شیخ حسن البناء اور فلسطین
Al-Risala, March 1977, pp. 14–24
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۴۷ء کی بات ہے ہم لوگ جامعہ ازہر میں رہتے تھے۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کا اعلان کر دیا اور یہودیوں کی حکومت تسلیم اور اقوام متحدہ کا ممبر بھی نامزد کر دیا۔ اس غلط تقسیم، ناروا اعلان، سراسر ظلم و عدوان اور صریح زیادتی کے خلاف ہر شخص نے لیکن کسی سے عملی اقدام کی جرات نہ ہو سکی۔
مصر نے تمام سیاسی جماعتوں اور تحریکوں کو اکٹھا کر کے فلسطین کی آزادی کے لیے ایک کانفرنس بنائی۔ عرب لیگ صرف اجلاس ہی بلاتی رہ گئی۔ دمشق، قاہرہ، بغداد، بیروت اور عمان کی مسلم جماعتوں نے مظاہرے اور اس غلط تقسیم کے خلاف زبانی احتجاج کہیں کہیں اور خاموش ہو گئے۔ مختلف گروہوں کے لیڈر اور جماعتوں کے پیشوا ازہر آئے۔ یکے بعد دیگرے تقریریں کیں۔ سامعین ان کے مشتعل جذبات کی آتش بیانی سنتے رہے اور بس۔
شیخ حسن البناء ممبر پر آئے۔ آپ نے بھی تقریر کی۔ لیکن ایسی فیصلہ کن کہ آپ کے بولنے کے بعد کسی میں جرات نہ ہو سکی شیخ حسن البناء کے حلق سے جو آواز نکل رہی تھی وہ عوام کے غم و غصے کی جھوٹی تسلی کے لیے نہیں تھی۔ گرج میں عمل کی پکار تھی اس للکار میں خون کی پیش کش تھی شیخ حسن البناء جب ممبر پر تشریف لائے تو سامعین نے تالیوں اور نعروں سے آسمان کو سر پر اٹھا لیا۔ شیخ نے اپنی بارعب اور پر وقار آواز میں تقریر شروع کی ۔ فرمایا یہ یہودی خبیث اور ذلیل قوم جو ہماری چھاتیوں کا ناسور ہے ہمارے ہی ملک میں ہماری زندگی تلخ کئے ہوئے ہے۔ ہمارے ایمان و معتقدات میں خلل انداز ہو رہی ہے۔ اُن کو یہ جرات اس لئے ہو رہی ہے کہ یہ بڑی طاقتیں جو اللہ کا انکار کرتی ہیں اور عدل و انصاف سے گریز کرتی ہیں۔ ان کی پشت پناہی کر رہی ہیں۔ شیخ نے اپنی آواز اونچی کر کے فرمایا اے بندگان مصر! کل ہی کی بات تو ہے کہ ہیضہ کی وبا میں مصر کے چالیس ہزار افراد نے دست و قے میں غرق ہو کر جان دیدی اور تم نے اسے برداشت کر لیا۔ کیا تم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے چالیس ہزار آدمی ہمارے محبوب فلسطین کی آزادی کی خاطر خاک وخون میں لوٹ کر رتبہ شہادت حاصل کریں ۔
اختتام تقریر پر شیخ نے فرمایا کہ جہاد کے لیے اخوانی نوجوانوں کی جماعت بالکل پا بہ رکاب ہے۔ مصری حکومت اگر چا ہے تو وہ بھی اپنے لشکر و سپاہ کو اخوانی مجاہدین کے ساتھ بھیج دیں تاکہ سب مل کر یلغار کر سکیں۔
اسی روز ازہر سے ایک شاندار جلوس مظاہرہ کرتے ہوئے نکلا۔ شاید قاہرہ نے ایسا مظاہرہ پہلی بار دیکھا ہوگا۔ کی ایک کثیر جماعت منظم طریقے پر پوری فوجی تنظیم کے ساتھ قدم ملاتے ہوئے نکلی اور فلک شگاف نعرے لگاتی جارہی تھی " لبیک یا فلسطین " (اے فلسطین ہم حاضر ہیں) اخوانی جلوس کا تزک واحتشام اور جاہ و جلال حکومت مصر کو ناگوار گزرا۔ پولیس مظاہرین کے در پے ہوئی ۔ اور انہیں منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور ہوائی فائرنگ شروع کردی۔ شیخ کے ہاتھ میں چوٹ آگئی۔ پھر بھی شیخ نے فیصلہ کن انداز میں اعلان کر دیا کہ جلوس " قصر عابدین " تک پہنچنے کے بعد ہی خاموش ہو گا۔ چنانچہ قصر عابدین کے آگے پہنچ کر مجمع منتشر یہ جلوس شاہ فاروق کو حق صداقت، غلبہ وقوت اور استقلال وآزادی کی آواز سنا چکا تھا۔ اخوانی مجاہدین کا لشکر فلسطین پہنچا
جوانمردی ثابت قدمی کے ساتھ یہودیوں کے خلاف جہاد جاری رکھا۔ فلسطین کی مقدس سرزمین شہیدوں کے خون سے لالہ زار ہوتی جارہی حسن البنا نے ازھر میں جو وعدہ تھا۔ وہ وعدہ وفا ہو رہا تھا۔ شیخ کا مقصد نہ عوام کو خوش کرنا تھا اور نہ کسی کی داد یا تعریف حاصل کرنا بلکہ آپ نے جو کچھ کیا وہ رضائے الہی کی خاطر تھا۔ اخوان کے اس اقدام کا یہ نتیجہ ہوا کہ اخوانیوں کی قوت و عظمت ہمت و طاقت اور عزم واستقلال کا اندازہ کر کے مصری حکومت خوفزدہ ہوگئی اور خود اسے خطرہ محسوس ہونے لگا۔ چنانچہ حکومتِ مصر بھی اخوان دشمنی میں یہودیوں، انگریزوں فرانسیسیوں اور امریکیوں کی ہم نوا بن گئی۔ اور برطانوی درندوں کے اشاروں پر اخوانی جماعت کو غیر قانونی قرار دیکر گرفتاری کا عام حکم صادر کر دیا گیا۔ مصری پولیس پوری طرح حرکت میں آگئی، دھڑا دھڑ اخوانیوں کو گرفتار کرنے لگی۔ فلسطین کے میدان جہاد سے اخوانی مجاہدین واپس لائے گئے اور مصری قید خانے کی تنگ تاریک کوٹھریوں میں نظر بند کر دئے گئے۔ حکومتِ مصر نے اس دوران عوام کی آزادی سلب کر لی۔ لوح و قلم کی متاع چھین لی اور افکار پہرے لگا دئے۔ رعایا کو دہشت وخوف میں مبتلا کر دیا۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ اس وقت شیخ حسن البنا بالکل آزاد تھے۔ مجھے یاد ہے کہ شیخ کی شہادت سے چند دن قبل ہم لوگ دفتر اخوان میں بیٹھے تھے۔ شیخ نے فرمایا کہ پتہ نہیں حکومت میرے خلاف سازش کا کیا کیا اور کیسا جال پھیلارہی ہے کہ اب تک مجھے گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔ اور چند دن قبل تک میری نقل و حرکت پر جاسوسوں کی جو نگرانی تھی وہ بھی اٹھالی گئی۔ معلوم نہیں ان کارروائیوں کا مقصد کیا ہے۔ پھر ایک سرد آہ بھر کر خود ہی فرمایا۔ چھوڑئے ان سب باتوں کو اللہ کا فیصلہ غالب ہو کر رہے گا۔ آیت تلاوت فرمائی۔ قل لن يصيبنا الا ما كتب اللہ لنا یہ گفتگو ہو رہی تھی کہ ایک مصری وزیر مصطفی مرطی داخل ہوا۔ خویش خود شیخ اور حکومت کے درمیان قاصد کے فرائض انجام دیتا تھا، اور کہا جناب آپ سے ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے اور وہ یہ کہ آپ خفیہ ریڈیو اسٹیشن ہمارے حوالے کردیں اس کے بعد اخوان کو آزادی دی دی جائے گی اور پھر وہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے شیخ نے ہنس کر فرمایا" ریڈیو اسٹیشن؟ یہ کیسی بات کرتے ہو۔ جب حکومت اور اس کے سارے جاسوس اس اسٹیشن کا پتہ لگانے سے عاجز رہ گئے ہیں تو میں کیسے تمہیں اس کا پتہ بتا سکتا ہوں۔ اسٹیشن کا ذکر تو میں نے پہلی بار تمہاری زبان سے سناہے۔ وزیر آتش پا ہو کر دھمکی آمیز گفتگو کرنے لگا تو شیخ کو جلال آگیا۔ غضبناک لہجے میں وزیر کے منہ پر فرمایا۔ اجی سن لو اگر اس کا بادشاہ اور اس کی حکومت ازہر کے خواہ مخواه علماء اور شیخ الاسلام یہ سب کے سب اخوان دشمنی پر اتر آئیں اور اخوان سے لڑائی کے لئے کمر بستہ ہو جائیں تو میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس لاکھوں کا لشکر ہے، بے انتہا فوج و سپاہ اور جنگی ساز و سامان ہے۔ دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے پاس پچاس ہزار نفوس ایسے ہیں جن کا ایک ایک فرد ان میں سے پچاس پچاس بتوں کو سرنگوں کرنے سے پہلے خاموش نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ سننے کے بعد وزیر الٹے پاؤں لوٹ گیا اور ہم لوگ بھی واپس چلے آئے۔
۱۲ فروری ۱۹۴۹ء کی صبح تھی۔ میں سورہا تھا۔ باہر کسی کی آواز نے مجھے جگا دیا ۔ پا کر " حادثہ حادثہ " کہہ کر آواز لگار ہا تھا اور اس روزمرہ کی آواز کا مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اخبار خرید کر میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اطمینان سے اخبار اٹھایا پہلے ہی صفحے پر جلی سرخیوں میں لکھا تھا شیخ حسن البنا کی وفات "
اخبار میرے ہاتھ سے گر پڑا۔
( عمر عودة الخطيب - سابق وزير خوراک شام کے عربی مقالہ سے ترجمہ )
کے درختوں کو اگنے دیا جائے تو وہ تر درختوں کا باغ بن جائے گا اور کوئی پھل نہیں دے گا کیونکہ پھل ہمیشہ مادہ درختوں میں لگتا ہے۔
پپیتہ کی باغبانی کے لئے منصوبہ بندی ضروری ہے یعنی ہر سال پودے لگائے جائیں اور ضروری تناسب ایک نفع بخش تجارت دیہات میں پپیتے کے درخت ادھر ادھر کھڑے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں پھل نہیں ہوتے۔ طور پر سمجھ لیتے ہیں کہ یہ "بانجھ" پپیتے ہیں اس لئے پھل نہیں دے رہے ہیں۔ مگر یہ بات صحیح نہیں۔ اصل یہ ہے کہ پپیتے کے درختوں میں اکثر نر وہ ہوتے ہیں جن کو علم نباتات کی اصطلاح برقرار رکھنے کے لئے نر درختوں کو کاٹا جاتا ہے اور ان کی جگہ پر مادہ درختوں کو لگایا جاتا ہے۔ باغ میں عام طور پر چند نر درخت کافی ہو جاتے ہیں۔ پھول آنے سے قبل نر اور مادہ درختوں میں تمیز تاہم چھ ماہ کی عمر کو پہنچ کر بآسانی تمیز ہو جاتی ہے جب کہ پپیتہ میں پھول آنے لگتے ہیں۔ مادہ کے مقابلہ میں، نر درخت تقریباً ایک ماہ پہلے پھول دے دیتا ہے۔ نر پودے کے پھول لمبی لمبی ڈنڈیوں میں لگے ہوتے ہیں۔ مادہ اور دو زرو جیا کے پھول ڈنڈی دار نہیں ہوتے اور بالعموم تین گچھوں کی شکل میں ہوتے ہیں۔ اس طرح پہچان کر نر پودے نکال دیئے جاتے ہیں اور ان کی جگہ مادہ پودے لگادیئے جاتے ہیں۔ نر اور مادہ کی قطعی پہچان پھول ہی سے ہوتی ہے۔
برصغیر ہند میں پپیتیہ کو پرتگالی تقریباً تین سو سال پہلے وسطی امریکہ سے لائے تھے۔ چونکہ گرم اور مرطوب آب و ہوا اس کے لئے موزوں ہے، اس لئے ہندوستان میں اس کی کاشت بہت کامیاب رہی۔ پپیتیہ سخت سردی برداشت میں یک زوجیا DIOECIOUS کہا جاتا ہے یعنی ان کے نر اور مادہ پھول الگ الگ درختوں میں ہوتے ہیں ۔ (ایک ہی درخت میں دونوں قسم کے پھول نہیں ہوتے) دوسری بات یہ کہ پپیتیہ کے پھلوں سے جو بیج نکلتے ہیں ان میں بڑی تعداد نر بیجوں کی ہوتی ہے ۔ اگرچہ خود رو طور پر پپیتیہ نہیں کر سکتا ۔ جزیرہ ہوائی میں اس کی کاشت دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
پپیستہ کی تقریباً دو درجن قسمیں ہیں ۔ زیادہ تر تخم کے ذریعہ ہوتی ہے۔ پھل گول اور لمبا ہوتا ہے ۔ عام طور پر ایک پونڈ سے دس پونڈ تک کے پھل ہوتے ہیں۔
٢٥ پونڈ کے پھل بھی پائے گئے ہیں۔ اس کا درخت ایک سال کے اندر، ۱۰فٹ تک بڑھ جاتا ہے اور پہلے ہی سال پھل دینے لگتا ہے۔ ایک درخت ایک موسم میں ۱۰۰ پونڈ تک پھل دیتا ہے۔ عمر زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک
پپیتی کا پودا لگانے کے لئے جنوری، فروری کا مہینہ سب سے اچھا ہے۔ اگر بارش کے زمانہ میں پودا لگایا جائے تو پانی کی کثرت کی وجہ سے اس کے گل جانے کا ڈر رہتا ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ جنوری یا فروری میں لگایا جائے تاکہ بارش کے موسم تک درخت بڑا ہو جائے۔ پپیتی نمی زیادہ چاہتا ہے، مگر جڑوں میں پانی کھڑا ہونے سے اس کا اسفنجی تنہ گلنے لگتا ہے۔ نیز اس کی جڑیں زمین میں زیادہ نیچی نہیں جاتیں۔ سطح کے قریب قریب رہتی ہیں۔ لہذا تیز و تند ہوا کے جھونکوں سے اس کو بچانے کی ضرورت
پپیتی کا بیج بویا جاتا ہے۔ قلم بھی لگتے ہیں۔ بہت مشکل طریقہ ہے۔ بڑے قد کا میٹھا پھل لے کر اس کا بیج نکال لیا جائے اور آہستہ آہستہ صاف کرکے دو تین دن دھوپ میں خشک کر لیا جائے پھر ڈبوں میں محفوظ کر لیا جائے۔ احتیاط سے رکھا جائے تو بیج تین سال تک کام دیتا ہے۔ پپیتہ کے۸ اونس بیج سے تقریباً ۱۰۰ پود تیار ہوتے ہیں جن سے ایک ایکڑ زمین بھری جا سکتی ہے بیج بونے کے لئے جون سے نومبر تک کا وقت بہترین ہے۔ پپیتی بہت کم جگہ گھیرتا ہے دو درختوں کے درمیان دس فٹ کا فاصلہ بھی کافی ہے۔ پودا لگانے سے پہلے گڑھا کھود کر اس میں تقریباً ۵۰پونڈگلی ہوئی نباتاتی کھاد اور تقریباً پانچ پونڈ ہڈی کا چورا ملا کر گڑھے کو بھر دیا جائے پھر اس پر مقررہ وقت پر پودا لگایا جائے ۔ اس کے بعد ہر سال بارش سے پہلے دو ٹو کرے کھاد اور تقریباً تین پونڈ ہڈی کا چورا اور تھوڑی سی راکھ تنے کے اطراف میں مٹی کھود کر ڈالی جاتی رہے۔ اس ترکیب سے پھل زیادہ آتے ہیں کبھی کبھی نمک کا محلول بھی جڑوں کے قریب ڈ النا چاہئے۔ پپیتا بہت مفید پھل ہے۔ ہر ایک منڈی میں نہایت آسانی سے اچھی قیمتوں پر فروخت کیا جا سکتا ہے۔ کی واحد کمزوری یہ ہے کہ وہ دور کے مارکٹ میں بھیجا نہیں کیونکہ اس کا پھل اندر سے خول ہوتا ہے، دوسرے پھلوں کی طرح بھرا ہوا نہیں ہوتا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پکنے کے بعد پھل نرم ہو جاتا ہے اور معمولی دباؤ پڑنے سے خراب ہو جاتا ہے۔
تاہم پپیتا کی بنیاد پر بہت سی تجارتیں وجود میں آتی ہیں جو زیادہ دیر پا اور مفید ہیں ۔
پپیتا میں ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ وہ گوشت کو نرم کرکے جلد چکا نہ دیتا ہے۔ چنانچہ اس کا سفوف یا عرق بنا کر اس مقصد کے لئے فروخت کیا جاتا ہے۔ میں MEAT TENDERIZER کے نام سے گوشت کو جلدپکانے کی جو دوائیں بکتی ہیں، وہ پپیتا ہی سے تیار کی جاتی ہیں ۔ پپیتا کی یہ خصوصیت اس کو ہاضم بھی بناتی ہے ۔ چنانچہ اس سے ہاضمہ کی گولیاں بھی بنائی
گوشت کو گلانے یا ہاضمہ کی گولیاں کچے پپیتا سے تیار کی جاتی ہیں ۔ ہرے پھلوں میں ایک مادہ ہوتا ہے جس کو PAPAIN کہتے ہیں۔ یہ مادہ پھلوں کے علاوہ اس کی پتیوں اور ڈنٹھلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ کو نکال کر سکھا لیتے ہیں اور اس کو سفوف کی شکل میں تیار
کر کے پیک کر لیتے ہیں۔ پپیتا میں یہ خصوصیت اتنی زیادہ ہے کہ گوشت کو اگر کچھ دیر اس کے پتہ میں لپیٹ دیا جائے تو گوشت نرم ہو جائے گا اور پکاتے وقت آسانی سے گل جائے گا۔
پپیتا کی ہر چیز کارآمد ہے حتیٰ کہ اس کی چھال سے میں بھر جاتا ہے اور پھل زیادہ میٹھا ہو جاتا ہے۔ خراشیں صبح کو۔ ۱۰بجے سے پہلے پہلے لگانا چاہئیں رسیاں بھی جاتی ہیں اور اچھے دام پر فروخت ہوتی ہیں۔ تاکہ سکھانے کے لئے پورا دن مل جائے۔ سویرے کے وقت تاہم موجودہ زما میں پپیتا کا سب سے نفع بخش جزو اس کا دودھ ہے۔ پپیتا کا دودھ مذکورہ فائدہ کے علاوہ نہ دوا کے بھی کام آتا ہے اور بہت مفید ہے۔ ملک میں اور ملک کے باہر دواؤں کی مارکیٹ میں اس کی بہت مانگ ہے۔ دودھ بھی زیادہ نکلتا ہے۔ دودھ کو قاعدہ کے مطابق سکھا کر ہوابند ڈبوں میں پیک کیا جاتا ہے۔ کے لئے مخصوص آلات استعمال ہوتے ہیں۔ احتیاط نہ کرنے سے دودھ خراب ہو جاتا ہے۔
دودھ نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ پھل جب بڑے ہو جائیں تو ان پر ہلکی خراشیں لگائی جائیں۔ بعد فوراً دودھ نکلنے لگے گا۔ اس کو شیشہ یا چینی کے کے برتن میں سنبھال لیا جائے بیک وقت زیادہ خراشیں پپیتا کا دودھ نہایت نفع بخش تجارت ہے۔ کے ادارے اس کو فوراً خرید لیتے ہیں۔ اس کو برآمد کر کے قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ اس کی اہمیت کی وجہ سے حکومت پپیتا کی باغبانی کے لئے خصوصی امداد کرتی ہے۔ قراتم (مقبوضہ کشمیر) اور کاشیا (رُوس) تمدن سے دور، زندگی سے قریب کے پہاڑوں میں زندگی نہایت سادہ اور تمدنی سہولتوں سے دور ہے۔ مگر یہاں کے لوگ اعلیٰ انسانی اوصاف Where Life Begins at کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ سو برس اور ڈیڑھ سو برس تک نہایت تندرست حالت میں زندہ رہتے ہیں۔ امریکہ میں ایک لاکھ کی آبادی میں سوسالہ عمر والوں کی تعداد صرف تین فی صد ہے۔ ۱۹۷۰ کی مردم شماری کے مطابق جار جیا اور آذربائی جان کے علاقہ میں سوسالہ عمر رکھنے والوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار تھی۔ میں ۳۹ فی صد، آذربائی جان میں ۳۴ فی صد)
کبھی شکست بھی فتح ثابت ہوتی ہے زندگی کے حقائق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں کہ وہ فتح وشکست کی اصطلاحوں میں سما سکیں۔
اسلام کی قدیم تاریخ میں اغیار کی طرف سے اس کو دو بڑے فوجی مقابلے پیش آئے ہیں۔ سے، دوسرا مسیحیوں سے۔ تاتاریوں سے مقابلہ بارھویں صدی کے آخر میں پیش آیا۔ مسلم قوموں کو اس مقابلہ میں مکمل شکست مگر اس شکست کے اندر سے حیرت انگیز طور پر ایک نیا امکان برآمد ہوگیا۔ فتح نے تاتاریوں کے انتقامی جذبہ کو ختم کر دیا۔ اب وہ نفسیاتی طور پر اس پوزیشن میں تھے کہ مفتوح کے مذہب وعقائد پر بے آمیز رائے قائم کر سکیں۔ نظر آیا کہ اسلام ایک سچا دین ہے اور اس میں خود ان کی اپنی بھلائی چھپی ہوئی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی شکست پر ایک صدی بھی نہیں گزری تھی کہ تاتاری حکمران مسلمان ہو گئے اور سارا مسئلہ ایک نئی بہتر شکل میں ختم ہو گیا ــــــ فوجی میدان کے فاتح فطرت اور نفسیات کے میدان میں اپنے مفتوحوں سے شکست کھا گئے ۔
مسیحی یورپ اور مسلمانوں کے درمیان مقابلہ اس کے برعکس مثال پیش کرتا ہے۔ مسیحی یورپ سے دوسوسالہ صلیبی لڑائی کے بعد مسلمانوں کو شان دار فتح حاصل ہوئی اور مسیحی اقوام کو بدترین شکست کے بعد واپس لوٹنا پڑا۔ مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ سارے یورپ میں اپنے غالب حریف کے خلاف انتقام کی ایک نہ ختم ہونے والی آگ بھڑک اٹھی۔ اپنے تمام وسائل کو انھوں نے ایک نئے مقابلہ کی تیاری کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔ ان کی یہ مخالفانہ کوششیں پانچ صدیوں تک جاری رہیں، یہاں تک کہ ان کی کامیابی اس انتہا کو پہنچی کہ انھوں نے قوت و طاقت کے نئے میدان دریافت کر لئے۔ انھوں نے مسلمانوں کو زندگی کے ہر شعبے میں شکست دے کر ساری دنیا پر اپنی سیادت کا جھنڈا گاڑ دیا ــــ انھوں نے قدیم طرز کی ملاحی جہاز رانی کو ترقی دے کر دخانی جہاز رانی کے مقام پر پہنچایا اور اس کے زور پر تمام سمندروں پر قابض ہو گئے۔ دور مار ہتھیار تیار کر کے مسلم تلواروں کو کند کر دیا۔ نے مشینی صنعت ایجاد کر کے مسلم دستکاری کا خاتمہ کر دیا۔ انھوں نے سائنسی علوم وضع کر کے مسلمانوں کے روایتی علوم کو بے قیمت کر دیا۔ انھوں نے محکومی کی ایک نئی قسم (اقتصادی اور فنی محکومی) وجود میں لا کر تمام مسلم دنیا کو مجبور کیا کہ سیاسی طور پر آزاد ہونے کے بعد بھی وہ انھیں کی غلام اور محکوم
پچھلی آٹھ سو سالہ تاریخ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ وہ لوگ سخت غلطی پر ہیں جو صرف فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سوچتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کے حقائق اس سے کہیں زیادہ وسیع ہیں کہ فتح و شکست کی اصطلاحوں میں سما سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ فتح کبھی شکست ثابت ہوتی ہے اور شکست بھی کسی وقت فتح بن جاتی ہے۔
وہ برطانوی سامراج کا ملازم تھا مگر اس کی ملازمت اس کے لئے اپنے سامراجی آقا کے بمبئی وغیرہ مقامات پر سات سال تک گھومتا رہا۔ اس مدت میں اُسے شدید تلخیاں اور مصیبتیں اٹھانی پڑیں جس کی تفصیل جہاز ایو رنڈی کی داستان نامی کتاب میں (THE TALE OF EVIRENDY) مسٹر جیکب نے بیان کی ہے ۔
اس اذیت ناک سفر کے آخری مرحلے پر جب وہ ایس۔ سیام نامی جہاز کے ذریعہ بمبئی سے عدن جا رہا تھا اُسے جہاز کی مختصر لائبریری اور اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن گئی ۔
یہ انیسویں صدی کے آخر کا واقعہ ہے۔
خلیج عدن کے جنوبی ساحل پر ز آئکہ (صومالی) میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت ہوگئی۔ بغاوت کو کچلنے کے لئے عدن کانسٹیبلری کا دستہ بھیجا اس دستہ کے انگریز کانسٹیبلوں میں ایک ولیم رچرڈ ولیم سن تھا۔ بغاوت ایک مہینہ کے اندر کچل دی گئی۔ تاہم ولیم سن کا مسلمانوں سے میل جول اس کی زندگی میں ایک نئے انقلاب کا سامان بن گیا۔ برطانوی استعمار کا ایک کارندہ بن کر آیا تھا، مگر جب وہ واپس ہوا تو وہ مسلمان ہو چکا تھا ۔ ولیم سن ایک شریر اور ضدی لڑکا تھا۔ باپ سے خفا ہو کر ۱۸۸۵ء میں وہ برشل (انگلستان) سے نکل بھاگا۔ اس نے سمندری جہازوں پر ملازمت آسٹریلیا، جزیرہ پونیپ فلپائن، ہانگ کانگ، میں ایک انگریزی کتاب ملی۔ یہ کتاب اسلام کے موضوع پر تھی اور اس کا مصنف لیورپول کا ایک وکیل کو لیم تھا۔ کو لیم مسلمان ہو گیا تھا اور اس کا اسلامی نام اس کتاب میں اس نے اپنے مسلمان ہونے کی داستان اور اسلامی تعلیمات کی حقانیت بیان کی کتاب کے مطالعہ سے ولیم سن کو یوں محسوس ہوا کہ وہ جس آب حیات کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا اس کی نشاندہی اس کتاب نے کر دی ہے ۔ کتاب اس نے بار بار پڑھی اور ہر بار اس کا ذہن نئی ایمانی کیفیت سے لذت یاب ہوا ۔
عدن کی بندر گاہ پر اسسٹنٹ ریذیڈنٹ کرنل اسٹیسی کی طرف سے ایک پیغامبر اس کا منتظر کرنل اسٹیسی نے اُسے بلایا تھا۔ ولیم سن اس بلاوے پر سخت حیران ہوا، کیونکہ وہ کرنل سے بالکل نا واقف تھا۔ جہاز کے کپتان سے اجازت لے کر وہ برٹش ریزیڈنسی پہنچا۔ کرنل اس سے بڑی گرمجوشی سے ملا۔
"نوجوان تمھارا باپ میرا دوست ہے مجھے اس کا خط کل ہی ملا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ تمھارا
خیال انڈین پولیس میں شامل ہونے کا ہے۔ ولیم سن نے خالہ کے کہنے پر اپنے والد کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ خط اس نے منیلا کے عذاب خانے سے نجات پانے کے بعد بمبئی پہنچ کر لکھا، اسی میں اس نے انڈین پولیس میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ ”جی ہاں، خیال تو ہے؛“ ولیم سن نے کہا۔ ”خوب عدن کانسٹبلری انڈین پولیس ہی کا ایک حصہ ہے؛ یہاں ایک جگہ خالی ہے نوکری کروگے؟ ولیم سن کے لیے یہ ایک زریں موقع تھا۔ نے خود اس کے لیے عربوں کے درمیان رہنے کا انتظام کر دیا تھا۔ وہ فوراً آمادہ ہو گیا اور چند روز بعد ’سیام‘ سے مستعفی ہو کر پولیس میں کانسٹیبل بھرتی ہو گیا۔ پولیس کی نوکری ولیم سن کے لیے نئے فرائض اور نئے مشاغل لے کر آئی۔ ولیم سن کی تنخواہ پچاس روپے ماہانہ تھی اور رو روئی اور رہائش مفت۔ اس نے چند ماہ کے اندر اندر خاصی رقم پس انداز کر لی۔ اور جلد ہی ایک عربی گھوڑا خرید لیا۔ پولیس کی نوکری ولیم سن کے لیے کچھ ایسی کٹھن نہ تھی۔ اپنی جسمانی ساخت کی بدولت وہ شدید ترین گرمی برداشت کر سکتا تھا۔ تفریح اور مطالعہ کے لیے اسے کافی وقت مل جاتا۔ اسی زمانے میں صومالی ساحل پر زائلہ میں برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت ہوئی جسے کچلنے کے لئے پولیس کا دستہ بھیجا گیا۔
ولیم سن اس دستے میں شامل تھا۔ جلد ہی فرد ہوگئی۔ پولیس پارٹی دو تین مہینے وہیں رہی۔ اس مہم میں ولیم سن کو جو ترجمان دیا گیا اس کا نام حسن علی تھا۔ وہ صومالی تھا اور بڑا ہی پُر جوش مسلمان، حسن علی برطانوی استعمار کا ملازم تھا۔ مگر یہ ملازمت اس کے لئے ولیم سن کے اوپر اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ وہ آسٹریلیا کا سفر کر چکا تھا اور خاصی اچھی انگریزی بول لیتا تھا۔ عربی میں تو وہ بڑی روانی سے باتیں کرتا، اسے جب پتہ چلا کہ ولیم سن کو اسلام سے گہری دلچسپی ہے تو وہ اکثر اسلام کے موضوعات پر گفتگو کرنے لگا۔ یہ شناسائی بعد میں گہری دوستی میں تبدیل حسن علی نے اسے عدن کے ممتاز اور ذی اثر عربوں سے متعارف کرایا۔
ولیم سن جلد ہی اُن میں گھُل مل گیا اور اسلام کی طرف اس کا رجحان کھل کر سامنے آگیا۔ کی طرح عدن میں بھی حکمراں طبقہ مقامی باشندوں سے الگ تھلگ رہتا تھا۔ کسی سفید فام کا عربوں کیساتھ اس طرح گھل مل کر رہنا ولیم سن کے افسروں کو سخت ناگوار بات کرنل اسٹیسی تک پہنچی جس کی سفارش پر اُسے پولیس میں رکھا گیا تھا۔ کرنل نے اسے بُلا بھیجا اور خاصی دیر تک فہمائش کرتا رہا۔
"رنگدار لوگوں سے میل جول سفید فاموں کے لئے زیبا نہیں، آخر حاکما نہ رکھ رکھا ؤبھی تو کوئی
ولیم سن خاموش نہ رہ سکا "عرب رنگداروں کے زمرے میں نہیں آتے۔ " اس نے کہا۔
"ممکن ہے ایسا ہی ہو"۔ کرنل نے جواب دیا "مگر میں تمھارے بھلے کی بات کہتا ہوں، تمھیں دوست منتخب کرنے میں زیادہ احتیاط برتنی چاہئے اور ہاں یہ بھی سنا ہے کہ تم مسلمان ہونا چاہتے ہو؟
"میں سوچ تو رہا ہوں مگر ایک شیخ نے مشورہ دیا ہے کہ میں عجلت میں کوئی فیصلہ نہ کروں۔ " لیم سن نے بڑی صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ اس نے منیلا میں امریکی قونصل مسٹر رسل ویب کے نام یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ صرف ولیم سن کا خط موثر ثابت ہوا۔ بہرحال مسٹر ویب نے آگے چل کر منیلا یہ ایک معقول مشورہ ہے ۔ کرنل نے کہا ، تم عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے اور پرورش پائی ، تمھارے باپ کو پتہ چلا ، تو اُسے کتنا صدمہ ہوگا ۔ تمھیں مذہب سے اگر مس ہے، تو کسی پادری کے پاس جاؤ ۔ یہ عجیب و غریب خیالات دماغ سے نکال دو۔ اُس نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور اس کی تعلیمات میں روح و قلب کے اطمینان کا سامان موجود پایا ۔ کرنل کی نصیحت اس کے نزدیک ایک ایسے بزرگ کی نصیحت تھی جسے نوجوان نسل کے مسائل سے زیادہ صرف اپنے نقطہ نظر سے سروکار ہوتا ہے۔ پولیس میں ولیمسن نے اپنا کیریئر بنالیا صومالیہ کی مہم اور اس کے بعد تین جرمن جاسوسوں کے گرفتار کرانے میں اس نے اپنی ذہانت اور عمدہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ اس کے افسروں کی نگاہیں اس پر پڑنے وہ ان تمام باتوں سے بے نیاز ہو کر سال بھر تک اسلامی کتب کا مطالعہ کرتا رہا۔ یہاں تک کہ تمام شکوک و شبہات دُور ہو گئے۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہو وہ اب اسلام ضرور قبول کرلے گا۔ اس فیصلے کے بعد اُس نے نو مسلموں کے سے جوش و جذبے کے ساتھ دوسروں کو بھی اس روحانی فیض میں حصہ دار بننے کی دعوت دی۔ اس نے برسٹل میں اپنے والد کو ایک طویل خط لکھا۔ ایک اور خط اس نے کیلیفورنیا میں اپنی خالہ کو بھیجا۔ ان دونوں کو جب یہ خطوط ملے تو انھیں سخت صدمہ پہنچا۔ ایک تیسرا خط چھوڑ دیا اور مسلمان ہو گئے۔ حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کی اور پھر امریکہ جاکر اسلام کی دعوت و تبلیغ میں مصروف ہو گئے۔ انھوں نے اسلام پر کئی کتابیں بھی لکھیں۔
ولیم سن چھٹی لے کر لہج کے سلطان فاضل ابن علی کے پاس چلا گیا۔ وہاں کئی دن مہمان رہا۔ دن ایک شاندار تقریب منعقد ہوئی جس میں اس نے لہج کے قاضی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ نے اس کا اسلامی نام عبد اللہ فاضل رکھا اور اسے اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ اس نے اپنے اخلاص کا ثبوت دینے کے لئے ختنہ بھی کروایا۔
اب اس کی نظر میں پولیس کی نوکری کی کوئی اہمیت نہ تھی، حج کا موسم قریب تھا اور لہج سے ایک قافلہ جانے والا تھا۔ عبد اللہ فاضل کے دل میں مقدس شہروں کی زیارت کا شوق تیز تر ہو گیا، لیکن اس کا روپیہ پیسہ اور کپڑے عدن میں تھے، بڑے تذبذب کے بعد وہ عدن چلا آیا۔
عدن کی فضا افسردہ سی تھی، اس کے ساتھی اور افسر بڑی رکھائی سے پیش آئے۔ اس کی ایک ایک سرگرمی اور ارادے سے برطانوی خفیہ پولیس پوری طرح واقف تھی۔ عدن کے فوجی گورنر جنرل ہوگ کرنل اسٹیسی اور اعلیٰ پولیس افسر سب پیچ و تاب کھا رہے عبد اللہ فاضل کو نہ صرف حج پر جانے سے روک دیا گیا، بلکہ لہج کے سلطان کو بھی دھمکی دی گئی کہ اگر
نوجوان قافلہ حجاج میں شامل ہوا، تو اس کا خمیازہ ولیمسن نے درخواست دی کہ اُسے فوری طور پر ملازمت سے سبکدوش کر دیا جائے مگر اس کی درخواست رد کر دی گئی، جواب ملاکہ تم ہندوستان جاکر ہی سبکدوش ہو سکتے ہو۔ عبداللہ ولیمسن ہندوستان جانے پر مجبور ہو گیا۔ سلطان بیج کو پتہ چلا تو اس نے ہدایات جاری کر دیں کہ انگلستان، امریکہ یا آسٹریلیا کے سوا اسے کسی حالت میں بھی سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اس نے عرب میں برطانوی خفیہ پولیس کے لئے اپنی خدمات پیش کیں مگر اس پیش کش کا کوئی جواب نہ ملا۔ ہر طرف سے مایوس ہو کر اس نے دوسرے ذرائع سوچنے شروع کر دئے عبداللہ
ہدیہ میں سو روپے بھیج دے۔
عبداللہ ولیم سن ہندوستان جارہا تھا۔ اس کا دل عرب میں تھا۔ جہاز کا فاصلہ عدن سے جتنا بڑھتا جاتا، عرب واپس پہنچنے کی آتش شوق اتنی ہی بھڑکتی جاتی تھی۔
ہندوستان پہنچ کر عبداللہ فاضل ویمن ایک عجیب پریشانی میں گھر گیا۔ اسے ملازمت سے تو فوراً سبکدوش کر دیا گیا، لیکن بمبئی کے برطانوی حکام بدستور اس کے معاملات میں دلچسپی لیتے رہے۔ واپس انگلستان بھیجنا چاہتے تھے، مگر قانوناً ایسا نہیں کر سکتے تھے، چنانچہ انھوں نے طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے کام لینے کی کوشش کی۔
پہلے اُسے انگلستان مفت لے جانے کی پیش کش ہوئی، پھر کہا گیا کہ یہاں کی آب وہوا تمھارے مزاج کے موافق نہیں تم آسٹریلیا یا امریکہ چلے جاؤ، تمھارے سفر کا انتظام کر دیا جائے گا، مگر ولیمسن نے صاف انکار کر دیا۔ جب اس نے عرب جانے والے ویمن صرف عرب جانے والے جہاز پر سوار نہیں ہوتا اس کی اور کسی بات پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ نے بندرگاہ پر کلر کی کر لی اور نہایت مطمئن زندگی بسر
بظاہر یہی نظر آتا تھا کہ وہ بمبئی ہی میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ حکومت کو اس کی قیامگاہ کا تو علم تھا، مگر شہر میں اس کے گھومنے پھرنے پر نہ تو کوئی پابندی تھی اور نہ اس کی نگرانی کی جاتی تھی۔ ان دنوں موصل، بغداد، بصرہ اور کویت سے گھوڑوں کے تاجر بمبئی آتے جاتے رہتے تھے۔ نے ان سےرابطہ پیدا کر لیا۔ ان میں ایک دو تھوڑی بہت انگریزی بول لیتے تھے۔ اسے بھی ٹوٹی پھوٹی عربی اس نے انھیں اپنا سارا قصہ کہہ سنایا، اور مشورہ طلب کیا۔
بات چیت سے پتہ چلا کہ برٹش انڈیا کمپنی نے اپنے جہازوں میں گھوڑوں کے تاجروں کو خصوصی مراعات دے رکھی ہیں۔ عراق عرب سے جہاز میں سیٹ مخصوص کرانا چاہی تو جواب ملا ”کوئی جگہ اس نے مختلف جہازوں میں ملاح، فائر مین بلکہ خلاصی تک کے لئے درخواستیں دیں مگر جہاز کے کپتان لائے جانے والے ہر تین گھوڑوں پر کمپنی " تاجر کو آمد و رفت کا ایک فرسٹ کلاس ٹکٹ مفت دیتی ہر دو گھوڑوں کے ساتھ ایک سائیس کو کیرج لو لوئی ضرورت نہ تھی ، جہاز کے مالکوں لو حکومت کے میں مفت سفر کرنے کی اجازت ہے۔ الٹرایسا ہی با
کہ کسی عرب تاجر کو ہندوستان میں کچھ عرصے رہنا ہواتا وہ اپنا آدھا واپسی ٹکٹ کسی کے ہاتھ بیچ دیتا تھا۔ عبداللہ نے سوچا جہاز ران کمپنیوں کو جل دیا جاسکتا ہے ۔ اس نے بصرے کے ایک عرب سائیں سے تیس روپے میں بصرے کا ٹکٹ خریدلیا۔ عبداللہ علی کے نام کا تھا۔ چونکہ ان دنوں پاسپورٹ وغیرہ کا سلسلہ نہ تھا، اس لئے عبداللہ فاضل کسی خاص زحمت کے بغیر سفر کر سکتا تھا۔ اسے جہاز پر سوار " تو پھر تمھارا سارا منصوبہ تلپٹ ہوگیا ہے ۔ بُو شہر میں پولیٹیکل افسر نے مجھے بلایا تھا۔ سے تمھارے متعلق اطلاع ملی ہے ، مجھے حکم ہوا ہے کہ تمھیں بھرے میں اترنے نہ دوں ۔
ولیم سن اندر ہی اندر کھولنے لگا : " میں نے کوئی جرم نہیں کیا ، مجھے روکنے والا کون ہوتا ہے؟ کسی کو میری آزادی پر قدغن لگانے کا کوئی حق نہیں۔ " میں کچھ نہیں جانتا ، میرا کام تمھیں ممبئی واپس ہوتے وقت کچھ بھی دقت پیش نہ آئی۔ عربی لباس پہن رکھا تھا جو اس نے عدن میں خریدا دھوپ میں سنولائے ہوئے چہرے اور ہلکی سی ٹیڑھی ناک سے وہ ہو بہو عرب معلوم ہوتا تھا۔ بندرگاہ کے حکام، پولیس اور جہاز کے افسروں کسی کو گمان تک نہ ہو کہ کوئی سفید فام ”بنکورا“ پر سوار بنکورا بصرے کی طرف روانہ ہو گیا۔ فاضل نے کھلے سمندر میں پہنچ کر اطمینان کا سانس لیا، لیکن برطانوی راج کے عفریت نے دور دور تک اپنے جنگل گاڑ رکھے تھے۔
”بنکورا“ خلیج فارس کی بندرگاہ بوشہر سے دور گہرے سمندر میں لنگر ڈالے کھڑا تھا۔ جہاز کا کپتان لانچ میں بیٹھ کر کمپنی کے دفتر گیا، خاصی دیر کے بعد واپس آیا اور جہاز کی تلاشی شروع ہو گئی۔ پتہ چلا کہ بمبئی سے ایک ”گورا عرب“ سوار ہوا ہے، اس کی تلاشی ہو رہی ہے۔ آخر گورا عرب پکڑا گیا۔ جہاز کے کپتان نے چھنتی ہوئی نظروں سے جائزہ لیا:
”کیا تمھارا نام ولیم سن ہے؟ “ اس نے پوچھا۔ لے جاکر چھوڑ دینے کے بعد ختم ہو جاتا ہے“۔ عبد اللہ ولیمسن نے دوران سفر میں بہت سے عرب تاجروں سے واقفیت پیدا کرلی تھی۔ میں موتیوں کے ایک تاجر یوسف ابراہیم تھے۔ شمار کویت کے مشہور شیوخ میں ہوتا تھا۔ نے ان سے اس نئی افتاد کا ذکر کیا۔ وہ دیر تک خاموش رہے، پھر کہنے لگے:
”کیا یہ ضروری ہے کہ تم بصرے ہی جاؤ، ہمارے ساتھ کویت کیوں نہیں چلتے؟ تم ہمارے دینی بھائی ہو، ہمارے ساتھ آؤ اور ہمارے مہمان بن کر رہو، کوئی تمھیں زک نہ پہنچا سکے گا۔