How to Stop Worrying and Start Living
Al-Risala, December 1976, pp. 21–25
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب میں اس نے جنگ عظیم ثانی کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے۔
ٹامسن ایک امریکی فوجی تھا، اس کی ڈیوٹی کیلی فورنیا کے صحرائے موجاوی (Mojave) میں تھی۔ اس کی بیوی (Thelma Thompson) اپنے شوہر سے قریب رہنے کے لئے وہاں گئی اور قریب کی ایک بستی میں مکان لے کر رہنے لگی۔ تھوڑے دنوں رہنے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ یہ جگہ اس کی پسند کے بالکل خلاف ہے۔ گرمی، ریت اور آندھی ہر وقت وہاں اس کا استقبال کرنے کے لئے موجود رہتے تھے۔ اس کے ساتھ تنہائی، کیونکہ اس کے شوہر کا بیشتر وقت فوجی گشت میں گزرتا تھا۔ اس کے واحد ساتھی اس کے دیہاتی پڑوسی تھے۔ مگر وہ لوگ انگریزی بالکل نہیں جانتے تھے، اس لئے وہ ان سے بھی مانوس نہ ہوسکی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جگہ کو چھوڑ دے اور اپنے گھر واپس چلی جائے اس نے اپنے والدین کو ایک مایوسانہ خط لکھا اور ان کو بتایا کہ وہ جلد ہی ان کے پاس لوٹ آنا چاہتی ہے۔ اس کے باپ کا جواب آیا۔ مگر وہ بہت مختصر تھا۔ باپ نے اپنے خط میں صرف دو سطریں لکھی تھیں: Two men looked out from prison bars. One saw the mud, the other saw the stars دو آدمیوں نے قید خانہ کے جنگلے سے باہر نظر ڈالی۔ ایک کو کیچڑ دکھائی دیا۔ دوسرے کو ستارے۔ ان دوسطروں نے اس کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اسی صحرائی گاؤں میں رہے گی اور یہاں اپنے لئے بہتر زندگی بنائے گی۔ اس نے محسوس کیا کہ جہاں کیچڑ ہیں وہیں اس کے اوپر ستارے بھی چمک رہے ہیں۔ اس نے ’’کیچڑ‘‘ کے بجائے ’’ستاروں‘‘ کو دیکھنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس نے مقامی لوگوں میں اپنے دوست بنائے۔ ان کا کلچر اور زبان سیکھی۔ اس نے صحرائی زندگی کی رنگا رنگیوں کو سمجھا۔ اس نے صحرا میں ڈوبتے اور نکلتے ہوئے سورج کے حسن کا مشاہدہ کیا۔ دھیرے دھیرے اس کو اس علاقہ سے اتنی دلچسپی ہو گئی کہ اس کا شوہر جب اپنی فوجی ملازمت سے ریٹائر ہوا تو دونوں نے طے کیا کہ وہ اپنی آئندہ زندگی اسی مقام پر گزاریں گے حتیٰ کہ اس نئے تجربہ نے مسٹر ٹامسن کو ایک مصنف بنا دیا۔ اس نے اپنے تجربات کے متعلق ایک کتاب (Bright Ramparts) کے نام سے لکھی جو بے حد مقبول ہوئی اور اس کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے۔ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ایک مصنف نے لکھا ہے:
The most important thing about suffering is not what happens to us but how we react to it زیادہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ ہمیں کن مشکلوں سے سابقہ پیش آ رہا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم ان کے مقابلہ میں کس قسم کا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔
۱۸۰۹) کو یقین تھا کہ زندگی ایک ارتقائی عمل کا نتیجہ ہے۔ کیڑے مکوڑے اپنے اعضا میں ترقیاتی تبدیلیاں کرتے کرتے بکری بن گئے اور بکری نے ترقی کر کے زرافہ کی صورت اختیار پچھلے سو برس کے دوران یہ ایک مسلمہ سائنسی عقیدہ بن گیا تھا۔ مگر حالیہ مطالعہ نے اس عقیدہ کو علمی حیثیت سے متزلزل کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر معلوم ہوا ہے کہ زمین کی عمر اس اندازہ سے بہت کم ہے جو ارتقائی طور پر زندگی کی انواع کو وجود میں لانے کے لئے ضروری ہے۔ اب علمائے حیاتیات کا قیاس یہ ہو رہا ہے کہ زمین سے باہر کائنات کے کسی مقام پر انسان جیسی تہذیب موجود ہے اور اس نے بالقصد زندگی کا جرثومہ اوپر سے زمین پر بھیجا ہے۔ مگر یہاں بھی ایک رکاوٹ درپیش ہے۔ کائناتی وقت اتنا کافی نہیں کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کر سکیں۔ ایک زمین پر۔ دوسری کسی اور سیارہ میں۔ گویا انسانی علم وہاں پہنچ گیا ہے جہاں اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ ایک قادر مطلق کے وجود کو تسلیم کر لے ۔ ارتقاء کا مفروضہ قافلہ کائنات کی معلوم شاہراہوں میں اپنا راستہ نہ پاسکا
زمین پر زندگی کیسے شروع ہوئی، اس کے بارے میں حال ہی میں ایک چونکا دینے والا نظریہ سامنے آیا ہے۔ اس نظریہ کو پیش کرنے والے دو ممتاز عالے کیولر نبایوں ایک ، نوبل انعام یافتہ فرانس کریک (Francis Crick) دوسرے لزلی آرگل (Leslie Orgel) اس نظریہ کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز تو خود بخود ہوا اور نہ اس طرح کہ کچھ ملین سال پہلے ایک ابتدائی مادہ سے ایک جسم حیوانی (Organism) بنا اور اس سے تدریجی ارتقا کے ذریعے زندگی کی انواع وجود میں آئیں۔ بلکہ زندگی ایک ایسے تجربے کا نتیجہ تھی جو کچھ غیر ارضی ہستیوں (Extra-terrestrial Beings) نے کئی جگ پہلے منظم کیا تھا۔
کریک اور آرگل ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ ہمارے کہکشانی نظام کے دوسرے سیاروں میں ترقی یافتہ تہذیبیں موجود ہیں، یہ خیال کرتے ہیں کہ اسی قسم کے کسی سیارہ کے باشندوں نے کچھ ہزار ملین سال پہلے طے کیا کہ وہ اس بات کا تجربہ کریں کہ کیا ان کے پڑوسی سیاروں میں زندگی اپنے لئے نیا ماحول پیدا کر سکتی ہے چنانچہ انھوں نے ہماری کہکشاں کے کچھ سیاروں پر زندگی کے جراثیم ڈالے۔ اسی قدیم تجربہ کا نتیجہ ہماری موجود
کے کیمیسٹ ارے نیس (Arrhenius) نے انیسویں صدی کے آخر میں یہ تخیل پیش کیا کہ کچھ بیکٹیریائی اجزاء جو کسی ایسے سیارہ سے جہاں پہلے سے زندگی موجود تھی، زمین پر آگئے اور پھر تدریجی ارتقاء کے ذریعہ اقسام حیات کو وجود میں لانے کا سبب بنے۔ ارے نیس نے اس طریق عمل کو ”پینس پرمیا“ کا نام دیا۔ اس نظریہ کو اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا کہ بیکٹیریا بین سیاراتی سفر میں خطر ناک ریڈ ایشن کے مقابلہ میں زندہ نہیں رہ سکتا، لارڈ کلون (Kelvin) نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ” ہو سکتا ہے کہ بیکٹیریا کسی شہابے سے چپک گیا ہو اور اس پر سوار ہو کر نہ زمین پر آیا ہو۔ اگر چہ یہ ممکن ہے کہ بیکٹیریائی اجزار شہابے پر سوار ہو کر بین سیاراتی سفر کریں، تاہم پینس پرمیا کا نظریہ کبھی سائنس دانوں کے لئے قابل قبول نہ ہو سکا اس نظریہ کا اساسی مقدمہ یہ ہے کہ زندگی اس سے پہلے کہیں موجود تھی، جب کہ اس نظریہ میں اس کا جواب نہیں ملتا کہ دوسرے سیارہ پر زندگی کیسے وجود میں آئی۔ کریک اور آرگل، یہ مانتے ہوئے کہ بیکٹیریائی اجزاء کی اتفاقی ہجرت ناممکن ہے، کہتے ہیں کہ اس وقت یہ قابل قیاس ہو جاتا ہے جب کہ یہ مانا جائے کہ بالقصد کسی نے زندگی کے جراثیم کو زمین پر بھیجا ہو۔ اس عمل کو معین سپنس پرمیا (Directed Panspermia) اکیسویں صدی میں داروئن کے نظریہ کے بعد اہل مذاہب کا مخصوص تخلیق کا نظریہ علماے سائنس کے درمیان ختم ہو گیا تھا۔ اس کے بعد سائنس داں اس سوال کا جواب معلوم کرنے میں سرگرداں تھے کہ زندگی شروع کس طرح ہوئی ۔ اس بحث کے دوران سویڈن کا نام دیتے ہیں ۔
اس نئے نظریہ کے ثبوت میں کریک اور آرگل دو۔ حیاتیاتی مسئلوں کا حوالہ دیتے ہیں ۔ ان میں سے ایک جینٹک کوڈ ہے۔ ہر ایک موجودہ زمانہ میں تسلیم کرتا ہے کہ زمین پر زندگی کی تمام قسموں کے لئے صرف ایک کوڈ ہے
زندہ جسم اگر محض طبعی اور کیمیاوی قوتوں کے باہمی عمل سے بن گیا ہو تو اس کی ترکیب میں عناصر کا وہی تناسب پایا جانا چاہئے جو ہماری دنیا کے اندر مگر زندہ جسم میں زمینی اجزاء کا انو کا اس نہ ہونا ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی چیز ہے جس کو کسی بنانے والے نے بالقصد ایک خاص شکل میں بنایا ہے، نہ کہ وہ محض اندھے عمل کا اتفاقی نتیجہ ہے۔
کوئی حیاتیاتی عالم اس عالمگیر یت کی توجیہہ نہیں کر سکتا کہ سب کے لئے ایک ہی کوڈ کیوں ہے۔ آرگل اور کر یک کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حیات کا ایک ہی بیج تھا، جس سے زندگی شروع ہوئی، اس لئے فطری طور پر اس بیج کا جنیٹک کوڈ، جو کئی جگ پہلے کسی دوسرے میارے کے باشندوں نے زمین پر بھیجا تھا اپنا اعادہ ایک ہی جنیٹک کوڈ کی شکل میں کرتا رہا۔
دوسری چیز مولیبڈینم (Molybdenum)
نامی دھات کا وہ رول ہے جو حیاتیاتی نظام میں پایا اکثر انزائم سسٹم اپنی کارکردگی کے لئے اس کے اور صرف اس کے محتاج ہوتے ہیں۔ مولیب ڈینم اتنا غیر معمولی طور پر اہم ہونے کے باوجود زمین میں پائی جانے والی کل دھاتوںں کا صرف ۰.۰۲ فی صد (دس ہزار میں دو) ہے۔ دوسری طرف بعض زیادہ مقدار میں پائی جانے والی دھاتیں مثلاً کر ومیم اور نکل، جو کہ اپنی خاصیت میں مولیب ڈینم سے بہت مشابہ ہوتی ہیں اور زمینی دھاتو فی صد اور ۱۶۳۔ فی صد میں، حیاتیاتی نظام میں بالکل ہی کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ کریک اور آرگل کہتے ہیں کہ زمین کی جو کیمیائی ترکیب ہے وہ زمین پر وجود میں آنے والی زندگیوں کی بناوٹ میں منعکس ہونی چاہئے اور چونکہ ایسا نہیں ہے اس لئے ماننا پڑے گا کہ زندگی کچھ ملین سال پہلے زمین پر باہر سے بھیجی گئی ۔ اگر معین پینس پر سیا کا نظریہ مان لیا جائے تو اس سے دو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ (۱) کیا کائناتی وقت اتنا کافی ہے کہ اس کے اندر دو تہذیبیں ایک کے بعد ایک ترقی کر سکیں، ایک زمین پر اور دوسری کسی اور سیارہ میں (۲) کیا حیاتیاتی جرثومہ بین سیار تی فاصلوں کو عبور کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ زندہ حالت میں پہنچایا جا سکتا ہے ۔
کریک اور آرگل کا خیال ہے کہ ان کا نظریہ قبولیت حاصل کرلے گا، اگر یہ ثابت ہو سکے کہ وہ عناصر جو زمینی زندگی کے اجزائے ترکیبی ہیں، وہ وہی ہیں جو بعض قسم کے ستاروں میں، ان کے قیاس کے مطابق، کثرت سے پائے جاتے ہیں ۔
دو کردار خوشی اور خفگی دونوں میں وہ انصاف پر قائم رہتے تھے یرموک کی لڑائی میں خالد بن ولید (م ۶۸ م ۶۳۶) اسلامی فوجوں کے سپہ سالار تھے اور ابو عبیدہ بن الجراح ان کے ماتحت افسر کی حیثیت سے جنگ میں شریک تھے۔ حضرت عمر خلیفہ ہوئے تو انھوں نے خالد بن ولید کو معزول کر کے ابو عبیدہ بن الجراح کو سپہ سالار مقرر کر دیا اور خالد بن ولید کو ان کے ماتحت کر دیا۔ یہ فرمان لے کر مدینہ سے جو شخص روانہ ہوا تھا، وہ مقام جنگ پر اس وقت پہنچا جب کہ طویل مقابلہ کے بعد لڑائی اپنے آخری انجام کو پہنچنے والی تھی اور فتح کے مقدمات ظاہر ہو چکے تھے۔ قاصد نے یہ فرمان اولاً ابو عبیدہ بن الجراح کو دیا۔ ابو عبیدہ فرمان خلافت کے مطابق فوراً سپہ سالاری کا جھنڈا اپنے ہاتھ میں لے کر فتح کا کریڈٹ وصول کر سکتے تھے۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ خالد بن ولید کی ماتحتی میں بدستور لڑتے رہے:
فَاخْفَى ابو عبيدة الخبر و صار في مكانه ابو عبیدہ نے خبر کو چھپایا اور خالد کی ماتحتی میں بدستور خلف خالد حتى ظهرت مقدمات النصر۔ اپنے کو باقی رکھا یہاں تک کہ فتح کے مقدمات ظاہر ہو گئے۔ وقد سئل عن عدم اخذہ لـواء القيادة ان سے پوچھا گیا کہ قیادت کا جھنڈا آپ نے فوراً کیوں نہ على الفور فقال : ما سلطان الدنیا اريد لے لیا۔ فرمایا : میں دنیا کی بڑائی نہیں چاہتا اور نہ دنیا وما للدنيا اعمل کے لئے عمل کرتا ہوں۔
آخرت کے لحاظ سے کریڈٹ یہ تھا کہ خبر کو چھپایا جائے۔ دنیا کا کریڈٹ اس میں ملتا تھا کہ اس کو ظاہر کر دیا جائے۔ ابو عبیدہ نے آخرت کا کریڈٹ لینا پسند کیا اور دنیا کے کریڈٹ کو نظر انداز کر دیا۔
اب خالد بن ولید کے کردار کو دیکھئے ۔ یرموک کی فتح کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ اس عظیم جنگ کے فاتح (خالد بن ولید) کو سپہ سالاری سے معزول کر دیا گیا ہے تو ان کے اندر سخت بے چینی پیدا ہو گئی۔ بہت سے لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے، انھوں نے حضرت خالد کی بہادری اور جواں مردی پر تقریریں کیں اور ان کی معزولی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کو ابھارا کہ وہ خلیفہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیں اور وعدہ کیا کہ ہم سب لوگ آپ کا ساتھ دیں گے۔ (يحضونه على عصيان امر الخليفة ويعدونه بانهم سيكونون معه) مگر خالد بن ولید نے اس قسم کے مشورہ کو ماننے سے قطعی انکار کر دیا اور اس پر راضی ہو گئے کہ ابو عبیدہ بن الجراح کی ماتحتی میں ایک معمولی فوجی بن کر اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف لڑتے رہیں۔ اس وقت انھوں نے جو جملہ کہا وہ تاریخ نے ان الفاظ میں محفوظ رکھا ہے :
ان الاقاتل فی سبیل عمر وَلَكِنْ فی سبیل میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا، بلکہ عمر کے رب کی راہ میں جنگ کرتا ہوں ۔