Al-Risala · February 1977

کُلَّهُ الله -

Al-Risala, February 1977, pp. 42–46

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد جب ہم انسانی قانون سازی کے تجربات کا مطالعہ کرتے ہیں، تو اس سے بھی یہی قرینہ حاصل ہوتا ہے کہ انسان اپنا قانون دریافت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ یہاں میں زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق چند تقابلی مثالیں دوں گا۔

شرعی شرعی قانون میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ جب کہ وضعی قانون میں اس کو تجارتی سودے پر قیاس کرتے ہوئے جائز سمجھا گیا ہے۔ اگر بے لاگ طور پر دیکھا جائے تو تجربہ پوری طرح شرعی قانون کی برتری ثابت کرتا سود کی حرمت کی بنا پر مسلم ملکوں میں ایک ہزار سال تک اقتصادی نظام چلتا رہا۔ مگر کبھی یہ نوبت نہ آئی کہ ایک طرف دولت کا انبار ہو اور دوسری طرف افلاس کا انبار۔ جدید اقتصادی نظام جو سود کی بنیاد پر قائم ہے اس نے انسانی سماج میں پہلی بار یہ غیر متوازن صورت حال پیدا کی ہے۔ اور موجودہ نظام کے اندر اس کا کوئی حل نہیں۔ لین دین کی تمام شکلوں میں سود واحد طریقہ ہے جو دولت کی گردش کے عمل کو یک طرفہ بنا دیتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جس سے مل کر جدید صنعتی نظام ایک استحصالی نظام میں تبدیل ہو گیا۔ اور نتیجہ موجودہ صدی کی وہ دوسری سے بڑی برائیاں وجود میں آئیں جن میں سے ایک کا نام اشتراکی جبر اور دوسرے کا نام دوسری عالمی جنگ ہے۔ مارکس اور انیسویں صدی کے دوسرے معاشی مفکرین جنہوں نے انفرادی ملکیت کی تنسیخ میں اقتصادی عدل کا راز تلاش کیا وہ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے کہ صنعتی نظام کو جس چیز نے استحصال کا نظام بنایا ہے، وہ اس کے ساتھ سودی سرمایہ کاری کا جوڑ ہے نہ کہ انفرادی ملکیت کا جوڑ۔ اگر وہ اس راز کو پالیتے تو وہ سود کی منسوخی کی وکالت کرتے، اس کے بجائے انھوں نے ملکیت کی منسوخی کا طریقہ اختیار کر کے کوئی مسئلہ حل البتہ انسانیت کے ایک بڑے حصہ کو تاریخ کے سب سے بڑے اجتماعی عذاب میں اس طرح قید کر دیا کہ وہ اس سے نکلنا چاہے بھی تو نہ نکل سکے۔

تاہم ہٹلر نے سود کی اس شناعت کو محسوس کر لیا تھا۔ یہودی سرمایہ دار، دوسری عالمی جنگ سے پہلے، جرمنی اور دوسرے یورپی ملکوں کی معاشیات پر پوری طرح قابض ہو گئے تھے۔ ہٹلر نے اس مسئلہ کا بغور مطالعہ کیا تو اس کی سمجھ میں آیا کہ یہودیوں کے اقتصادی غلبہ کی وجہ سود ہے۔ اگر سود کو قانونی طور پر نا جائز قرار نہ دیا جائے تو یہودی سرمایہ داری اسی طرح ختم ہو جائے گی جس طرح کسی ذی حیات کے جسم سے اس کا خون نکال لیا جائے۔ مگر اس کا بڑھا ہوا انتقامی جنون بعد کو اسے اقتصادی حل کے بجائے فوجی حل کی طرف لے گیا اور اس نے نہ صرف جرمنی بلکہ سارے یورپ سے یہودیوں کے استیصال کے لئے تاریخ کی ہولناک ترین جنگ چھیڑ دی ۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کے بچے کھچے یہودی امریکہ پہنچ گئے ۔ پچھلے تیس برس میں اس قوم نے امریکہ کے سودی اداروں کو اپنے ہاتھ میں لے کر امریکہ کی اقتصادیات پر دوبارہ اسی طرح قبضہ کر لیا ہے جس طرح انھوں نے اس سے پہلے یورپ کی اقتصادیات پر قبضہ کیا تھا۔ چنانچہ نازی جرمنی کی طرح امریکہ میں بھی ان کے خلاف نفرت کا آغاز ہو چکا ہے

حتیٰ کہ مبصرین پیشین گوئی کر رہے ہیں کہ عجیب یں کہ مستقبل میں امریکہ میں بھی ان کے خلاف کوئی "ہٹلر" پیدا ہو جائے۔ یہی صورتِ حال ایک اور شکل میں "زیرِ ترقی ممالک" میں پیش آ رہی ہے۔ یہ ممالک اپنی ترقیاتی اسکیموں کے لئے ترقی یافتہ ممالک سے قرضہ لینے پر مجبور تھے۔ یہ قرضہ، موجودہ اقتصادی نظام کے تحت، انہیں سودی شرائط پر ملا۔ سود کی اقتصادی کرامت کے نتیجہ میں قرضوں کی یہ رقم بڑھتے بڑھتے اب اتنی زیادہ ہو چکی ہے کہ کئی مدیون ملک اپنی سالانہ قسطوں کی ادائیگی کے لئے خود دائن ملکوں سے دوبارہ قرض لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اکثر ملکوں کا یہ حال ہے کہ اگر نہیں یہ سارے قرضے مع سود ادا نہ کرنے پڑیں تو وہ مکمل طور پر دیوالیہ ہو جائیں۔

شریعت اسلامی کا تصورِ سزا اس بنیاد پر قائم ہے کہ انسان ایک با اختیار مخلوق ہے۔ اپنے ارادے کے تحت جرم کرتا ہے اس لئے مجرم کو ایسی سزا دینا چاہئے جو دوسروں کے لئے عبرت (نکال) بن سکے۔ لوگ اس کے انجام کو دیکھ کر ڈر جائیں، اور آئندہ جرم کرنے سے باز رہیں راس کے مطابق شریعتِ خداوندی میں قاتل کی سزاقتل مقرر کی گئی۔ مگر اٹھارویں صدی کے آخر میں یورپ میں جرمیَات (Criminology) کا ایک نیا فلسفہ وضع ہوا، اس کے مطابق جرم کوئی ارادی واقعہ نہ تھا، بلکہ اضطراری واقعہ تھا۔ اس کے اسباب حیاتیاتی ساخت، ذہنی بیماری، معاشی تنگی، سماجی حالات وغیرہ میں بتائے گئے۔ کہا گیا کہ مجرم کو مجرم کے بجائے مریض سمجھنا چاہئے ۔ دینے کے بجائے اس کے "علاج" کا انتظام کرنا چاہئے ۔

اس نظریہ نے جدید دنیا میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔ اکثر ملکوں میں جیل خانوں کے بجائے اصلاح خانے بنائے گئے اور اخلاقی جرائم کی حد تک سنگین سزاؤں کو ختم کر دیا گیا۔ اگر چہ اس کے بعد بھی ہر ملک میں دفاعی اہمیت کے جرائم کے لئے سنگین سزائیں بدستور جاری رہیں اور یہ واقعہ اس نظریہ کے علم برداروں کی بے یقینی ثابت کرنے کے لئے تاہم انسانی فطرت کے بارے میں بعد کی تحقیقات اور عملی تجربوں نے مزید اس نظریہ کی غلطی واضح کر دی ہے۔ خوش حال اور "صحت مند" معاشروں میں لوگوں کے اندر جرائم کا رجحان اس سے بھی زیادہ پایا گیا جو نسبتا غریب اور غیر صحت مند معاشروں میں نظر آتا ہے۔ "معالجاتى" "تدبیریں جرائم کو روکنے میں تکام ثابت ہوئیں ۔ جن ملکوں میں سزاؤں میں تخفیف کے اصول کوجاری کیا گیا، وہاں اس کے بعد جرائم کی رفتار بہت بڑھ گئی ۔ کئی ملکوں مثلاً سری لنکا اور ڈیلاویر (Delaware) میں سزائے موت کو ختم کرنے کے بعد دوبارہ اس کو بحال کرنا پڑا چنانچہ ماہرینِ قانون اب اپنے سابقہ نظریہ پر نظر ثانی کے لئے مجبور ہو رہے ہیں۔ ایک ماہر قانون نے کہا ہے: "لوگوں میں یہ عام تاثر ہونا کہ کسی بھی شخص کو قتل کرنا ملزم کو موت کی سزا کا مستحق بناتا ہے اپنے اندر بہت بڑی مانع قدر (Dettorent Value)

اس کے برعکس شرعی قانون کی افادیت کا زندہ ثبوت وہ ممالک ہیں جہاں آج بھی شرعی سزا نافذ ہے۔ مثال کے طور پر سعودی عرب۔ یہ ایک معلوم واقعہ ہے کہ یہاں ، مہذب ممالک کے مقابلہ میں جرائم کی تعداد انتہائی حد ناک کم ہے۔

اسی طرح ایک مثال عورت مرد کے درمیان تعلقات کا مسئلہ ہے۔ اسلامی شریعت کے نزدیک مرد اور عورت ایک دوسرے کا تکملہ (Contents) ہیں۔ بعضکم من بعض (آل عمران) اس کے برعکس جدید تہذیب کا دعویٰ ہے کہ مرد اور عورت ایک دوسرے کا ثانی (Defeated) ہیں۔ شرعی نقطہ نظر کا تقاضا ہے کہ دونوں صنفوں کا دائرہ کار الگ الگ ہو۔ چنانچہ شریعت اسلامی میں مقرر کیا گیا کہ، اصولی طور پر، عورت کا دائرہ کار اور مرد کا دائرہ کار باہر ہوگا۔ جب کہ مغربی فکر کا تقاضا تھا کہ عورت اور مرد دونوں ایک ہی میدانِ عمل میں سرگرم ہوں۔ کسی قسم کی کوئی تفریق و تقسیم نہ رکھی جائے ۔

مغربی ملکوں میں انیسویں صدی میں مساواتِ مرد و زن کے اصول کو رائج کیا گیا۔ مگر سو برس تک عمل ہونے کے باوجود ایسا نہ ہو سکا کہ عورت کسی بھی شعبہ میں مرد کی جگہ لے سکتی۔ اس تجرباتی ناکامی نے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ مسئلہ کا از سرِ نو جائزہ لیں۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں، اس مسئلہ پر مغربی ممالک، خصوصاً امریکہ میں غیر معمولی تحقیقات یہ تحقیقات حیرت انگیز طور پر شرعی نقطہ نظر کی تصدیق کر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ اب قطعی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ نہ صرف دونوں کی نفسیات الگ الگ ہیں۔ بلکہ دونوں کے درمیان فیصلہ کن قسم کے حیاتیاتی فروق (Biological differences) پائے جاتے ہیں۔ اپنی فطری ساخت کے اعتبار سے دونوں ایک ہی کام کے لئے موزوں نہیں۔

پھر دونوں نظریات کی بنیاد پر جو خاندانی اور معاشرتی زندگی بنتی ہے، وہ بھی اب مکمل طور پر سامنے آ چکی ہے۔ مرد و عورت کے بارے میں شرعی اصول پر زمین کے ایک بڑے رقبہ میں تیرہ صدیوں تک عمل ہوتا رہا۔ کے نظام میں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی پیدا نہ ہوئی۔ جب کہ مغربی زندگی میں "مساوات" کے جدید اصول کے انطباق نے پورے معاشرہ کو بگاڑ دیا ہے اور خاندانی زندگی بالکل منتشر ہو کر رہ گئی ہے۔ عورت کو گھر کے باہر کے امور سپرد کرنے کے نتیجہ میں مغرب میں جو بے شمار مسائل پیدا ہوئے ہیں، ان کی تفصیل پیش کرنے کا موقع نہیں۔ یہاں میں اس کے صرف دو پہلوؤں کا ذکر کروں گا۔ ایک، بچوں کا اپنے سر پرستوں کی تربیت سے محروم ہونے کا مسئلہ۔ مغربی سماج میں یہ صورت عام ہے کہ باپ اور ماں دونوں کے بیرونی کام پر چلے جانے کی وجہ سے بچوں کو اپنے فطری مربیوں کے درمیان رہنے کا موقع نہیں ملتا۔ مزید یہ کہ عورت مرد کے آزادانہ اختلاط کے نتیجہ میں بار بار نئی صنفی دلچسپیاں وجود میں آتی ہیں اور طلاقوں کی کثرت سے وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو اجڑے گھروں (Broken families) کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ اس طرح جو بچے اپنے سر پرستوں سے محروم ہو کر پرورش پاتے ہیں ان کی شخصیت کا فطری ارتقاء نہیں ہو پاتا۔ چنانچہ بچوں میں کثرت سے ایک نئی قسم کی نفسیاتی بیماری پیدا ہو رہی ہے جس کو امریکی ڈاکٹروں نے آٹزم (Autism) کا نام دیا ہے۔ جسمانی طور پر بظاہر تندرست بچے ذہنی اعتبار سے عجیب و غریب قسم کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ مثلاً وحشت زدگی، ساتھیوں سے لڑنا۔ اسکول کا کام نہ کرنا۔ پسندی وغیرہ ۔ ان کے علاج کی ہر تدبیر اب تک ناکام ثابت ہوئی ہے۔

(ترجمان القرآن، فروری ۱۹۹۷ء)

دوسرا مسئلہ بڑوں سے متعلق ہے۔ بچے اپنے سرپرستوں سے محروم ہورہے ہیں۔ بڑے اپنے عزیزوں اور مخلصوں فرانس کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس میں انسانوں کی ۵۲ ملین آبادی میں سات ملین کتے ہیں۔ یہ کتے اپنے مالکوں کے ساتھ اس طرح رہتے ہیں جیسے وہ ان کے قریبی عزیز ہوں۔ پیرس کے نہایت مہنگے ہوٹلوں میں یہ منظر اب عجیب نہیں رہا کہ ایک مرد یا عورت اپنے کتے کے ساتھ ایک ہی میز پر کھانا کھارہے ہیں۔ " فرانسیسی لوگ اپنے کتوں سے کیوں اپنوں جیسا معاملہ کرتے ہیں؟ " جمعیۃ رعایۃ الحیوان (پیرس) کے ایک مسئول سے جب یہ پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا: "وہ چاہتے ہیں کہ محبت کریں۔ مگر وہ انسانوں میں ایسے لوگ نہیں پاتے جن سے وہ محبت کر سکیں"۔ عورت مرد کے درمیان فطری توازن توڑنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارے انسان منتشر ہوگئے ۔ ماں باپ، بھائی بہن ، بیوی بچے، یہ سب انسان کی فطری ضرورتیں ہیں۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ اپنے لئے اس قسم کے افراد نہیں پاسکتے تو انھوں نے کتے سے محبت شروع کر دی۔ کیونکہ کتے میں کم از کم اتنی خصوصیت یقینی ہے کہ وہ کبھی ساتھ نہیں چھوڑتا، کبھی بے وفائی نہیں کرتا۔

انسانی تجربات انسان کو سچائی کے دروازے تک پہنچا چکے ہیں۔ اب حاملین قرآن کو یہ کرنا ہے کہ وہ اٹھیں اور سچائی کے بند دروازہ کو کھول دیں، تاکہ انسانی قافلہ خدا کی رحمتوں کی دنیا میں داخل ہو جائے جہاں ان کا رب ان کا انتظار کر رہا ہے۔

آخر میں ایک شبہ کا جواب دے کر اس گفتگو کو ختم کروں گا۔

طرابلس کے ندوۃ الحوار الاسلامی۔ المسيحی (فروری ۱۹۷۶) میں مسیحی موقف یہ تھا کہ دین صرف روحانی اقدار کا مجموعہ ہے۔ مسلم موقف یہ تھا کہ دین ایک مکمل نظام ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مسیحی نمائندہ (ڈاکٹر شوٹویل) نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جدید زندگی کے بہت سے مسائل ہیں جن کے بارے میں دینی کتابوں میں قوانین نہیں ملتے۔ مثال کے طور پر سٹی پلاننگ۔ ایسی حالت میں دین کو مکمل نظام کے طور پر کس طرح نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس قسم کے شبہات اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ قانون کے مختلف حصوں کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھا جاتا۔ چنانچہ خلط مبحث کی وجہ سے معاملہ کی پوری نوعیت واضح نہیں ہوتی۔ اسلامی نقطہ نظر سے قانون حیات کے تین مختلف حصے ہیں:

دین میں اساسی قانون کا جو حصہ ہے، اس کو شریعت کہتے ہیں۔ قرآن اور سنت ثابتہ اس شریعت کا ماخذ ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے زندگی کے وہ بنیادی قوانین بتا دیئے ہیں جن پر انسانی زندگی کا نظام صحیح طور پر قائم ہو سکتا یہ قوانین اسی طرح غیر تبدیل ہیں جس طرح طبیعیات اور حیاتیات کے قوانین غیر تبدیل ہیں۔

فقہ، ایک معنی میں شریعت کے بنیادی قانون کی زمانی تعبیرات کا نام ہے۔ بنیادی انسانی قانون بلاشبہ ناقابل تغیر ہے۔ مگر زندگی کے نقشوں میں تبدیلی کی وجہ سے بار بار اس کی ضرورت ہوتی ہے کہ بدلے ہوئے نقشہ میں اسلام کے ابدی قانون کو منطبق کیا جائے۔ فقہ اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے وجود میں آتی ہے۔ خلافت عباسیہ کے زمانہ میں جب اسلام کو وسعت حاصل ہوئی اور زندگی کے نقشے بدل گئے تو قاضی ابو یوسف (۹۸ھ - ۳۱ھ) سامنے آئے اور انہوں نے وقت کی عظیم ترین سلطنت کے تمام امور پر اسلامی قوانین کو منطبق کر کے دکھا دیا کہ اسلام کس طرح اپنے اندر گنجائش رکھتا ہے کہ ہر دور کی ضرورتیں پوری کر سکے۔

تاہم فقہ میں، اساسی شریعت کے برعکس زمانی عنصر پایا جانا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر فتاوی قاضی خان میں ایک جزئیہ ہے کہ کوئی شخص قسم کھا لے کہ میں ہوا میں اڑوں گا اور اڑ نہ سکے تو اس پر کفارہ واجب نہیں۔ کیونکہ ہوا میں اڑنا انسان کے لئے ممکن نہیں۔ ظاہر ہے کہ موجودہ زمانہ کا فقیہ اس قسم کا فتوی نہیں دے گا۔ فقہ کو ہر زمانہ کے حالات سے موافق بنانے کے اسی عمل کا نام اجتہاد ہے۔ شریعت اجتہاد کے ذریعہ ثابت کرتی ہے کہ وہ کس طرح دائمی طور پر قابل عمل ہے۔ فقہی اجتہاد اگرچہ اساسی طور پر شریعت کا پابند ہے۔ مگر وہ کسی سابق فقہ کا پابند نہیں۔ کیوں کہ فقہ صرف اجتہاد اسلامی کار یکارڈ ہے وہ بجائے خود شریعت نہیں۔

قانون کا تیسرا حصہ وہ ہے جس کے لئے میں نے ”تمدنی ضوابط“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس سلسلے میں شریعت نے ہمیں کسی قانون کا پابند نہیں کیا ہے۔ بلکہ تمدنی ضرورتوں کے مطابق انسانی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہر قسم کی ضابطہ بندی کی آزادی دی ہے۔ سورہ سبا کے دوسرے رکوع میں اللہ تعالی نے اپنے ان بندوں کا ذکر کیا ہے جن کو بڑی بڑی مادی ترقیاں دی گئی تھیں، معدنیات کو تصرف میں لانے کافن ، ہوائی سفر کی قدرت، بعید مقامات تک خبر رسانی کی صلاحیت، فن تعمیر، انجینیرنگ زراعت، شہری پلاننگ وغیرہ میں ان کو غیر معمولی مقام حاصل تھا۔ اس سلسلے میں کوئی ”صنعتی شریعت“ یا ”ٹیکنیکل فقہ“ ان کو نہیں دی گئی۔ صرف یہ حکم دیا گیا کہ خدا کے شکر گزار رہو۔ سے معلوم ہوا کہ تمدنی امور میں ضوابط مقرر کرنے کا معاملہ شریعت سے متعلق نہیں ہے یہ کام آدمی کو خود اپنے علوم (سائنس) کے ذریعہ انجام دینا ہے۔ البتہ اس کے اس عمل میں خدا کی شکر گزاری کی روح جاری و ساری رہنا چاہئے جو خود اس بات بھی سب سے بڑی ضمانت ہے کہ اس کی قانون سازی ظلم اور فساد کے اجزاء سے پاک رہے گی اس مقالہ کا عربی ترجمہ (وجوب تطبيق الشريعة في كل زمان ومكان) الرياض کی اسلامی فقہ کانفرنس میں ۲۵ اکتوبر ۱۹۷۹ء کو ظفر الاسلام خاں نے نیا نہ پڑھا۔

Printed page