگر شور ہوتا رہے تو اس سے مزاج میں چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔ دستر خوان پر ایک طرف دودھ، انڈا ،سیب جیسی چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ دوسری طرف چاکلیٹ، پیسٹری ماں کی ساری کوشش یہ تھی کہ اپنے بچہ کو دودھ، انڈا اور سیب کھلائے۔ مگر بچہ ان کو لینے کے لئے کسی طرح تیار نہ تھا۔ وہ مسلسل چاکلیٹ اور مٹھائیوں پر ہاتھ مار رہا تھا۔

دنیا کا یہ عجیب قانون ہے کہ جو چیز جتنا زیادہ بے فائدہ ہو، اتناہی زیادہ وہ لذیذ اور خوبصورت ہوتی اس کے برعکس جو اہم اور مفید چیزیں ہیں، ان میں نسبتاً کوئی ظاہری کشش نہیں ہوتی۔ شاید قدرت یہ دیکھنا چاہتی ہے کہ ہم اپنی تمیز کی قوت کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ تماشے کی باتیں مثلاً شکاریات، فلمی اور جاسوسی کہانیاں، سکینڈل کے سنسنی خیز فیچر، عام انسان کے لئے اپنے اندر بے حد کشش رکھتے ہیں، اسی طرح جنگی داستانیں، فتو حات کے قصے، کشف و کرامت کے افسانے لوگوں کو ذہنی شراب کی طرح اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں اس کے مقابلہ میں ایسے مضامین جن میں تعمیری سبق دیا گیا ہو تو واقعات عالم کا سائنسی مطالعہ کرنا سکھاتے ہوں ، جو یہ بتاتے ہوں کہ زندگی کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے ، ان میں لوگوں کے لئے کوئی دل چسپی نہیں۔ کی طرف دوڑ رہے ہیں، امرت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کے لئے بھی کسی کے پاس وقت نہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سارے ہی انسان بچے ہیں۔ کوئی عمر کے لحاظ سے بچہ ہے، کوئی سمجھ کے لحاظ سے۔

ایک کو کیچڑ دکھائی دیا، دوسرے کو ستارے ڈیل کارنیگی کی ایک کتاب ہے جس کا نام ہے:

Printed page