Al-Risala · February 1977

میں کھالیں صاف کرنے اور جانوروں کی لاشیں

Al-Risala, February 1977, pp. 49–54

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان سے حقیقی مراد ہے کیا ؟ میرے نزدیک کاٹنے کے بد وضع سنگی آلات شامل ہیں۔ انسان محض وہ قدیم بو ز نہ نما مخلوق نہیں ہے جو سیدھی قبر نما ایسے پتھر بھی ہیں جن سے ہڈیاں توڑ کر گودا ہو کر چلتی تھی اور جس کے ہاتھ بھی تھے بلکہ صحیح معنوں میں نکالا جاتا تھا صاف ظاہر ہے کہ زنجنتھر ویس اپنے انسان ہونے کے لئے ضروری تھا کہ وہ سوجھ بوجھ اور اوزار تراشنا جانتا تھا۔ آج تک جتنی بھی قدیم عقل بھی رکھتا ہو اور اپنے استعمال کے لئے بھدے انسانی کھوپڑیاں پائی گئی ہیں۔ زنجن تھر ویس کی

داڑھيں اس ميں سب سے ہڈی، ہيں لیکن ان کے اگلے دانت نسبتاً چھوٹے اورکند ہيں۔ چنانچہ اُن کی مدد سے زنجنتھوپس خرگوش يا اتنے ہی بڑے دوسرے جانوروں کی کھالیں اور سمور ہرگز ہرگز چیڑ پھاڑ نہ سکتا تھا لیکن اس کے مسکن سے جو ہڈیاں ملی ہیں اُن سے پتہ چلتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے جانور اس کی خوراک تھے ضرور، ان سب باتوں کا صرف ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ کہ زنجنتھوپس نے اپنی خوراک میں جب گوشت شامل کیا تو یقیناً اس نے او زار بنانا شروع کر دیئے میں اولڈ دوائی پہلی بار ۱۹۳۱ء میں آیا تھا اور بیل گاڑی کو یہاں پہنچنے میں سات دن لگے تھے۔ راستے میں جنگلی جانوروں مثلاً ہاتھیوں، ،زیبروں، گینڈوں، زرافوں، ہرنوں اور چھوٹے خوشنما کوئی چودہ انچ اونچے بارہ سنگھوں کی کمی نہ تھی۔ ہم سے شاذ ہی خوف کھاتے تھے۔ اس وقت جب ہم نے گھاٹی کے کنارے پڑاؤ ڈالا تو پہلی رات ہمارے نئے ہمسائے ہمیں دیکھنے آئے۔ رات کو کیمپ کے پاس میں نے کچھ ہلچل محسوس کی۔ یہ چلنے پھرنے والے کون ہو سکتے ہیں؟ میں تحقیق کرنے باہر نکلا۔ میں مجھے سبز آنکھیں نظر آئیں۔ یہ گیارہ شیر تھے کچھ پاس اور کچھ ذرا پرے ۔ اصل میں وہ اس حملے کی تفتیش کرنے آئے تھے جو ہم نے اُن کے علاقہ پر کیا تھا اور بلی کے پورے خاندان میں شیر کو سب سے زیادہ متجسس طبیعت ملی ہمارے ان میزبانوں نے ہمیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا ان کی خوش اخلاقی کے جواب میں ہمارا رویہ بھی ان کے ساتھ ہمیشہ شائستہ رہا۔

ایک روز میں نیروبی اپنے مکان پر تھا کہ اولڈ دوانی سے میری نے مجھے ریڈیو فون پر بتایا۔

"ہمیں ایک پاؤں ملا ہے۔ ہاں پاؤں کہہ رہی ہوں۔ شاید یہ بھی زنجن تھروپس کی طرح ایک اور ہیجان انگیز

"حیران کن خبر ہے، کیا کچھ پا چکی ہو؟

"کافی حصہ، ایڑی اور ٹخنے کی ہڈیاں اور کچھ دوسری بھی، کب آ رہے ہو انہیں دیکھنے؟

اور اس طرح مجھے دنیا بھر میں اب تک معدوم شدہ سب سے قدیم (HOMINID) کی متحجر ہڈیوں کا علم ہوا۔ یہ نوع اس باقاعدہ خاندان کا رکن تھی جس میں انسان اور انسان نما مخلوق شامل ہے۔ ہماری پارٹی کو اولین چیتے کے دانت تلاش کرتے کرتے بالکل صحیح حالت میں ایک دانت ملا، مگر یہ کسی چیتے کا نہ تھا۔ "بعونہ اولیٰ"، میری چلائی۔

سطح سے نیچے خندق میں ہنسلی کی ایک بڑی کھوپڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے، انگلیوں کی ہڈیاں، پاؤں کی اہم ہڈیاں اور نچلے جبڑے کا بڑا حصہ ہاتھ لگا۔ اس جبڑے کے دانت بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ محفوظ تھے۔ یہ جگہ وہاں سے کوئی ڈھائی سو گز پرے تھی جہاں زنجنتھروپس ملا تھا مگر زنجنتھروپس کی جگہ اوپر تھی۔ اس کی نچلی پہلی داڑھیں گھسی ہوئی تھیں، تیسری داڑھوں کی علامات تک سرے سے غائب تھیں گویاز نجنتھر وپس سے پہلے کا یہ رکاز کسی گیارہ بارہ سالہ بچے کا ہے۔ سر کی ہڈیوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس بچے کی موت تشدد کا نتیجہ تھی ۔ ضرب شدید لگنے کی وجہ سے ہڈی تڑخنے کے نشانات

وہاں چٹانیں بھی نہ تھیں کہ اُن پر سے گر کر اتنا بڑا گھاؤ کھا کر مرا ہو۔ بہر حال وار کسی کند ہتھیار سے کیا گیا تھا۔

تا حال ہمارے پاس اتنی معلومات نہیں ہیں کہ زنجنتھر وپس سے بھی زیادہ قدیم اس بچے کو ہم صحیح معنوں میں انسان کہہ سکیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ زنجنتھر وپس سے مختلف قسم کی نوع تھی۔ لیکن جہاں یہ بچہ رہتا تھا وہاں سے ہمیں سادہ گھر باقاعدہ گھڑے ہوئے اوزار ملے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ پھولوں ، گریۂ ماہی اور نسبتاً آسانی پکڑے جانے والے آبی پرندوں کی باقیات بھی دستیاب ہوئیں۔ گویا زنجنتھر وپس سے پہلے کی یہ مخلوق اچھی یا ماہر شکاری نہ تھی۔ سست رفتار جانوروں اور پایا ب پانیوں میں رہنے والے پرندوں کو دوسرے جانوروں کے مقابلے میں زیادہ آسانی کے ساتھ پکڑ بھی سکتے تھے اور مار بھی

زنجنتھر وپس اور اس کے پیشرو بچہ کی قدامت کے تعین پر ماہرین ابھی کام کر رہے ہیں۔ ویسے ہم دونوں میاں بیوی صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ زنجنتھر وپس چھ لاکھ سال قبل رہتا تھا۔ گو ہمیں اس بات کا بھی پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس سے بھی کہیں زیادہ قدیم ثابت ہوگا اور پھر مجھے زبجن تھروپس کی قدامت کے سلسلے میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کے جیا لو جیکل ڈپارٹمنٹ کے ڈاکٹر گارنس نے یہ اطلاع دی کہ:

" اولڈو والی کے رکازوں کے زمانے کی پوٹاشیم ارگون پر تجربے ابھی جاری ہیں (تاہم ابتدائی نتائج بے حد چونکا دینے والے ہیں۔ زبجن تھروپس اور زبجن تھروپس الّر سالہ فروری ۱۹۶۷ء سے قبل کا طفل“ بہت ہی قدیم ہے میرے رفیق کار ڈاکٹر جیک ایورنڈن اور میں نے فی الحال ان نمونوں کی قدامت ساڑھے سترہ لاکھ برس مقرر کی ہے۔ دونوں کو یقین ہے کہ یہ مدت اولڈوائی کی ابتدائی آدمی کی صحیح قدامت کے قریب ہے۔

جب ہمیں کوئی اہم چیز مل جاتی ہے تو میرے ساتھی مجھے یہ کہہ کر چڑھاتے ہیں ”اچھے نصیب ہیں! اور اس بات کو میں بلا تامل مان لیا کرتا ہوں کیونکہ قسمت اکثر یا دوری کر جاتی ہے مگر ان کامرا نبوں ہیں اس حقیقت کو بھی تو پورا دخل ہے کہ میں ۲۵ برس سے سخت محنت جستجو اور کھدائی میں لگا ہوا ہوں میری نے جزیرہ روسنگا (جھیل وکٹوریہ) میں اپنی ایک اور عظیم دریافت کا سراغ لگا لیا لیکن اس سے پہلے ہم وہاں سو سے زیادہ مقامات پر مقدر آزمائی کر چکے تھے۔ ڈھلوان کا بڑی توجہ سے معائنہ جاری تھا کہ اچانک میری کو ایک دانت نظر آیا جو ایک خاکستری رکاز کا نقطہ یا دھبہ سالگ رہا تھا ۔ چٹان کریدی تو ایک دانت اور برآمد ہوا اور پھر کچھ اور بھی کئی دنوں بعد جاکر ہم اپنا یہ گورکھ بیجا کر سکے ۔ یعنی وہ ہڈیاں جوڑیں یہ پروکونسل فرینس (PROCONSUL AFRICANUS) کی قریب قریب مکمل کھوپڑی تھی اور یہ وہ مخلوق تھی جو ڈھائی کروڑ سال قبل وہاں رہتی تھی ۔ کئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اُسی مخلوق کو انسان اور بوزنے کی مشترکہ طور پر جد امجد ہونے کا فخر حاصل ہے۔ پہلا موقع تھا کہ کسی محقق کو کسی اولین میمون نما مخلوق کی کھوپڑی کا تقریباً مکمل نمونہ ملا تھا اور انسانی ماضی کے مطالعہ کے لئے ایک نئی راہ سامنے آگئی ہے۔

یہ دریافت اس قدر اہم تھی کہ ہم نے اُسے فی الفور بذریعہ ہوائی جہاز لندن لے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے نیروبی سے میری کو جہاز میں سوار کرایا۔ کھوپڑی روئی کی تہوں میں لپٹی ایک صندوقچے میں رکھی تھی اور یہ صندوقچہ میری کی گود میں تھا، نیوز ریلوں کے فوٹوگرافر اور اخباری نمائندے لندن میں میری کی راہ تک رہے تھے۔ ہوائی اڈہ کی پریس کانفرنس کے موقعہ پر دو جاسوس کھوپڑی کی سخت نگرانی کا فریضہ انجام دینے میں مصروف تھے اور کسی وقت بھی انھوں نے پرو کونسل افریکنس کے کاسہ سر کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دیا۔ پرو کونسل اور رز جنتھروپس برہما برس کے شدائد اور سخت روی کا ثمر تھے۔

ہماری سب سے سنسنی خیز دریافت جبڑے کا وہ ایک حصہ ہے جو فورٹ ٹرنن کینیا کے ہرے بھرے نشیبی علاقہ یہ ایک کروڑ ہم لاکھ سال پرانا ہے۔ اور رز جنتھروپس کے مابین ارتقائے انسانی کے سلسلے میں ایک بڑی خلیج حائل ہے، اور یہ خلیج دو کروڑ برسوں تک پھیلی ہوئی ہے لیکن جس مخلوق کا یہ ایک کروڑ ہم لاکھ سال قدیم جبڑا ہے وہ اس خلیج کو پاٹ رہی ہے یا یوں سمجھے کہ پل کا کام دیتی ہے۔ ہم نے پرو کونسل اور رز جنتھروپس کی اس درمیانی مخلوق کو کینیا پٹھکس درکری کا نام دیا کینیا پتھکس انسان ہرگز ہرگز نہ تھا، لیکن انسان کی طرف ہماری رہنمائی ضرور کرتا ہے۔ اس کے اوپر والے جبڑے میں وہ گہراو یا نشیب موجود تھا جو ایک لازمی انسانی یہ جھکا ؤاوپری ہونٹ کی حرکت کو کنٹرول کرنے والے پٹھے کے لئے گلہر کا کام دیتا ہے۔ اور یہی پٹھا یا عضلہ ہے جو انسانوں کو بولنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ یعنی ایسی انسانی قوت گویائی جو خالی خولی آوازوں سے مختلف ہوا کرتی ہے۔ اور بھی ہے کہ پروکونسل کے انیاب (ڈاڑھوں اور سامنے کے دانتوں کے درمیان والے دانت لمبے اور نوکیلے تھے، لیکن کینیا پتھکس کے انیاب چھوٹے بھی تھے اور انسانی دانتوں سے بہت مشابہ بھی۔ کینیا پتھکس اور انسان میں ان کے علاوہ اور مشترک خصوصیات کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن جب کینیا پتھکس کی ہڈیاں اور زیادہ مل جائیں گی تو اس مماثلت کے بارے میں مزید تفصیل سے بتایا جاسکے گا۔ "چلی انسان" کی دریافت اس قدر اہم اور چونكا دینے والی ہے کہ زنگنتھروپس اور اس کے پیش رو بچہ کی باز یافت سے کسی طرح کم نہیں۔ ۱۹۴۷ء میں دنیا کو پہلی بار پتہ چلا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب دھرتی پر حجری دور کا تمدن جاری وساری تھا۔ چار لاکھ سال قبل کے اس دور کو چلیئن( cHELLEAN کا نام دیا گیا ہے کیوں کہ اس عہد کی اشیاء سب سے پہلے فرانس کے ایک مقام چلس (CHELLES) سے ملی تھیں۔ چلی تمدن کی خاص بات یہ ہے کہ اس وقت کے سنگی اوزار بآسانی شناخت ہوجاتے ہیں اور ساتھ ہی ایک اچنبھا یہ کہ گو افریقہ، ایشیا اور جنوب مغربی یورپ کے اکثر حصوں سے اس زمانے کی باقیات تو مل جاتی ہیں لیکن "چلی آدمی" کی کھوپڑی کسی کو بھی نہ ملی۔ اولڈدوائی کے ابتدائی ایام میں ہی میں نے "چلی آلات" برآمد کر لئے تھے۔ یہ ہمیں پرت نمبر ۲ سے ملے تھے۔ ۱۹۶۰ء میں وہ سطح بھی ہم نے برآمد کرلی جہاں "چلی انسان" رہتا تھا لیکن ان لوگوں کی کوئی ایک بھی ایسی متحجر ہڈی دستیاب نہ ہوسکی جس سے پتہ چلتا کہ وہ کس طرح کے تھے؟

بعض اوقات میں سوچا کرتا ہوں کہ تقدیر ہمارے ساتھ دل لگی کرتی ہے کیونکہ جونہی ہم اپنے قبل تاریخ کے پر اسرار آدمی کی تلاش کرتے وہ نظر آ جاتا۔ میں اپنے شریک کار ماہر ارضیات رے پکرنگ کے ساتھ گھاٹی کا دورہ کر رہا تھا۔ پرت نمبر ۲میں مجھے ایک ایسی جگہ دکھائی دی جو اس سے پہلے بھی نظروں میں نہ آئی تھی۔ صبح سویرے میرا سب سے چھوٹا بیٹا فلپ اور میں جھاڑیوں سے ہوتے اس مذکورہ مقام کو چل دئے میں نے ہنستے

”یہ جگہ کچھ ایسی ہے کہ یہاں سے ہمیں کھوپڑی ملے گی ۔ “ ابھی الفاظ میرے منھ ہی میں تھے کہ میری نگاہ کچھ استخوانی ٹکڑوں پر جا پڑی جو ایک تنگ سی دراڑ میں پڑے تھے میں وہیں گھٹنوں پر بیٹھ گیا۔ یہ کھوپڑی تھی انسانی کھوپڑی ، جذبات کے مارے میرے منھ سے بات بھی ٹھیک سے نہیں نکل رہی تھی۔ آخر ہمیں وہ کچھ مل ہی گیا تھا جس کی کھوج میں ان گنت ماہرین اثریات ایک صدی سے بھی زیادہ مدت سے سرگرداں تھے۔ یہ چلی انسان تھا ۔ تفصیل سے پتہ چل چکا ہے کہ کوئی چار لاکھ سال قبل چلی انسان کس طرح رہتا تھا۔

اولڈروالی اور رفورسٹ رٹن میں رکا زوں کی بھر مار ہے۔ اولڈ روالی ایس انسانی ہڈیوں سے مشابہ ہڈیوں کا کوئی شمار نہیں۔ لیکن جانوروں کی ہڈیاں بھی ناپید نہیں برسوں کی تلاش و جستجو کے دوران ہمیں گینڈے جتنے بڑے سور مشرقی افریقہ کے سیاہ گینڈے سے تقریباً گنی جسامت والے گینڈوں اور بھیڑیوں کی متحجر کاندھے تک ان بھیڑوں کا قد ۷ فٹ تھا اور سینگوں کا دور با رہ فٹ ، ۱۹۶۲ء میں ہم نے ایک ایسے بن مانس کی ہڈیاں بھی ڈھونڈ نکالیں جس سے بڑے اور قدیم بن مانس کی باقیات اب تک اور کہیں بھی نہیں ملی ہماری عجیب ترین دریافتوں میں سے ایک کا نام "ڈانٹو کھیر تیم" ہے۔ یہ انو کھی قسم کا مخصوص ہاتھی تھا جس کی سونڈ اس کے نچلے جبڑے میں لگی ہوئی تھی۔ سے ہمیں دیو پیکر جانوروں کے متحجر ڈھانچے کبھی ملے اور بہت ہی چھوٹے جانوروں کے بھی۔ ہم نے ہزاروں چھوٹے چھوٹے جانور اکٹھے کئے مثلاً چوہے، پرندے، کیڑے مکوڑے، کھانے والے چوہوں سے مشابہ جانور اور چھپکلیاں وغیرہ، ان میں سے کچھ تو اتنے ننھے منے ہیں کہ ان کے جبڑوں کی چھ ہڈیاں ایک ساتھ میرے انگوٹھے کے ناخن پر آسکتی ہیں۔ ۱۹۶۱ء کی دو ماہ کی کھدائی کے دوران فورٹ ٹرنن سے ہمیں کوئی بارہ سور کاز ملے۔ ان میں سے اکثر جانور سائنس کی دنیا کے لئے بالکل نئے ہیں۔ قد کا ایک زرافہ ہے جو قد و قامت میں بچھڑے جتنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ موجودہ زمانے کا براہ راست مورث اعلیٰ ہو۔ جزیرہ روسنگار کازوں کے لحاظ سے سب سے زیادہ پراسرار ہے اور یہاں کی یہ پراسرار بہت کیڑے مکوڑوں پھلوں اور پھولوں کے رکازوں میں مضمر ہے جو بڑی ہی کھوپڑی کے ساتھ محفوظ ملے ہیں۔ کسی ہڈی یا سونڈ کے ر کاز کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ یہ رکا ز صحیح معنوں میں اصل ہڈی یا سونڈ ہی ہو بلکہ ہوتا یہ ہے کہ رکا ز بننے والی چیز کی شکل سرتاسر معدنیات میں تبدیل ہو جاتی ہے لیکن اصل صورت اور تمام تر جزئیات برقرار رہتی ہیں۔ متحجر ہونے کا عمل انتہائی سست ہوتا ہے۔

ہمیں روسنگا سے قدرت کے بہت سارے عجوبے ہاتھ آئے مثلاً تتلیوں اور پتنگوں کے پہل روپ مکھیاں

کائنات کی ارتقائی تعبیر کے لئے اُن کے جوش وخروش کا حال یہ هے کہ چند ہڈیوں کی تلاش میں وہ پوری ایک صدی لگا دیتے ھیں کیڑے کا ایک رُوپ ایک بڑی چھپکلی کا سر جس کی زبان اب بھی اس کے منھ سے باہر نکلی ہوئی ہے اور ان سے بھی زیادہ عجیب یہ کہ پھولوں کی متحجر مکھیاں گری دار میوے اور پھل بھی دستیاب ہوئے۔ ہم نے کچھ متحجرپھلوں کے اندرونی حصے دیکھنے کے لئے ہیرے تراشنے والے قلموں سے انھیں کاٹا۔ ان رُکا زی پھولوں کی تمام اندرونی جزئیات اوربیج بالکل محفوظ تھے۔ طرح جیسے آج کل کا کوئی تازہ سیب کاٹ دیاگیا ہو۔ ۱۹۶۲ء میں اولڈرو والی میں ایک اورمعمّے سے سابقہ پڑا اور میرے نزدیک یہ سب سے زیادہ جس سطح پر ہمیں زنجنتھروپس ملا تھا۔ سے کافی نیچے سب سے نچلی پرت پر پتھر کے بنے ہوئے بڑے بڑے گول حلقے دستیاب ہوئے ۔ ان میں سے بعض تو در حقیقت ایک دوسرے کے اوپرٹکے ہوئے بیس لاکھ سال پہلے یہ جگہ جھیل کاکنارہ تھی اور اس وقت اس قسم کے پتھر یہاں موجود نہ تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ وہاں کیوں کر وجود میں آئے۔ ایسے کون سے عوامل تھے جنھوں نے یہ قطعی اور بالکل گول سنگین دائرے یا حلقے ادب کی تحقیق ایک حدیث کے الفاظ ہیں :

Printed page