دربار کے بہت سے امراء اس کے اس قوت و اثر
Al-Risala, December 1976, pp. 47–29
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اس قدر محنت کا عادی تھا کہ اپنا ایک لمحہ بھی کو دیکھ کر اس سے جلنے لگے۔ انھوں نے خفیہ طریقہ سے محمود گواں کی سرکاری مہر حاصل کر لی ۔ ایک جعلی خط اس کی مہر کے ساتھ تیار کیا جو و جے نگر کے راجہ رائے نر سنگھ کے نام لکھا گیا تھا۔ یہ فرضی خط انھوں نے بادشاہ کو دکھایا ہزار کتابیں تھیں ۔ اس نے بہمنی سلطنت کی راجدھانی اور کہا کہ وزیر غدار ہے۔
بادشاہ امیروں کے دھوکے میں آگیا۔ ۱۴۸۱ء میں اس لائق وزیر کو قتل کرا دیا۔ بعد کو بادشاہ کو پتہ چلا کہ اس نے غلطی کی ہے، اس کو بے حد صدمہ ہوا، یہاں تک کہ خود بھی ایک سال کے اندر مر گیا ۔
موت کے بعد آدمی کو وہ سب کچھ مضحکہ خیز دکھائی دے گا جس کو دنیا میں وہ اہم سمجھتا تھا اور جس کے پیچھے اپنی ساری زندگی لگادی تھی یہ بات اگرچہ انھوں نے سیاسی اور اقتصادی نظریات کے پہلو سے کہی تھی، مگر موت نے شاید صرف دس سال بعد انھیں بتا دیا ہو گا کہ یہ بات ایک اور معنی میں بھی صحیح ہے۔ موت سے پہلے آدمی اپنی ترقی کے لئے یا اپنی شخصیت کو بنانے کے لئے جو کچھ کرتا ہے وہ موت کے بعد کی زندگی میں بالکل بے معنی ہو جاتا ہے۔ اچانک معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ان چیزوں کی کوئی قیمت ہی نہیں جن کو سب سے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا اور ان کو حاصل کرنے کے لئے اپنی ساری زندگی لگادی تھی ۔ کچھ کام نہ آیا جنرل سمو فرانسسکو فرینکو (۱۸۹۲-۱۹۷۵) ۳۶ سال تک اسپین کے مطلق العنان ڈکٹیٹر رہے۔ آخر عمر میں ان کو نو قسم کی مہلک بیماریاں لگ گئی تھیں۔ کی شب و روز موجودگی کے باوجود وہ پانچ ہفتہ تک بستر پر تڑپتے رہے اور بالآخر ۱۹ نومبر کو ختم ہو گئے۔ کی سول وار (۳۸-۱۹۳۶) کے زمانہ میں ہٹلر اور مسولینی کی فوجی مدد سے وہ ملک کے اقتدار پر قابض ہوئے تھے ۔ شاہ اسپین الفانسو سیز دہم ۱۹۳۱ میں ملک چھوڑ کر بھاگ
اب ان کا پوتا پرنس جوان کارلو زڈی بورون دوبارہ اسپین کا حکمراں ہے جس کو جنرل فرانکو نے اپنی زندگی ہی میں اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا عام اسپینی مزاج کے برعکس جنرل فرینکو میں دونہایاں خصوصیتیں پائی جاتی تھیں احتیاط اور نرمی ۔ ایک بار سمندر میں مچھلی کا شکار کھیلنا چاہا۔ اس وقت سمندر میں طوفان تھا۔ انھیں مشورہ دیا گیا کہ وہ سمندر میں داخل مگر وہ مصر رہے۔ ان کی بیوی دونا کار مینا نے کہا "اگر آپ ان موجوں میں ڈوب گئے تو اسپین کا کیا ہوگا؟ فرینکو نے جواب دیا " خدا اسپین کی حفاظت کرے گا “ کھدائی ختم نہیں ہوئی سرمورٹی مرد هیلر (۱۹۷۰-۱۸۸۹)
اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ وہ آثار قدیمہ کے عالم انگلستان کے تین تاریخی مقامات (سڈنی ، وٹیر لایم میڈن کیل) کی کھدائی کے بعد ان کو کافی شہرت حاصل ہوئی اور وہ رومن آرکیا لوجی کے ماہر سمجھے جانے لگے۔ ۱۹۴۴ء میں وہ غیر منقسم ہندوستان میں آرکیا لوجیکل سروے کے ڈائرکٹر جنرل مقرر ہوئے۔ ہندوستان اور پاکستان کے مختلف تاریخی مقامات کی کھدائی کی اور آثار قدیمہ سے متعلق دوسرے اہم کام انجام دیے۔
ہندوستان میں جب ان کا تقرر ہوا تو یہاں کے پریس میں ان کو نا اہل ثابت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ : ” وہ رومن آرکیا لوجی کے ماہر ہیں۔ علم الآثار میں وہ ہمارے کیا مددگار بن سکتے ہیں ! اپنے اعلیٰ کام سے انھوں نے اتنی اہلیت ثابت کی کہ آزادی کے بعد بھی وہ ہمارے محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے بار بار ہندوستان بلائے جاتے رہے۔ حتیٰ کہ آزادی سے پہلے اپنی چار سالہ ملازمت کے دوران انھوں نے پانڈیچری کے پاس آریکا میڈو کی کھدائی کر کے یہ بھی ثابت کیا کہ رومن ہندوستان تک پہنچ گئے تھے۔
سروھیلر نہایت محنتی اور ذمہ دار آدمی تھے۔ ان کا قول تھا :
Every excavation is destruction unless it is properly recorded. کھدائی کا ہر کام برباد کرنے کا کام ہے۔ جب تک کہ اس کو صحیح طور پر ریکارڈ کرنے کا انتظام نہ کیا گیا ہو۔ سروھیلر کو اپنی پوری زندگی ”کھدائی“ کی زندگی نظر آتی تھی۔ شاید انھیں یہ احساس تھا کہ وہ ابھی تک اصل حقیقت تک نہیں پہنچے ہیں۔ انھوں نے اپنے بعد اپنی خود نوشت سوانح عمری چھوڑی ہے اس کا نام معنی خیز طور پر اب بھی کھدائی کرتے ہوئے STIII DIGGING تجویز کیا ہے۔