ہہاں
Al-Risala, February 1977, pp. 44–454
By Maulana Wahiduddin Khan
از: مولانا وحیدالدین خاں صفحات ۲۴۰ ـــــــ قیمت مجلد ۱۵ روپئے اسلام اور مسائلِ حاضرہ کا ایک جامع مطالعہ اپنے موضوع پر اس نوعیت کی پہلی کتاب ابواب: جدید مسئلہ کیا ہے ارکان اربعہ (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) تحریک اسلامی، سیرت کی روشنی میں موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں دعوت الی اللہ دعوت اسلامی کے جدید امکانات رسالہ بک ڈپو ۔ ۱۰۳۶ کشن گنج دہلی ۶ محمد احمد پرنٹر پبلشر مسئول جے کے آفسیٹ پرنٹرز دہلی سے چھپوا کر دفتر الرساله ۱۰۳۶ آش گنج دہلی سے شائع کیا
یہ تلاوت حق جس کو حاصل ہوگئی وہ ہی دراصل قرآن کا قاری ہے اور وہی اس صحیح معنوں میں ایمان لانے تلاوت حق کی پہچان کیا ہے۔ اس پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے سب سے پہلے یہ آیت
وَإِذَا مَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ فَمِنْهُم مَّنْ يَّقُولُ اور جب کوئی سورة اترتی ہے تو بعض منافقین کہتے ہیں کہ اس أَيُّكُمْ زَادَتْهُ هَذِهِ إِيمَانًا ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ سورة نے تم میں سے کس کا ایمان بڑھا دیا ہے۔ ہاں اس نے آمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ ٥ (توبہ (۱۲۷) ان لوگوں کا ایمان بڑھا دیا ہے جو واقعی مومن ہیں اور وہ اس کو پاکر خوش ہیں۔
اس آیت سے قرآن پر ایمان پر ایمان رکھنے والوں کی پہچان یہ معلوم ہوئی کہ وہ جب قرآن کو پڑھیں تو اس سے ان کے ایمان میں اضافہ ہو، وہ اپنے بہترین احساسات کو اس کے اندر بولتا ہوا پائیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے مقام پر عرفان حق کے نقطہ سے تعبیر کیا گیا ہے، فرمایا:
وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ اور جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو خدا کے رسول پر اترا ہے تو تم تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ (مائدہ (۸۳) دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں عرفان حق کے سبب سے۔ اضافۂ ایمان اور عرفان حق دونوں ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں۔ جو لوگ قرآن کے واقعی مومن ہیں وہ جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو یہ کتاب انھیں سراپا حقیقت نظر آتی ہے، وہ حقیقت جس کے متعلق علم انسانی نے تسلیم کیا ہے کہ وہ کبھی اسے معلوم نہیں کر سکتا۔ وہ حقیقت جس کو فلسفہ ہزاروں سال سے تلاش کر رہا ہے مگر وہ اس تک پہنچ نہ سکا، اہل ایمان اس کو خدا کی کتاب میں پا لیتے ہیں۔ قرآن کی شکل میں وہ حقیقت کو دیکھنے لگتے ہیں۔ یہ طرے ان کے یقین کو بڑھاتا ہے، قرآن کے مضامین اپنے پڑھنے والے سے جس قسم کی جوابی کیفیات کا تقاضا کرتے ہیں ان کا دل ہر مقام پر بالکل اس کے مطابق ڈھلتا چلا جاتا ہے۔ جب زمین و آسمان کی نشانیاں پیش کر کے اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے کہ ان کا خالق کون ہے تو بے اختیار ان کی زبان سے نکل پڑتا ہے، بل انت یارب جب خدا کے احکام بیان ہوتے ہیں اور انسان سے اس کی حیثیت کے مطابق صحیح رویے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ پکار اٹھتے ہیں ربنا آمنا فاكتبنا مع الشاهدين - قرآن کو پڑھتے ہوئے دل کے اندر یہ یقین ابھرتا جا رہا ہے کہ یہ خدا کا کلام ہے، جس مطالعہ سے یہ کیفیت حاصل نہ ہو وہ اندھے بہرے کا مطالعہ ہے۔ (فرقانی مومن جب قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کو اس طرح پڑھتا ہے گویا وہ رب العالمین کی آواز سن رہا ہے، گویا وہ خدا سے ہم کلام ہے، گویا قرآن خود اس کے اوپر نازل ہو رہا ہے۔ قرآن اس کی سب سے محبوب کتاب بن جاتی ہے جس میں وہ اپنے جذبات کی تسکین پاتا ہے، جس سے وہ اپنے دل کی دنیا کو آباد کرتا ہے، جس سے اس کو ایک نئی روشنی حاصل ہوتی ہے جو اس کے تمام عقلی اور روحانی تقاضوں کا جواب بن جاتی ہے۔
قرآن کا یہ پانا محض ایک علمی دریافت کی قسم کی چیز نہیں ہے بلکہ یہ بندے کا اپنے رب کو پانا بلکہ اس تک Scanned with CamScanner
پہنچ جاتا ہے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں کہ بعض لوگوں کے علمی ذوق نے انہیں کتابوں کا عاشق بنا دیا، ہیں کی بھی بہت سی مثالیں ملیں گی کہ کسی فلسفی یا مفکر کی تصنیفات نے لوگوں کو اتنا متاثر کیا کہ وہ بالکل اس کے مومن مگر خدا کی کتاب کا معاملہ اس قسم کے واقعات سے بالکل مختلف ہے۔ یہ کائنات کے خالق و مالک کی کتاب ہے اور ہم اس کے حقیر بندے ہیں۔ اس نسبت کا قدرتی تقاضا ہے کہ قرآن سے ہمارا تعلق محض علمی تعلق نہ ہو بلکہ وہ بندے اور خدا کا تعلق بن جائے۔ ہم جب قرآن کو پڑھیں تو ہمارے اندر پردہ ہیبت طاری ہو جو کہ کائنات کے فرمانروا کا حکم سن کر اس کے ایک عاجز غلام پر طاری ہونی چاہئے۔ اس کو پڑھتے ہوئے ہمارا دل پگھل جائے، ہماری آواز پست ہو جائے، ہمارا پورا وجود سرا پا عجز و نیاز بن کر اس کے آگے جھک جائے، جیسا کہ ارشاد
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتَابًا وہ اللہ ہے جس نے یہ بہترین کتاب اتاری ہے جس کی مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِيْنَ باتیں آپس میں ملتی ہوئی دہرائی ہوئی ہیں، اس کو سن يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُوْدُهُمْ وَقُلُوْبُهُمْ کر ان لوگوں کے بدن کانپ اٹھتے ہیں جو خدا سے ڈرنے والے اِلَى ذِكْرِ اللهِ (زمر ۔ ۲۳) ہیں پھر ان کے دل اور ان کے جسم خدا کی یاد کی طرف جھکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن خدا سے ڈرنے والوں کے لیے کپکپی پیدا کر دینے والی کتاب ہے، اس کو سن کر ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ اٹھیں خدا کی طرف مائل کرتی ہے، وہ انھیں ذکر الہیٰ میں غرق کردیتی ہے، وہ جب اسے سنتے ہیں تو ان کے قلوب پگھل کر آنکھوں کے راستے سے بہنے لگتے ہیں۔ قرآن کو سنتے یا پڑھتے کے وقت دل کے اندر خدا کی یاد یا در خشوع پیدا ہونا چاہیے، ایسا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی، قسادتِ قلب کی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔
یاد رکھیے قرآن سے نا آشنا صرف وہ لوگ نہیں ہیں جن کے لیے یہ کتاب ”مہجور“ بن گئی ہے، جنھوں نے قرآن کو اس طرح پس پشت ڈال دیا ہے گویا کہ وہ اسے جانتے ہی نہیں، گویا ان کی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ شخص بھی قرآن سے محروم ہے جس کے لیے یہ کتاب صرف خوش الحانی کے لیے موزوں الفاظ مہیا کرتی ہو، جس کے لیے وہ محض علمی غور و بحث کا موضوع ہو، جس کے لیے وہ حوالے کی کتاب ہو جس کو وہ تحریر یا تقریر کے وقت الٹ پلٹ کر دیکھ لیتا ہو۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص نے ہزاروں انسانوں کے درمیان صرف قرآن کی بنیاد پر اپنی شخصیت کا سکہ بٹھا رکھا ہو، مگر وہ قرآن کی لغت سے محروم ہو۔ اسی طرح اگر آدمی زبانِ قلم کے ذریعے قرآن کے اسرار و معارف بیان کر رہا ہو مگر اس کی اپنی زندگی ان حقیقتوں سے خالی ہو تو یہ بھی خدا کی کتاب سے محرومی کی ایک قسم ہے۔ دوسروں کو کتاب الہیٰ کا درس دنیا اور خود نسیان میں مبتلا رہنا، قرآن سے تعلق نہیں بلکہ بے تعلقی کا ثبوت ہے (بقرہ - ۴۴)، اگر کسی نے لغت اور نحو کی مدد سے الفاظ قرآن کو حل کر لیا ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ قرآن کو بھی پاگیا ہے۔ قرآن کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جس نے
اپنے سینے کی دھڑکنوں میں اس کو بولتے ہوئے سنا ہے، جس نے ان حقیقتوں کو اپنی آنکھ سے دیکھا ہے جن کا قرآن میں ذکر ہے، جس نے اس کو اس طرح پڑھا ہے گویا وہ خود اپنے اندر چھپے ہوئے صحیفے کو زبان سے دہرا رہا ہے۔ یاد رکھیے حقیقت کو پانے والا صرف وہ ہے جس نے اپنے دل کی کتاب پر اس کو لکھا ہوا پایا ہے، جس نے صرف لفظی تشریحات کے ذریعہ اسے جانا ہے، اس نے حقیقت کو ابھی تک پایا ہی نہیں: بَلْ هُوَ ايَاتٌ بَيِّنَاتٌ فِي صُدُورِ الَّذِينَ قرآن کیا ہے وہ کھلی ہوئی آیتیں ہیں جوان لوگوں (عنکبوت - ۴۹) کے سینوں میں ہیں جو معرفت رکھتے ہیں۔
قرآن کی جو صفتیں بیان کی گئی ہیں وہ اس لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ صفتیں بتاتی ہیں کہ قرآن کے وہ کیا کیا پہلو ہیں جن کا ہماری زندگیوں میں شامل ہو جانا ہمارا خدا کی کتاب کو پا لینا ہے۔ کو پانے والا وہ ہے جس کی مردہ روح کو قرآن سے زندگی ملی ہو، جس کے لیے وہ دل کے زنگ کو دور کرنے والی کتاب ہو، جس کے لیے وہ نور بن گیا ہو جس کی روشنی میں وہ چلتا ہو۔ قرآن کو ان لوگوں نے پایا ہے جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ اسے پڑھتے ہیں تو ان کے دل دہل اٹھتے ہیں اور وہ اپنے آنسوؤں سے اس کا استقبال کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت صاحب قرآن کے آگے سجدہ ریز ہو جاتی ہے۔ یہی وہ علامات ہیں جو بتاتی ہیں کہ آدمی کو قرآن کی تلاوت حق نصیب ہوئی ہے یا نہیں اور اس نے فی الواقع خدا کی کتاب کو پا لیا ہے یا وہ ابھی تک اس سے محروم ہے:۔
اِذَا تُتْلٰی عَلَيْهِمْ ايَاتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَّ جب اللہ کی آیتیں انھیں سنائی جاتی ہیں تو وہ روتے (مریم - ۵۸) ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں۔
یہاں ایک بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے۔ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام چیزوں کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ ایک ہی چیز سے آدمی فیوت بھی حاصل کر سکتا ہے اور وہی بیک وقت اس کے لیے فتنے میں پڑنے کا بھی ذریعہ ہے۔ ٹھیک یہی حال خدا کی کتاب کا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: كَذٰلِكَ يُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِی اسی طرح اللہ (قرآن کی آیتوں سے) کسی کو گمراہ کرتا ہے اور مَنْ يَشَاءُ (مدثر - ۳۱) کسی کو ہدایت دیتا ہے۔
بلاشبہ قرآن کتاب ہدایت ہے۔ مگر آدمی کا اپنا چہرہ جتنا صاف ہو گا اتنا ہی زیادہ وہ آئینہ کے اندر صاف دکھائی دے گا۔ چنانچہ قرآن سے بھی آدمی کو وہی کچھ ملتا ہے جو وہ اس سے حاصل کرنا چاہتا ہو۔ قرآن کے ذریعہ بے راہ ہونے کی ایک صورت تو وہ ہے جب کہ آدمی اس میں سے ایسی باتیں ڈھونڈ لے جو اس کے لیے قرآن پر ایمان نہ لانے کا بہانہ بن جائیں۔ مگر جو لوگ قرآن کو مانتے ہیں وہ بھی اس خطرہ سے محفوظ اس قسم کی ممکن صورتوں میں سے ایک وہ ہے جس کا عنوان تحریف ہے۔ یعنی سب کچھ جاننے کے باوجود محض اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کلام الہی کے الفاظ یا اس کے معانی کو بدل دینا (بقرہ - ۷۵)۔
دوسری چیز اقسام ہے رہجر۔ اقسام کے معنی ہیں بانٹنا، تقسیم کرنا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خدائی تعلیمات کو پوری طرح میں قبول نہ کیا جائے بلکہ اپنی خواہش کے مطابق ٹکڑے کرکے اس کے بعض حصوں کو لیا جائے اور بعض کو چھوڑ دیا تیسری چیز وہ ہے جس کو قرآن میں مضاہاۃ کہا گیا ہے (توبہ ۳۰) مضاہاۃ کے معنی عربی زبان میں مشاکلتہ الشیئ بالشیئ کے آتے ہیں لسان العرب یعنی کسی چیز کو دوسری چیز کے ہم شکل قرار دینا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل باطل کے خیالات سے متاثر ہوکر یا دنیوی مصالح کی بنا پر ان کی بات کو اپنا لیا جائے اور اس کو اس طرح پیش کیا جائے گویا وہ خدائی تعلیم کے عین مطابق یا اس کے مشابہ ہے۔
جہاں تک پہلی صورت (تحریف) کا تعلق ہے اس کی بنیاد مکمل طور پر بدنیتی کے اوپر قائم ہے۔ اور ہم سب لوگ اس کی برائی سے اچھی طرح واقف ہیں۔ مگر دوسری اور تیسری صورت کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کبھی کبھی اچھے خاصے نیک لوگوں میں بھی اس طرح چپکے سے داخل ہو جاتا ہے کہ انہیں خبر نہیں ہوتی اور وہ اپنا کام تمام کرکے بالآخر انہیں کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔
ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ انسان اکثر حالات میں متاثرہذہن کے ساتھ واقعات کا مطالعہ کرتا ہے۔ سوسائٹی میں جن خیالات کی اہمیت تسلیم کی جا چکی ہوتی ہے، قدرتی طور پر وہ ان کا اثر قبول کرتا ہے۔ طرح حقیقی دنیا کی بہت سی صفتیں معصوم شکل میں آکر اس کے ذہن کی سطح سے بار بار ٹکراتی رہتی ہیں۔ یہ چیزیں مل کر کبھی شعوری اور زیادہ تر غیر شعوری طور پر اس کا ایک فکر نہادیتی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان جبہ چیزوں کو صرف اس حیثیت سے نہیں دیکھتا جیسی کہ وہ فی الواقع ہیں۔ اکثر حالات میں وہ مجبور ہوتا ہے کہ چیزوں کو اس حیثیت سے دیکھے جیسا کہ اس کا ذہن انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔ اس طرح جب کوئی شخص ایک خاص ذہن لے کر قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ بلا ارادہ اقسام کی ایک صورت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ قرآن کی بعض باتوں کو تو لے لیتا ہے جو اس کے ذہن کے چوکھٹے میں بیٹھ سکتی ہوں اور باقی تمام باتوں کو چھوڑتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح وہ سارا قرآن پڑھ لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس نے خدا کی کتاب کو پالیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ قرآن سے بالکل بے خبر رہتا ہے۔ اس نے خدا کی کتاب کے بڑے حصہ کو چھوڑ کر اس کے بعض اجزاء کو اپنے خود ساختہ مفہوم میں لے لیا ہے۔ اس نے جو چیز پائی ہے وہ وہی ہے جو اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھی اور جس کی تائید میں اتفاق سے قرآن کی بعض آیتیں بھی اسے ہاتھ آ گئیں۔ ایسے آدمی کی مثال اس تعلیم یافتہ نوجوان کی ہے جو اپنی بے کاری سے پریشان ہو اور صرف "ضرورت ملازمت" کے اشتہارات دیکھنے کے لیے اخبار کا مطالعہ یہ نوجوان اپنے اس مطالعہ سے ممکن ہے ملازمت کی درخواست بھیجنے کے لیے کچھ پتے حاصل کرلے مگر وہ دنیا کی سیاست سے بے خبر رہے گا اور اخبار بینی کے اصل مقصد کو حاصل نہ کر سکے گا۔ اسی طرح مضاہاۃ کی خرابی بھی آدمی کے اندر خاموشی کے ساتھ داخل ہو جاتی ہے۔ اس میں ماحول کے ذاتی تاثر کے علاوہ خاص طور پر تبلیغی ضروریات کا بھی کچھ دخل ہوتا ہے۔ یہ خیال کہ جو بات لوگوں سے کہنی ہے وہ ایسی
ہونی چاہیے جو لوگوں کے ذہن سے قریب تر ہوتا کہ وہ اس کو قبول کر سکیں ۔ نیز یہ کہ بات کو ایسے الفاظ اور اصطلاحاً میں پیش کیا جائے کہ وقت کا معیار فکر اس کی اہمیت تسلیم کرنے پر مجبور ہو ، وقت کے علمی خیالات کے ساتھ وہ پہلو بہ پہلو حجۃ لے سکے ۔ یہ اگر چہ بذات خود غلط نہیں ہے مگر بعض مرتبہ وہ آدمی کے ذہن میں خدائی تعلیمات کی ایسی تصویر بناتا ہے جو اصل تعلیمات سے زیادہ وقت کے نظریات سے مطابقت رکھنے والا ہو۔ خدائی تعلیمات سے جزوی مشابهت توضر ور اس میں موجود رہتی ہے ۔ مگر در حقیقت وہ اسلامی الفاظ اور اصطلاحات میں غیر اسلامی خیالات کی ترجمانی
اگر بے جا جسارت نہ ہو تو میں عرض کر دوں گا کہ تصوف جو بعض محققین کے نزدیک یونانی لفظ تھیوسوفیا ( THEOSOFIA ) کی تعریب ہے ، وہ بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ ہے جو دوسری صدی ہجری کے نصف آخر میں محض خارجی اثرات کے تحت اسلام کے اندر داخل ہوگیا ۔ ہمارے قدیم بزرگ جب اسلام کا پیغام لے کر عرب کے باہر دوسرے ملکوں میں گئے تو انھوں نے اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پایا جہاں کچھ مخصوص افکار و اشغال لوگوں کے ذہنوں پر چھائے ہوئے تھے اور مذہب اور مذہبی زندگی کا تصور ان کے بغیر نہیں کیا جاسکتا تھا ہی نہیں بلکہ ان افکار وانتغال کی پشت پر ایک زبردست فلسفہ بھی موجود تھا ۔ ان چیزوں نے کچھ دعوتی مصلحت اور کچھ انفعالی تصور کے تحت ہمارے بزرگوں کو آمادہ کیا کہ وہ اسلام کو اس رنگ میں پیش کریں جس سے لوگ پہلے سے مانوس ہیں۔ اس طرح نبوت کے تقریبا دو سو سال بعد اسلام کی متصوفانہ تعبیر ہماری تاریخ میں داخل ہوگئی ۔
اب قدیم روحانی انداز میں سوچنے کا زمانہ ختم ہورہا ہے اور ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں حب کہ ہر طرف معاشی اور سیاسی تحریکوں کا زور ہے۔ آج کا انسان عام طور پر اس انداز میں سوچتا ہے کہ موجودہ سماجی ڈھانچے کو بدل کر کسی اور بنیاد پر دنیا کا نظام چلایا جائے ۔ یہ اسی قسم کا ایک نیا فتنه ہے جس سے ہمارے پیش روؤں کو سابقہ پیش آیا تھا۔ وہ اگر تعمیر روحانیت کا فتنہ تھا تو یہ تعمیر مادیت کا فتنہ ہے۔ اب اگر ہم نے اس فتنے کو نہ پہچانا اور اس سے اپنے ذہن کو محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کی تو ہم بھی دین کی تعبیر میں اسی قسم کی غلطی کریں گے جو اس سے پہلے صوفیائے کرام سے ہو چکی ہے۔ اور پھر قرآن کی ایک نئی تغیر کر کے قدیم روحانی تصوف کی طرح اسلام کو ایک جدید سیاسی تصوف بنا کر رکھ دیں گے۔ اور اس کے بعد ان تمام نتائج سے دوچار ہوں گے جو سیاسی تحریکوں کے لیے مقدر ہیں۔
نۂ یہ یونانی زبان کے دو لفظوں کا مرکب ہے THEOS بمعنی خدا اور SOFIA بمعنی حکمت انگریزی میں معمولی تغییر کے بعد یہ لفظ THEOSOPHY کی شکل میں استعمال ہوتا ہے۔ تھیوسوفی، اس عقیدے یا اصول کے لیے اصلاحی لفظ کے طور پر استعمال ہوتا ہے کہ ہر شخص بلاواسطہ خدا کی معرفت روحانی وجدان سے حاصل کر سکتا ہے ۔