آپ بیتی
Al-Risala, March 1977, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر شخص کی زندگی میں بعض ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو اپنے غیر معمولی پن کی وجہ سے یاد رہتے ہیں۔ ہیں کہ الرسالہ میں اس قسم کا کوئی واقعہ ہر ماہ شائع کریں۔ پہلی قسط کے طور پر یہاں ایک واقعہ درج کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں جو لوگ تعاون کریں ، وہ براہ کرم واقعہ کو سادہ تاریخی انداز میں لکھیں اور اپنے نام پتے کے ساتھ اپنا سال پیدائش بھی ضرور تحریر فرمائیں ۔ ۱۹۴۱ کے شروع کا واقعہ ہے۔ میں فوجی دفتر کی ایک شاخ (اے جز برانچ) کے سیکشن (اے جی نمبر ۱۱) واقع نئی دہلی میں ملازم تھا۔ میرے ایک ساتھی عالم چند سنگھ انھوں نے ایک موقع پر دفتر کی ایک فائل اس وقت کے ہمارے سیکشن کے انچارج افسر کے پاس کاغذات پر دستخط کرنے کے لئے بھیجی۔ یہ ایک انگریز کرنل تھا جس کا نام اب مجھے یاد نہیں۔ اس افسر نے فائل دیکھی تو اس کو ایک کاغذ نظر نہیں آیا جس کی اسے خاص ضرورت تھی۔ اس نے نہایت ناراضگی کے لہجہ میں یہ نوٹ لکھ کر فائل کو اپنے ماتحت مسٹر عالم چند سنگھ کے پاس بھیجا کہ فلاں کاغذ اس میں کیوں نہیں ہے ۔
عالم چند سنگھ نے فائل کو غور سے دیکھا تو اس میں مطلوبہ کاغذ موجود تھا۔ چنانچہ انھوں نے فائل کو دوبارہ اپنے انگریز افسر کے پاس بھیجا اور لکھا کہ جناب فائل کے فلاں صفحہ کو ملاحظہ فرمائیں جس میں مطلوبہ کاغذ موجود ہے۔ افسر نے دوبارہ فائل کا جائزہ لیا تو کاغذ اس کے اندر موجود تھا۔ اس کو اپنی غلطی کا شدید احساس اس نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے فائل پر موٹی سرخ پنسل سے اپنے سابقہ نوٹ کے ساتھ لکھ دیا : I WAS BLIND THEN میں اس وقت اندھا تھا ۔
حاجی اختر محمد خاں (پیدائش ۱۹۱۵)