Al-Risala · March 1977

”لیکن کیسے؟“

Al-Risala, March 1977, pp. 24–27

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ کویت میں جہاز ساحل سے دور کھڑا ہوتا ہے۔ ہمیں لینے کے لئے ہماری اپنی کشتی آئے گی۔ تم بھیس بدل کر آسانی ساحل پر پہنچ سکتے ہو۔ آخر کویت آگیا۔ عبد اللہ ولیمسن نے اپنا عربی لباس اتار کر ایک کویتی کا لباس پہن لیا۔ عبا کالے رنگ کی تھی اور عقال بھی مختلف تھا۔ اس کے عرب دوستوں

نے اس کا صندوق اور دوسرا سامان اُٹھا لیا۔ جہاز کے دو تین افسر کھڑے مسافروں کو کشتیوں میں سوار ہوتا دیکھ رہے تھے مگر عبد اللہ ولیم سن پر کسی کو شبہ نہ ہوا۔ شیخ یوسف ابراہیم کی کشتی ساحل کی طرف روانہ ہو گئی اور بنکو را سامان اتارنے کے بعد اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔

کویت میں نوجوان عبد اللہ نے اپنی عرب زندگی کا آغاز کیا۔ سات برس کی جہاں گردی کے بعد اُسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ مشفق اور مہربان مادرِ وطن کی آغوش میں آگیا ہے۔ اب وہ مطمئن تھا ۔ برطانوی راج کی دسترس سے دُور۔ اب وہ عرب رسم و رواج، عربی زبان اور اسلامی تعلیمات پوری آزادی سے سیکھ سکتا تھا۔ چند روز ہی میں وہ وضع قطع ڈھنگ جو شط العرب کے دہانے پر واقع ہے۔ عبداللہ لیم سن اس جہاز میں سوار ہو گیا۔ کویت کے دوستوں نے اسے بڑی افسردہ دلی اور نیک تمناؤں کے ساتھ

بصرے میں بسّام کے گھرانے سے ہر شخص انھوں نے عبداللہ لیم سن کو بصد شوق و مسرّت "اہلاً و سہلاً" کہا اور مہمان خانے میں جگہ دی۔ شام کے وقت وہ اپنے میزبانوں کے ہاں بیٹھا تھا اور قہوے کا دور چل رہا تھا۔ دیر تک اس کے مستقبل پر غور ہوتا رہا۔ آخر خاندان کے بڑے بوڑھے نے کہا: میرا گھر حاضر ہے۔ ہم تمھیں اپنے گھرانے کا ایک فرد سمجھیں گے۔ علم دین کی تحصیل ایک نیک مقصد ہے۔ ہمارے ہاں سال، دو سال جب اور شب و روز کے مشاغل کے اعتبار سے ایک پیدائشی عرب بن گیا۔ چند ہفتوں کے بعد اس نے شیخ یوسف سے بصرہ جانے کی اجازت چاہی۔ شیخ یوسف اس کے تک چاہو ہو اور پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ دین کی تعلیم حاصل کرو۔ بصرہ ان دنوں ایک چھوٹا سا عرب قصبہ تھا عراق اصرار پر رضا مند ہوگئے۔ بصرے کے بنام گھرانے کے پر ترک حکمرانی کرتے تھے۔ مغربی اثرات کے بہت کم نقوش ساتھ شیخ کے گہرے دوستانہ تعلقات تھے۔ ان کے نام ایک تعارفی خط لکھ دیا۔ انہی دنوں شیخ کا دیکھنے میں آتے تھے۔ قصبے کی سڑکیں کچی تھیں اور بھر سے سے باہر جانے والے راستے محض پگڈنڈیاں۔ ایک چھوٹا جہاز سامان تجارت لے کر فاؤجار ہا تھا زندگی ولیمسن کے لئے نہایت خوش آئند تھی۔ موجودہ زمانے میں غیر مسلموں تک اسلام کی آواز پہنچانے کے لئے سب سے عمدہ کتابیں وہ ہیں جو غیر مسلم ہمد ردان اسلام یا نومسلموں نے لکھی ہیں۔ ان کتابوں میں جو سادگی اور تاثیر ہوتی ہے وہ مسلمانوں کی لکھی ہوئی کتابوں میں نہیں ملتی۔ انھیں میں سے ایک کتاب کا واقعاتی خلاصہ یہاں پیش کیا گیا ہے۔ اس قسم کی کتابیں اور مضامین سیکڑوں کی تعداد میں چھپ چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان کو جمع کیا جائے اور ان کی اصل اور ترجمے اہتمام کے ساتھ چھاپ کر شائع کئے جائیں۔ الرساء مارچ ۱۹۷۷ء

کا مہمان ہونے کی وجہ سے اس کی شناسائی بصرے کے تمام اہم خاندانوں سے ہو گئی۔ وہ کبھی کبھار صحرا میں بدوؤں کے خیموں پر جاتا اور کئی کئی دن اُن کے ساتھ رہتا۔ اب وہ عربی روانی سے بولنے لگا تھا اور بدوؤں کے عادات و خصائل اور رسوم و رواج سے خاصا واقف ہو چکا تھا۔ اونٹ کی سواری بھی اس نے سیکھ لی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ بات عام ہو گئی کہ بصرے میں عربوں کے ساتھ ایک گورا "سکونت پذیر ہے۔

ایک دن سہ پہر کے وقت برطانوی قونصل خانے سے ایک ترجمان آیا، خط میں برطانوی قونصل نے لکھا تھا: "میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ برطانوی رعایا ہونے کی حیثیت سے برطانوی قونصل خانے میں آکر اپنی آمد کی اطلاع دو۔

عبداللہ ولیم سن نے اس کا جواب ہی نہ دیا۔ ترجمان سے زبانی صرف اتنا کہا: "اپنے آقا سے کہہ دو، میں نہیں آؤں گا۔ برطانوی قونصل خانے میں قدم رکھنے کے معنی برطانوی علاقہ میں داخل ہونے کے تھے ۔

عبداللہ ولیم سن کا خیال تھا کہ معاملہ رفع دفع ہو چکا ہے اور وہ عربوں کے درمیان بالکل محفوظ ہے لیکن برطانوی قونصل کے پاس ایک حربہ اور تھا۔ روز بصرہ کے ترک والی (گورنر) حمدی پاشا سے ملا۔ گورنر برطانیہ کے ساتھ جھگڑا مول لینے سے ہمیشہ احتراز ترک گورنر نے حکم دیا کہ خیریت چاہتے ہو تو اس گورے کو برطانوی قونصل کے حوالے کر دو۔ اس پر عرب بھی گرم ہو گئے۔ انھوں نے اپنا مہمان گورنر یا برطانوی قو نصل کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا: "وہ ہمارا مہمان ہے، ہم الرسائل مارچ ۱۹۷۷ء سچائی کی یافت اس کے لئے زندگی کے تمام سوالات کا جواب بن گئی ۔

اس کی حفاظت کریں گے، خواہ ہمیں قربان ہونا پڑے۔ یہ اُن کا دو ٹوک جواب تھا۔ عبداللہ ولیم سن اپنے محسن میزبانوں کو کسی مصیبت میں ڈالنا نہیں چاہتا تھا۔ نے بصرے سے چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اسے بڑے تاسف اور ملال کے ساتھ رخصت کیا۔ عبداللہ ایک عرب دوست کے پاس زبیر چلا گیا۔ اس نے شیخ یوسف ابراہیم کو ایک خط لکھا۔ شیخ نے اسے اپنے پاس کویت بُلا لیا۔ عبداللہ بصرہ، زبیر اور کویت میں کوئی دو سال رہا۔ اس عرصے میں اس نے اپنا اکثر وقت عربی اور اسلامی تعلیمات سیکھنے میں گزارا۔ اور بہار کا موسم صحرا میں گزارتا تھا۔ عبداللہ ولیم سن بھی اس کے ساتھ رہتا اور سیر و شکار میں حصہ لیتا۔ دوران میں صحرائی بدوؤں سے ملنے جلنے کے مواقع میسر ہر نیا دن اپنے دامن میں نئی دلچسپیوں اور معلومات کا سامان لے کر آتا۔ یہیں اس نے گھوڑے اور اونٹ پالنا اور شکروں سے شکار کرنا سیکھا۔ اب وہ ایک پختہ کار بدو بن چکا تھا۔

پو پھٹ رہی تھی۔ دور سے مؤذن کی آواز سنائی اللہ اکبر، اللہ اکبر، زائرین نیند سے بیدار ہو گئے۔ عبداللہ ولیم سن نے حسب معمول نماز با جماعت ادا کی، اب صبح کی روشنی پھیلنے لگی۔ دور مسجد نبوی کے بلند مینار سے

نظر آرہے تھے، مدینۃ النبی اب چند فرلانگ دور رہ گیا رات جب قافلے نے پڑاؤ ڈالا تھا، عبد الکریم من پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی تھی۔ وہ قافلے کے ساتھ آٹھ سو میل کا سفر طے کر کے آیا تھا۔ طرح وہ بھی اس طویل سفر سے جس میں کئی مرتبہ انھیں ٹیرے بدوؤں سے جنگ کرنی پڑی تھی، سخت تھک چکا تھا مگر اس کا جی چاہتا تھا کہ قافلہ اپنا سفر جاری رکھے اور وہ اس مقدس شہر میں جلد سے جلد پہنچ جائے جو اسلام کا مرکز ہے اور جہاں اللہ کے آخری نبی استراحت فرما وہ نبی آخر جن کی تعلیمات نے اس کے دل اور دماغ کی دنیا بدل ڈالی تھی، ان سے اسے رُوحانی اطمینان اور کردار کی پاکیزگی اور بلندی ملی تھی مسلمان ہونے کے فورا بعد وہ اس عظیم و مقدس اور تاریخ ساز شہر کی زیارت کرنا چاہتا تھا لیکن اسے کئی بار زبردستی روک دیا گیا تھا، پھر اس کے رستے میں نئی نئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں مگر وہ ان سب رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد اب اپنے مقدس شہر کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ پورا یقین تھا کہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہے اور اب اس کی دنیا بھی سنور چکی ہے اور عاقبت بھی ۔ وہ جب مدینۃ النبی میں داخل ہوا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ آج اس کے دل کی سب سے بڑی تمنا پوری ہو چکی تھی ۔

حروف پر نقطے کب لگائے گئے کہا جاتا ہے کہ ایک بڑھیا فرزدق شاعر کے پاس آئی اور کہا: "میں تمھارے باپ کی قبر کی پناہ مانگتی فرزدق نے پوچھا ، تم کیا چاہتی ہو۔ بتایا کہ تمیم بن زید میرے بیٹے کو پکڑ لے گئے ہیں ، اور اس کے سوا میری کوئی اولاد نہیں جو میرے لئے کمائی کر سکے۔ اس نے پوچھا تمھارے بیٹے کا نام کیا ہے ، بڑھیا نے کہا "خنيس"۔ اس کے بعد فرزدق نے چند اشعار لکھ کر تمیم بن زید کے پاس بھیج دئے۔ شعر یہ تھا:

وہب لی خنيسا واحتسب فيه منة لعبرة ام لا يسوغ شرابها اور خنیس کو مجھے دے دو اور اس کے معاملہ میں احسان کرکے اس کی ماں کے آنسو بند کرو جس کے لئے کھانا پینا بے مزہ ہو چکا ہے۔

اس زمانہ کے رواج کے مطابق الفاظ پر نقطے یتیم بن زید کو اشعار پہنچے تو اس نے بڑھیا کے بیٹے کو واپس کرنا چاہا مگر بے نقطہ "حسن" کے نام میں اس کو شک ہو گیا۔ اس نے اپنے قبیلہ کے تمام آدمیوں کے ناموں کو دیکھا تو ان میں خنیس، خنیش، جیش وغیرہ قسم کے چھو ملتے جلتے نام تھے۔ اس نے ان تمام لوگوں کو فرزدق کے پاس بھیج دیا۔

اس طرح کے واقعات نے لوگوں کو متوجہ کیا کہ وہ حروف کی شناخت کے لئے ان پر نقطے لگائیں اس سلسلہ میں ابتدائی کام ابو الاسود دولی نے کیا۔ اس کے بعد حجاج کے حکم پر ابو الاسود کے دو شاگردوں نصر بن عاصم اور یحییٰ بن یعمر نے ان کو تکمیل تک پہنچایا۔

Printed page