Al-Risala · March 1977

لطیفہ

Al-Risala, March 1977, pp. 7–16

By Maulana Wahiduddin Khan

ابوبکر محمد ابن درید (۳۲۱-۲۲۳ھ) لغتِ ادب اور انساب کا امام مانا جاتا ہے۔ وہ شراب پیتا تھا اور عطیا۔ راہ بخشش میں بہت مال صرف کرتا تھا دیا جاتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک ہی پٹ سے نیک عمل کا انعام دنیا بھی اس دنیا کے محدود حالات میں ممکن نہیں جس طرح ایک بُرا عمل بے شمار طریقوں سے انسان کے لئے مصیبت بنتا ہے۔ اسی طرح ایک نیک عمل بے شمار طریقوں سے انسانیت کے لئے خیر و فلاح کا باعث ہوتا ہے۔ کون ہے جو اس کے اعداد و شمار جمع کر سکے اور اس کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دے۔ اسی کے ساتھ ایک بات اور بھی ہے۔ میں آدمی بیماری ، بڑھاپا ، موت اور اس طرح کے دوسرے ناموافق قوانین سے بندھا ہوا ہے۔ اور حریفوں اور دشمنوں میں بہت مانوس تھا۔ ایک مرتبہ اس کے یہاں ایک سائل آیا اور اس سے اس وقت ابن درید کے گھر میں شراب کے ایک مٹکے کے سوا اور کچھ نہ تھا چنانچہ اس نے وہی مٹکا سائل کو دے دیا۔ خادم نے شراب صدقہ کرنے پر شرعی اعتراض کیا تو وہ بولا " اس کے سوا میرے پاس اور کچھ نہیں ہے" پھر اس نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔ لن تنالوا البرحتى تنفقوا مما تحبون " جب تک تم اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو نیکی کا مقام ہرگز نہیں پا سکتے “۔ اس کے بعد ایسا ہوا کہ جلد ہی اس کے مٹکے کے بدلے شراب کی جگہ گریں۔

کسی کے حسن عمل کا اندازہ کرکے اس کے لئے اس کے کارناموں کے مطابق ایک جنت" بنادی جائے ، جب بھی وہ اس سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ بے شمار انسانوں لو مشراب کے دس مٹکے ہدیہ پیش کئے گئے۔ نے اپنے خادم سے کہا: "دیکھو ہم نے ایک مٹکا دیا تھا اور ہمارے پاس دس مٹکے آگئے ۔

جب شاہ جاپان نے ترکی کے سلطان سے درخواست کی کہ اسلام کی اشاعت کے لئے جاپان میں اسلام کے مبلغ بھیجے جاپان میں بدھزم کا آغاز اس طرح ہوا کہ کوریا کے راجہ نے شاہ جاپان (یماتو) کو ۵۳۹ میں ایک تحفہ بھیجا۔ یہ تحفہ دو چیزوں پر مشتمل تھا: گوتم بدھ کا مجسمہ اور ان کی تعلیمات کا ایک مختصر صحیفہ۔ کوریا کے راجہ نے لکھا کہ یہ سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے، جو میں آپ کو بھیج سکتا ہوں۔ اس طرح بدھزم ایک مذہبی تحفہ کی شکل میں چھٹی صدی عیسوی میں جاپان میں اور تھوڑے دنوں بعد شہزادہ شوٹوکو (۵۷۴ - ۶۲۱ ) کے زمانہ میں جاپان کا سرکاری مذہب بن گیا۔ مین اینڈ ہز گاڈ MAN AND HIS GOD عجیب بات ہے کہ یہی واقعہ سے پچاسی برس پہلے جاپان میں اسلام کے حق میں پیش آیا۔ مزید اس اضافہ کے ساتھ کہ اس بار شہنشاہ جاپان نے خود یہ فرمائش کی تھی کہ اسلام کو اس کے ملک میں بطور "تحفہ" بھیجا جائے۔ ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے جب کہ عالم اسلام میں بے شمار بڑی بڑی شخصیتیں موجود رہتی ہیں۔ مگر اس پیش کش کے جواب میں کچھ نہ کیا جاسکا، حالاں کہ اگر بروقت اس سے فائدہ اٹھایا جاتا تو آج نہ صرف جاپان بلکہ شاید ایشیا کی تاریخ دوسری ہوتی۔ جاپان کا پرانا قومی مذہب شنتو ہے۔ مگر اس کی کوئی مقدس کتاب نہیں۔ یہ مذہب سے زیادہ قومی روایات کا ایک کنفیوشین مذہب تیسری صدی میں چین سے اور بدھ مت چھٹی صدی عیسوی میں کوریا سے جاپان آئے۔ بیشتر آبادی انھیں تینوں مذاہب کو مانتی ہے سولھویں صدی کے نصف آخر میں عیسائی مذہب پرتگیزیوں کے ذریعے جاپان میں داخل ہوا، اور بہت سے جاپانیوں کو مسیحی بنانے میں کامیابی حاصل کی۔ مگر یہ پرتگیزی استعماری ذہن کے تحت جاپان میں داخل ہوئے تھے۔ مذہب کی آڑ میں انھوں نے جاپان کی سیاست پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ چیز جاپانیوں کو بے حد ناگوار تھی۔ پہلا پرتگیزی مشنری فرانس زیویر ۱۵۴۹ میں جاپان میں داخل ہوا تھا۔ کے پچاس سال بعد مسیحیوں کے خلاف جاپان میں داروگیر شر وع ہو گئی۔ یہاں تک کہ ۱۶۱۲ میں ایک سخت فرمان جاری کیا گیا جس کے مطابق نہ کوئی مسیحی باہر سے آسکتا تھا اور نہ جاپان کا کوئی شہری مسیحی مذہب اختیار کر سکتا تھا۔ اس کے بعد ہزاروں عیسائی قتل کر دیئے گئے۔ ہزاروں نے عیسائیت کو چھوڑ کر دوبارہ اپنے آبائی مذہب کو اختیار کر لیا۔ عیسائیت کے مقدس نشان صلیب اور مسیح و مریم کے مجسموں کو توڑ ڈالا گیا۔ ۵۳ - ۱۸۵۸ تک عیسائیت کو جاپان سے بالکل ختم کر دیا گیا تھا۔

مگر اٹھارویں صدی میں یورپ میں جو فکری انقلاب آیا اس نے صورت حال کو دوبارہ مغرب کے موافق کر دیا۔ اس صدی میں یورپ نے سیاسی اور سماجی علوم کی از سر نو تدوین کی۔ اس نے ثابت کیا کہ فرد کی آزادی وہ سب سے بڑی چیز ہے جو کسی سماج یا ریاست کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہئے۔ اس فکری سیلاب نے ساری دنیا میں ان لوگوں کو دفاع کی پوزیشن میں ڈال دیا جو فرد کی آزادی کو ختم یا محدود کر کے اپنا سماجی نظام بنائے ہوئے تھے۔

ایسی تمام قو میں اپنے حق میں استدلال کی طاقت سے محروم ہوگئیں ، ان کے لئے اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ وہ مغرب کے فکری یلغار کے آگے ہتھیار ڈال دیں۔

شہنشاہ میجی کے عہد سلطنت (۱۹۱۲ - ۱۸۶۸) میں ایک طرف جاپانی شہروں کی تعمیر کے لئے یورپ اور امریکہ کے عمارتی نقشے درآمد ہونا شروع ہوئے۔ دوسری طرف وہاں کے نظریات و افکار بھی جاپان پہنچے جن میں آزادی رائے کا نظریہ سرفہرست تھا۔ اس کے اثر سے سابق فیصلے پر نظرثانی ہونے لگی۔ ۱۸۷۳ میں خلاف مسیحیت قانون کو منسوخ کر دیا گیا۔ میں مغربی طرز کا دستور بنا جس میں جاپانیوں کے لئے مذہبی آزادی کا اعلان کیا گیا ۔ اب پھر یورپ اور امریکہ کے عیسائی مشنری جاپان پہنچنے لگے ، اور عیسائیت کی تبلیغ دوبارہ شروع ہوئی۔ تاہم بے پناہ سرمایہ خرچ کرنے کے باوجود عیسائی مذہب اختیار کرنے والوں کی تعداد میں کوئی نمایاں اضافہ نہ ہوسکا۔

زمانہ کے فکری دباؤ کے تحت قانون میں تبدیلی تو ہو گئی۔ مگر جاپان کے ہوش مند لوگ اب بھی مخالف تھے کہ عیسائیت کی تبلیغ کی آزادی دینا ملک میں مغربی استعمار کے داخلہ کا سبب نہ بن جائے ۔ چنانچہ انیسویں صدی کے آخر میں جب عیسائیت کے خلاف قانون کو ختم کیا گیا ، اسی زمانہ میں حکومت جاپان نے کچھ ایسی حفاظتی تدبیریں بھی کیں جن سے عیسائیت کو سیاسی خطرہ کی حد تک جانے سے روکا جاسکے ۔ انھیں میں سے ایک یہ بھی تھا کہ شہنشاہ جاپان (میجی) نے ۱۸۹۰ میں ترکی خلیفہ سلطان عبد الحمید ثانی (۱۹۱۸ - ۱۸۷۶) کے نام ایک خصوصی مکتوب روانہ کیا۔ اس نے اپنے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے سلطان ترکی کو لکھا تھا : " ہم دونوں مغربی بادشاہ رہیں۔ ہماری اور ہماری قوم کی مصلحت یہ ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے قریب ہوں ۔ اور ملتے ہیں۔ اور ہم دونوں کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں تاکہ ہم مغربی قوموں کا مقابلہ کر سکیں جو تمام مشرقی سلطنتوں کو ایک نظر سے دیکھتی ہیں ۔ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے یہاں مذہبی آزادی ہے ، اس سے فائدہ اٹھا کر مشرقی قومیں اپنا مذہب پھیلانے کے لئے جاپان میں اپنے مبلغین بھیج رہی ہیں۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ آپ لوگ ایسا نہیں کرتے۔ ہم پسند کریں گے کہ آپ اپنے مبلغین یہاں بھیجیں جو آپ کا مذہب اسلام یہاں کے لوگوں کو بتائیں ۔ اس طرح ! امید ہے کہ آپ کے اور ہمارے درمیان معنوی رشتہ قائم ہو گا۔ شہنشاہ جاپان کی طرف سے خط ملنے کے بعد سلطان عبد الحمید نے شیخ الاسلام ، ناظر المعارف اور دوسرے علماء اور اہل فکر کو جمع کیا اور پوچھا کہ اس معاملہ میں کیا کیا جائے۔ لوگوں نے رائے دی کہ آستانہ (ترکی) میں جو اسلامی مدارس ہیں، ان سے کچھ علماء منتخب کئے جائیں اور ان کو جاپان بھیجا جائے۔ اس مجلس میں سید جمال الدین افغانی (۱۸۹۷ بھی شریک تھے ۔ آخر میں سلطان نے کہا کہ آپ بھی اپنی رائے دیں۔ انھوں نے کہا : یہ علماء تو خود مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ پھر وہ جاپانیوں کو اسلام سے قریب کرنے کا سبب کیسے بنیں گے۔ بہتر یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو باقاعدہ تربیت دے کر تیار کیا جائے جو موجودہ زمانہ کی رعایت سے اسلام کی تبلیغ کی خصوصی صلاحیت پھر ان کو جاپان میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے بھیجا جائے ۔ اس وقت سلطان صرف یہ کریں کہ

میکاڈو (شہنشاہ جاپان) کے جواب میں شکریہ کا خط بھیج دیں اور یہ لکھ دیں کہ آپ کی رائے بہت مناسب ہے۔ ہم جلد ہی اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ چنانچہ سلطان نے کچھ تحفہ تحائف کے ساتھ ایک خط شہنشاہ جاپان کو بھیج دیا۔ (حاضر العالم الاسلامی، از امیر شکیب ارسلان)

فرانسس زاویر (۱۵۵۲ء۔ ۱۵۰۶ء) جب ۱۵۴۹ء میں گو اسے جاپان پہنچا تو مخالف حالات کے باوجود اس نے جاپانی زبان سیکھی اور مسیحیت کی تبلیغ شروع کی۔ مگر موافق حالات کے باوجود عالم اسلام میں کوئی جاپانی زبان سیکھنے کے لئے نہ اٹھا۔ سید جمال الدین افغانی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اس کام کے لئے موزوں ترین شخص سلطان عبدالحمید ان سے بے پناہ عقیدت رکھتا تھا۔ اگر وہ سلطان سے کہتے کہ آپ ایک ادارہ قائم کر دیجئے۔ میں اس کو چلاؤں گا اور اس میں جاپانی زبان میں اسلامی کتابوں کے ترجمے اور جاپان میں تبلیغ کرنے والے افراد تیار کروں گا تو سلطان فوراً راضی ہو جاتا۔ مگر جمال الدین افغانی کو اپنے سیاسی مشاغل سے فرصت نہ تھی۔ نزدیک سب سے بڑا کام یہ تھا کہ انگریزی اور فرانسیسی استعمار کو ”قبر میں اتار دیا جائے“۔ وہ مغربی قوموں کا سیاسی اقتدار ختم کرنے کے لئے بے چین تھے۔ ایسی حالت میں کفر و شرک کو دنیا سے ختم کرنے کی بے چینی ان کے اندر کس طرح پرورش پاتی۔

مولانا عبد الماجد دریا بادی (۱۹۷۷ء - ۱۸۹۲ء) کے دادا مفتی محمد مظہر کریم صاحب اپنے وقت کے ایک ممتاز عالم تھے۔ ۱۸۵۷ء کے ہنگامہ میں علماء نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا جو فتویٰ دیا، اس پر ان کے بھی اودھ کے دوسرے علماء مثلاً مولانا فضل حق خیر آبادی، مفتی عنایت احمد (مؤلف علم الصیغہ) وغیرہ کے ساتھ انہیں بھی جس دوام بعبور دریائے شور کی سزا ملی۔

قید کے زمانہ میں کوئی کام نہیں تھا۔ چنانچہ مولانا مظہر کریم صاحب نے ایک ضخیم عربی کتاب کا اردو ترجمہ کر ڈالا۔ وہاں کے انگریز افسر کو اس کی خبر ملی تو اس نے اس کو ایک علمی کارنامہ “ قرار دیا، اور اتنا خوش ہوا کہ حکومت سے ان کے حق میں پر زور سفارش کی۔ اس سفارش کے بعد اگر چہ فوری طور پر ان کی رہائی نہ ہوسکی تاہم ان کی قید کی میعاد میں کافی کمی کردی گئی ۔ سیاسی حریف کی حیثیت سے انگریز مولانا مظہر کریم کا دشمن تھا، علمی اور تعمیری کام کرنے والے کی حیثیت سے وہ ان کا دوست بن گیا۔

یہ چھوٹا سا واقعہ ہماری جدید تاریخ کی تصویر ہے۔ جن میدانوں میں ہمارے لئے کام کے مواقع تھے، وہاں کام کرنے سے ہم کو کوئی دلچسپی نہیں ہوئی، اور جس میدان میں کام کا موقع نہیں ہے، وہاں ہم اپنا سر ٹکرا رہے ہیں۔ مزید نادانی یہ کہ اس لا حاصل کام کا نام ہم نے جہاد رکھ لیا ہے ۔

سیاست کے لئے جوش تعمیر کے لئے سرد مہری فاطمه بیگم ( ۱۹۵۸ - ۱۸۹۰ ) مولوی محبوب عالم ایڈیٹر پیسه اخبار لاہور کی صاحبزادی تھیں ۔ شادی راجہ عبدالعزیز صاحب ضلع ہزارہ سے ۱۹۲۱ مگر یہی جوش تعمیری اور اصلاحی کاموں کے لئے نہیں ملتا ۔ نہ ماضی میں نہ حال میں ۔ اور اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں کی موجودہ دور میں زبوں حالی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔

دیہات میں ہم دیکھتے ہیں کہ بعض خاندانوں کا حال یہ رہتا ہے کہ لڑائی جھگڑائی کے نام پر ان کے افراد بہت جلد گرم ہوجاتے ہیں۔ وہ ذرا ذرا سی بات پر مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اپنے کھیتوں اور باغوں میں محنت کرنے اور اپنے مکانات کو درست کرنے کے لئے ان کے اندر کوئی جوش نہیں پیدا ہوتا۔ ایسے خاندان ہمیشہ ناکام اور سرماہ رہتے ہیں۔ پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے جب ۱۹۴۱ میں اعلان کیا کہ وہ چھٹیوں کے لئے سیاسی تعلیم کا مدرسہ (سمرا سکول آف پالی ٹکس جاری کرنا چاہتے ہیں تو برعکس بعض دوسرے خاندان ہوتے ہیں جو لڑائی جھگڑے کے موقع پر خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ گھر والوں کو سارا شوق یہ رہتا ہے کہ خوب تعلیم حاصل فاطمہ بیگم نے اس اسکول کے لئے لاہور میں اپنی ذاتی جائیداد سے قیمتی زمین عطیہ کے طور پر دے دی اور روضیہ پر فوری عمل درآمد کے لئے اپنے ہائی اسکول میں کچھ کمروں کا بندوبست کر دیا۔ جو کہ انھوں نے لاہور میں لڑکیوں کے لئے کھولا تھا۔ انھیں گوارا نہ ہوا کہ باضابطہ عمارت بننے تک نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا کام ملتوی

کریں کھیتوں اور باغوں کو ترقی دیں، عمدہ مکان بنائیں۔ بچوں کو اخلاق اور تہذیب سے آراستہ کریں۔ ہمیشہ محفوظ اور مطمئن رہتے ہیں۔ کوئی آندھی ان کے درخت کو نہیں اکھاڑتی اور کوئی سیلاب ان کی دیواروں کو گرانے میں کامیاب نہیں ہوتا۔

دیہاتی کسانوں کی اسی مثال پر قوموں کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جو قومیں تعمیری اور اصلاحی حیثیت سے خود کو مضبوط اور مستحکم بناتی ہیں، ان کی زندگی کا یہ حبیبہ مارین کا ایک سبنا چھوتا سا واقعہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی کاموں کے لئے لوگوں کے اندر رکھنا جوش و خروش تھا۔ مرد تو مرد عورتوں تک میں سیاست کے نام پر جوش و خروش پیدا ہو جاتا سیاست کے لئے وہ کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی کے لئے تیار ہو جاتی تھیں ۔

کے اپنے اور زور اور علم جاتی ہیں ، ان کی رندی کے تمام شعبے درست رہتے ہیں ۔ اس کے برعکس جو قومیں جلسہ بازی اور سیاست بازی میں اپنی قوتیں صرف کرتی ہیں ان کو نہ اقتصادی اور سیاسی استحکام حاصل ہوتا اور نہ وہ چیز جس کو سیاست کے نام سے وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔

Printed page