یہ کام نہیں، کام کے مواقع کو برباد کرنا ہے
Al-Risala, December 1976, pp. 35–41
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دور کے مسلم مصلحین سے ایک بڑی اجتہادی غلطی یہ ہوئی ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ جن ملکوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور جہاں ان کا سیاسی اقتدار قائم ہے، وہاں وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ "قانون اسلامی کے نفاذ کے مطالبے سے اپنی مہم کا آغاز کرسکیں یہ ایک اندوہناک قسم کا غلط اندازہ تھا جس سے عملاً اس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا کہ وہ اپنے ملکوں میں حزب مخالف کا پارٹ ادا کر کے ختم ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم اقلیت کے ملکوں میں جو مسئلہ مقامی غیر مسلم اکثریت کی طرف سے ہے، وہی مسلم اکثریت کے ممالک میں عالمی حالات کی جانب مزید یہ کہ مسلم ملکوں کے تمام حکومتی شعبوں پر چونکہ وہی لوگ قابض ہیں جن کی تعلیم مغربی طرز کے اداروں میں ہوئی ہے کیونکہ وہی جدید دور کی ایک ریاست چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لئے مسلم ملکوں کا برسر اقتدار طبقہ بھی، اسلام سے طبعی ہمدردی رکھنے کے باوجود، مزاجاً، اس حد تک جانے کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ وہ اپنے یہاں خالص مذہبی ریاست کے قیام کا اعلان کر دے۔ مصر، پاکستان، انڈونیشیا وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔ ان ملکوں میں موجودہ صدی کے وسط میں جو اسلامی تحریکیں اٹھیں، وہ اپنی ساری مقبولیت اور ترقی کے باوجود، اسلامی قانون کے نفاذ میں تو کامیاب نہیں ہوئیں، البتہ مسلم ملک ہونے کی وجہ سے وہاں ان کو اسلامی دعوت کے کام کو مؤثر طور پر چلانے کے لئے جو خصوصی مواقع حاصل تھے وہ بھی اختلافی اور احتجاجی سیاست کے نتیجہ میں برباد ہوگئے۔ قاضی ابویوسف (۹۸۷ ) اور شیخ احمد سرہندی (۲۵ ۱۵ - ۴۷ ۱۶) نے بالترتیب عباسی خلیفہ ہارون الرشید اور مغل شہنشاہ جہانگیر سے مل کر جو اسلامی خدمات انجام دیں، اگر موجودہ زمانہ کے مصلحین نے بھی اس ڈھنگ پر کام کیا ہوتا تو اب تک اظہار دین اور غلبہ اسلام کا وہ کام انجام پاچکا ہوتا جس کے لئے ابھی ہم صرف غور و فکر کر رہے ہیں ۔ چپکے سے اس کے کھانے میں زہر ڈال دیا۔ زہر آلود کھانے کے کچھ لقمے کھا چکا تو اس کو احساس ابن الرومی (۲۸۳ - ۲۲۱ھ) ایک شاعر تھا وہ لوگوں کی ہجو کیا کرتا تھا۔ خلیفہ معتضد باللہ کے وزیر میں جو گفتگو ہوئی وہ یہ ہے ۔ ابوالحسین قاسم بن عبداللہ کو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا تھا وزیر : ابن الرومی! کہاں جارہے ہو۔ کہ وہ اس کی ہجو کر کے اس کو عوام میں ذلیل نہ کرے۔ وزیر بڑا بے رحم تھا۔ اس نے اس مسئلے کا حل یہ سوچا کہ وزیر : دیکھو وہاں پہنچ کر میرے والد کو میرا کہ اس کے وجود ہی کو ختم کر دیا جائے۔ ایک بار جب ابن الرومی وزیر کے دسترخوان پر کھانا کھا رہا تھا تو وزیر نے ابن الرومی: لیکن جہنم سے میرا گزر نہیں ہوگا۔
جدید مسئلہ کیا ہے ؟
انسانی تاریخ ک دو بڑے دوروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ـــ دور سائنس سے پہلے، اور دور سائنس کے بعد۔ وہ چیز جس کو دورِ جدید کہتے ہیں، وہ حقیقتاً دور سائنس کا دوسرا نام ہے۔ عموماً طور پر سترھویں صدی میں شروع ہوا اور دوسری جنگِ عظیم (۱۹۳۹-۴۵ء) تک اپنے آخری عروج پر پہنچ گیا۔ انسان خارجی طور پر جو عمل کرتا ہے، اس کے لئے اس کے پاس دو قدرتی ذریعے ہیں : حواس اور طاقت۔ حواس کے ذریعے وہ اشیاء کا علم حاصل کرتا ہے، اور طاقت کے ذریعے اپنے ارادہ کو ان کے اوپر نافذ کر کے ان کو اپنے لئے کارآمد بناتا ہے۔ یہ دونوں عمل قدیم ترین زمانے سے جاری ہیں۔ پچھلے زمانہ میں اشیاء کو جاننے کے لئے اس کے پاس صرف وہ قدرتی عطیات تھے جن کو حواسِ خمسہ کہا جاتا ہے اور خارجی دنیا میں تصرف کرنے کے لئے اس کے پاس اپنے ہاتھ پاؤں تھے یا حیوانی طاقت، مثلاً اونٹ، گھوڑے، ہاتھی، بیل وغیرہ۔ ابتدائی قدرتی عطیات کے علاوہ زمین میں بے شمار ایسی چیزیں تھیں جو اس بات کو ممکن بناتی تھیں کہ ان کو حاصل کر کے آدمی اپنے حواس اور طاقت دونوں کی مقدار کو بڑھا سکے۔
اضافہ کا یہ عمل نامعلوم زمانہ سے جاری تھا۔ مردہ تہذیبوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلے دوروں میں بھی انسان اس میدان میں بڑی بڑی ترقیات حاصل کرتا رہا ہے۔ تاہم ماضی کی تمام ترقیاں ابتدائی فطری حدود کے اندر ہوتی تھیں۔ مثلاً پتھر کی جگہ لوہے کو کام میں لانا یا پہیہ دار گاڑی بنا کر جانوروں کو سواری کے لئے موجودہ دور کو یہ اولیت حاصل ہے کہ اس نے معلوم تاریخ میں پہلی بار طاقت کو ”مشین“ کی حیثیت دے دی اور فطری حواس کے لئے ایسے میکانکی اور آلاتی معاون دریافت کرلیے جو ہمارے دیکھنے اور تجربہ کرنے کی صلاحیت کو لاکھوں کروڑوں گنا زیادہ بڑھا سکتے تھے۔
اس دریافت کا براہِ راست فائدہ تو صرف یہ تھا کہ انسانی تمدن کے لئے مادی ترقی کا ایک نیا و وسیع تر دروازہ کھل گیا۔ انسان کے لئے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ اپنے سفر کی رفتار کو بے اندازہ مقدار میں بڑھا سکے۔ زمین کے جن وسائل تک روایتی ذرائع سے اس کی دسترس نہیں ہو سکتی تھی، ان کو حاصل کر کے اپنی بستیوں کو ناقابل قیاس حد تک تخریب و تعمیر کے لئے، مقدار اور نوعیت دونوں اعتبار سے، اتنے زیادہ سامان فراہم کرلے جس کا خواب بھی پچھلے انسانوں نے نہیں دیکھا تھا۔
تاہم انسانی تاریخ کا اتنا بڑا واقعہ بالواسطہ اثرات پیدا کئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس نے دھیرے دھیرے انسانی افکار پر بھی اپنے اثرات ڈالنے شروع کئے یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخر تک یہ عالم ہو گیا کہ سارے علوم انسانی اس سے متاثر ہو کر رہ گئے ۔ مذہب، اخلاق، فلسفہ، قانون، معاشیات، سیاسیات، غرض
کوئی ذہنی موضوع ایسا نہ تھا جس نے گہرے طور پر اس سے اثر قبول نہ کیا ہو۔ فطری طور پر یا بیشتر یک طرفہ فکری علوم سائنس کے اوپر اپنی چھاپ نہ ڈال سکے، وہ صرف سائنس کے عمومی غلبہ کا شکار ہو کر رہ گئے۔ سائنس اپنی ابتدائی شکل میں فکری علوم کی موافق تھی نہ مخالف۔ انسان اگر نظام شمسی کی حرکت کا نقشہ معلوم کرلے ، یا آٹومیٹک مشین کے ذریعے کام لینے لگے تو اس میں اخلاق یا انسانی اقدار سے ٹکراؤ کا پہلو کیا ہے ۔ تاہم سائنس کے ظہور کے ساتھ چند باتیں ایسی پیش آئیں جنھوں نے سائنس کو فکری علوم، خاص طور پر مذہب و اخلاق سے ، متصادم کر دیا۔
مذہب کے ماننے والوں نے سائنس کے ظہور سے پہلے روایتی معلومات کے تحت اپنا ایک فکری نظام بنا رکھا تھا۔ سائنس کی دریافتیں سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ ان میں سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو سائنس کی معلوم کردہ دنیا سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ اب چونکہ سائنس زیادہ ترقی یافتہ ذرائع معلومات کے حوالے سے کلام کر رہی تھی ، قدرتی طور پر سمجھا گیا کہ وہی بات صحیح ہے جو سائنس کی طرف سے آئی ہے۔ اس واقعہ نے مذہب کو لوگوں کی نظر میں بے اعتبار بنا دیا۔ اس میں مزید شدت اس واقعہ سے پیدا ہوئی کہ اہل مذہب، خصوصاً عیسائی حضرات نے، اپنے روایتی عقائد کے تحفظ کے لئے سائنس کے خلاف نہایت سخت رویہ اختیار کیا۔ ان کے اس رد عمل نے لوگوں میں یہ تاثر پیدا کیا کہ مذہب اور سائنس کا ٹکراؤ حقیقی ہے ، اور جب دلائل کی منطق صریح طور پر سائنس کی طرف ہے تو یقیناً مذہب ایک بے اصل چیز ہے۔ اس کی حقیقت تو ہم پرستی کے سوا اور کچھ نہیں۔
دوسری غلطی سائنس دانوں یا کم از کم سائنس کے حوالے سے بولنے والوں نے کی۔ عالم طبیعیات میں اپنی فتوحات سے وہ اس غلط فہمی میں پڑ گئے کہ وہ اس حیثیت میں ہیں کہ وسیع تر فلسفیانہ مسائل کے بارے میں رائے زنی حالاں کہ ، جیسا کہ بعد کو خود سائنس کی مزید دریافتوں سے معلوم ہوا ، عالم طبیعی کے بارے میں ان کے مشاہدات، فلسفہ یا عالم افکار کے نازک مسائل کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے کے لئے انتہائی ناکافی تھے۔ یہاں ہم اپنے مدعا کی وضاحت کے لئے دونوں قسموں کی ایک ایک مثال بیان کریں گے۔
زمین اور سورج کی گردش کے بارے میں قدیم یونان میں دو نظریئے پیش کئے گئے تھے۔ ایک ارسطو کا نظریہ ، جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین قائم ہے اور سورج اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ دوسرا ار سٹارکس (Aristarchus) کا نظریہ جس کے مطابق زمین سورج کے گرد گھوم رہی تھی۔
عیسائیوں کے درمیان ارسطو کا نظریہ بہت مقبول ہوا ۔ کیونکہ مرکزیت زمین کے نظریہ (Geocentric Theory) میں زمین کو بنیادی اہمیت حاصل ہو رہی تھی اور چونکہ انھوں نے حضرت مسیح کو خدائی کا مقام دے رکھا تھا۔ اس لئے ان کا خیال یہ ہو گیا کہ وہی کره نظام شمسی کا مرکز بن سکتا ہے جہاں خدا وندمسیح پیدا ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ مرکزیت زمین کے نظریہ کو انھوں نے اپنے علم کلام میں داخل کر لیا۔ کو پر نیکس (۱۴۷۳-۱۵۴۳) نے جب مرکزیت آفتاب کا نظریہ (Heliocentric Theory) پیش کیا تو یورپ میں عیسائی پیشواؤں کو اقتدار حاصل تھا۔ انھوں نے اپنے
عقیدہ کے تحفظ کے لئے کوپر نیکس کے خلاف عدالتی سزا کا حکم جاری کر دیا۔ خداوند کی جنم بھومی کو تالج (Satellite) قرار دینا ایک ایسا جرم تھا جو کسی طرح معاف نہیں کیا جا سکتا تھا۔
مگر یہ مسئلہ روایتی عیسائیت کا تھا نہ کہ حقیقی معنوں میں خدائی مذہب کا۔ چنانچہ مسلمان جو اس اعتقادی پیچیدگی میں مبتلا نہ تھے کہ پیغمبر کو خدا سمجھتے ہیں، انھوں نے مرکزیت آفتاب کے نظریہ کو زیادہ معقول پا کر اسے قبول کر لیا۔ ان کے یہاں یہ سوال نہیں اٹھا کہ شمسی مرکزیت کا نظریہ مذہبی تعلیمات سے ٹکراتا ہے:
”ارسطو کے احترام کے باوجود عرب کائنات کے بارے میں ارسطو کے نظریہ پر تنقید کرنے میں نہیں ہچکچائے، جس کا مطلب یہ تھا کہ زمین آسمانی اجرام کا مرکز ہے اور تمام اجرام اس کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اس کے برعکس عربوں نے اس امکان کو تسلیم کیا کہ زمین اپنے محور پر گردش کرتی ہوئی سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ Edward McNall Burns Western Civilization, P. 264 سائنس دانوں کی غلطی کی ایک مثال اصول تعلیل (Causation) میں ملتی ہے۔ اشیاء کے مشاہدہ سے جب یہ حقیقت ان کے سامنے آئی کہ واقعات کے پیچھے ایک سبب کارفرما ہوتا ہے، مثال کے طور پر اجرام سماوی کی گردش کے پیچھے جذب و کشش کا قانون یا قوس قزح کے پیچھے بارش کے قطرات سے سورج کی شعاعوں کا گزرنا، تو انھوں نے سمجھ لیا کہ ان کو اس سوال کا جواب مل گیا ہے جس کے لئے فلسفہ ہزاروں سال سے ”علت کائنات“ کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ حالاں کہ علت کائنات کا مسئلہ نہایت گہرے سوالات سے جڑا ہوا تھا اور سائنس دانوں کا طبیعی مشاہدہ کسی بھی درجہ میں اس قابل نہ تھا کہ اُس کو اِس نازک اور گہرے سوال کے جواب کے لئے استعمال کیا جائے۔ تاہم انھوں نے استعمال کیا۔ حتیٰ کہ اس کو خالق کے انکار کا سب سے بڑا ثبوت سمجھ لیا۔ مگر بیسویں صدی کے آغاز میں خود سائنس نے ایسے حقائق دریافت کئے جس کے بعد الحاد کی یہ بنیاد ہمیشہ کے لئے منہدم ہو گئی یہ ہے مختصر طور پر وہ فکری پس منظر جس میں جدید تاریخ کا وہ واقعہ وجود میں آیا جس کو مذہب اور سائنس کا تصادم کہا جاتا ہے۔
سائنس نے جدید دور کے ہر پہلو پر اتنی شدت اور وسعت کے ساتھ اثر ڈالا کہ علم کے تمام شعبوں اور فکر کے تمام گوشوں پر اس کی چھاپ پڑ گئی۔ جس قدیم روایتی ڈھانچہ میں لوگوں نے اسلام کو پایا تھا، وہ بالکل ٹوٹ پھوٹ چکا تھا اور نیا فکری ڈھانچہ جو سائنس کے زیر اثر بنا، اس کے تحت اسلامی افکار کی تشکیل نو نہ کی جاسکی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نسل کی نسل تذبذب اور انتشار ذہنی کا شکار ہو کر رہ گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس دور میں ایسے لوگ معدوم ہو گئے جو جو اسلام کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہوں۔ بلا شبہ ایسے لوگ تھے اور کروروں کی تعداد میں تھے۔ مگر انھوں نے اسلام کو روایتی سطح پر پایا تھا، شعور کی سطح پر نہیں پایا تھا۔ اس کی کا نتیجہ صرف یہ نہیں ہوا کہ لوگ ایمان کی اس اعلیٰ فکری سطح کو نہ پہنچ سکے جہاں آدمی گرد و پیش کے تمام واقعات کو اس طرح اپنے شعور حق کا جزو بنا لیتا ہے کہ ہر طرف اس کو خدا کا جلوہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا اجتماعی نقصان یہ ہوا کہ اس دور میں مسلمانوں کے جو مذہبی
رہتا اٹھے، وہ خود بھی چونکہ ایسے تھے جنھوں نے فکرِ حاضر میں اپنے دین کو نہیں پایا تھا، بلکہ ماضی کے روایتی ڈھانچے میں پایا تھا۔ اس لئے وہ دورِ جدید کے مطابق اسلامی حجم کی منصوبہ بندی نہ کر سکے۔ انتہائی اخلاص مگر انتہائی نادانی کے ساتھ وہ مسلمانوں کو ایسی راہوں میں دوڑاتے رہے جن کی ساری قیمت ماضی کے نقشہ میں تھی، عہدِ حاضر کے نقشہ میں وہ اپنی قیمت کھو چکے تھے۔ وہ تاریخِ ماضی میں حال کا ڈراما کھیلتے رہے۔ اس کا نتیجہ صرف ایک درد ناک شکست تھا۔ چنانچہ ہر محاذ پر شکست ہوئی اور شکست نے بالآخر مایوسی اور جھنجلا ہٹ اور بے حوصلگی کا شدید تر تحفہ دے کر پوری قوم کی قوم کو موت کے کنارے پہنچا دیا۔
شعوری سطح پر دین کو پانے کا مطلب وقت کے افکار کے مقابلے میں دین کو پانا ہے۔ معرکہ بدر (۶۲۴ء) کے مجاہدین نے (اَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ (انفال۔ ۶۰) کی تفسیر "تلوار" میں پائی تھی۔ مگر شامی (۱۸۵ء) کے مسلمان بھی اگر آیت کی تفسیر یہی پائیں تو کہا جائے گا کہ انھوں نے قرآن کو عہدِ حاضر کی نسبت سے نہیں پایا۔ اس آیت کی تفسیر کو تلوار کی شکل میں پانا، قرآن کو گزرے ہوئے ماضی کے نقشہ میں پانا ہے۔ جب کہ تجدید کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو وقت کے نقشہ میں پایا جائے ۔ خیالات کے اظہار کے لئے شعر و خطابت کی زبان استعمال کرنا، احیائے اسلام کی تحریکوں کا سیاسی رخ اختیار کرنا، وعظ خوانی اور فتوے کو اصلاحِ امت کے لئے کافی سمجھنا، سب اسی کے مظاہر ہیں۔ دورِ جدید میں ہمارے جو مصلحین اٹھے انھوں نے اگر فکرِ حاضر میں اپنے اسلامی شعور کو پایا ہوتا تو جانتے کہ آج کے وہ کون سے افکار و عوامل ہیں جو اجتماعات میں فیصلہ کن بن گئے ہیں اور ان کے مقابلے میں اجزائے اسلام کی منصوبہ بندی کس طرح ہونی چاہئے۔ ان کے پاس صرف روایتی عقیدہ کا سرمایہ تھا۔ بس اسی کو لئے ہوئے وہ وقت کے سمندر میں کو ڈبے ہدلے ہوئے زمانے میں اس قسم کا جوشِ ایمان انھیں کہیں نہیں پہنچا سکتا تھا اور نہ اس نے کہیں پہنچایا۔ انیسویں صدی میں یہ بات پوری طرح نمایاں ہو چکی تھی کہ مذہب کا روایتی ڈھانچہ اس جدید ڈھانچہ میں اپنی جگہ نہیں پا رہا ہے جو سائنس کے زیرِ اثر بنا ہے۔ اس وقت ضرورت تھی کہ گہرائی کے ساتھ صورتِ حال کا جائزہ لے کر نیا فکری ڈھانچہ تیار کیا جائے جس میں اسلام دوبارہ اپنی جگہ پا سکے۔ اگر بروقت یہ کام ہو جاتا تو سائنس یا دورِ جدید نہ صرف یہ کہ مذہب کے حریف نہ بنتے بلکہ اس کو تقویت دے کر اس کو نئی زندگی عطا کرنے والے بن جاتے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ نے سیاسی اقتدار سے محرومی کے بعد ماڈرنزم کی شکل میں سائنس سے سمجھوتہ کر لیا۔ مسلمان دینِ حق کے حامل ہونے کی وجہ سے اس پوزیشن میں تھے کہ تاریخِ جدید کے اس اہم کردار کو ادا کر سکیں، جس طرح انھوں نے نویں صدی عیسوی میں بغداد اور قرطبہ میں وقت کی سائنس اور فلسفہ کے مقابلہ میں اسی قسم کے کردار کو ادا کیا تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ وہ وقت تھا جب کہ مسلمان قومیں زوال کا شکار ہو چکی تھیں۔ ان کے اندر نہ حوصلہ تھا نہ فکری بلندی۔ مزید یہ کہ جدید اقتصادیات میں اپنی محرومی کی وجہ سے وہ اس قابل نہ رہے تھے کہ اس قسم کے کسی مؤثر کام کی قیمت ادا کر سکیں۔ اپنی پس ماندگی کی وجہ سے مسلمان اس کا ثبوت بھی نہ دے سکے کہ وہ وقت کے اس مسئلہ کو صحیح طور پر سمجھتے ہیں۔ کجا کہ ان سے یہ امید کی جائے کہ وہ گہرائی کے ساتھ اس کا جائزہ لیتے اور زندگی کے جدید نقشہ میں مذہب کو اس کا مقام عطا کرتے۔
موجودہ حالات نے ہمارے لئے جو مسائل پیدا کئے ہیں، وہ دو قسم کے ہیں: نظری اور عملی۔
پہلے جزو کے سلسلہ میں اہم ترین کام یہ ہیں کہ اسلام کے عقائد و احکام کو جدید استدلالی انداز میں مرتب کیا جائے تا کہ وہ لوگوں کو ”آج کی چیز“ معلوم ہونے لگیں۔ نہ یہ کہ پڑھنے والا یہ سمجھے کہ وہ اس دور کی چیز ہے جب کہ انسان قبائلی دور میں سانس لیتا تھا۔
جدید انداز سے مراد یہ ہے کہ اسلوب تحریر اور مواد استدلال دونوں اعتبار سے وہ جدید علمی معیار کے موجودہ زمانے میں اسلوب تحریر مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ قدیم روایتی اسلوب میں خطیبا نہ انداز غالب اب سائنسی اور تجزیاتی انداز کو پسند کیا جاتا ہے۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ عبارت کے درمیان اشعار نقل کر دینا، زور الفاظ کا مظاہرہ کرنا یا مسجع فقرے لکھنا، نفس مضمون کی قیمت میں اضافہ کرتا ہے۔ اب یہ ساری چیزیں معیوب قرار پاچکی ہیں۔ قدیم تصور ادب میں تیرونشتر قسم کے جملے، مخاطب کے اوپر تیز تیز ریمارک، جذباتی قسم کی عبارتیں انتہائی پسندیدہ ہوتی تھیں ۔ مگر اب یہ تمام چیزیں علمی وقار کے خلاف سمجھی جاتی ہیں۔ ذوق کے مطابق مبالغہ آمیز الفاظ، رنگین ترکیبیں اور استعارے اور تشبیہات ادب کا کمال سمجھے جاتے تھے۔ مگر اب کوئی تعلیم یافتہ آدمی اس قسم کے مضمون کو پڑھنا بھی پسند نہیں کرتا۔
یہی حال مواد کا ہے۔ پہلے زمانے میں یہ بات بھی اس چیز کو ثابت کرنے کے لئے کافی تھی کہ آدمی اپنے نقطہ نظر کے حق میں ایک مثال پیش کر دے یا ایک حکایت بیان کر دے۔ مگر اب اس کو غیر معتبر سمجھا جاتا ہے کہ کوئی شخص کسی قسم کی چیزوں سے اپنی بات ثابت کرنے لگے۔ پہلے زمانے میں کسی حوالے کے لئے عدادی قطعییت یا واقعاتی تعین ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر جدید ذوق کے لئے وہ کلام بے معنی ہے جس میں تعیناتی زبان استعمال نہ کی گئی قدیم طریقے میں استدلال کی بنیاد تمام تر قیاسی منطق ہوا کرتی تھی۔ مگر اب قیاسی منطق بے قیمت ہوگئی ہے۔ تاریخی، مشاہداتی اور تجزیاتی انداز میں بات کو ثابت کرنے کا نام ثابت کرتا ہے۔ قدیم انداز میں آدمی مناظر اور مبلغ بن کر ایک وکیل کی طرح بالکل برہنہ انداز میں اپنے نقطہ نظر کی طرف سے بولتا تھا۔ اب غیر شخصی جائزے کو معیاری انداز سمجھا جاتا ہے۔
پچھلے سو برس میں ہمارے یہاں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے بہت سی کتابیں بجائے خود قیمتی بھی مگر دورِ جدید کے اعتبار سے ان کی افادیت محض جزوی ہے۔ کیونکہ وہ بیشتر خطیبا نہ نثر کا نمونہ ہیں۔ استدلال پر تحریری کام ابھی تک ہمارے یہاں تقریباً صفر کے درجے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اسلام کو سمجھنے کے لئے بھی مستشرقین کی کتابیں پڑھتے ہیں جو خواہ ہمارے نزدیک غلط ہوں، تاہم وہ اپنے انداز اور اسلوب کے اعتبار سے جدید معیار کی حامل ہوتی ہیں۔ مسلم مصنفین کی لکھی ہوئی کتابیں ان کو اپیل نہیں کرتیں۔ عملی مسائل کی فہرست، جن کے حل کے لئے وقت کے نظام اجتماعی میں تغیر ضروری ہے، بہت طویل ہے۔ کا اجتماعی نظام، قومی اور بین الاقوامیدونوں اعتبار سے، سراسر غیر خدائی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کے ڈھانچے میں رہتے
ہوئے دین کے اجتماعی قوانین پر عمل کرنا ممکن نہیں رہا ہے۔ مگر یہاں اسلام نے جو راہِ عمل تجویز کی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو ایک انقلاب پسند لیڈر عام طور پر اختیار کرتا ہے۔
اس کا حل موجودہ زمانے کی اسلامی جماعتوں نے یہ نکالا ہے کہ نظامِ حاضر سے ٹکرا جائیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ اجتماعی ایمان اگر ہمیں حاصل نہیں تو اس کے حصول کی خاطر موت تو ہمارے بس میں ہے۔ پھر کیوں نہ ہم ”بے ایمان“، ”زندگی کے مقابلہ میں“ ایمان دار،، موت کو ترجیح دیں۔
یہ خطرناک غلط فہمی اس لئے پیدا ہوئی کہ اس دور میں اٹھنے والے مصلحینِ امت اس نکتہ کو نہ سمجھ سکے کہ اجتماعی اسلام کے لئے جد و جہد کا مقام آغاز اجتماعی اسلام نہیں، دعوت ہے۔ ہمارے کام کا آغاز اسلامی نظام کے قیام کے لئے براہِ راست اقدام سے نہیں ہوگا بلکہ اساساتِ اسلام کی طرف دعوت سے ہوگا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلامی جد و جہد کا حکم دیا گیا تو یہ نہیں کہا گیا کہ مکہ کی پارلیمنٹ (دار الندوہ) میں نمائندگی حاصل کرنے کا مطالبہ کرو یا کعبہ کی تولیت پر قبضہ کرنے کی کوشش کرو۔ بلکہ توحید اور مواساة بنی آدم سے متعلق سادہ تعلیمات بھیجی گئیں اور حکم ہوا کہ لوگوں میں ان کی تبلیغ کرو۔ اس سے آگے کی چیزیں، جن کے حصول کے لئے اجتماعی انقلاب ضروری ہے، ان کے بارے میں حکم دیا گیا کہ انہیں چھیڑنے کے بجائے ان کو برداشت کرو اور اس وقت کا انتظار کرو جب اللہ حالات میں ایسا تغیر فرمائے جب کہ بقیہ مسائل کے حل کی راہ نکل سکے۔ اس معاملہ میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ ممکن دائرہ میں دین پر عمل کرتے ہوئے دعوتی جد و جہد شروع کر دو، اور بقیہ تمام امور کو متوقع نصرتِ الہیٰ کے خانہ میں ڈال دو۔ یہی مطلب ہے حکم دعوت کے بعد یہ کہنے کا کہ وَلِىَ تَصْبِرُ (مدثر) اساساتِ دین کی طرف پرامن دعوت اور غیر اسلامی تسلط کی وجہ سے جو مشکلات و مسائل پیش آئیں، ان پر صبر، یہی تمام انبیاء کا طریقہ رہا ہے اور یہی آج بھی ان لوگوں کا طریقہ ہونا چاہئے جو مخالف ماحول میں اسلام کے احیاء کے لئے اٹھیں۔