مردان چنین کنند
Al-Risala, December 1976, pp. 31–34
By Maulana Wahiduddin Khan
لارڈ ٹامسن (۱۹۹۴ - ۱۹۲۳) کی پیدائش کناڈا میں ہوئی ۔ انھوں نے اخبارات کو صنعت کی حیثیت رکاوٹ سامنے آگئی۔ ہرولڈ مکیملم کے بعد لارڈ ہوم برطانیہ کے وزیراعظم (۶-۱۹۶۳ مقر ہوئے ۔ سے شروع کیا اور اس میں اتنی کامیابی حاصل کی کہ اب اخبارات کے کسی بھی دوسرے تاجر نے حاصل نہ کی تھی۔ کناڈا، برطانیہ، امریکہ اور دوسرے ملکوں کے ایک سو سے زیادہ اخبارات "ٹامسن ایمپائر" کا حصہ تھے۔ ٹامسن بے حد شریف آدمی تھا۔ حیثیت سے کبھی اس سے کسی کو شکایت نہیں ہوئی ۔ ایڈیٹروں کے انتخاب میں وہ انتہائی چھان بین کرتا مگر جب کسی شخص کو کسی اخبار کا ایڈیٹر مقرر کر دیتا تو اس کو اپنے دائرہ عمل میں مکمل آزادی دے دیتا تھا۔ حتیٰ کہ اس کے ایڈیٹروں کو یہ حق بھی تھا کہ وہ خود ٹامسن کے خلاف مضامین لکھ سکیں۔
ٹامسن کی سوانح عمری رسل بریڈن نے لکھی ہے جس کا نام ہے:
ٹامسن کے مشہور اخبار ”ٹائمز“ کے ایڈیٹر اس وقت ڈینس ہملٹن تھے ۔ انھیں اس تقرر پر اعتراض تھا ۔ انھوں نے خاموش رہنے کے بجائے کھلّم کھلّا نئے وزیر اعظم کے خلاف لکھنا شروع کر دیا ۔
ٹامسن کے لئے یہ ایک انتہائی نازک صورت حال انھوں نے اپنے ایڈیٹر کو گفتگو کے ذریعے قائل کرنے کی کوشش کی ۔ مگر جب وہ اپنی رائے بدلنے پر تیار نہ ہوا تو انھوں نے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ بلکہ یہ کہہ کر معاملہ کو ختم کر دیا : What you say is your own province. یعنی یہ تمھارے اپنے دائرہ کار کا معاملہ ہے۔ تم کو اختیار ہے کہ جو کچھ لکھنا چاہتے ہو لکھو۔
برطانوی شہرت اختیار کرنے کے باوجود ٹامسن، Roy Thomson of Fleet Street سوانح نگار لکھتا ہے کہ ٹامسن کی واحد کمزوری یہ تھی کہ وہ "لارڈ" بننے کا بہت زیادہ حریص تھا۔ دیکھا کہ اپنے ملک کناڈا میں اس کی یہ تمنا پوری نہ ہو سکے کیونکہ کناڈا نے لارڈ کا خطاب دینے کے برطانوی طریقے کو ختم کر دیا تھا۔ چنانچہ ٹامسن نے برطانوی شہریت
اسے یقین تھا کہ برطانیہ آنے کے بعد وہ ضرور لارڈ بننے کا خواب پورا کر سکے گا۔ مگر یہاں بھی ایک مُماری خیریت، میان سرفراز کی بادبروی کے لئے اب بظاہر لارڈ بننے کا امکان ختم ہو چکا تھا۔ ان کا اخبار برابر برطانوی وزیر اعظم پر تنقیدی مضامین شائع کر رہا تھا۔ مگر سر الیک ڈو گلاس ہوم نے بھی عالی ظرفی سے کام لیا۔ صاحب اقتدار ہوتے ہوئے بھی انھوں نے اپنے دل میں ٹامسن کے خلاف کوئی انتقامی جذبہ پیدا ہونے نہیں دیا۔ اور ان کے لئے لارڈ کے اعزاز کی منظوری
یہی عالی ظرفی ہے جو افراد اور قوموں کو ترقی کے اعلیٰ مقام کی طرف لے جاتی ہے۔
مسیح محمد بدر الاسلام صلیٰ علیٰ اے، بی، سی (علیہ) ۵۴ سال پہلے جاپان گئے تھے۔ ہنستانی حکومت نے ان کا تقرر ٹوکیو کے اسکول آف فارن لینگو یجز میں اردو اور فارسی لیکچرر کی حیثیت سے کیا تھا۔ وہ دسمبر ۱۹۳۱ میں سمندری جہاز سے جاپان پہنچے اور اپریل ۱۹۳۲ تک وہاں مقیم رہے۔ جاپان کے حالات اور اپنے سفر کی روداد پر اس وقت انھوں نے چار سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب (حقیقت جاپان) لکھی تھی جو ۱۹۳۳ میں انجمن ترقی اردو (اورنگ آباد دکن) نے شائع کی تھی۔ مطبع کا نام کتاب پر جامع برقی پریس دہلی‘‘ لکھا ہوا ہے۔ یہاں اس کتاب کا ایک حصہ نقل کیا جاتا ہے۔ ” ۹ ستمبر ۱۹۳۱ کو ایک ہندوستانی مسلمان تاجر مسٹر احمد ٹوکیو آئے تھے۔ مجھ سے ملنے کے لیے مکان پر ان کے والد ناسک کے رہنے والے تھے اور ان کی والدہ ایک چینی خاتون تھیں ۔ یہ ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے، وہیں تعلیم پائی۔ ہندوستان کبھی نہیں گئے بائیس سال سے جاپان میں ہیں۔ یہیں ایک جاپانی خاتون سے شادی کر لی ہے ۔ اب سن لائف انشورنس کمپنی کے ایجنٹ ہیں ۔ مسٹر احمد انگریزی، اردو اور جاپانی زبانوں میں گفتگو کر سکتے ہیں ۔ ان سے معلوم ہوا کہ کوبے (جاپان) میں ہندوستانی مسلمانوں کی تعداد ساٹھ اور روسی مسلمانوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے ۔ کوبے کے مسلمان اب تک جمعہ اور عیدین کی نمازیں ہندوستانی کلب کی عمارت میں ادا کرتے ہیں مگر تقریباً دو سال سے یہ تحریک جاری ہے کہ ایک مسجد تعمیر کی جائے ۔ بہتر ہزار ین تخمینہ ہوا ہے مگر اب تک اس کام کے لئے چندہ سے تیرہ ہزار ین جمع ہوئے ۔ رک ہو لینڈو
میں رقم بھی ان ہندوستانی مسلمان تاجروں نے دی ہے جو کوبے میں اپنا کاروبار کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بھی چندہ کی تحریک کی گئی ہے مگر ہنوز کچھ وصول نہیں ہوا۔ وصول کرنے اور مسجد تعمیر کرانے کے لئے ایک انجمن قائم مسٹر احمد اس انجمن کے سکریٹری ہیں۔ چنانچہ احمد عثا توکیو اسی غرض سے آئے تھے اور اراکین سلطنت سے ملنے کے لئے ایک روسی مسلمان کا خط قربان علی آفندی کے نام لائے تھے، جو توکیو میں روسی مسلمانوں کے امام ہیں اور نہا یت حکام رس اور ذی اثر آدمی ہیں۔
۱۰ ستمبر کو مسٹر عبدالغنی، مسٹر احمد اور میں قربان علی آفندی سے ملنے کے لئے گئے متوسط العمر، فربہ اندام اور رحیم آدمی ہیں اور بڑے تپاک و خلوص سے ملے۔ بولتے ہیں ، مگر انگریزی زبان نہیں جانتے ۔ ان سے معلوم ہوا کہ ٹوکیو میں روسی مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد یہ لوگ نسلاً تاتاری ہیں ، مگر روسی سلطنت کے باشندے حکومت سوویت روس نے ان کو جلا وطن کر دیا ہے ۔ جاپان میں یہ لوگ مزدوری پیشہ ہیں ۔ جفا کشی اور دیانت سے روزی کماتے ہیں ۔ ان سب کا قیام ایک ہی محلے میں قربان علی آفندی کی مساعی جمیلہ سے ایک مسجد ایک اسلامی مدرسہ اور ایک قبرستان بن گیا ہے ۔
اخراجات کے لئے آپس میں چندہ کر لیتے ہیں ۔ کی رقم اس قدر دیانت داری اور کفایت شعاری سے خرچ ہوتی ہے کہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ پس انداز ہوتا رہتا ہے۔ اندام اور درد، پیر اثر ہیں، یہ برسات کے گیا رہ برس سے جاپان میں مقیم ہیں، جاپانی زبان خوب اس رقم سے ایک پریس بھی قائم کیا ہے اور دوسری زبان یہ ایک سہ ماہی رسالہ بھی نکلتا ہے۔ قربان علی صاحب سے
انسائیکلوپیڈیا میں اسلام پر مقالہ لکھنے کے لئے ایک جاپانی فاضل نے اسلام کا مطالعہ کیا، وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا دیر تک گفتگو رہی۔ اپنی انجمن کے حالات سناتے رہے۔ بعد ازاں اپنے ہمراہ لے جا کر مسجد و مدرسے کی سیر کرائی۔ یہیں ایک کمرے میں پریس ہے۔ یہاں قربان علی صاحب نے اپنے رسالہ ’’زاپوں مجنری‘‘ کے کئی نمبر اور اپنے پریس کے چھپے ہوئے تصویری پوسٹ کارڈوں کا ایک سیٹ علیحدہ علیحدہ ہم تینوں کو عنایت فرمایا، اگلے دن شام کو پھر ان کے مکان پر گئے۔ میں بڑا تکلف کیا تھا۔ انواع و اقسام کے ترکی اور جاپانی کھانے میز پر آئے۔ ترکی کھانے نہایت لذیذ تھے اور ہندوستانی اور ایرانی کھانوں سے بہت زیادہ ملتے دوران گفتگو میں آفندی نے ہمیں بتایا کہ تاتاری لوگ گوشت ، شہد اور چائے بہت استعمال کرتے ہیں۔ وزیر اعظم جاپان کے پرائیویٹ سکریٹری بھی شریک طعام تھے اور ان کو خاص مصلحت سے اس وقت مدعو کیا گیا تھا۔ تعارف کھانے سے قبل ہو چکا تھا۔ کھانے کے بعد مطلب کی گفتگو ہوئی۔ آفندی نے سکریٹری صاحب کے سامنے مسٹر احمد کے آنے کی غرض اور کہیے کی مجوزہ مسجد کی تعمیر کا ذکر کیا۔ اور یہ درخواست کی کہ ہم لوگ وزیر اعظم سے اس غرض کے لئے ملنا چاہتے ہیں کہ حکومت بھی اس نام میں کچھ امداد فرمائے، آپ ملاقات کا انتظام کر دیجئے ۔ اور خود بھی وزیر صاحب موصوف سے سفارش کر دیجئے۔ انھوں نے دونوں باتوں کا وعدہ کر لیا جمعہ کے روز نماز کے لئے مسجد گیا۔ ہر شخص ہیٹ کے نیچے ایک گول مخمل کی ٹوپی پہن کر آیا تھا۔ نیچے کی منزل میں اور زینے پر بہت سی کھونٹیاں دیوار پر لگی ہوئی ہیں۔ ہیٹ ان پر ٹانگ دی اور گول ٹوپی پہن کر اوپر کے ہال میں جہاں نماز ہوتی ہے بعض لوگوں نے نیچے کی منزل میں وضو بھی کیا۔ نماز کے بعد تمام نمازیوں سے مصافحہ ہوا۔ یہیں ایک جاپانی صاحب سے بھی تعارف ہوا۔ یہ بھی نماز میں شریک تھے۔ ایک روسی مسلمان مسٹر صابر جمیل نے مجھ کو اور جاپانی مسلمان صاحب کو جن کا کام مسٹر سبورو تھلا سی وقت چائے نوشی کی دعوت دی۔ صابر صاحب مسجد کے قریب ہی ایک چھوٹے سے خوبصورت مکان میں رہتے ہیں۔ اہلیہ محترمہ عائشہ نے مہمانوں کی بڑی خاطر مدارات کی۔ مسٹر سبورو سے اسلام کے متعلق گفتگو ہوئی۔ میں نے دریافت کیا کہ اسلام کی کس خوبی نے آپ کو اس طرف مائل کیا۔ انھوں نے بیان کیا کہ ان سے جاپانی انسائیکلوپیڈیا میں اسلام کے متعلق آرٹیکل لکھنے کے لئے کہا گیا تھا۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا۔ مطالعہ اور تحقیق کے بعد خود بخود اسلام کی حقانیت ان پر روشن ہوگئی۔ اور بغیر کسی خارجی تحریک کے مشرف بہ اسلام ہو گیا۔
انھوں نے کہا کہ اسلام کی بے شمار خوبیاں ہیں۔ مگر دو خوبیوں نے خصوصاً ان پر بڑا اثر کیا، اول تو توحید اور ثانیاً مذہبی رواداری۔ مسٹر سبورو توکیو میں تنہا جاپانی مسلمان ہیں۔ ان کے علاوہ تمام جاپان میں معدودے چند جاپانی مسلمان ہیں“۔ سیاحت جاپان ۱- ۱۱۱