Al-Risala · February 1977

رودادِ سفر

Al-Risala, February 1977, p. 65

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی سے تقریباً سو میل کے فاصلہ پر ”زمینداروں“ کا ایک قصبہ ہے۔ پچھلے دنوں یہاں چند بار جانے کا اتفاق ہوا: یوپی کے اس قصبہ میں کبھی مسلمانوں کا بڑا جاہ و جلال تھا۔ مگر زمینداری کے خاتمہ کے بعد اب دنیا بدل چکی ہے، قدیم وضع کی چو پالوں میں اب بھی یہاں قہقہے گونجتے ہیں۔ اگر چہ یہ چو پالیں اب زیادہ تر وقت گزاری کی بیٹھک ہو کر رہ گئی ہیں۔ زمینداری کے زمانہ میں وہ اس علاقہ کے اقتدار کا مرکز تھیں۔ یہاں ایک درجن مسجدیں ہیں۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ کئی سو سال کے اقتدار کے باوجود یہاں کے لوگوں نے بستی میں کوئی درس گاہ قائم نہیں کی اور نہ کوئی بڑی جامع مسجد نہ صرف نماز جمعہ بلکہ عید کی نماز بھی اس چھوٹے سے قصبہ میں ایک سے زیادہ مقام پر ہوتی ہے۔

یہ قصبہ ایک ٹاؤن ایریا ہے۔ یہاں ایک ہائی اسکول ہے جو ۱۹۶۲ء میں قائم ہوا تھا۔ طلبہ کی تعداد پانچ سو سے

”اس اسکول میں مسلمان طالبِ علم کتنے ہوں گے؟ میں نے اسکول کے ایک استاد سے پوچھا۔

”تقریباً پچاس“ انھوں نے جواب دیا۔

”یعنی پچاس فی صد“ میں نے دوبارہ سوال کیا۔

Printed page