اس تقسیمِ کار کا ایک فائدہ یہ بھی ہے
Al-Risala, December 1976, pp. 26–47
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں عورت اور مرد کے دائرہ عمل کو الگ رکھا گیا ہے۔ عورت گھر کے لئے اور مرد باہر کے لئے۔ یہ تقسیم نہ صرف اس لئے صحیح ہے کہ حیاتیاتی اور عضو یاتی اعتبار سے دونوں صنفوں میں فرق ہے۔ بلکہ اس میں بہت سے اجتماعی فائدے بھی ہیں۔ ان میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اس تقسیم کے ذریعہ دونوں کو ایسے قابل اعتماد ساتھی مل جاتے ہیں جو ایک دوسرے کے لئے بہترین مشیر بن سکیں۔
خاندان ، نسلِ انسانی کی اکائی ہے اور معاشرہ اس کا مجموعہ۔ دونوں اپنی اپنی جگہ پر انتہائی اہمیت رکھتے تجربہ بتاتا ہے کہ زندگی کے ان دونوں میدانوں میں بار بار ایسے گمبھیر مسائل آتے ہیں جن میں وہ شخص بے لاگ رائے قائم نہیں کرپاتا جو خود مسئلہ کے اندر گھرا ہوا ہو۔ ایسے وقت میں ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کے پاس ایک ایسا مشیر ہو جو خود مسئلہ سے متعلق نہ ہوتا کہ اس کی بابت غیر متاثر ذہن کے ساتھ رائے قائم کرسکے۔ عورت اور مرد کے درمیان تقسیم عمل سے یہ فائدہ بہترین طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔ عورت اپنے شعبہ میں مصروف ہوتی ہے اور مرد اپنے شعبہ میں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے معاملات سے براہِ راست طور پر غیر متعلق ہو جاتے ہیں۔ ہر فریق اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ دوسرے فریق کے معاملہ میں غیر متاثرہ ذہن کے ساتھ سوچے اور اپنے بے لاگ مشوروں سے اس کی مدد کر سکے۔
اس بات کی وضاحت کے لئے یہاں عورت کی زندگی سے چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جب غارِ حرا میں پہلی وحی اتری تو آپ کانپتے ہوئے اپنے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو۔ گھر والوں نے آپ کو کمبل اڑھا دیا۔ کچھ دیر کے بعد جب آپ کی دہشت کم ہوئی تو آپ نے اپنی اہلیہ خدیجہ بنتِ خویلد سے وہ پورا قصہ بیان کیا جو غارِ حرا کی تنہائی میں آپ کے ساتھ پیش آیا تھا۔ فرمایا یہ واقعہ اتنا سخت تھا کہ مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ خدیجہؓ کے اس وقت کے الفاظ جو تاریخ نے محفوظ رکھے ہیں وہ ایک رفیقۂ حیات کے کردار کی نہایت اعلیٰ مثال ہیں۔ انھوں نے کہا :
کلا والله ما یخزيك الله ابداً ، انك لتصل ہرگز نہیں، خدا کی قسم، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا الرحم وتتحمل الكل وتكسب المعد وم وتقوی آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، کمزوروں الضيف وتعين علی نوائب الحق کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ گم نام لوگوں کو کماتے ہیں ، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملہ میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب قریشِ مکہ سے وہ معاہدہ کیا جو معاہدہ حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے، تو صحابہ
میں سخت بے چینی پھیل گئی۔ کیونکہ یہ معاہدہ بظاہر دب کر کیا گیا تھا اور اس میں کئی باتیں صریح طور پر مخالفین کے حق میں تھیں ۔ لوگوں میں اس قدر غم و غصہ تھا کہ معاہدہ کی تکمیل کے بعد جب آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ قربانی کے جانور جوتم اپنی ساتھ لائے ہو، یہیں ذبح کر دو اور سر منڈالو۔ تو ایک شخص بھی اس کے لئے نہ اٹھا۔ آپ نے تین باراپنے حکم کو دہرایا پھر بھی سب لوگ خاموش رہے اور کوئی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ آپ رنج کی حالت میں وہاں سے لوٹ کر اپنے خیمہ میں گئے جہاں آپ کی اہلیہ ام سلمہ موجود تھیں۔ انھوں نے آپ کو غمگین دیکھ کر پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ آج وہ ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے مسلمانوں کو حکم دیا مگر ان میں سے کوئی بھی میرے حکم کی تعمیل کے لئے نہ اٹھا۔ ام سلمہ نے کہا : اے اللہ کے رسول، اگر آپ کی رائے یہی ہے تو آپ میدان میں تشریف لے جائیں اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنے قربانی کا جانور ذبح کریں اور سر منڈالیں ۔ آپ خیمہ سے باہر نکلے اور کسی سے کچھ کہے بغیر اپنی قربانی ذبح کی اور نائی کو بلا کہ سرمنڈایا۔ جب صحابہ نے یہ دیکھا تو سب نے اٹھ کر اپنی اپنی قربانیاں ذبح کر دیں۔ اگر چہ ان کے رنج و غم کا عالم یہ تھا کہ جب وہ ایک دوسرے کا سر مونڈنے لگے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کو کاٹ ڈالیں گے۔ خدیجہؓ اور ام سلمہ کو ان نازک مواقع پر قیمتی بات سو جھی وہ اس لئے سو جھی کہ وہ اصل معاملہ سے الگ تھیں اور اس بنا پر اس پوزیشن میں تھیں کہ غیر متاثر ذہن کے تحت اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں ۔ اگر وہ خود بھی معاملہ میں براہ راست شریک ہوتیں تو اس قسم کی بے لاگ رائے قائم کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہوتا۔ غلطی کا انجام یہ بادشاہ نہایت آرام طلب اور ناکارہ تھا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت کا سارا انتظام عملاً محمود گواں کے ہاتھ میں آگیا۔