Al-Risala · February 1977

آدبنی ربی فاحسن تا دیبی

Al-Risala, February 1977, pp. 54–55

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے رب نے میری تربیت کی اور بہت اچھی تربیت کی)۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ادب کا لفظ قدیم عرب میں بھی مستعمل تھا۔ تاہم اس میں اختلاف ہے کہ ادب (بمعنی لٹریچر) کس لفظ سے

عام خیال یہ ہے کہ یہ أدب سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں دعوت کا بلاوا۔ مستشرق پروفیسر نلینو کی رائے اس لفظ کے اشتقاق کے بارے میں دوسری ہے۔ وہ اس کو آداب (معنی عادت) سے مشتق مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لفظ ادب مفرد سے نہیں بلکہ دأب کی جمع سے نکلا ہے دأب کی جمع آداب ہے جو تبدیل ہو کر آداب ہوگئی ہے، جس طرح بئر اور رِئم کی جمعیں آبار اور آرآم سے بدل کر آباراور آرام ہوگئی ہیں۔ کے نزدیک دأب کی جمع آداب کا استعمال اس قدر عام ہو گیا کہ اہل عرب اس جمع کی اصل او رجو کچھ اس میں تبدیلی ہوئی ہے، اس کو بھول گئے۔ یہ خیال پیدا ہو گیا کہ آداب ایسی جمع ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے اور اس جمع سے انھوں نے اس کا واحد بجائے داب کے ادب نکال لیا اور ادب کا عادت کے معنی میں استعمال ہونے اس کے بعد یہ لفظ اپنے اصلی معنی سے دوسرے مختلف معنوں میں منتقل ہوتا رہا۔

بنایا جائے ؟ کیا انھیں گھر کہا جاسکتا ہے ؟ ؀ کیا یہ ہواؤں نے تراشے ہیں؟

حلقوں میں ہو رہا ہے۔

میں خدا کو مانتا ہوں ۔ مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میں نے زندگی میں جن بہترین انسانوں کا تجربہ کیا وہ سب خدا کو نہ ماننے والے لوگ تھے ،، ڈاکٹر سید حسین ظہیر (۱۹۰۱ - ۱۹۰۰) ہندوستان کے چوٹی کے سائنس داں تھے۔ ان کا شمار ڈاکٹر من ڈاکٹر وکرم سارا بائی ڈاکٹر کھو رانا، ڈاکٹر بھا بھا، ڈاکٹر سیتھنا جیسے لوگوں میں ہوتا ہے۔ وہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر بے شمار سائنسی تنظیموں کے ممبریا عہدے دار تھے۔ ان کو پدم و بھوشن کا خطاب بھی ملا تھا۔ اپنے سیاسی ذوق کی وجہ سے جنگ آزادی کے زمانہ میں انھیں جیل جانے کی سعادت بھی حاصل ذاتی طور پر وہ انتہائی شریف اور اعلیٰ کردار کے آدمی تھے۔ غریب طالب علموں کی فیس اپنی جیب سے دیا کرتے تھے۔

۱۹۶۲ ء میں ہندوستان کی شمالی سرحد پر ایک پڑوسی ملک سے مسلح جھڑپوں کے بعد انھوں نے اپنے ایک رفیق ڈاکٹر امر جیت سنگھ کو تار دیا جو الیکٹرانکس کے ماہر تھے اور بدیش میں کام کر رہے تھے اس میں ولولہ انگیز الفاظ کے ساتھ کہا گیا تھا کہ ہندوستان واپس آکر مادر وطن کی خدمت کریں، وہ واپس آگئے۔ ڈاکٹر ظہیر اس وقت کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے ڈائرکٹر جنرل تھے۔ انھوں نے ڈاکٹر سنگھ کو اس کے الیکٹرانکس کے شعبہ کا ڈائرکٹر بنا دیا۔ ان کے پالنی کے انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹر ظہیر ایک بار گئے۔ ڈاکٹر سنگھ نے رسالہ فروری ۱۹۷۷ء دوران ملاقات میں بتایا کہ ایک پروجیکٹ کے سلسلہ میں بعض برآمدی مشینری اور آلات کی شدید ضرورت رخصت ہوتے وقت ڈاکٹر ظہیر نے پوچھا اس کے لئے کتنا زر مبادلہ درکار ہوگا! ڈاکٹر ظہیر نے حکومت پر زور ڈال کر وہ مشنری باہر سے منگوادی۔

ایک مرتبہ کا ذکر ہے۔ مہینہ کے دوسرے سنیچر کا دن تھا۔ ڈاکٹر صاحب کا دفتر ضابطہ کے تحت بند تھا مگر وہ خود حسب معمول دفتر میں آئے ایک نوجوان عورت جس کے شوہر کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا تھا، ڈاکٹر صاحب سے ملنے کے لئے ریسپشن ہال میں کیئر ٹیکر سے درخواست کر رہی تھی اور وہ اُسے روک رہا تھا۔ میں ڈاکٹر صاحب کسی کام سے باہر نکلے۔ سے ان کے سامنے آئی اور غصہ میں بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا: یہ کون سی حکومت ہے کہ میں ایک گھنٹہ سے یہاں بیٹھی ہوں اور آپ کے لوگ مجھے آپ سے ملنے نہیں دیتے۔ ڈاکٹر ظہیر نے اس کی باتوں کو سن کر نہایت نرمی سے کہا: آپ کو جو تکلیف پہنچی اس کے لئے میں معافی چاہتا ہوں۔ آپ اپنی شکایت تحریری طور پر مجھے دے دیں۔ میں آپ کا کام کرنے

Printed page