Al-Risala · March 1977

اسم

Al-Risala, March 1977

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کام کے لئے اس ملک کو بہترین تجربہ گاہ جانیئے دسمبر ۱۹۷۶ء کے آخری ہفتہ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں ایک سمینار ہوا جس کا عنوان تھا: "فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید کا مسئلہ" اس سمینار کا افتتاح صدر جمہوریہ ہند شری فخر الدین علی احمد نے کیا۔ موصوف کے افتتاحی خطبہ کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

"قرآن ایک باضابطہ قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی تعلیم مکمل ہے، ہر ملک کے لئے، ہر قوم کے لئے، ہر فرد کے لئے اور ہر زمانے کے لئے، دراصل ہماری تعلیم نامکمل ہے، اگر ہم کسی شک و شبہ میں پڑ جاتے ہیں تو وہ ہمارے ذہن کی کمزوری ہے۔

خدا کا شکر ہے کہ اب ہم آزاد ملک کے اضطراب اور مایوسی کا دور گزر چکا ہے۔ آج ملک بھر میں نئی تعمیر کا جو ولولہ پایا جاتا ہے وہ مسلمانوں کے دلوں کو بھی گرما رہا ہے۔ انھیں اس عظیم ملک کے برابر کے شہری ہونے کی حیثیت سے اس اہمیت کا احساس ہے جو ترقی پذیر ممالک کے درمیان اسے حاصل ہے۔ لازم ہے کہ یہ احساس نئی امنگوں کو جنم دے اور وہ بھی جرات و حوصلہ کے ساتھ ملک اور انسانیت کی تعمیر نو میں حصہ لینے پر کمر بستہ ہو جائیں اس کے لئے انھیں فکر اسلامی سے حیات تازہ حاصل کرنی ہوگی انھیں انفرادی، خاندانی اور ملکی ترقی کا دھیان رکھنا ہوگا اور جذبات کی رو میں بہہ کر دُور رس نتائج پر نگاہ رکھنی ہوگی۔

وقت کا تقاضا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگی پیدا کرتے ہوئے ہم آگے بڑھیں اپنے خیالات کو غور و فکر کی نئی روشنی میں ڈھالیں اور ترقی کی دوڑ میں دوسری قوموں کے شانہ بشانہ اس کے لئے وسیع النظر اور وسیع القلب ہونے کی ضرورت ہے۔ ہماری تاریخ کا شاید ہی کوئی ایسا دور گزرا ہو گا جب اصحابِ فکر و نظر نے اس بات پر غور نہ کیا ہو کہ اسلام کے دائرہ میں رہتے ہوئے زمانے کے تقاضوں کو کس طرح پورا کیا جا سکتا ہے۔ ماضی اور حال میں تال میل پیدا کرنے کی جد و جہد کوئی نئی بات نہیں، گذشتہ صدیوں میں اسلامی علوم کی اشاعت اور اسلامی فکر کی تشکیل میں ہمارے ملک کا جو حصہ رہا ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ جو کام آپ نے شروع کیا ہے، اس کے لئے اس ملک کو بہترین تجربہ گاہ اس بھروسہ کے ساتھ قدم آگے بڑھائیے کہ پورا ملک ایک ایسی کوشش کو خوش آمدید کہتا ہے، جس کے ساتھ مسلمانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کی بیداری اور ان کے تعمیری حوصلوں میں اضافہ کی اُمیدیں وابستہ ہیں جو لوگ قوم کی فلاح و بہبود کا کام ہاتھ میں لیتے ہیں، خدا انھیں ضرور کامیاب کرتا ہے۔ کسی مسئلہ پر سطحی طور پر غور کرتے ہوئے اُس کے بشرطیکہ جہد مسلسل اور طلبِ صادق ہو۔

جو لوگ تقریر و خطابت کے کمالات دکھا رہے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انھیں زمانہ کی تبدیلیوں کی خبر نہیں لے کر عصر تک اس طرح مسلسل بولتا رہا کہ درمیان میں ایک بار بھی کہیں نہیں اٹکا۔ تمام حاضرین حیرت زدہ ہو کر رہ گئے۔ امیر معاویہ نے کہا "واقعی تم عرب کے سب سے بڑے خطیب ہو۔ " سحبان نے برجستہ کہا: نہ صرف عرب کا بلکہ سارے عجم کا اور جن و انس کا بھی۔ زیاد بن ابیہ (م ۵۳ھ) نے ایک بار حضرت عمر کی موجودگی میں مہاجرین و انصار کے سامنے تقریر تقریر اتنی کامیاب تھی کہ اس کو سن کر عمرو بن العاص بول اٹھے: "سبحان اللہ! اس نوجوان کا باپ اگر قریشی ہوتا تو یہ اپنے عصا سے عربوں کی قیادت کرتا۔ سحبان وائل دم (۵ھ، خوش بیانی میں بن یوسف ثقفی (۹۵ - ۴۱ھ، کو زبان و بیان کی ضرب المثل ہے۔ امیر معاویہ کے دربار میں شامل ہو کر اس حیرت انگیز صلاحیت حاصل تھی۔ مالک بن دینار کہتے نے بڑی عزت پائی۔ ایک بار خراسان سے ایک وفد امیر ہیں: میں نے حجاج سے زیادہ اثر انگیز اور خوش بیان معاویہ کے یہاں آیا۔ انھوں نے سحبان کو بلوایا اور اس مقرر نہیں دیکھا۔ جب وہ ممبر پر کھڑا ہو کر عراقیوں کے ساتھ سے تقریر کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس نے کہا میرے اپنے احسانات اور عفو کا ذکر کرتا اور اس کے مقابلہ لئے عصا لاؤ۔ لوگوں نے کہا "امیر المومنین کے دربار میں عراقیوں کی زیاد تیاں اور بد سلوکیاں بیان کرتا میں تم عصا سے کیا کرو گے ؟ " اس نے جواب دیا وہی تو میں اس کو سچا اور عراقیوں کو جھوٹا سمجھنے لگتا۔ جو موسیٰ اپنے رب سے باتیں کرتے وقت اپنے عصا حالانکہ اس نے ان میں سے ایک لاکھ ۲۰ ہزار قیدیوں سے کرتے تھے۔ " اس کے بعد تقریر شروع کی تو ظہر سے ڈال کر مار ڈالا تھا، اور جب اس کا انتقال ہوا تو اس وقت آدمی کو کتنی خوشی ہوتی ہے جب وہ اپنے بنائے ہوئے نئے مکان کو دیکھتا ہے۔

کاش انسان جانتا کہ اس وقت اسے اور زیادہ خوشی ہوگی جب وہ آخرت میں اپنے تعمیر کئے ہوئے مکان کو دیکھے گا۔

اس کے قید خانوں میں ۵۰ ہزار مرد اور ۳۰ ہزار عورتیں بند پڑی ہوئی تھیں“۔

شہادت عثمان کے بعد جب مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہوا اور نتیجہ میں بہت سی ایک دوسرے کی حریف جماعتیں پیدا ہوگئیں تو خطابت نے بہت ترقی کی کیونکہ ہر فرقہ اپنے نظریہ کی تبلیغ و اشاعت کے لئے سب سے زیادہ جس چیز پر اعتماد کرتا تھا، وہ خطابت اور تقریر ہی تھی۔ حدیث کی پیش گوئی کے مطابق مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہونے کے بعد پھر ختم نہ ہوسکا اس لئے خطابت اور تقریر کو خوب غذا ملتی رہی اور اتنے زیادہ مقررین پیدا ہوئے جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔

تا ہم دورِ سائنس کے ظہور سے پہلے تقریر و خطابت اپنی بعض مضر توں کے ساتھ بہت سے پہلوؤں سے مفید بھی ثابت ہوتی رہی۔ خاص طور پر مقابلہ کے مواقع پر جوش جہاد ابھارنے کے لئے۔ مگر دورِ سائنس میں اس قسم کی خطابت بالکل بے معنی ہو گئی ہے۔ علم و عمل کے سارے انداز بدل چکے ہیں۔ میں تحقیق اور تجزیہ نے اہمیت حاصل کرلی ہے اور عمل میں منصوبہ بندی نے۔ ظاہر ہے کہ تقریر و خطابت کا ان دونوں چیزوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اس لئے آج تقریر کا مقام وہی ہو چکا ہے جو مشاعروں میں شاعری کا ہوا کرتا ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ان حالات میں جو لوگ اب بھی تقریر و خطابت کے کمالات دکھا رہے ہیں وہ صرف یہ ثابت کر رہے ہیں کہ انھیں زمانہ کی تبدیلیوں کی خبر نہیں۔ ان کی سرگرمیاں ممکن ہے کسی میوزیم میں جگہ پاسکیں مگر ان کو حال یا مستقبل کی تعمیر کا عنوان نہیں دیا جا سکتا۔ نائلون و پلاسٹک کے بٹن ہر کوالٹی اور ہر رنگ میں قمیص ، کوٹ ، پینٹ ، چٹر اور کالر ، شولڈر پیڈ وغیرہ کیلئے ہول سیل ریٹ پر طلب فرمائیں۔

دہلی بٹن اسٹور ۱۱۰۵ نواب منزل کشن گنج آزاد مارکیٹ دھلی ۔

الرساله کے شائقین سے گزارش ہے کہ وہ پرچہ بذریعہ وی، پی طلب نہ فرمائیں۔ بلکہ اپنا زر تعاون منی آرڈر کے ذریعہ بھیج دین یہ طرفین کے لئے سہولت کا باعث ہے۔

جو لوگ سالانہ یا شش ماہی زر تعاون بیک وقت ادا نہ کرسکیں، وہ ہر مہینہ دو روپے کا ٹکٹ لفافہ میں رکھ کر بھیج دیں۔ انھیں روانہ کر دیا جائے گا۔

خریدار حضرات براہ کرم اپنے خطوط میں خریداری نمبر کا حوالہ ضرور تحریر فرمائیں خط و کتابت کے وقت یا زر تعاون بھیجتے ہوئے اپنا پتہ صاف اور حتی الامکان انگریزی میں تحریر فرمائیں۔

الرساله نہ صرف ملک کے مختلف حصوں میں پڑھا جاتا ہے بلکہ ملک کے باہر بھی عرب دنیا اور دوسرے علاقوں میں جاتا ہے۔ تاجر حضرات الرسالہ میں اشتہار دے کر اپنی تجارت کو فروغ دیں۔

زندگی کے ابدی مسائل کے لئے اٹھے نہ کہ وقتی مسائل کے لئے گھر کے اندر کوئی سانپ دکھائی دے جائے تو اچانک تمام چھوٹے بڑے اس کے خلاف ڈنڈالے کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جبکہ خاموش تعمیری کام کے لیے یہی ہلچل ان میں پیدا نہیں ہوتی۔ ایسا ہی کچھ حال موجودہ زمانہ میں اسلامی تحریکوں کا رہا ہے۔ یہ تحریکیں کسی مثبت اسلامی فکر کی بنیاد پر نہیں اٹھیں بلکہ محض خارجی حالات کے اثر سے پیدا ہوتی رہیں۔ ____ مغربی قوموں کی یلغار، اسرائیل کی جارحیت، فرقہ وارانہ فسادات، اقتصادی اور سیاسی نقصانات وغیرہ، بس اسی قسم کی چیزیں تھیں جن کو دیکھ کر لوگ ان کے خلاف ٹوٹ پڑے اور اس کا نام انھوں نے اسلامی تحریک رکھ دیا۔

اگرچہ ان تحریکوں میں بہت سے اختلافات بھی نظر آتے ہیں۔ کوئی متشددانہ روپ میں دکھائی دے رہی ہے کوئی فلسفیانہ روپ میں۔ اور اسلام کا نعرہ بلند کر رہی ہے، کوئی قوم اور ملک کا، کوئی اقدام پر زور دے رہی ہے کوئی تحفظ مگر ایک چیز سب میں مشترک ہے : ان کے اندر جس چیز نے حرکت و حرارت پیدا کی، وہ بیرونی دنیا کے اتفاقی حالات تھے نہ کہ اسلام کا ابدی پیغام۔ اسلام کی نظر میں انسان کا ابدی مسئلہ صرف ایک ہے اور مسلمان ہمیشہ اسی کے لیے اٹھتا ہے۔ ہے آخرت کا مسئلہ۔ انسان کو اس کے خالق نے درختوں اور جانوروں کی مانند نہیں بنایا، بلکہ ایک ذمہ دار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ دنیا کی زندگی ایک امتحان ہے، آدمی جب مرتا ہے تو وہ ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اپنے کارنامہ زندگی کا حساب دینے کے لئے مالک کائنات کے یہاں پہنچا دیا جاتا ہے، اس کے بعد اس کی ابدی زندگی شروع ہوتی ہے جو یا تو جنت ہے یا جہنم۔

اسلامی تحریک اسی سنگین مسئلہ سے انسانوں کو آگاہ کرنے کے لئے اٹھتی ہے مسلمان اپنا فکر دنیوی ہنگاموں کے اثر سے نہیں بناتا بلکہ زندگی کی ابدی حقیقتوں کی روشنی میں بناتا ہے مسلمان خارجی مصائب پر صبر کرتا ہے تاکہ اصل مشن سے اس کی توجہ ہٹنے نہ پائے، وہ ہر حال میں اسی ایک کام پر اپنی طاقتوں کو خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ہر دوسرا دروازہ اسی ایک عمل سے اس کے لئے وہ زندگی کے ابدی مسائل کے لئے عمل کرتا ہے نہ کہ وقتی مسائل کے لئے۔ جب ابدی زندگی کے سنگین تر مسائل سامنے کھڑے ہوں تو وقتی مسائل میں اپنی قوتوں کو صرف کرنا کسی نادان ہی کا کام ہو سکتا ہے امت مسلمہ کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو آخرت سے باخبر اگر وہ ان سے دنیوی مسائل کے لئے لڑائی چھیڑ دے تو وہ فضا ہی ختم ہو جاتی ہے جس میں انھیں اخروی مسائل کی طرف متوجہ کیا جاسکے۔ سیاسی اور معاشی جھگڑوں کے ساتھ جو دعوتی کام کیا جائے وہ مسخرہ پن ہے نہ کہ دعوت۔

پیغمبر خارجی دنیا کے حالات کو نظر انداز کر کے اپنے کام کا آغاز کرتا ہے قدیم عرب کا تصور کیجیے۔ جنوب میں بحر عرب اور مشرق و مغرب میں خلیج فارس اور بحر احمر کے درمیان بننے والا یہ جزیرہ نما زبردست سیاسی مسائل سے دوچار تھا۔ عرب کے مشرق میں ایران تھا جہاں طاقت ور ساسانی سلطنت شمال میں رومی یا باز نطینی سلطنت تھی جو دور قدیم کی سب سے بڑی شہنشاہیت مانی جاتی ہے۔ سلطنتوں نے عرب جغرافیہ کو اپنی سیاست کا اکھاڑہ بنا رکھا تھا۔ عرب کے بہترین زرخیز علاقے براہ راست ان کے قبضے میں تھے۔ عراق پر ایرانیوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔ شام اور اردن اور فلسطین اور لبنان رومی سلطنت کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ عرب کے مشرق و مغرب میں اگر چہ خلیج فارس اور بحر احمر کی قدرتی آبی دیواریں تھیں مگر یہ حصے بھی پڑوس کی طاقت ور شہنشاہیتوں کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ نہ تھے۔ مشرق سے ایران کے بحری بیڑے خلیج عمان کو عبور کر کے نہایت آسانی سے عرب کے علاقے میں گھس آتے تھے۔ مغرب میں بحر احمر کے اُس پار کے دونوں ممالک ۔ مصر اور حبشہ رومی شہنشاہیت کے ماتحت تھے۔ اور وہ ان کے ذریعے سے ہر وقت عرب کے بظاہر اس محفوظ حصہ میں دخل اندازی کر سکتا تھا۔

عرب کے اندرونی علاقہ میں قبائلی سرداروں کی ریاستیں قائم تھیں۔ مگر رومیوں اور ایرانیوں کے عمومی تسلط کی وجہ سے ان کے لئے بھی زندگی کی صورت یہی تھی کہ ان بیرونی شہنشاہیتوں کی ماتحتی قبول کر کے اپنا سیاسی جزیرہ بنائیں۔ شمال میں شام کی سرحدوں سے ملی ہوئی امارت غساسنہ عربیہ تھی جو رومی سلطنت کے تابع تھی اور بعثت نبوی کے زمانہ میں اس کا امیر حارث بن ابی شمر غسانی تھا۔ اسی طرح امارت بصریٰ تھی ۔ وہ بھی رومی شہنشاہیت کے زیر اثر تھی۔ یہاں رومی تمدن چھایا ہوا تھا اور ان کے اثر سے یہاں کے باشندوں کی بڑی تعداد مسیحی ہوگئی تھی۔

عراق کی سرحد پر امارت حیرہ عربیہ تھی جو ایران کے تابع تھی۔ خلیج فارس کے کنارے متعدد عرب وہ سب ایران کے زیر اثر تھیں، مثلاً امارت بحرین، جس کا امیر منذر بن ساوی تھا۔ باشندوں کی بڑی تعداد ایرانی تہذیب کے اثر سے مجوسی ہو چکی تھی۔ امارت عمان، جس کے امیر جلندی کے دو لڑکے جیفر اور عبد تھے۔ امارت یمامہ، جس کا امیر ہو دہ بن علی الحنفی تھا۔ رومیوں اور ایرانیوں میں سیاسی رقابت کی وجہ سے اکثر جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔ ان میں رومیوں کی ماتحت عرب ریاستیں (مثلاً غساسنہ) روم کا ساتھ دیتی تھیں اور ایران کی ماتحت عرب ریاستیں (مثلاً حیرہ) ایران کا۔ اس طرح ایران و روم کی باہمی لڑائیوں میں عرب خون بھی خوب بہتا تھا۔

قدیم یمن، موجودہ یمن سے بہت زیادہ وسیع تھا۔ اس میں مختلف قبائل کی حکومتیں قائم تھیں۔ یہ سب سے بڑا

یعنی علاقہ وہ تھا جس کا دار السلطنت صنعاء تھا۔ نجران اسی کے اندر واقع تھا یمن میں بیرونی نفوذ کا آغاز غالباً ۵۳۶ء سے ہوتا ہے جب کہ سلطنتِ روم نے یہاں اپنے عیسائی مبلغین بھیجنے شروع کئے۔ ان عیسائی مبلغین کو نجران میں کامیابی ہوئی اور وہاں کے بیشتر لوگ عیسائی ہو گئے۔

اس مذہبی واقعے میں روم کے حریف ایران کو سیاست کی بو محسوس ہوئی۔ انھوں نے سمجھا کہ اس طرح رومی شہنشاہ عرب کے جنوبی علاقہ میں نفوذ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ ایرانیوں نے اس کے توڑ کے لیے یمن کے یہودی قبائل کو ملایا جن کو رومی سلطنت نے سنہ ۵۲۵ء میں شام سے نکال دیا تھا اور وہ وہاں سے جلا وطن ہو کر یمن میں آبسے تھے۔ عیسائیوں اور یہودیوں کی ضد میں یہودی بہت جلد ایرانیوں کے ساتھ ہو گئے یوسف ذو نواس جو ایک عرب تھا اور پھر یہودی ہو گیا تھا ایرانیوں کی مدد سے اس نے صنعاء پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ ایک نیم آزاد عرب حکومت تھی جو ایرانیوں کے ماتحت قائم ہوئی تھی۔ یوسف ذو نواس نے یمن کی بادشاہت حاصل کرنے کے بعد عیسائیوں کو یمن سے ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی حتی کہ ۵۲۳ء میں نجران کے بہت سے عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔

اب رومیوں کی باری تھی۔ قیصر روم نے یمن میں عیسائیت کے تحفظ کے نام پر اور حقیقتاً اپنے نفوذ کو بحال کرنے کے لیے ایک تدبیر کی۔ اس نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ نجاشی مذہبی عیسائی تھا اور رومی حکومت کے ماتحت تھا اس نے نجاشی کو ابھارا کہ یوسف ذو نواس سے بدلہ لے، نجاشی نے ایک حبشی سردار ابیاط کو فوج دے کر روانہ کیا۔ اس نے مختصر جنگ کے بعد صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ ذو نواس نے سمندر میں ڈوب کر خود کشی کچھ دنوں بعد ابیاط کی فوج کے ایک سردار ابرہہ نے بغاوت کر کے ابیاط کو قتل کر ڈالا اور نجاشی کو راضی کر کے صنعاء کی حکومت کا فرمان حاصل کر لیا۔ یہی ابرہہ ہے جس نے ۵۷۱ء میں کعبہ پر حملہ کیا۔ ابرہہ کے بعد اس کا بیٹا یکسوم اور اس کے بعد دوسرا بیٹا مسروق حکمران ہوا۔

سابق ملوک یمن کی اولاد میں ایک شخص سیف بن ذی یزن تھا۔ اس کو خیال ہوا کہ اپنے ملک کو غیر عربوں کے نفوذ سے پاک کرے اور اپنی آبائی سلطنت کو دوبارہ حاصل کرے۔ اس نے یمن میں آزادی کی تحریک (حركة تحریدية) چلائی، صرف مقامی تعاون مقصد کے حصول کے لئے ناکافی تھا۔ چنانچہ وہ ایرانی بادشاہ نوشیرواں کے پاس پہنچا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اپنی فوج سے یمن کی تحریک آزادی کی مدد کرے۔ کے لئے یہ سنہراموقع تھا۔ اس نے ایک ایرانی سپہ سالار دهرز کی سرکردگی میں ایک لشکر یمن بھیجنے پر آمادگی ظاہر اس درمیان میں سیف بن ذی یزن مرگیا۔ تاہم اس کالڑ کا معدی کرب ایرانی فوج کو یمن لانے میں کامیاب یہ لوگ خلیج عمان کو عبور کر کے حضرموت کے ساحل پر اترے۔ وہاں سے صنعاء پہنچے معدی کرب نے ایرانی لشکر کی مدد سے حبشہ کی فوج کو شکست دے دی اور حبشیوں کو یمن سے نکال دیا۔ اب معدی کرب صنعاء کا بادشاہ تھا تاہم ایرانی فوج بھی یہاں مقیم رہی معدی کرب کے مرنے کے بعد ایرانی فوج نے صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح صنعاء ایران سلطنت کا ایک سمندر پار صوبہ بن گیا۔ جیسا اسلام یمن میں پہنچا ہے تو صنعاء کے ایرانی گورنر باذان تھے جو بعد کو

مسلمان ہو گئے۔

مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے پیغمبر اسلام کی بعثت ہوئی تو عرب کا علاقہ کس طرح ایرانی اور رومی استعمار کی شکار گاہ بنا ہوا تھا۔ ان حالات میں ایک مصلح کے لئے بیک وقت دو راستے کھلے ہوئے تھے۔ یہ کہ وقت کے حالات سے متاثر ہو کر سامراجی طاقتوں کے خلاف سیاسی لڑائی شروع کر دے۔ دوسرے یہ کہ خود اپنے اپنے آپ کو اندر انا نادر اتنا مضبوط بنایا جائے کہ سامراج کی عمارت معمولی کوشش سے گرپڑے۔ آپ نے اپنی مہم کے پہلے طریقہ کے بجائے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ قرآن کی سورہ نمبر ۱۰۵ (فیل) اور سورہ نمبر ۱۰۶ (قریش) میں ابر ہہ (حاکم یمن) کے مکہ کے خلاف جارحانہ منصوبہ کا ذکر ہے۔ مگر اس کے جواب میں جس عمل کی تلقین کی گئی ہے، وہ رب کعبہ کی عبادت (قریش - ۳) ہے۔ گویا اسلامی مزاج یہ ہے کہ کہ سیاسی چیلنج درپیش ہو تو اس کا جواب بھی عبادتی عمل کی سطح پر تلاش

Printed page