Al-Risala · January 1977

تھیوسوفیکل سوسائٹی : ایک تعارف

Al-Risala, January 1977, pp. 15–16

By Maulana Wahiduddin Khan

الرسالہ کے مضامین میں ہم زیادہ سے زیادہ تنوع پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خیال ہے کہ مختلف مذاہب روحانی اور اخلاقی تحریکوں کے تعارف کا بھی ایک صفحہ رکھا جائے ۔ زیرِ نظر مضمون اسی کے تحت شائع کیا جارہا ہے۔ اگر ناظرین نے پسند کیا تو یہ سلسلہ آئندہ بھی انشاء اللہ جاری رہے گا۔

تھیوسوفیکل سوسائٹی، ۱۷، نومبر ۱۸۷۵ء کو نیو یارک میں قائم ہوئی ۔ اس وقت کرنل ہنری اسٹیل اولکاٹ (امریکی) اس کے صدر اور میڈم ایچ پی بلاڈسکی (روسی) اس کی سیکریٹری چند سال کے بعد انھیں نیویارک چھوڑنا پڑا کیونکہ سوسائٹی کا دفتر جس مکان میں تھا۔ اس کا کرایہ وہ ادا نہ اس کے بعد وہ لوگ ہندوستان چلے آئے ۔ ۱۶ جنوری ۱۸۷۹ء کو وہ بمبئی کے ساحل پر اترے۔ یہاں وہ تقریریں کرتے اور غیر ملکی اخبارات و رسائل میں مضامین لکھ کر اپنا خرچ چلاتے ۔ ۱۸۸۲ء میں وہ جنوبی ہند وہاں انھوں نے مدراس کے پاس قصبہ اڈیار میں ۲۷ ایکڑ زمین خرید لی۔ بعد کو ڈاکٹر اینی بسنت سوسائٹی کی صدر ہوئیں تو انھوں نے مزید ۲۱ ایکڑ زمین خرید کر اس میں شامل کی اور سوسائٹی کے صدر اور دفتر کی عمارتیں بنائی گئیں۔ سوسائٹی کی بنیادی کتابیں یہ ہیں :

THE KEY TO THEOSOPHY (تھیا سوفی کی کنجی)

ان کا عقیدہ ہے کہ قدیم زمانہ کے سات اشخاص اب بھی زندہ ہیں۔ وہ انسانی بہبود کے لئے لگا تار کام کر رہے سوسائٹی کو ان کا آشیرواد حاصل ہے۔ اس وقت سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ سوسائٹی میں ہر مذہب کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ کہ وہ بھی جو کسی مذہب کو نہیں مانتے۔ اپنے بیان کے مطابق سوسائٹی کا مقصد سچائی کی تلاش اور انسانی برادری ہے اس کے بڑے بڑے لیڈر جو اب تک ہوئے ہیں، وہ یہ ہیں: H.P. Blavatsky 1831-1891 H.S. Olcott 1832-1907 Dr. Annie Besant 1847-1933 Subramanyam Aiyar 1842-1924 C. W. Leadbeate 1847-1934 W. Q. Judge 1851-1896 C. Jinarajadasa 1875-1953 N. Sri Ram 1889-1973 Dr. G. S. Arundale 1878-1945 سوسائٹی کے قیام کے وقت اس کے ممبروں کی تعداد صرف اب تقریباً ساٹھ ملکوں میں پھیلی گئی ہے اور ۱۲ سو شہروں اور قصبات میں اس کی شاخیں قائم ہیں۔ کے بانی مشرقی دانش سے متاثر تھے اور انسان کے اندر اندرونی روحانی بیداری لانے کے لئے اس کو قائم کیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ ایک ہندوستانی مہاتما کے چیلے ہیں، جن کی روح جیون مکت ہو کر ہمالیہ کے اوپر مقیم ہے۔ سوسائٹی کا صدر مقام ایڈی یار اب پھیل کر شہر بن گیا ہے۔ اس پر سکون مرکز میں دنیا

بھرے لوگ ” اندرونی طاقت حاصل کرنے کے لئے آتے رہتے ہندوؤں کے لئے بنارس، مسلمانوں کے لئے مکہ اور یہودیوں کے لئے یروشلم کی جو حیثیت ہے۔ کے پیروؤں کے لئے اڈیار کی ہے۔ مسز اینی بسنت نے ہندوستان کی سیاسیات میں شامل ہو کر غیر معمولی شہرت حاصل کی۔ برنارڈ شا نے ان کو دنیا کی سب سے بڑی خاتون مقرر کہا اب اس کے چھٹے صدر جان بی۔ یہ ایک انگریز ہیں اور بیک وقت چار عالمی زبانوں میں لکچر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں : فرانسیسی، اسپینی جرمن اور انگریزی - مسٹر کوٹس نے ایک انٹرویو میں کہا : ہم نے مشرقی دانش اور مغربی اقدار کو ملا کر ایک دنیا بنانے کی کوشش کی ہے۔ ہم روحانیات میں ایک اقوام متحدہ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ سوسائٹی کے چھٹے صدر مسٹر کوٹس نے کہا: ” تھیاسوفیکل فیکل سوسائٹی کی تعلیم اور کتابوں نیز دوسرے عوامل کے ذریعہ مغرب میں علوم خفیہ سے دل چسپی بہت بڑھی ہے ، مگر ایک خطرہ اپنی اندرونی قوتوں کی تلاش میں انسان اب بھی روحانیت کے بجائے نفسیات پر زیادہ زور دے رہا ہے۔ ہمیں انسانیت کو اس سے بچانا ہے اور لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ علوم خفیہ کو حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ خود غرضانہ زندگی کو ترک کر دیا جائے ۔ تھیاسوفیکل سوسائٹی کے مقصد کو مندرجہ ذیل شکل میں بیان کیا جاتا ہے۔

نسل، عقیدہ ، جنس، فرقہ یا رنگ کے امتیاز کے بغیر عالمی انسانی برادری قائم کرنا۔

مذہب، فلسفہ اور سائنس کے تقابلی مطالعہ کی حوصلہ افزائی کرنا۔

انسان کے اندر فطرت کے مخفی قوانین اور طاقتوں کا پتہ لگانا۔

تھیاسوفیکل سوسائٹی کی بانی بلا واٹسکی کے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خارق عادت واقعات ظہور میں لانے پر قادر تھیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ ۱۸۸۰ء میں ایک بار وہ شملہ میں مقیم تھیں۔ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ جنگل میں پکنک منانے کے لئے گئیں۔ وہاں چائے تیار کی گئی تو اتفاق سے ایک نیا مہمان آگیا جس کے لئے پیالی اور پلیٹ موجود انھوں نے اپنی مخفی قوتوں کے ذریعہ ہوا سے ایک پیالی اور پلیٹ منگوائی جو ٹھیک اسی سائز اور ڈیزائن کی تھی جس کا ایک سیٹ ان لوگوں کے پاس پہلے سے موجود یہ پیالی اور پلیٹ اب بھی اپنی اصل حالت میں تھیوسوفی کے مرکز ایڈ یار میں موجود ہے۔

اسی طرح اور بھی قصے مشہور ہیں مثلاً وہ مرکز میں لگے ہوئے مختلف گھنٹوں میں سے کسی بھی گھنٹہ کو بغیر خارجی ذریعہ کے محض اپنی مخفی قوت سے بجا سکتی تھیں۔ بلاواٹسکی مہا تماؤں کو اپنا گروہ بتاتی تھیں جو عرصہ ہوا مر چکے تھے۔ بیان کے مطابق ان کی روح ہمالیہ کے اوپر موجود تھی۔ شخص اس جہاتما کی روح سے تعلق قائم کرنا چاہتا تو وہ بلاواٹسکی کے ذریعے کر سکتا تھا۔ وہ اپنی بات بلاواٹسکی سے بلاواٹسکی اس بات کو مخفی ذرائع سے مہاتما کی روح کو مہاتما کی روح اس کا جواب دیتی۔ یہ جواب ایک کاغذ پر انگریزی زبان میں اچانک چھپ جاتا۔ کرشنا مورتی نے اپنی نوجوانی کی عمر میں ۱۹۲۵ء میں تھیوسوفیکل سوسائٹی میں شرکت کی تھی۔ وہ ایک نہایت غریب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ بسراینی بسانت نے بچپن ہی میں ان کو ان کے خاندان سے لے لیا اور ان کو اعلیٰ تعلیم

تھیوسوفیکل سوسائٹی کے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ میڈیم بلاواٹسکی ۱۸۷۹ میں پانی کے جہاز کے ذریعہ پاور سے امریکہ جارہی تھیں۔ ان کے پاس فرسٹ کلاس کا انھوں نے دیکھا کہ بندرگاہ پر ایک غریب عورت حسرت و افسوس کے عالم میں پڑی ہوئی ہے۔ کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کا شوہر امریکہ میں مزدور ہے۔ اس نے اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ تھرڈ کلاس کا ٹکٹ لیا تھا تاکہ امریکہ میں اپنے شوہر کے پاس جاسکے۔ وقت پر جہاز کے ذمہ داروں نے بتایا کہ اس کا ٹکٹ کسی نے اس کو دھوکا دے کر اس سے پیسے وصول کئے اور اس کو جعلی ٹکٹ دے دیا۔ فوراً اپنا فرسٹ کلاس ٹکٹ واپس کیا اور تیسرے درجہ کا ڈھائی ٹکٹ لے کر عورت اور اس کے بچے کے ساتھ معمولی کلاس میں سفر کر کے امریکہ پہنچیں وہ تھیوسوفیکل سوسائٹی کے ایک مشہور فرد بن گئے۔ مگر ۱۹۳۰ میں ان کو سوسائٹی سے اختلاف ہوگیا۔ نے سوسائٹی چھوڑ دی ۔ ان کا کہنا تھا کہ سچائی کو کسی تنظیم کے ذریعہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ تنظیم آزادانہ تلاش کے بجائے تعصب کا ذہن پیدا کرتی ہے۔ تا ہم آج بھی کرشنا مورتی کے جلسوں میں شرکت کرنے والے سب سے زیادہ کیا ہم اس امتحان کی تیاری کر رہے ہیں قیامت کے دن انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کرلیا جائے : عمر کن کاموں میں لگائی؟

اپنی جوانی کہاں صرف کی ؟

مال کہاں کہاں سے کمایا ؟

مال کہاں کہاں صرف کیا ؟

جو علم حاصل ہوا اُس پر کہاں تک عمل کیا ؟ راوی : حضرت ابنِ مسعود ـــــــــــــــــ ترمذی

پیغمبر اسلام نے مسجد کے اندر غیر مسلموں کو اپنے طریقے کے مطابق عبادت کرنے کی اجازت دی ۔ کے ماننے ووں کا یہ حال ہے کہ انھیں یہ بھی گوارا نہیں کہ دوسرے لوگ مسجد میں آکر خدا کی بتائی ہوئی عبادت کا طریقہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔

ہجرت کے دسویں سال نجران (یمن) کے عیسائیوں کا وفد مدینہ آیا تھا۔ اس وقت مدینہ اسلام کا مرکز بن چکا تاہم یہودی بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔ ممتاز عیسائیوں کا وفد جب مدینہ پہنچا تو یہودی بھی آکر ان سے ملنے لگے۔ اس طرح عملاً یہ وقت کے تین بڑے مذاہب کی کانفرنس بن گئی ۔ اسی لئے ڈاکٹر ہیکل نے اس کو "مؤتمر الادیان الثلاثہ " کا نام دیا ہے۔ (حياة محمد، صفحہ ۲۳)

ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں لکھا ہے:

قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفد نصارى من نجران ال ستون راكبا فيهم اربعة عشر رجلا من اشرفهم ، فد خلوا عليه مسجده لا حين صلى العصر و قد حانت صلاتهم فقاموا في مَسْجِدِهِ، ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم دعوهم فصلوا الى المشرق آپ کے پاس نجران کے عیسائیوں کا وفد آیا۔ یہ لوگ ۶۰ ان میں ۱۴ کی تعداد میں ان کے ممتاز افراد یہ لوگ مسجد نبوی میں عصر کے وقت پہنچے (یہ غالباً اتوار کا دن تھا) جب کہ ان کی نماز کا وقت ہو گیا تھا۔ وہ مسجد نبوی میں اپنی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ ان کا رخ مسلمانوں کے برعکس) مشرق کی جانب تھا۔ لوگوں نے روکنا چاہا، آپ نے فرمایا، انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو اس طرح ایک طرف اسلام نے اپنی رواداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا۔ دوسری طرف عیسائیوں اور یہودیوں نے یہ کیا کہ وہ آپس میں اور مسلمانوں کے خلاف مناظرانہ انداز سے مذہبی بحثیں کرنے لگے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہوا تو یہودیوں نے کہا: ابراہیم یہودی تھے، عیسائیوں نے جواب دیا: تم غلط کہتے ہو، ابراہیم عیسائی تھے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نرمی کے ساتھ انھیں بتایا: ابراہیم کے بارے میں کیوں اس قسم کی بحثیں کر رہے ہو، تورات اور انجیل تو ان کے بعد اتری ہیں۔ پھر وہ یہودی یا عیسائی کیسے ہو سکتے حقیقت یہ کہ ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی۔ سچے موحد اور خدا کے تابعدار تھے۔ اس طرح کی بحثیں مدینہ کی اس مجلس میں جاری ایک بار یہودیوں نے آپ سے کہا: محمد! چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی بھی عبادت کرنے لگیں جس طرح عیسائی لوگ عیسیٰ کی کرتے ہیں؟ نجران کے ایک عیسائی نے

یہ سن کر کہا: ہاں ہم بھی آپ سے یہ جنا چاہتے ہیں، اسی لیے بتائیے کہ آپ کا مقصد کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی پناہ کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کی طرف بلاؤں، خدا نے مجھے اس کام کے لئے نہیں بھیجا۔

ابن ہشام نے لکھا ہے کہ اہل نجران جب مدینہ آئے اور یہود ان کے پاس جمع ہوئے تو دونوں نے ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنا شروع کیا:

فقال رافع بن حُرَيْملة: ما أنتم على شئ وكفر بعیسی و بالإنجيل ، فقال رجل من اهل نجران ان من النصاری للیهود ما أنتم على شئ وبعد نبوة موسى وكفر رافع بن حریملہ یہو دی نے کہا تم کسی چیز پر نہیں ہو اور عیسیٰ اور انجیل کا انکار کیا۔ نجران کے ایک عیسائی نے کہا تم کسی چیز پر نہیں ہو اور موسیٰ اور تورات کا انکار کیا۔ پیغمبر اسلام نے دیکھا کہ گفتگو اور دلائل امر حق کو واضح کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں تو آپ نے مباہلہ کا طریقہ اختیار فرمایا۔ قرآن میں حکم آیا کہ "جو لوگ اب بھی آپ سے بحث جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ علم حق تمھارے پاس پہنچ چکا ہے تو ان سے کہہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بھی لائیں اور تمھارے بیٹوں کو بھی اور اپنی عورتوں کو بھی اور تمھاری عورتوں کو بھی۔ پھر خدا سے کہیں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے، اس پر خدا کی لعنت ـــ " (آل عمران - ۶۱) آپ نے وفد کے ارکان سے یہ کہا اور اس کے ساتھ فاطمہ، علی، حسن اور حسین کو لے کر میدان میں پہنچ گئے۔ مگر نجران کے عیسائیوں کو اس معاملہ میں شریک ہونے کی ہمت نہ پڑی۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ہم ابھی آپ کے مذہب کو نہیں مانتے، البتہ اسلامی حکومت کی سیاسی ماتحتی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں۔ سرولیم میور نے اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے

"سارے واقعہ میں محمدؐ کے ایمان کی پختگی بالکل نمایاں ہے نیز ان کے اس عقیدہ کی شہادت کہ ان کا تعلق عالم غیب سے جڑا ہوا ہے۔

اور اس لئے حق تمام تر انہیں کے ساتھ ہے"

(لائف آف محمدؐ، صفحہ ۲۶۰ اخبار پرتاپ (۱۲ اکتوبر ۱۹۷۶) نے اپنے ادارتی نوٹ میں محمد علی کلے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا: "محمد علی جیسے کم ہی کھلاڑی ہوتے ہیں۔ اسے کروڑ پتی بنا دیا۔ اب اس کے دماغ میں اسلام کی سیوا کا سودا ہے۔ یہ مبارک کام ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کی سیوا سے بھی یہ اسی طرح منحرف تو نہیں ہوتا جیسے اپنے ریٹائر ہونے کے اعلانوں سے ہوتا ہے۔ کیسی عجیب بات ہے یہ مسلمان وہ تمام کام کرتے ہیں جن کو دوسرے نامبارک سمجھیں ۔ البتہ وہی ایک کام کرنے کے لئے نہیں اٹھتے جو نہ صرف یہ کہ ان کا سب سے بڑا مذہبی فرض ہے۔ بلکہ اغیار تک جس کو پیشگی مبارک کہنے کے لئے تیار ہیں

Printed page