Al-Risala · March 1977

علم کلام . ایک جائزہ

Al-Risala, March 1977, pp. 43–39

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ تدبیر امر کر رہا ہے اور تفصیل آیات بھی (رعد - ۲) - تدبیر امر سے مراد کائنات کی انتظام ہے جس کے خارجی پہلوؤں کے علم کا نام سائنس ہے۔ تفصیل آیات سے مراد وحی ہے جس کا آخری اور مکمل متن قرآن کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ علم کلام اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ، یہ ہے کہ الہامی علم اور کائناتی علم کی وحدت کو سمجھا جائے، نا معلوم کائنات کو معلوم کائنات کی مدد سے قابل فہم بنایا جائے ۔

اس حیثیت سے دیکھئے تو اسلامی علم کلام کا کوئی قدیم وجدید نہیں ۔ متکلمین اسلام کی ایک غلطی تھی جس نے علم کلام میں قدیم و جدید کی تقسیم پیدا کی ۔ علم کلام حقیقتہ" قرآنی عقلیات کو مرتب کرنے کا نام تھا ۔ مگر عباسی دور کے متکلمین نے اس کو انسان کی وضع کردہ فلسفیانہ عقلیات پر ڈھالنے کے ہم معنی سمجھ لیا ۔ یہی وہ غلطی ہے جس نے علم کلام میں قدیم وجدید کے تصورات پیدا کئے ۔ کیونکہ فلسفیانہ عقلیات قیاسی ہونے کی وجہ سے تغیر پذیر تھیں، جب کہ قرآنی یا کائناتی عقلیات میں تغیر تبدل کا کوئی سوال نہیں ۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کا طریق استدلال تمام تر کائناتی ہے ۔ وہ محسوس واقعات کے ذریعہ غیر محسوس حقائق پر استدلال کرتا ہے ۔ قرآنی علم کلام کی بنیاد زمین و آسمان کے ان قوانین پر ہے جو اٹل ہیں، جن میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس لئے قرآنی علم کلام بھی اٹل ہے، اس میں تبدیلی کا کوئی سوال نہیں ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قرآنی علم کلام بھی، قرآنی اعتقادیات کی طرح، غیر تغیر پذیر ہے۔ مگر جب علم کلام کو انسان کے پیدا کردہ علوم کی بنیاد پر مرتب کیا گیا تو فی الفور علم کلام میں قدیم وجدید کا مسئلہ پیدا ہو گیا کیونکہ یہ علوم تمام تر قیاس کی بنیاد پر تھے ، وہ کبھی یکساں نہیں رہ سکتے ۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں ، اگر کلی طور پر نہیں تو ایک خاص حد تک ، ہم اس پوزیشن میں ہو گئے ہیں کہ علم کلام کو اس کی قطعی اور آفاقی شکل میں مرتب کر سکیں ۔ قدیم زمانہ میں عالم افلاک اور علم افلاک دونوں الگ الگ چیزیں تھیں۔ حقائق پر مبنی تھا اور علم افلاک قیاسات پر۔ آج یہ دونوں چیزیں ایک ہوتی جارہی ہیں۔ یہی معاملہ قرآن کا ہے۔ میں قرآن اور علم کلام دونوں الگ الگ تھے ۔ قرآن آیات محکمات پر مبنی تھا اور علم کلام فلسفہ کے قیاسات پر۔ آج علم انسانی کے ارتقاء نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ قرآن اور علم کلام دونوں کو ایک کیا جا سکے ۔ اگر کوئی چیز ہے جس کو " علم کلام جدید" کہا جائے تو وہ یہی علم کلام ہے جس کو مرتب کیا جانا چاہئے، اگر چہ وہ ابھی تک مرتب نہیں کیا گیا ہے ۔ یہاں میں مختصر طور پر چند کاموں کا ذکر کروں گا جو علم کلام کی جدید ترتیب و تدوین کے سلسلے میں ہم کو انجام دینا ہے ۔ سب سے پہلا کام قرآن کی بنیاد پر ایک نظریہ علم کو مرتب کرنا ہے یعنی طریق استدلال کا علم ۔ قدیم زمانہ میں قیاسی مفروضات و مسلمات پر استدلال قائم کیا جاتا تھا ۔ تحقیق و تجربہ کے جدید طریقوں کے ظہور میں آنے کے ابتدائی زمانہ میں مشاہداتی استدلال پر زور دیا گیا ۔ مگر آئن سٹائن کے بعد علم انسانی کا جو دور شروع ہوا ہے، اس میں زیادہ سے زیادہ یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں انسان کے لئے ناقابل مشاہدہ ہے ۔ اب یہ بات تقریباً مان لی گئی ہے کہ

انسان کی محدود صلاحیتوں کی وجہ سے، مشاہداتی استدلال اس کے لئے ممکن نہیں۔ ہم صرف اس پوزیشن میں ہیں کہ استنباطی استدلال قائم کر سکیں ۔ ہم حقائق کو دیکھ نہیں سکتے ، ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ ظاہر اشیاء پر غور کر کے یہ مستنبط کریں کہ یہاں فلاں چیز پائی جانی چاہئے ۔

اب موجودہ زمانہ میں ایک نیا نظریہ علم وجود میں آیا ہے جو حیرت انگیز طور پر قرآنی نظریہ علم کے عین مطابق ہے۔ میں کہا گیا تھا کہ انسان کو علم قلیل (بنی اسرائیل - ۸۵) دیا گیا ہے۔ اس لئے اس کو بالواسطہ علم پر قناعت کرنی چاہئے نہ کہ براہِ راست علم کے لئے اصرار کرنے لگے۔ اس طرح وحی اور علم انسانی دونوں ایک نقطہ پر پہنچ گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید نظریہ علم نے قرآنی طرز استدل کو، جدید اصطلاح میں ، عین سائنٹفک استدلال کا درجہ دے دیا ہے۔ موجودہ زمانہ میں علم کلام کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ اس اہم ترین دریافت کو مدون کرے۔

۲- دوسرا کام قرآنی علم الآثار کی تدوین ہے۔ قرآن میں پچھلے انبیاء اور گزرے ہوئی تہذیبوں کا ذکر ہے۔ یہ قرآن کا وہ حصہ ہے جس کو ایام اللہ (ابراہیم - ۵) کہا گیا ہے۔ تاریخ انسانی کے یہ واقعات قرآن کے نقطہ نظر سے بے حداہم ہیں۔ ثابت کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خدا ہے۔ وہ ہر دور میں اپنے نمائندے بھیجتا ہے اور اپنے اٹل قوانین کی بنیاد پر قوموں کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔

یہ اگرچہ تاریخ کا مضمون ہے۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر معروف تاریخی انداز میں نہیں ہے، بلکہ دعوتی اور اجمالی انداز میں ہے۔ ان واقعات کے بارے میں قرآن سے باہر جو ریکارڈ ہے، وہ قدیم زمانے میں بڑی حد تک لامعلوم تھا۔ قدیم زمانے میں قرآن کے ان اجزاء کی تدوین، خالص تاریخی انداز میں، ممکن نہ تھی۔ اب ان واقعات سے متعلق بے شمار دبے ہوئے ریکارڈ دریافت ہو گئے ہیں۔ اس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایام اللہ کے بارے میں قرآنی حوالوں کو منضبط کیا جائے با قرآن کی دعوت کو تاریخ کی زبان میں مدوّن کر دیا جائے۔

۳- تیسرا کام آیات آفاق (سجده - ۵۳) کو جدید دریافتوں کی مدد سے ترتیب دینا ہے۔ یہ قرآن کے مطابق کائنات میں بے شمار نشانیاں ہیں جو اپنے خالق کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اور اس حکمت کو بتاتی ہیں جس کے تحت یہ کارخانہ بنایا قرآن میں بار بار ان نشانیوں کے حوالے دیئے گئے ہیں اور ان سے قرآن کی دعوت کو مدلّل کیا گیا ہے۔ تاہم یہ حوالے اشاراتی زبان میں ہیں۔ قدیم زمانہ میں ایسی معلومات حاصل نہ تھیں جن سے ان اشارات کو تفصیلی انداز میں سمجھا جا سکے۔ سائنس کے ارتقاء نے یہ مواد بڑی حد تک جمع کر دیا ہے۔ شاید یہ کہنا مبالغہ نہ ہو کہ سائنس موجودہ زمانہ میں اسلام کی تھیالوجی بن چکی ہے۔ تاہم اس کو مدوّن کرنے کا کام ابھی باقی ہے۔ ضرورت ہے کہ خدا کی یہ نشانیاں، جو طبیعی دنیا میں چھپی ہوئی ہیں، جدید دریافتوں کی مدد سے ان کو مفصل شکل میں مرتب کیا جائے۔

قرآن کے استدلالی حصہ کا ایک پہلو وہ ہے جس کو آیاتِ النفس (حم سجده - ۵۳) کہا گیا ہے یعنی نفسیات انسانی کے اندر خدا کی نشانیاں ۔ یہ جزو بھی قدیم زمانہ میں بڑی حد تک مخفی تھا۔ صوفیا ر نے اس پہلو سے بہت کچھ لکھا ہے مگر وہ علمی حقائق سے زیادہ قیاسات پر مبنی ہے اور اس کا بڑا حصہ موجودہ زمانے میں بے قیمت ہو چکا ہے۔ تاہم علم انفس کی تحقیقات

نہ موجودہ زمانے میں بہت سی ایسی معلومات فراہم کر دی ہیں جن کی روشنی میں قرآن کے اشارات کو ، اگر پوری طرح نہیں تو بڑی حد تک مفصل کیا جاسکتا ہے ۔ یہ کام اگر علمی سطح پر ہو جائے تو وہ قرآنی نظریات کے حق میں ایک عظیم نفسیاتی تصدیق

۵- ایک اور میدان سماجی علوم کا ہے۔ یعنی قانون، سیاست، اقتصادیات، وغیرہ۔ ان موضوعات پر موجودہ زمانے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ یہ ذخیرہ محض پہلوؤں سے مفید بھی ہے۔ مگر اصولاً میں اس کے حق میں نہیں ہوں کہ سماجی موضوعات کو علم کلام میں داخل کیا جائے ۔ اس کی وجہ سماجی علوم کی نوعیت ہے۔ سماجی علوم تمام کے تمام قیاسی علوم ہیں اور غالباً وہ ہمیشہ قیاسی رہیں گے۔ اگر ہم علم کلام میں ان کو استعمال کریں تو دوبارہ نئی شکل میں ہم وہی غلطی کریں گے جو عباسی دور کے متکلمین نے کی تھی۔ انھوں نے فلسفیانہ قیاسات پر علم کلام کی بنیاد رکھ دی۔ ہم سماجی قیاسات پر علم کلام کو مرتب کر ڈالیں گے۔ اس لئے ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ سماجی علوم کو فقہ کا موضوع رہنا چاہئے نہ کہ علم کلام کا۔ لفظوں میں یہ کہ سماجیات کو فقہی نظام کی حیثیت سے مرتب کیا جائے نہ کہ ان پر عقلیات اسلام کی بنیاد رکھی جائے ۔ ۶- آخر میں میں ایک ایسے علمی کام کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو رو رو جنا علم کلام میں شمار نہیں کیا جاتا۔ حالاں کہ مقاصد کے اعتبار سے اس کو علم کلام کا سب سے بڑا جزو ہونا چاہئے۔ یہ ہے سائنٹفک انداز میں اسلام پر تعارفی لٹریچر تیار کرنا۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پر بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مگر تقریباً تمام کتابوں پر کسی نہ کسی طرح، کلامی انداز غالب رہا ہے۔ تفسیر، سیرت، عام اسلامی لٹریچر کا جو ذخیرہ موجودہ زمانہ میں تیار ہوا ہے ، تقریباً سب کا سب ، علم کلام کے خانہ میں رکھا اس سے قطع نظر کہ ان کتابوں کی علمی قدر و قیمت کیا ہے ، خود یہ بات عصری تقاضے کے خلاف ہے کہ تفسیر اور سیرت کو علم کلام بنا دیا جائے۔

موجودہ زمانہ آزادی فکر کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان یہ چاہتا ہے کہ اصل بات، کسی تعبیری یا کلامی اضافے کے بغیر اس کے سامنے رکھ دی جائے۔ اور جانچنے پرکھنے کا معاملہ خود قارئ کے اوپر چھوڑ دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ کتابوں کے ہجوم کے باوجود ساری دنیا میں نئی اسلامی کتابوں کی مانگ ہے۔ آج کا انسان اسلام کو سمجھنا چاہتا ہے۔ مگر ایسی کتابوں کے ذریعہ جن میں اسلام کو اس اسلوب میں پیش کیا گیا ہو جس کو موجودہ زمانہ میں سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ آج کا انسان عقلیاتی اسلوب سے زیادہ سائنٹفک اسلوب کا دلدادہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے کسی بھی اسلامی زبان میں اب تک سائنٹفک اسلوب رواج نہ پاسکا۔ سائنٹفک اسلوب سے مراد معروف کلامی اسلوب نہیں ہے۔ بلکہ ایسا سادہ اور مثبت اسلوب ہے جس میں زبان و بیان دونوں اعتبار سے حقیقت نگاری کو ملحوظ رکھا گیا ہو۔

موجودہ زمانہ میں ہمارے لکھنے والوں نے بے شمار کتا بیں اسلام پر لکھی ہیں۔ مگر میرے علم کی حد تک کسی بھی زبان میں کوئی ایسا تعارفی سٹ تیار نہیں ہوا ہے جس میں سادہ ، مثبت اور حقیقت پسندانہ انداز میں اسلام کی تعلیمات اور پیغمبر اسلام کی سیرت کو مرتب کیا گیا ہو، حالاں کہ آج سب سے زیادہ ضرورت اسی قسم کی کتابوں کی ہے۔ میں یہ کہنے کی جرات کروں گا کہ اگر ہم کچھ اور نہ کریں، صرف اتنا کریں کہ تعلیمات قرآن، سیرت، حدیث، حالات صحابہ اور تاریخ اسلام (نہ کہ تاریخ فتوحات)

پر خالص علمی اسلوب اور حقیقت نگاری کی زبان میں کتابوں کا ایک سیٹ تیار کر دیں اور اس کو تمام زبانوں میں چھاپ دیں تو ہم علم کلام کئے مقصد کو، کم از کم آج کی دنیا میں، زیادہ بہتر طور پر حاصل کر سکیں گے * نوٹ: دسمبر ۱۹۷۶ء کے آخری ہفتہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے زیراہتمام ایک سیمینار ہوا۔ عنوان تھا: "فکر اسلامی کی تشکیل جدید کا مسئلہ " اس موقع پر ۲۷ دسمبر کی نشست میں یہ مقالہ پڑھا گیا۔ قدیم علم کلام کی ایک غلطی یہ تھی کہ وہ انسانی عقل کی اس حد بندی کو سمجھ نہ سکا کہ وہ اشیاء پر صرف ظاہری اور اجمالی دلیل قائم کر سکتی ہے، وہ اس کی حقیقی ماہیت کو متعین نہیں کر سکتی۔ مثال کے طور پر قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ سمیع و بصیر ہے۔ صحابہ نے اس کے اجمالی مفہوم کے ساتھ اس پر یقین کر لیا۔ نے یہ بحث شروع کر دی کہ خدا کی یہ صفتیں عین ذات ہیں یا خارج از ذات ۔ اسی طرح قرآن میں یداللہ کے الفاظ آئے ہیں۔ اب یہ بحث چھیڑ دی گئی کہ جس ید کو اللہ نے اپنی طرف مضاف کیا ہے اس کا استعمال قرآن میں مجازی معنوں میں ہے یا حقیقی معنوں میں ۔

قرآن و حدیث میں اس قسم کے خوض سے صراحتہ منع کر دیا گیا تھا۔ مگر یہ لوگ عقلی تلاش کے جوش میں اس حد بندی کو بھول گئے اور بالکل غیر ضروری طور پر ایسے مسائل کو علم کلام کا موضوع بنا دیا جن کا علم کلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔

وقت کے علوم کے ماہر ہونے کی وجہ سے چونکہ یہ لوگ حکومتوں میں دخیل تھے ، انھوں نے مزید یہ کیا کہ اپنے مخالفین کی دار و گیر شروع کر دی، خلق قرآن کا مسئلہ اسی کی ایک مثال ہے۔ قرآن میں ہے کہ خدا نے نبیوں سے کلام کیا اور ان پر اپنا حکم اتارا ۔ اب متکلمین نے یہ بحث چھیڑ دی کہ خدا کا کلام حادث ہے یا قدیم (یعنی فنا ہو جانے والا ہے یا غیر فنا پذیر) انھوں نے کہا۔ اگر کلام اللہ کو قدیم (غیر فنا پذیر) مان لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف خدا ہی قدیم (غیر فنا پذیر) نہیں ہے بلکہ ایک اور چیز (قرآن) بھی قدیم ہے۔ دو قدیم لازم آجا ئیں گے۔ اس طرح کی بحثوں سے انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ خدا کا کلام مخلوق اور حادث فناپذیر) وہ پہلے نہیں تھا، پھر خدا اس کو وجود میں لایا اور اپنے نبیوں پر وقتاً فوقتاً نازل کیا ۔ اس بے معنی موشگافی کو انھوں نے کفر و اسلام کا مسئلہ بنا دیا اور اس کو یہ حیثیت دے دی گویا کہ وہ " قابل دست اندازی پولیس" جرم ہے۔ معتزلہ کے برپا کے ہوئے اس فتنے نے سارے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تین خلفاء (مامون ، واثق اور معتصم) کے دور تک بے شمار مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا یہاں تک کہ خلیفہ متوکل نے اپنے زمانہ میں اس کو ختم کیا۔

حماد الراویہ (۱۵۵ - ۹۰ ھ) نے سبعہ معلقہ کے نام سے جو کتاب ترتیب دی ہے، اس میں سات عربی قصائد ہیں۔ مگر معلقات کی تعداد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ نے دس تک تعداد شمار کی ہے، ان کے مصنفین کے نام حسب ذیل ہیں ۔

۱- امرؤ القیس قبیلہ کندہ (قحطان)

زہیر بن ابی سلمی قیس لبید بن ربیعہ عنترہ بن شداد عمرو بن کلثوم بتو ربیعہ طرفہ بن العبد حارث بن حلزہ معلقات کے بارہ میں مشہور ہے کہ یہ کتان کے کپڑے پر سونے کے پانی سے لکھے گئے اور کعبہ پر لٹکائے گئے تھے۔ اسی لئے ان کو ”مذہبات“ بھی یہ عربوں کے انتہائی منتخبات اور پسندیدہ اشعار تھے اور ان کی مقبولیت کی علامت کے طور پر ان کو لٹکایا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض فتح مکہ کے دن تک وہاں لٹکے ہوئے تھے اور کچھ اس آگ میں جل گئے جو اسلام سے پہلے خانہ کعبہ میں لگی تھی۔ کچھ دوسرے محققین کی رائے اس سے مختلف علامہ انباری نے لکھا ہے : " سبعہ معلقہ کی بابت جو یہ مشہور ہے کہ یہ اشعار کعبہ کے پردہ پر لٹکائے گئے تھے، اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ نخاس (م ۳۳۸ ھ) نے معلقات کی شرح میں لکھا ہے : " یہ کہنا کہ یہ قصائد کعبہ میں آویزاں کئے گئے تھے روایتہً کوئی سند نہیں رکھتا۔ پروفیسر نولدیکیکی نے اس موضوع پر ایک کتاب تصنیف کی ہے جس میں اس خیال کو ترجیح دی ہے کہ معلقات کے معنی منتخب یعنی پسندیدہ اور چنے ہوئے قصائد کے ہیں، علق جمع اعلاق، کسی چیز کا نفیس، یعنی اعلاق الشعر (بانفاس الشعر) نولدیکی کے نزدیک یہ نام ان قصائد کو گلے میں لٹکے ہوئے ہاروں سے تشبیہ دیتے ہوئے رکھا گیا ہے۔ مزید تقویت کے لئے اس نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ ان قصائد کو سموط بھی کہتے ہیں جس کے معنی بھی ہاروں کے ہیں۔ پروفیسر کلے میں صیار جس نے تاریخ ادب عربی پر فرانسیسی زبان میں کتاب لکھی ہے وہ نولدی کی رائے سے متفق ہے۔ ایک اور محقق لکھتے ہیں، تعلق کے معنی آتے ہیں دل کا مائل ہونا۔ اغلب یہ ہے کہ معلقات کو اسی لغوی مفہوم میں معلقات کہا گیا ۔ اس لفظ سے وہ اس لئے موسوم کئے گئے کہ انھوں نے لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کر لیا تھا۔ لانھا علقت بالقلوب اكثر من غيرھا :

فقد جاء الاسلام و المعلقات مشہورة محفوظة مروية ولكن لم يقل لنا احد ممن يوثق به انه راها معلقة على استار الكعبة اسلام آیا نو معلقات مشہور اور محفوظ تھے اور

لوگ ان کو پڑھتے تھے مگر کسی قابل اعتماد شخص نے مرید نہیں کہا کہ اس نے کسی معلقہ کو کعبہ کے پردوں پر لٹکا ہوا (الدوحة، قطر، ذوالقعده ۱۳۹۵ھ) عرب جاہلیت کا جو کلام ہم تک پہنچا ہے ان میں سب سے زیادہ قابلِ اعتماد یہی معلقاتِ سبعہ ہیں تاہم موجودہ زمانہ میں کچھ محققین نے کلام جاہلیت کے پورے ذخیرہ کی تاریخی حیثیت پر شک کا اظہار کیا ہے حتی کہ معلقات پر بھی۔ ڈاکٹر طہ حسین مصری لکھتے ہیں: عرب قوم آپس میں کینہ رکھنے والی اور ایک دوسرے سے دور رہنے والی قوم تھی۔ ان میں باہمی ربط کے ایسے ذرائع نہیں پائے جاتے جن سے لہجوں کے ایک ہو جانے کا امکان پیدا ہو جاتا۔ یقینی طور پر معقول بات یہی ہے کہ ان عدنانی قبیلوں میں سے ہر قبیلہ کی اپنی زبان اپنا لہجہ ہو۔ مگر ایسی کوئی بات جاہلی اشعار میں نظر آپ ساتوں معلقات پڑھ سکتے ہیں، اس طرح کہ آپ کو محسوس بھی نہ ہوگا کہ ان کے درمیان زبان کا کوئی اختلاف ہے۔

ساتوں معلقات کی بحر، قافیہ سب ایک الفاظ کا استعمال انھیں معنوں میں ہے جن معنوں میں دورِ اسلام کے بعد مسلمان شعراءء کے یہاں پایا جاتا ہے۔

اب ہم دو نظر یوں کے درمیان ہیں۔ یا تو ہم اس بات کو مان لیں کہ عدنان اور قحطان کے عربی قبائل کے درمیان زبان لہجہ اور طرز کلام میں کسی قسم کا اختلاف یا پھر ہم کو اعتراف کرنا چاہئے کہ یہ اشعار ان قبیلوں سے ایام جاہلیت میں نہیں نکلے ہیں بلکہ عہد اسلام کے بعد ان قبیلوں کے شعرا کی طرف منسوب کر دئے گئے ہیں۔ پہلے کی نسبت ہم دوسرے نظریہ کی طرف زیادہ رجحان رکھتے ہیں۔ کیونکہ عدنان اور قحطان کے درمیان زبان اور لہجہ کا اختلاف خود قدما تک نے تسلیم کیا ہے۔ جدید تحقیق سے بھی ثابت ہوا ہے کہ لغت حمیر (عرب عاربہ) اور لغت عدنان (عرب مستعربه) کی زبانوں کے درمیان سخت اختلاف تھا۔ ابو عمرو بن العلاء سے منقول ہے کہ وہ کہا کرتا تھا:

حمیر کی زبان ہماری زبان نہیں ہے اور ان کا لہجہ ہمارا لہجہ نہیں ہے۔ تاہم یہ نقطہ نظر ابھی تک انفرادی ہے۔ ادب کے مورخین کی اکثریت نے اس کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ خاموش آوازوں کو سنئے بعض روایات میں آتا ہے:

كان رسول الله صلى الله عليه وسلم طويل الصمت متواصل الاحزان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت دیر تک خاموش رہتے اور مسلسل غم کی حالت میں نظر آتے تھے۔ امام عبداللہ شعرانی کا مقولہ ہے: من لم ينفعه سكوته لم ينفعه كلامناً جس شخص کو ہماری خاموشی سے فائدہ نہیں ہوگا اس کو ہماری باتوں سے بھی فائدہ نہیں ہوگا۔ مولانا شاہ وصی اللہ صاحب کے ایک یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک روز مولانا موصوف مجلس میں آئے مگر بس خاموش بیٹھے رہے، دیر تک اسی حال میں رہے پھر حاضرین مجلس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں ضرور کچھ بیان کروں گا، یہاں وہی لوگ آیا کریں جو بغیر کچھ سنے صرف بیٹھنے میں بھی فائدہ سمجھیں"۔

Printed page