”نہیں صرف پچاس“
Al-Risala, February 1977, pp. 65–59
By Maulana Wahiduddin Khan
گویا قصبہ کے مسلمان جو یہاں کی دس ہزار آبادی میں نصف کے حصہ دار ہیں، تعلیم میں ان کا حصہ دس فی صد سے زیادہ اگر آپ بازار میں نکلیں اور تجارتوں میں مسلمانوں کے تناسب کا اندازہ لگائیں تو وہ اتنا کم ہوگا کہ حسابی غلطی کے الزام سے بچنے کیلئے ہی ان کو صفر سے زیادہ کہا جا سکتا ہے۔ محرومیوں کی اس فہرست میں صرف یہاں کی زرخیز زمینیں مستثنیٰ ہیں جن کے بڑے حصے پر اب بھی مسلمان قابض ہیں۔ لیکن اگر اس تلخ حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ بیشتر نے اپنی زمینیں جنس یا بٹائی پر دے رکھی ہیں تو یہ اندیشہ بہت زیادہ بعید از قیاس نہیں کہ مستقبل میں زمینوں کے ساتھ بھی وہی قصہ پیش نہ آجائے جو اپنی غفلت سے بقیہ چیزوں میں پیش آچکا ہے۔
"آپ اپنی زمینوں پر خود کھیتی کیوں نہیں کرتے" اگر آپ ان میں سے کسی سے سوال کریں تو وہ جواب دے گا کہ ہم کو جنس یا بٹائی پر دینے میں جو فائدہ ہے، وہ خود کھیتی کرنے میں نہیں ہو سکتا۔ " یہ جواب بظاہر صحیح ہے، مگر انتہائی کوشش کے باوجود شاید ہی ان میں سے کوئی شخص یہ ماننے کے لئے تیار ہو کہ موجودہ نظم جہاں ان کو یہ فائدہ دیتا ہے وہیں وہ ایک بہت بڑی چیز ان سے چھین رہا ہے، اور وہ جدوجہد کا حوصلہ ہے۔ موجودہ انتظام کے تحت ایک باپ اپنی اگلی نسل کو تن آسانیوں کی وراثت دے رہا ہے۔ اگر وہ انھیں مشقت اور جدوجہد کی وراثت دیتا تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر تھا۔ تاہم ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اس راز کو سمجھ لیا ہے۔ سایہ کے نیچے مونڈھوں پر بیٹھ کر وقت گزارنے کے بجائے وہ ٹریکٹر کی سیٹ پر زندگی کا امتحان دینے کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے کہ دنیا میں وہی لوگ اپنے لئے جگہ بناتے ہیں جو وقت کے حقائق کا سامنا کرنے اور ان کے مقابلے میں زندگی کا ثبوت دینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ تن آسانیوں نے کبھی کسی قوم کے لئے زندگی کا حق تسلیم نہیں کیا ہے۔
کوئی معقول بات آدمی کی سمجھ میں اس وقت تک یں آتی جب تک اپنی نامعقولیت کی قیمت ادا کرنے کے لئے اس کی جیب میں پیسے موجود ہوں۔
اور یقیناً یہ قصبہ اس عام قانون سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ دوسری مسلم بستیوں کی طرح یہاں بھی آپس کا اختلاف مسلمانوں کی قوت کو کمزور کر رہا ہے۔ نئے انقلاب نے مسلمانوں سے بہت سی چیزیں چھین لی ہیں۔ تاہم ایک چیز اب بھی پوری طرح موجود ہے اور وہ خود ان کا اپنا وجود ہے۔ کو متحدہ شکل میں باقی رکھنا ہی ہماری زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ مگر جو لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں، وہ کچھ ایسے نشے میں ہوتے ہیں کہ کسی طرح بھی اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ سب سے زیادہ اندوہناک بات یہ ہے کہ لڑائی نہ کرنے کی بات کسی کی سمجھ میں اس وقت تک آتی ہی نہیں جب تک اس کے پاس لڑائی کی قیمت ادا کرنے کے لئے پیسے موجود نہ ہوں۔ حالاں کہ اسی پیسے کو کو اگر وہ اپنی تعمیر و ترقی میں لگائے تو خود فریق مخالف کو مغلوب کرنے کے لئے بھی اس سے زیادہ کارگر کوئی حربہ بہترین صلاحیتیں بے سود مقابلوں میں ضائع ہو رہی حالاں کہ وہ تجارت یا اور کوئی تعمیری کام کر کے زیادہ بڑے پیمانہ پر اپنے مقصد کو حاصل کر سکتے ہیں۔ قصبہ میں کوئی قابلِ ذکر اسلامی مدرسہ نہیں۔ مسلمانوں کے پاس بڑی بڑی زمینداریاں تھیں۔ وہ کئی سو برس تک اس تاریخی قصبہ کے اقتدار پر چھائے رہے ۔ نے اپنی عظمت کے نشان کے لئے عالی شان حویلیاں اور مگر اپنے دین کی حفاظت و فروغ کے لئے وہ کوئی دینی درس گاہ اپنی بستی میں قائم نہ کرسکے۔ دینی درس کا لفظ موجودہ زمانہ میں کچھ بد نام سا ہوگیا ہے، حالاں کہ یہی درس گاہیں ہر دور میں مسلمانوں کا دینی اور تہذیبی مرکز رہی ہیں۔ دورِ نبوت میں ’’صفہ‘‘ اسی قسم کی ایک درس گاہ تھی جس سے وہ لوگ تربیت پاکر نکلے جنہوں نے سارے عالم میں علومِ نبوت کی اشاعت کی۔ پھر یہی دینی درس گاہیں ہیں جہاں اسلامی دورِ حکومت کے وزراءو قضاة تیار ہوتے تھے۔ یہی دینی درس گاہیں ہیں جنہوں نے زرہ علماء رومضنفین پیدا کئے جنہوں نے ہر دور میں اسلام کی فکری اور علمی نمائندگی کی۔
۱۳ء میں قصبہ کے لوگوں نے باہم مشورہ سے ایک مدرسہ کا قیام منظور کیا تھا۔ جولائی ۱۹۷۵ء میں دوبارہ ایک اجتماع میں طے کیا گیا کہ مقامی مکتب کو ترقی دے کر ایک بڑا دینی مدرسہ بنایا جائے اس کے وسائل کی فراہی کے لئے بھی مختلف لوگوں نے فیاضانہ پیش کشیں۔ ۳ / جولائی کی ایک نشست میں، جس میں بستی کے اکثر ممتاز ، افراد شریک تھے۔ مدرسہ کے لئے چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی متفقہ طور پر طے پایا کہ ہر شخص کے پاس جتنے کھیت یا باغ ہیں۔ ایک روپیہ فی بیگھہ سالانہ کی شرح سے وہ مدرسہ کی امداد کرے گا۔
اس قسم کا فیصلہ کسی بستی میں ایک معیاری درس گاہ کو وجود میں لانے کے لئے کافی ہے ۔ مگر آپ کو تعجب نہ ہونا چاہئے اگر میں آپ کو یہ خبر دوں کہ یہ فیصلہ اس عام انسانی کمزوری سے مستثنیٰ نہ رہ سکا جس کو کسی نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے:
لوگوں میں طاقت کی اتنی کمی نہیں جتنی مستقل ارادہ کی *
تعارف و تبصرہ :
از مولانا سید احمد قادری صفحات ۸۰ ۔ قیمت ایک روپیہ پتہ: مکتبہ الحسنات رام پور یوپی یہ کتاب ، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے ، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ وسراپا سے متعلق ہے ۔ کتاب کافی جامع ہے اور احادیث وسیر کی مستند کتابوں کو سامنے رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے ۔
تاہم بعض مقامات پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض مصنف نے غالباً حلیہ پاک اور نعت نبوی میں فرق نہیں مثال کے طور پر خوشبوئے بدن" کے عنوان کے تحت یہ شعر نقل کیا گیا ہے:
ولو ان رکبا یمموہ لقا دهم نسیم شذاه واستدل به الرکب اگر سواروں کی کوئی جماعت آپ کا قصد کرتی تو آپ کی نسیم عطر زا اس کی رہبری کرتی اور وہ جماعت آپ کا پتہ لگا لیتی (۷)، یا مثلاً یہ کہ ”جب آپ دراز قامت اشخاص کے ساتھ چلتے تو ان سے اونچے ہو جاتے اور جب ان سے الگ ہوتے تو آپ کے قد کا اعتدال لوٹ آتا۔ یہ اس لئے کہ کوئی نفس صورَةً بھی آپ سے نہ بڑھے، جیسا کہ معنیٰ نہیں بڑھ سکتا تھا (۵۹- ۵۸) اس قسم کے اقتباسات نظم ونثر میں نعت ہیں نہ کہ حلیہ رسول ۔ بعض مقامات پر ادنی فروگذاشت نظر آتی ہے مثلاً آپ کی نعت میں ابوطالب کی طرف یہ شعر منسوب کیا جاتا ہے :
رسالہ فروری ۱۹۷۶ء دابيض ليستسقى الغمام بوجهه اس کا جمہ کتاب میں ان الفاظ میں درج ہے: بدليا آپ کے چہرے کے طفیل میں پانی برساتی تھیں“، صحیح تر ترجمہ یہ ہوگا: آپ کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا کی جائے۔ کتاب کا آغاز اس جملہ سے ہوتا ہے: ”شیفتگان حسن وجمال جس طرح شمع رخ کے پروانے ہوتے ہیں اسی طرح سنبل زلف کے دیوانے بھی وہ نرگس چشم کے بھی بیمار ہیں، اور سرو قامت کے وارفتہ بھی۔ وہ حسن کی ہر ادا پر جان چھڑکتے ہیں“۔ اسی طرح دوسرے مقام پر لکھتے ہیں: ”آپ نہ صرف یہ کہ مجموعی حیثیت سے حسن و جمال کے بے مثال پیکر تھے بلکہ ہر ہر عضو حسن کے ایسے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا جس کی کہیں نظیر نہیں۔ آفتاب آپ کے چہرے پر قربان، ماہتاب آپ کی پیشانی پر صدقے، ہلال نو آپ کے ابرو کا فدائی، نرگس آپ کی آنکھوں کی بیمار، سنبل آپ کے گیسو کی آشفتہ، سرو آپ کی قامت کا شیفتہ، در شہوار آپ کے دانتوں پر نثار، غرض کائنات کی ہر حسین شے آپ کے جمال پر قربان تھی۔ آپ کائنات کی وجہ تخلیق، اس کی جان اور اس کی روح تھے اس لئے آپ کی محبوبیت نہ صرف جانداروں پر اثر انداز تھی، بلکہ شجر و حجر سب آپ کی محبت میں گرفتار تھے۔
همچوں تو ناز یمنی ، را با لطافت گیتی نشان ندادہ ایز دنیا فریدہ “ کتاب کے اسی اسلوب کی بنا پر اس کے دیباچہ نگار مولانا سید سلیمان ندوی نے لکھا ہے: ”اس رسالہ کے مصنف ماشاء اللہ عالم بھی ہیں، شاعر بھی ہیں، اس لئے شعر و ادب کی زبان حسن و عشق میں انھوں نے اہل شوق کے لئے حلیہ مبارکہ کی ایک ایک چیز کو پوری تفصیل کے