ساتھ بیان فرمایا ہے “
Al-Risala, February 1977, pp. 40–62
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم زمانہ ادب و شاعری کا زمانہ تھا۔ سیرت و شمائل کی کتابوں کے لئے یہ اسلوب پسند کیا جاتا اب تاریخی ذوق کا زمانہ ہے۔ جدید انسان کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کی بات یہ ہے کہ پیغمبر اسلام کی زندگی کا ہر پہلو معلوم و منضبط ہے۔ آپ ہر اعتبار سے ایک تاریخی شخصیت ہیں۔ آج کے انسان کے لئے زیادہ مؤثر طریقہ یہ ہوگا کہ ادب و شاعری کے بجائے تاریخ کی زبان میں سیرت و شمائل کی کتابیں لکھی جائیں۔ کی شان کے قریب تر بات بھی یہی ہے کہ آپ کی شکل و شباہت کو تاریخی شخصیت کے حلیہ کی حیثیت سے پیش کیا جائے نہ کہ “محبوب کے سراپا” کی حیثیت سے۔ فاضل مصنف نے یہ کتاب ۴۳ - ۱۹۴۵ میں لکھی تھی جب کہ وہ ایک نوجوان ادیب تھے۔ آپ پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد غالباً وہ خود بھی ”چشمِ شہلا“ اور ”گیسوئے پر خم“ کی زبان اس موضوع کے لئے پسند نہیں فرمائیں گے اسلام کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسلام کا پیغام تمام بندگان خدا تک پہنچانے کے لئے ایک دعوتی مرکز کا قیام عمل میں لایا جائے الرسالہ اسی مقصد کے لئے جاری کیا گیا ہے دہلی یا کسی دوسرے مناسب مقام پر ہم کو ایک ایسی جگہ کی ضرورت ہے جہاں الرسالہ اور اس سے متعلق دوسرے تمام شعبوں کے دفاتر قائم کئے جاسکیں۔ اس سلسلے میں جو لوگ تعاون کر سکتے ہوں براہ کرم ہمیں مطلع فرمائیں ــــ الرسالہ ــــ
سال و جواب ایک صاحب قاہرہ سے لکھتے ہیں:
" آپ کی کتاب جو یہاں حکمتہ الدین کے نام سے شائع ہوئی ہے اس پر ایک جدال پیدا ہو گیا ہے۔ کچھ لوگ اس کے سخت موید ہیں اور کچھ لوگ سخت مخالف۔ قاہرہ یونیورسٹی کے طلبا کے درمیان اس کتاب کے بارے میں سیمینار بھی ہو چکا ہے۔ مخالف گروپ کا کہنا ہے کہ آپ نے جہاد ہی کو ختم کر دیا ہے اور دین کو صوم و صلوٰۃ میں محدود کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں کے جرائد میں بعض تنقیدی مضامین بھی شائع ہوئے ہیں "۔
جہاد بلا شبہ اسلام میں افضل ترین عبادت ہے۔
مگر جہاد کو قتال کے معنی میں لینا اتنا ہی غلط ہے جتنا اس کو دین کی فہرست سے خارج کرنا۔ حقیقت یہ ہے کہ امت محمدی کا جہاد، دعوت ہے۔ قرآن میں شہادت حق کی راہ میں قوت صرف کرنے کو جہاد کہا گیا ہے درج ۔ آخر ) دوسری جگہ ارشاد ہوا ہے کہ قرآن کے ذریعہ لوگوں کے اوپر تبلیغی جہاد کرو (فرقن - ۵۲) قرآن میں دعوت کا حکم آیا تو خود اللہ تعالیٰ نے اس کو ایک بھاری حکم (مزمل ۔ (۵) قرار دیا۔ دعوت و تبلیغ کو اتنا بڑا کام بتایا گیا کہ اس میں پوری طرح لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلکان کر لے (لعلّک باخع نفسك ) موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تحریکوں سے جو غلطیاں ہوئیں ان میں یہ غلطی سر فہرست ہے کہ انھوں نے جہاد کا مطلب قتال یا سیاسی معرکہ آرائی سمجھ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاد کا میدان، دعوت کے بجائے سیاست بن گیا اور مؤمنانہ سرفروشی کے جذبہ کی تسکین کے لئے اس دنیا میں صرف دو کام باقی رہ گئے_ اگر موقع ہو تو تلوار زنی ورنہ تقریر و بازی_ مصر، الجزائر اور ہندوستان اس کی نمایاں مثال ہیں_ ان علاقوں میں جب "استعمار" یا "باطل اقتدار" کے خلاف جنگ و پیکار کے مواقع تھے تو لاکھوں مجاہدین اپنے جان و مال کی قربانی دیتے رہے، اور جب اس کا موقع ختم ہوگیا تو اب انھیں اس کے سوا کوئی کام نظر نہیں آتا کہ مفروضہ طاغوتی سیاست کے خلاف تحریر و تقریر کے لفظی طوفان برپا کرتے رہیں، اور جب اس کا موقع بھی باقی نہ رہے توگوشہ گیر ہو کر ختم خواجگان کے ورد شروع کر دیں!
جہاد ہی وہ طاقت ہے جس سے اسلام اس زمین پر قیام و استحکام حاصل کرتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانہ پر جذبہ جہاد کے استعمال کے باوجود اسلام کو اس دور میں قیام و استحکام حاصل نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد کا جذبہ اپنے نکاس کا صحیح راستہ نہ پا سکا اور غلط سمت میں بہہ کر ضائع ہو گیا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے ایک بڑے دریا کا پانی بے پناہ مقدار میں بہہ کر سمندر میں جاگرے اور اس کے ساحل کے دونوں طرف کھیتیاں پانی نہ ملنے کے باعث سوکھ کر ختم ہورہی ہوں_ صرف اس لئے کہ دریا کے پانی کو ان کھیتوں کی طرف موڑنے کا انتظام نہ ہو سکا تھا۔
دعوت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کے کان میں کچھ الفاظ ڈال دیئے جائیں یا ان کی غلط روش پر تنقید کر دی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت ایک انتہائی قربانی کا عمل ہے۔ وقت، اپنے جذبات، اپنا مال، غرض اپنا سب کچھ قربان کر دینے کے بعد وہ چیز وجود میں آتی ہے جس کو دعوت کہتے ہیں۔ میں حکم ہے کہ مدعو کے لئے داعی کے دل میں انتہائی خیر خواہی ہو، جو بات کہی جائے وہ قول بلیغ کی زبان میں اور مخاطب کی
اپنی قابل فہم اصطلاحوں میں ہو، مدعو کی طرف سے ہر قسم کی ایذا پر مکمل صبر کیا جائے، مدعو کی طرف سے کسی اجر کی توقع نہ رکھتے ہوئے اپنا مال اور اثاثہ اس راہ میں خرچ کیا جائے۔ کی طرف سے اعراض پر جھنجلانے کے بجائے اس کی ہدایت کے لئے دعائیں کی جائیں، ہر ممکن طریقے سے مدعو کی تالیف قلب کی جائے۔ دعوتی کام کو مسلسل تا عمر جاری رکھا جائے سا یہ ایسا ایک عمل اگر اس کے پورے آداب کے ساتھ شروع کیا جائے اور اس کا مکمل حق ادا کیا جائے تو یہ اتنا بڑا اور اتنا نفس کش عمل ہےکے بڑے سے بڑے انسان کی شخصیت اس کی ذمہ داریوں سے بلبلا اٹھے اور کبھی اس کی ادائیگی کی طرف سے اپنے کو سبک دوش
اس دعوتی عمل کے ظہور کے لئے قدیم زمانہ میں جو طریقے راج تھے، اب ان میں بے شمار نئے طریقوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں دعوتی کام نے بھی ، تدابیر اور ذرائع کے اعتبار سے، نئی وسعت اختیار کر لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا جہاد آج اتنا وسیع الاطراف ہو چکا ہے کہ " پیٹرول ٹرالر" کی مہیب دولت بھی اس کا حقیقی بل ادا کرنے کے لئے حیرت انگیز بات ہے کہ اس زمانی فرق کو دیگر مذاہب، مثال کے طور پر عیسائیت نے خوب سمجھا اور اس کو بھر پور طور پر اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لئے استعمال کیا۔ مگر مسلمان اس میدان میں اس قدر پیچھے ہیں کہ جدید امکانات کا انھیں شعور تک نہیں۔ حتی کہ دعوتی کام ان کو اتنا معمولی نظر آتا ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے چسپے کام کو جہاد کس طرح کہا جا سکتا ہے !
ہر قسم کی کتابیں قرآن، درسیات اور دوسرے موضوعات پر کسی بھی ادارہ کی چھپی ہوئی ہم سے طلب کیجئے محصول ڈاک بذمہ خریدار ___________________ روانگی بذریعہ وی پی رساله بك ڈپو ۱۰۳۶ کشن گنج - دهلی ۱۱۰۰۰۶