ISLAM CHANGED THE COURSE OF HUMAN HISTORY
Al-Risala, February 1977, pp. 36–31
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام نے انسانی تاریخ پر کیا انقلابی اثرات ڈالے۔ یہ ایک علیحدہ اور مستقل موضوع ہے۔ تاہم مثال کے طور پر میں ایک واقعہ کا ذکر کروں گا۔ آرنلڈ ٹائن بی نے لکھا ہے کہ فطرت کی طاقتیں اول روز سے زمین پر موجود تھیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اس کی تسخیر صرف حالیہ سائنسی انقلاب کے بعد ہوسکی۔ پھر وہ خود ہی جواب دیتا ہے کہ اس تسخیر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شرک (مظاہر پرستی) کا عقیدہ تھا جو پچھلے تمام زمانوں میں مسلسل انسان کے اوپر ایک غالب فکر کی حیثیت سے چھایا رہا ہے۔ شرک کے عقیدہ نے فطرت کی طاقتوں کو دیوتا بنا دیا ۔ کے نزدیک یہ طاقتیں پرستش کا موضوع تھیں نہ کہ تسخیر کا موضوع۔ یہ تمام تر عقیدہ توحید کا کرشمہ ہے کہ انسان تے ان طاقتوں کو اپنی ہی قسم کی مخلوق کی نظر سے دیکھا اور ان کو مسخر کیا۔
بدقسمتی سے موجودہ زمانہ کے مسلمان جدید الحاد کے مقابلہ میں وہی رول ادا نہ کرسکے جو ان کے اسلاف نے قدیم شرک کے مقابلہ میں ادا کیا تھا۔ ورنہ آج نہ صرف یہ کہ ہم دفاع کی پوزیشن میں نہ ہوتے بلکہ خود انسانیت کی تاریخ بھی جس طرح ہزار برس پہلے ہمارے اسلاف نے اللہ کی تائید سے دنیا کی تاریخ بدل دی تھی۔ "تاہم اللہ ہر امر پر غالب ہے ۔ وہ عالم انسانی کے واقعات پر مستقل نظر رکھتا ہے، اور اپنے فیصلہ کے تحت
حق کا احقاق اور باطل کا ابطال کرتا رہتا ہے۔ وہ کام جس کو کرنے میں مسلمان ناکام ثابت ہوئے تھے، اس کو اللہ نے، حیرت انگیز طور پر، خود مغربی اقوام کے ہاتھوں انجام دلا دیا ہے۔ مغربی سائنس کی بعد کی تحقیقات نے وہ تمام نظریاتی بنیادیں منہدم کر دیں جو مذہب و شریعت کو بے اصل یا زمانی ثابت کرنے کے لئے علم جدید نے وضع کی تھیں ۔
انسان کو غلط راہوں میں بھٹکنے سے بچانے کے لئے قرآن نے دو انتہائی بنیادی باتوں کی نشان دہی کی ایک یہ کہ انسان کو چاہئے کہ وہ حقیقت کا غیبی طور پر اقرار کرے، اگر اس نے اصرار کیا کہ اس کو حقیقت کا براہِ راست مشاہدہ کرایا جائے تو وہ سچائی کو نہیں پاسکتا (ہُدًى لِلْمُتَّقِينَ اَلَّذِيْنَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ) دوسرے یہ کہ انسان کو چاہئے کہ وہ اس امر واقعہ کا اعتراف کرے کہ وہ اپنی زندگی کا قانون خود اپنے علم کے ذریعہ دریافت نہیں کر سکتا۔ اگر وہ اپنا قانون خود وضع کرنے کی کوشش کرے گا تو یہ صورت واقعہ کے سراسر (وَلَا تَقُولُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلَالٌ وَّهٰذَا حَرَامٌ) موجودہ دور میں ان دونوں باتوں کو مذہبی خوش اعتقادی پر محمول کیا گیا۔ کہا گیا کہ ان کے پیچھے کوئی علمی بنیاد نہیں ہے۔ مگر سائنس کی بعد کی دریافتوں نے حیرت انگیز طور پر ثابت کیا ہے کہ انسان کے لئے واحد قابلِ عمل موقف وہی ہے جو قرآن میں بتایا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی دوسرا موقف علمی طور پر اس کے لئے ہو ہی نہیں سکتا۔ یہود نے تین ہزار برس پہلے اپنے نبی سے کہا تھا کہ ارنا اللہ جہرۃ - ٹھیک یہی بات موجودہ زمانہ میں علم کے نام پر دہرائی گئی۔ سائنسی ذرائع کے استعمال سے جب ایسے بے شمار مخفی حقائق انسان کے علم میں آئے جن کو وہ اس سے پہلے نہیں جان سکتا تھا، تو کہا گیا کہ سائنس نے انسانی حواس کی محدودیتوں کی تلافی کر دی ہے اور اب ہر موجود چیز کو انسان کے براہِ راست مشاہدہ میں آجانا چاہئے۔ سائنسی ذرائع کے استعمال کے بعد بھی اگر کوئی چیز تمھارے مشاہدہ میں نہیں آتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جب معلوم ہوا کہ سائنسی آلات خورد بینی کیڑوں سے لے کر بعید ترین اجرام تک کو دیکھنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، مگر مذہبی حقائق ان کے مشاہدہ میں نہیں آئے، تو سمجھ لیا گیا کہ ان کی کوئی واقعی حقیقت نہیں۔
مگر بیسویں صدی کا آغاز اس ذہن کے خاتمہ کے ہم معنی بن گیا۔ روشنی کی تعبیر ذرات (Corpuscles) سے کرنے کے سلسلے میں ناکامی نے بتایا کہ کائنات میں ایسی حقیقتیں ہیں جن کو طبیعی اصطلاحوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ایٹم کے ٹوٹنے سے معلوم ہوا کہ اشیاء ابتدائی سائنسی اندازوں سے بہت زیادہ پیچیدہ ہیں۔ ہم جتنی چیزوں کو دیکھ سکتے ہیں، ان سے کہیں زیادہ تعداد ان چیزوں کی ہے جو ہمارے آلات کی گرفت میں نہیں آتے۔ حتیٰ کہ بلیک ہول تھیری کے مطابق خود کثیف اجسام کا بھی صرف ۳ فی صد حصہ ہمارے لئے قابلِ مشاہدہ ہے، بقیہ ۹۷ فی صد حصہ وہ ہے جس کو ہم کبھی نہیں دیکھ سکتے۔
جب کائنات اس سے زیادہ اشیاء کا مجموعہ ہے جو ہمارے براہِ راست مشاہدہ میں آتی ہیں تو بقیہ نا قابل
مشاہدہ چیزوں کو جاننے کا ذریعہ کیا یہاں سائنس دانوں کو ذرائع علم میں مشاہدہ (OBSERVATION) کے ساتھ استنباط (INFERENCE) کا اضافہ کرنا پڑا۔ پہلے دور کی علامت اگر نیوٹن تھا تو دوسرے دور کی علامت آئن سٹائن ہے، اس سلسلہ میں آئن سٹائن کے نظریات کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے:
IN DEALING WITH THE ETEFNAL VERITIES, THE AREA OF EX- PERTMENT IS REDUCED AND THAT OF CONTEMPLATION ENHANCED اس طرح سائنس نے گویا اس واقعہ کا اعتراف کر لیا کہ انسان کے لئے ایمان بالغیب (دواہر کو دیکھ کر حقائق کو کو ماننا) کا طریقہ اختیار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
نظریہ علم (THEORY OF KNOWLEDGE) میں یہ تبدیلی کوئی معمولی تبدیلی نہیں ہے۔ اس نے سچائی کا وہ دروازہ کھول دیا ہے جو دو سو برس سے بند پڑا ہوا تھا۔ سائنس نے جو کائنات دریافت کی تھی، وہ حیرت انگیز طور پر ایک انتہائی با معنی کائنات تھی۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنی ایک تو جیہہ (EXPLANATION) مانگ رہی تھی۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک استنباطی چیز ہے نہ کہ مشاہداتی۔ اس لئے سائنس انیسویں صدی کے آخر تک اس سے گریز کرتی رہی۔ اب استنباط کو سائنسی علم کے زمرہ میں داخل کرنے کے بعد سائنس نے استنباطی توجیہہ کی صداقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ نیوٹن کے الفاظ کو دوبارہ دہرایا جا سکے کہ نظام عالم کے پیچھے ایک خدائی بازو (DIVINE ARM) کام کر رہا ہے۔ حرکت، زندگی، حسن، معنویت، حکمت، عظمت اور پر اسرار خواص کا وہ مجموعہ جس کو کائنات کہا جاتا ہے، اس کی کوئی توجیہہ اس کے سوا نہیں۔ بنتی کہ اس کو ایک زندہ اور با شعور خدا کی کارفرمائی تسلیم کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ استنباطی استدلال کو ایک جائز طریق استدلال ملنے کے بعد پوری کی پوری سائنس قرآن کا علم کلام بن گئی ہے۔ وہ قرآنی عقائد کو علمی سطح پر ثابت کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس کی دریافتوں کو ابھی تک قرآنی کلامیات کے طور پر مرتب نہیں کیا گیا۔
یہاں مثال کے طور پر میں صرف ایک حوالہ دوں گا۔ جدید سائنس نے دریافت کیا ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنا ایک جوڑ رکھتی ہے۔ مقناطیس کے ایک ٹکڑے کو کاٹیں تو وہ فوراً اپنا ایک ساؤتھ پول اور نارتھ پول پیدا اسی طرح ہر چیز جوڑے جوڑے کی شکل میں اپنے وجود کو برقرار رکھتی ہے۔ پارٹیکل کا اینٹی پارٹیکل۔ ایٹم کا اینٹی ایٹم، حتی کہ ورلڈ کا اینٹی ورلڈ ہے۔ اینٹی ورلڈ کو ملے بغیر ہم موجودہ ورلڈ کا تصور ہی نہیں کر سکتے۔ یقین کیا جاتا ہے ہے کہ موجودہ دنیا کے اندر ایک اور متوازی دنیا موجود ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ دوسری دنیا (اینٹی ورلڈ) ہماری موجودہ دنیا کے مقابلہ میں کچھ زیادہ خواص رکھتی ہے۔ مثلاً ہماری دنیا فانی ہے جب کہ دوسری دنیا (اینٹی ورلڈ) کے اندر بقا کی صلاحیت ہے۔ یہ حیرت انگیز طور پر قرآن کی تصدیق ہے۔ قرآن میں کہا گیا تھا : وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ یعنی دنیا کی تمام چیزوں کو ہم نے اس طرح بنایا کہ جوڑے کے بغیر کسی چیز کا وجود ممکن نہیں۔ تاکہ تم غور الہ رسالہ فروری ، ۱۹۷۷ء
کر کے اس حقیقت تک پہنچو کہ پورے عالم کا بھی ایک جوڑا ہونا ضروری ہے، اور وہ آخرت ہے۔ یہی موجودہ زمانہ کی تمام سائنسی دریافتوں کا حال ہے۔ یہ دریافتیں حقیقت عالم کون کے اندر چھپے ہوۓ ’’آلار اللہ‘‘ کا ظہور ہیں۔ یہ اس پیشین گوئی کی تکمیل ہے جو قرآن میں تیرہ سو برس پہلے کی گئی تھی : سَنُرِيهِمُ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ۔ جدید دریافتوں کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس نے آخری طور پر متحقق کر دیا ہے کہ انسان اپنی زندگی کا قانون خود دریافت نہیں کرسکتا۔
یہ بات اب غیر مشتبہ طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ انسان کے ذرائع اس کو صرف جزوی علم تک پہنچاتے ہیں۔ اس واقعہ کا سب سے زیادہ معنی خیز پہلو یہ ہے کہ جو باتیں ہمارے علم میں نہیں آئیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اس سے بہت زیادہ اہم ہوتی ہیں جو ہمارے علم میں آ رہی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ ریڈیم کے الیکٹران ٹوٹتے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے جب کہ ریڈیم کا ٹکڑا ایک غیر تابکار عنصر (سیسہ) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ الیکٹران کیوں ٹوٹتے ہیں۔ وہ کون سی طاقت ہے جو بے شمار الیکٹران میں سے ایک الیکٹران کے لئے ایک وقت خاص میں قضا کا حکم بن کر آتی ہے۔ اس اہم ترین سوال کے بارے میں سائنس دانوں کی تمام قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوئی ہیں۔ حتیٰ کہ ایک سائنس داں کو کہنا پڑا کہ "یہ شاید خداؤں کے اختیار میں ہے، خواہ وہ جو بھی ہوں"۔
یہی تمام اشیاء کا حال ہے۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں:
THE IMPORTANT IS UNKNOWABLE, AND THE KNOWABLE IS UNIMPORTANT (جو اہم ہے وہ ناقابل دریافت ہے اور جو قابل دریافت ہے وہ اہم نہیں)
یہ بات جو سائنسی دنیا کے بارے میں دریافت ہوئی ہے، یہ اس مسئلہ کے بارے میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے جس کو ہم "انسانی قانون کا مسئلہ" کہتے ہیں۔ کیونکہ انسان، ریڈیم کے ایک ٹکڑے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ پیچیدہ پھر جب ہم دھات کے ایک ٹکڑے کے قانون کو صحیح طور پر دریافت نہیں کرسکتے تو انسانی زندگی کا قانون کس طرح معلوم کرسکتے ہیں۔
سائنس نے بتایا ہے کہ انسان کی ہستی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جیسا کہ قدیم زمانہ میں سمجھا جاتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کا تعلق ساری کائنات سے ہے۔ وہ بیک وقت علم الخلايا سے لے کر فلکیات تک اور نفسیات سے لے کر اقتصادیات تک بے شمار علوم کا موضوع ہے۔ دوسرے لفظوں میں، انسان کو صحیح طور پر جاننے کے لئے ساری کائنات کا علم ضروری ہے۔ مگر ٹھیک اسی وقت ہماری تحقیق نے بتایا کہ انسان کچھ ایسی لازمی محدودیتوں کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ حقیقت کو اس کی وسیع اور کلی شکل میں دیکھ انیسویں صدی میں قانون انسانی کے مطالعہ کو "سوشل انجینرنگ" سے تعبیر کیا گیا تھا۔ گویا جس طرح ایک انجینئر
لوہے کی ایک مشین کے لئے پائیدار اور غیر متبدل قوانین وضع کرتا ہے ، اسی طرح ماہرین قانون انسانی زندگی کے لئے بھی ایک قانونی ڈھانچہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر قانون انسانی کا کوئی متفقہ معیار دریافت کرنے میں مکمل ناکامی ہوئی ۔ حتی کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہم ایسی کتابیں پڑھتے ہیں جن کا ٹائٹل ہوتا ہے : قانون اپنی تلاش میں علم قانون (JURISPRUDENCE) طویل تلاش کے بعد بالآخر یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو رہا ہے کہ خالص علمی طریق پر زندگی کا قانون انسان کے لئے قابل دریافت (Discoverable) نہیں ہے۔ ہماری حیاتیاتی اور ذہنی محدودیتیں (Limitations) ہماری راہ میں فیصلہ کن طور پر حائل ہیں۔ جارج وائٹ کراس پین نے اعتراف کیا ہے کہ قانونی معیارات کا کوئی متفقہ مجموعہ پانے کی صورت عملاً اگر کوئی ہے تو صرف یہ کہ وحی آسمانی کو قانون کا ماخذ مان لیا جائے !
انیسویں صدی میں مغرب میں سماجی قانون کے جتنے فلسفے پیدا ہوئے ، سب کسی نہ کسی طرح اس کے دعوے دار تھے کہ سماجی قانون ، طبیعی قانون کی طرح ، خلقی (A Priori) طور پر سماج کے اندر موجود ہوتا ہے ۔ ہمارا کام صرف اس کو " دریافت " کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سماجی قانون بھی اسی طرح ابدی ہے جس طرح بھاپ اور بجلی کے قوانین ۔ یہ تمام فلسفے سماجی قانون کو دریافت کرنے میں ناکام رہے ۔ تا ہم میں کہوں گا کہ اصولی طور پر ان کا موقف صحیح تھا۔ ان کی غلطی یہ تھی کہ وہ ایک صحیح چیز کو غلط جگہ تلاش کر رہے تھے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ انسانی زندگی کا قانون بھی، طبیعیات و حیاتیات کے قوانین کی طرح ، ابدی طور پر مقرر ہے۔ مگر اس قانون کو معلوم کرنے کی جگہ وحی الہی ہے نہ کہ وہ انسانی علوم جن کے متعلق ہم خود دریافت کر چکے ہیں کہ وہ جزوی معلومات کے سوا ہمیں کچھ نہیں دیتے۔
انسانی قانون کو الہی ذریعہ سے قابل اخذ ماننے کا مطلب ، دوسرے لفظوں میں ، اس کو کائناتی قانون کی سطح پر رکھنا ہے یعنی جس منبع سے ساری کائنات اپنا قانون لے رہی ہے وہیں سے انسان بھی اپنا قانون اخذ یہ چیز انسانی قانون کو ابدیت کے خانہ میں ڈال دیتی ہے۔ کائناتی قانون کے متعلق معلوم ہے کہ وہ مسلمہ طور پر غیر متغیر ہے۔ پانی جس قانون تجاذب کے تحت دو گیسوں کے ملنے سے وجود میں آتا ہے اور جس قانون حرارت کے تحت اس کے مالیکیول جدا ہو کر بھاپ کی شکل میں اُڑنے لگتے ہیں ۔ وہ ہر مقام اور ہر زمانہ میں یکساں ہیں۔ پھر خدا کے قوانین جب طبیعیات اور حیاتیات کی دنیا میں ابدی ہیں تو انسانی معاشرہ کے لئے اس کے قوانین غیر ابدی کس طرح ہو سکتے ہیں ۔ ایک ہی ماخذ سے نکلے ہوئے دو قوانین دو الگ الگ نوعیت کے نہیں ہو سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانون کو خدا سے ماخوذ ماننا ہی اس کو زمان ومکان کی حد بندیوں سے ماورا ناہبت کر دیتا ہے۔
قانون کا ئنات کی ابدیت اس کے باوجود ہے کہ اس کے اندر بے شمار قسم کے تغیرات ہر آن مشاہدہ میں آتے قدیم زمانہ کا انسان ستاروں کی بابت عقیدہ رکھتا تھا کہ دن کے وقت ان کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔
رات کی قندیلیں ہیں جو آسمان پر دیوتاؤں کے لئے جلائی جاتی ہیں۔ اسی طرح چاند کے گھٹنے بڑھنے کو وہ حقیقی سمجھتا سورج کے متعلق اس کا خیال تھا کہ وہ صبح کو "نکلتا" اور شام کو "ڈوب" جاتا ہے۔ یہ تغيرات آج "آنکھ کا دھوکا" ثابت ہو چکے ہیں۔ تاہم جدید انسان نے دوسرے اس سے بھی زیادہ بڑے بڑے تغيرات کا مشاہدہ کیا۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ان ظاہری تغيرات سے قوانین کی ابدیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ حیاتیات کی دنیا، جدید دنیا کے مطابق، مسلسل تغيرات کا شکار رہتی ہے۔ علم الخلایا نے بتایا ہے کہ انسانی جسم کے تمام اعضاءبال اور ناخن سے لے کر گوشت اور خون تک ہر آن بدلتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود کسی سائنس داں نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ حیاتیات اور عضویات کے علم کو ہر سال بدلا جائے، اور ان کو بار بار "نئے حالات" کے مطابق مدون کیا جاتا رہے۔ گہرا مطالعہ بتا رہا تھا کہ تغيرات کے ماورا جو انسانی وجود ہے، وہ تبدیلیوں کے باوجود، ایک حالت پر باقی رہتا ہے اور ایک ہی مستقل قانون کے تحت عمل کرتا ہے۔
اب ہم اپنی گفتگو کے آخری حصہ پر آتے ہیں: "کیا کوئی براہ راست قرینہ بھی موجود ہے جو اس دعوے کی صداقت ثابت کرتا ہو کہ انسان کو اپنا قانون خدا کے ابدی سرچشمہ سے اخذ کرنا چاہئے"۔ جواب یہ ہے کہ کم از کم دو ایسے قرینے یقینی طور پر موجود ہیں۔ ایک انسانی فطرت، دوسرے انسانی ساخت کے قوانین کا تجربہ۔ لارڈ ایکٹن نے بجا طور پر کہا تھا:
POWER CORRUPTS AND ABSOLUTE POWER CORRUPTS ABSOLUTELY (اقتدار بگاڑتا ہے اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے)
انسان کے بارے میں ساری تاریخ کا تجربہ ہے کہ جب بھی انسان کو مطلق اختیار حاصل ہوا ہے، اس نے ظلم و فساد پیدا کیا ہے۔ انسان کی ساخت بتاتی ہے کہ وہ کسی برتر اقتدار کے ماتحت رہ کر ہی صحیح کام کر سکتا ہے ۔ اختیارات لازماً اس کو بگاڑ کی طرف لے جاتے ہیں۔
یہ بات اس سے پہلے صرف اخلاقی اصطلاحوں میں کہی جاتی تھی۔ مگر اب خود علم الہیات سے اس کا ثبوت ملنا شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ کے مشہور بیالوجسٹ پروفیسر بی۔ اسکنر اور ان کے ساتھیوں نے اس مسئلہ کا مطالعہ خالص حیاتیاتی سائنس کی روشنی میں کیا ہے اور اپنے نتائج تحقیق کو تازہ مطبوعہ کتاب BEYOND FREEDOM AND DIGNITY میں درج کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ انسان اپنی ساخت کے اعتبار سے اس قابل نہیں کہ وہ آزادی کا تحمّل کر سکے: