کوئی وقت نہیں
Al-Risala, December 1976, pp. 29–30
By Maulana Wahiduddin Khan
کرشن بھاٹیا (م۔ ۱۹۲۵) ان انتہائی چند ہندوستانیوں میں تھے جنھوں نے ملکی صحافت میں تجزیاتی تحریر(analytical (Analytical Writing) کی اعلیٰ مثال قائم اپنی عمر کے آخری آٹھ سال انھوں نے واشنگٹن میں ہندوستان ٹائمز کے کرسپانڈنٹ کی حیثیت سے گزارے۔ ۱۰ دسمبر ۱۹۷۴ کو جب ریڈیو نے بتایا کہ اچانک حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے واشنگٹن میں ان کا انتقال ہو گیا تو بہت سے لوگ اچنبھے میں پڑ گئے کیونکہ موت کے وقت کرشن بھاٹیا پوری طرح تندرست اور توانا تھے اور زندگی کے اس آخری کنارہ پر پہنچ چکے تھے جب کہ آدمی اپنی صلاحیتوں کو کامیاب ترین شکل میں استعمال کرتے
کے قابل ہو جاتا ہے۔
ڈاکٹر آنے سے پہلے پچھلے ستمبر میں دو ہم عمر فن کاروں کے موت کا دائرے کے پتے نرنجن سنگھ طالب (۱۹۰۱ - ۱۹۷۷) نئی دہلی میں اپنے مکان پر تھے۔ انھوں نے ایک پیالی چائے پی ۔ کے بعد ہی انھیں سینہ میں درد محسوس ہوا۔ ڈسپنسری سے ایک ڈاکٹر بلایا گیا۔ ڈاکٹر ان کے مکان پر پہنچا تو اس کے لئے صرف یہ مقدر تھا کہ وہ مریض کو دیکھ کر یہ اعلان کرے کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ نرنجن سنگھ طالب پنجاب کانگریس کے صدر اور راجیہ سبھا کے ممبر تھے۔ اس سے پہلے وہ پنجاب کی کابینہ میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ انھوں نے نیتاجی سبھاش چندر بوس کے ہندوستان سے بھاگ کر جرمنی پہنچنے میں مدد کی تھی، جس کے نتیجہ میں ان کے اوپر انگریزوں نے مقدمہ چلایا۔ 1923میں وہ اپنے صوبہ پنجاب سے نکال دیئے گئے۔ پیغام آگیا ۔ ایک ، بنگال کے باغی شاعر قاضی نذر الاسلام (۱۸۹۹-۱۹۷۶) دوسرے مہاراشٹر کے سماجی ناول نگار دی ایس کھنڈیکر (۱۹۹۸-۱۹۰۸)۔ دونوں کو غیر معمولی شہرت اور عزت ملی۔ مگر دونوں مسلسل بیماری اور حادثات کا شکار رہے ۔ حتیٰ کہ دونوں اپنی آنکھ سے محروم ہو چکے تھے قاضی نذر الاسلام کی آنکھ ۱۹۴۲ میں فالج کے حملہ میں ختم کھنڈیکر کی آنکھ عرصے سے نہایت کم زور ہو چکی تھی۔ موت سے تقریبا تین سال پہلے وہ بالکل ہی اندھے ہو گئے ۔ کھنڈیکر سے آخر عمر میں ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ آنکھوں کے چلے جانے کے بعد آپ کیا محسوس کرتے انھوں نے جواب دیا :
I have adjusted myself to this new darkness. میں نے اپنے آپ کو اس نئی تاریکی سے ہم آہنگ کر لیا ہے۔ لا، اگر آئیں، مرتقى آگیا ، سہاگ رت ہے، گھر آموسے کے الرسالہ الپاپ لو پسند ہے تو یقیناً آپ چاہیں گے کہ وہ آپ کے دوستوں اور عزیزوں تک بھی پہنچے آپ اپنا سالانہ زرِ تعاون بھیجتے ہوئے ایسے پانچ پتے ہمیں بھیج دیں۔ اعلان ہم ان کے نام نمونہ کا پرچہ مفت روانہ کر دیں گے۔ یے تو پچ فکتاں ہیں ۔