مطالعۂ کتب
Al-Risala, February 1977, pp. 47–49
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا کی علمی اور ثقافتی تاریخ پر یونیسکو نے ایک کتاب چھاپی ہے۔ کتاب چھ جلدوں میں ہے اور ہر جلد کے دو حصے ہیں۔ یہ ترتیب میں دنیا بھر کے ڈیڑھ سو ماہرین سے مدد لی گئی ہے۔ ہمارے سامنے چھٹی جلد کے دوسرے حصہ کا عربی ترجمہ ہے جو ۲۰ ویں صدی کے ”تطور المجتمع“ سے متعلق ہے۔
ہند و ازم کے باب کے تحت مولف لکھتے ہیں۔ " ہند و ازم کی اصلاح میں مغرب کا بڑا حصہ خود گیتا جو ہندوؤں کے تعلیم یافتہ طبقہ میں مقبول ہوئی وہ ان کے بڑے حصہ تک انگریزی ترجمہ کے ذریعہ پہنچی تھی۔ گیتا کی تعلیمات پر پہلا مقدمہ جو مہاتما گاندھی نے لکھا وہ اس کے منظوم ترجمہ پر تھا جو سر ایڈون ارنلڈ نے کیا تھا جس کا نام تھا THE SONG گیتا کا منثور ترجمہ جوای اینٹ نے سانگ آف گاڈ کے نام سے کیا تھا، ایک نسل سے زیادہ تک وہ ہند و ازم کے تمام طلبہ کا لازمی رفیق ہوتا اگر چہ تلک نے گیتا کی تشریح مراٹھی زبان میں لکھی تھی، اسی طرح گاندھی نے گیتا کی تشریح گجراتی زبان التَّطَوُّرُ العلمي وَالثَّقَافِيُّ المجلد السادس ، الجز الثانی صفحات ۴۸۰ ، ۱۹۷۱ء الهيئة المصرية العامة للتاليف والنشر، قاهره میں لکھی تھی، مگر وہ عام ہندوستانیوں تک انگریزی ترجمہ سے پہلے نہ پہنچ سکی۔ ہندو ازم پر عہد جدید کی اکثر کتابیں انگریزی میں لکھی گئیں۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ انگریزی زبان کا ہندوستان کے ہر علاقہ میں پھیلنا وہ چیز تھی جس نے ہند و اصلاحی تحریک کے قیام کو ممکن بنایا۔
عرصہ تک یہ صورت حال تھی کہ ہند و ازم کی اہم کتابیں ان لوگوں کی دسترس سے باہر تھیں جو سنسکرت نہ جانتے ہوں ۔ چنانچہ صرف تھوڑے سے لوگ جن کی اکثریت برہمن تھی ان کتابوں سے واقف تھے۔ اپنشید کے ترجمے ہندوستان کی مقامی زبانوں میں موجود نہ یہی حال ان بڑی بڑی شرحوں کا تھا جن پر ہندو فلسفہ کی بنیاد قائم ہے۔ میکس مولر کی الکتب المقدسہ فی الشرق (۱۸۷۵ء) جو نویں صدی کے ربع آخر میں انگریزی میں شائع ہوئی اس نے ان نصوص کو تعلیم یافتہ ہندوؤں اسی طرح ہندو فلسفہ کی شرح پر انگریزی کتابیں شائع ہوئیں مثلاً ویویکانند کی تقریریں آرو بندو کے مقالات اور اُن کی کتاب الحیاۃ المقدسہ ۱۹۱۹ - ۱۹۱۶ء، رادھا کرشنن کی کتاب انڈین فلاسفی (۱۹۲۷) اسی طرح ہند و ازم پر اکثر اہم کتابیں انگریزی میں لکھی گئیں اور ہندوستان کی سیاسی وحدت اور ایک بان کا وجود میں آنا۔ اگر چہ وہ آئی تھی، اس نے اس کو ممکن بنایا کہ قومی تحریک ملک کے تمام گوشوں تک پہنچ سکے۔ یہ دو چیزیں ہندو احیاء کے لئے لازمی تھیں (صفحہ ۳۹ تا ۳۳ ) ۔ گویا جو چیز اُن کے لئے ناموافق صورت حال کی حیثیت رکھتی تھی اس کو انھوں نے
موافق صورت حال ADVANTAGE میں تبدیل کر لیا ۔
ایل ایس بی کیلیے ترجمہ : ابن حنیف "وہ مجھے مل گیا۔ مجھے مل گیا ۔
" خیریت ! کیا مل گیا ہے تمھیں ؟ " میں نے پائی گئیں ۔ مارے خوشی کے ہماری چیخیں نکل گئیں۔ بالآخر ہماری تمام ترامیدیں، مشقتیں اور قربانیاں بار آور ہو گئی تھیں اور ہم نے اپنی دریافت کو کھودنا شروع کر دیا۔
چیزوں کی تلاش میں ہمارا طریقہ کار بڑا سیدھا سادہ ہے مگر ساتھ ہی بہت تکلیف دہ بھی۔ طریقہ یہ ہے کہ ہمیں گھاٹی کی ڈھلوانوں پر کبھی اوپر کی طرف اور کبھی نیچے کی جانب پیٹ کے بل رینگنا پڑتا ہے اس حال میں کہ ہماری آنکھیں زمین سے بمشکل چند انچ کے فاصلے پر ہوتی ہیں جہاں کہیں اپنی بیوی سے پوچھا۔
وہ آدمی ! ہمارا آدمی ۔ وہ جسے ہم تلاش کر رہے تھے۔ جلدی آؤ، میں نے اس کو ڈھونڈ کوئی ننھا سا منجمد استخوانی ٹکڑا بھی نظر آجائے فوراً رک جاتے ہیں اور کسی عمدہ برش یا دانتوں کے خلال سے بہت احتیاط کے ساتھ اس کی تفتیش میری نے جواب دیا۔
اس روز میں سر درد کی وجہ سے باہر نہ جا سکتا تھا اور صبح سے ہی کیمپ میں پڑا تھا لیکن اب میرا درد گویا جادو کے زور سے غائب ہو چکا تھا اور پھر ہم گاڑی میں بیٹھے کوہستانی گھاٹی کے تنگ راستے سے نیچے اُتر رہے تھے۔ ذرا دیر بعد ہم پتھروں کے ایک ڈھیر کے پاس گھٹنوں کے بل جھکے میری کا خزانہ
دانت ایک چٹان سے باہر کو نکلا ہوا تھا۔ ہمارے خیال میں ان چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی رٹ سے وہ جستجو ختم ہونے کو تھی جس میں ہم نے ۲۸ برس بتا دیے تھے۔ ٹانگانی کا کی دور دراز گھاٹی اولڈ سوانی اس انسان کی باقیات سمیٹے ہوئی تھی جو اب تک سب سے قدیم تھے اور پیشتر ازیں اس کی ہڈیاں کبھی نہیں کرتے ہیں اور یہ سب کچھ گرمی میں کرنا پڑتا ہے بعض اوقات گرمی ایک سو دس درجے فارن ہیٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
ہم ٹھان چکے تھے کہ اس کاسہ سر کا کوئی بھی اہم ٹکڑا ضائع نہ جانے دیں گے چنانچہ کئی ٹن سنگریزے اور مٹی چھان ڈالی اور انیس دن کی کاوشوں کے بعد قریباً پوری کھوپڑی ہاتھ آ گئی۔ نچلا جبڑا البتہ نہ پایا جا سکا اس نرم چٹان کے سکڑنے اور پھیلنے کے عمل کی وجہ سے یہ نئی دریافت شدہ کھوپڑی چار سو ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ ڈاڑھوں اور انیاب کا جائزہ لینے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ کھوپڑی جس انسان کی تھی وہ اٹھارہ سال کی عمر کا رہا ہوگا میں نے اسے زنجنتھروپس یا مشرقی افریقہ کا آدمی کا نام دیا ہے اس کے سپاٹ یا چٹے کاسہ سر میں جو دماغ تھا وہ موجودہ انسانی مغز سے غالباً آدھا
..... چٹان میں دبی ہوئی ایک کھوپڑی ملتی هے۔ پتھروں سے کاٹ کر نکالنے میں اس کے ریزے ریزے ھو جاتے ہیں کئی ٹن سنگریزے اور مٹی کو چھاننے کے بعد جب کھوپڑی کو حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ھو جاتی ھے تو معلوم ھوتا ھے کہ تلاش کرنے والوں کو کھوپڑی کا صرف ایک حصہ ملا ھے اور وہ بھی چار سو ٹکڑوں کی شکل میں۔
اسی قسم کی وہ دریافتیں" ھیں جن سے علماء ارتقاء کے نزدیک یہ ثابت ھو گیا ھے کہ کروڑوں برس پہلے کچھ انسان نما حیوان بستے تھے جو موجودہ انسان کی ابتدائی کڑی تھے!
تھا، علاوہ ازیں کھوپڑی کے بالکل سامنے کٹاؤ دار سے ادزار گھڑ لینے کی صلاحیت بھی، اور آلات ایک استخوانی ابھار ہے جو دائیں سے بائیں کو چلا گیا ہے بنانے کی اہلیت ہی ایک ایسا نکتہ ہے جو اس بات اس قسم کا ابھار بعض انسان نما مخلوق میں پایا گیا ہے۔ سے قطعی جداگانہ ہے کہ صرف نوکدار لکڑیوں یا تیز موجودہ نسل انسانی ارتقاء کی جس منزل کو پہنچ چکی ہے کوئی نوکیلے پتھروں سے کام نکال لیا جائے جو قدرتی طور کوئی شبہ نہیں کہ زنجنتھروپس اس سے کافی پیچھے تھا لیکن میں پر بنے بنائے دستیاب ہو سکتے تھے جس جگہ قدیم نے اس بیسں کم از کم میں خصوصیات ایسی دیکھی ہیں جن زنجن تھروپس اپنے کھدے گھر بنا کر رہتا تھا وہاں سے کی وجہ سے وہ جنوبی افریقہ میں دریافت شدہ انسان نما ہمیں اوزار بھی ملے اور یہ اوزار اس کھوپڑی کی مخلوق کی نسبت موجودہ انسان سے کہیں زیادہ مشابہت دستیابی سے کئی سال قبل ہمارے ہاتھ لگے تھے۔