عورت کا مرتبہ اسلام میں
Al-Risala, March 1977, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
”جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور ان کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انھیں سخت عذاب کی خوش خبری دے دو۔ “ (توبہ ۳۴) قرآن کی یہ آیت اتری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما، یا تبا للذهب تبا للفضة (بُرا ہو سونے کا اور بُرا ہو چاندی کا)، یہ بات جب آپ کے اصحاب کو معلوم ہوئی تو وہ تشویش میں پڑ گئے۔ انھوں نے آپس میں کہا: فَأَيَّ مال نتخذ نَتَّخِذُ؟ (اب ہم کون سا مال جمع کریں)۔ اس وقت وہاں موجود تھے۔ انھوں نے کہا، اگر تم لوگ پسند کرو تو میں اس کی بابت رسول اللہ سے سوال کروں لوگوں نے کہا، ہاں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب کہہ رہے ہیں کہ کاش ہم جانتے کہ کونسا مال بہتر ہے تو ہم اسی کو جمع کرتے۔ آپ نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ایھا الناس (اے لوگو) یہ سنتے ہی فرمايا ۔ بس جیسے ہیں ویسے ہی باندھ دو، عورت نے کہا اتنی جلدی کیا ہے، ابھی تو آپ نے ایہا الناس کہا ہے انھوں نے کہا خوب کیا ہمارا شمار آدمیوں میں نہیں یہ کہہ کر خود ہی بال باندھ کر کھڑی ہوگئیں اور قریب ہو کر خطبہ سننے لگیں۔ طبقات ابن سعد حضرت ام سلمہؓ کی مرویات کی تعداد وہ فتویٰ بھی دیا کرتی تھیں۔ ابن قیم نے لکھا ہے کہ اگر ان کے فتوے جمع کئے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہو جائے گا۔
رسول اللہ کی ازواج میں حضرت عائشہؓ سب سے زیادہ ذہین تھیں۔ ان کی مرویات کی تعداد ۲۲۱۰ تک شمار کی گئی ہے۔ ان سے تقریباً ایک سو صحابہ و لیتخذ احد کم لسانا ذاکرا وقلبا شاکرا و زوجة مؤمنة تعین احد کم علی ایمانه (تفسیر ابن کثیر، جلد ۲، صفحہ ۳۵۱) تم میں سے ہر ایک یہ کرے کہ یاد کرنے والی زبان اور شکر کرنے والا دل اپنائے اور ایسی بیوی اختیار کرے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرے ۔
ایک اور روایت میں ایمان کے بجائے آخرت کا لفظ ہے۔ یہاں ہم چند مثالیں نقل کریں گے جس سے مسلم معاشرہ میں عورت کے کردار کا اندازہ ہوگا۔ تابعین نے روایت کیا ہے۔ عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب عبد اللہ بن عامر، مروق بن اجدع، عکرمہ اور علقمہ جیسے لوگ آپ کے شاگردوں میں شامل ہیں۔ ایک اعلیٰ درجہ کی فقیہ خاتون تھیں جب کوئی حدیث بیان کرتیں تو اس کی علت و حکمت بھی بیان کرتیں حضرت ابو سعید اور حضرت عبد اللہ بن عمر سے جمعہ کے غسل کے بارے میں صرف اس قدر مروی ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہئے۔ مگر اسی حدیث کو حضرت عائشہ نے بیان کیا تو یہ بھی فرمایا کہ لوگ دور دور کی حضرت ام سلمہ ایک بار کسی عورت سے اپنے بال گوند ھوا رہی تھیں۔ اتنے میں مسجد سے خطبہ کی آواز (ریبالامان ، ۱۹۷۹ء)
آبادیوں سے نماز جمعہ کے لئے مدینہ آئے تھے۔ وہ گرد و غبار سے اٹے ہوتے اور پسینہ سے تر ہوتے ، اس لئے
آپ نے فرمایا کہ تم لوگ نہا لیا کرو۔
بنی غفار کی ایک عورت کہتی ہیں کہ میں اپنے قبیلہ کی کچھ عورتوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ۔ آپ خیبر کے جہاد کے لئے روانہ ہو رہے ہم نے عرض کیا : اے خدا کے رسول! ہم چاہتے ہیں کہ ہم بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ چلیں، تاکہ زخمیوں کی مرہم پٹی کریں اور جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کی مدد آپ نے فرمایا: علی برکۃ اللہ (اللہ برکت دے انصاری خاتون ام عطیہؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات غزووں میں شرکت کی ہے۔ میں مجاہدین کے مجادوں کی دیکھ بھال کے لئے پیچھے رہتی ان کے لئے کھانا پکاتی ،زخمیوں کا علاج کرتی، اور مصیبت زدوں کی نگرانی کرتی۔ اسماء بنت یزید بن سکن حضرت معاذ بن جبل کے چچا کی بیٹی تھیں۔ بابت حضرت مہاجر بتاتے ہیں کہ انھوں نے جنگ یرموک میں خیمہ کی لکڑی سے سنفورمیوں کو قتل کیا۔ مدینہ کے یہودیوں سے جنگ کے زمانہ کا طرف نہیں آسکتے تھے۔ اتنے میں آنے والا یہودی سامنے میں نے کہا: اے حسان! دیکھو یہ یہودی ہمارے قلعہ کا چکر لگا رہا ہے اور میں خدا کی قسم اس سے مامون کہیں وہ ہماری اس غیر محفوظ حالت کو یہودیوں سے جاکر کہہ نہ دے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب جنگ میں مشغول ہیں۔ پس اترو اور اس کو جاکر قتل کردو۔ حسان بن ثابت نے کہا: والله لقد عرفت ما انا بصاحب هذا! (خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ میں اس کام کا نہیں)، وہ کہتی ہیں کہ جب انھوں نے مجھ کو یہ جواب دیا اور میں نے اُن کے پاس مارنے کی کوئی چیز بھی نہ دیکھی تو میں نے کمر سے کپڑا کسا اور ایک لکڑی ہاتھ میں لی۔ پھر قلعہ سے اُتر کر اس کے پاس پہنچی اور اس لکڑی سے اس کو مارنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ پھر جب میں اس سے فارغ ہو گئی تو میں قلعہ میں واپس آئی اور حسان بن ثابت سے کہا کہ قلعہ سے اُتر کر جاؤ اور اس کا سامان لاؤ۔ میں صرف اس لئے اس کا سامان عورتوں اور بچوں کو ایک قلعہ کی چھت پر جمع کرکے حسان بن ثابت کو ان کی دیکھ بھال کے لئے وہاں رکھا گیا تھا۔ صفیہ بنت عبد المطلب بھی اسی قلعہ کی چھت پر تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہمارے قریب سے ایک یہودی گزرا اور ہمارے قلعہ کے چکر لگانے لگا۔ وقت بنی قریظہ نے جنگ چھیڑ رکھی تھی۔ اس وجہ سے ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راستہ کٹ گیا تھا اور وہاں کوئی نہیں تھا جو یہود کے مقابلہ میں ہماری مدافعت کرے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام مسلمان دشمن کے مقابلہ پر تھے ، وہ ان کو چھوڑ کر ہماری اتارنے سے رک گئی کہ وہ مرد تھا، حسان بن ثابتؓ نے کہا: اے عبد المطلب کی بیٹی ! مجھے اس کے سامان کی ضرورت نہیں۔ (البدایہ والنہایہ جلد 4 صفحه ۱۰۸) بولنا ضروری نہیں عربی کا ایک مقولہ ہے: رب کلمة تقول لصاحبها دعنی بعض باتیں اپنے بولنے والے سے کہتی ہیں کہ مجھے چھوڑ دو، یعنی بعض اوقات آدمی ایسی باتیں کہنے لگتا ہے جو کہنے کی نہیں ہوتیں۔ جو اس قدر بے معنی ہوتی ہیں کہ گویا خود ہی چیخ رہی ہوتی ہیں کہ ایسی بات بولنے سے بہتر ہے کہ تو چپ رہے۔