کے حضور
Al-Risala, March 1977, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
جاڑے کے موسم میں سانپ ٹھٹھرا پڑ رہتا ہے لیکن ذرا سا بھی دم چھوئیے تو وہ فوراً پھن نکال کر کھڑا ہو جائے گا۔ یہی حال انسانوں کا ہے، ایک شخص بظاہر نہایت شریف اور معقول نظر آئے گا۔ کے آغاز میں بسّم اللہ کو لیکن اگر اُن کی "انا" پر ضرب لگایئے تو ایسا معلوم ہوگا گویا انھوں نے "برعکس نہند نام زنگی کافور" کے اصول پر اپنے لئے یہ القاب تجویز کئے تھے اپنے خلاف تنقید کو سن کر جس ردِ عمل کا اظہار کرتے اس کی انا کو ضرب لگائیے۔ اس سے کسی معاملے میں اختلاف کر دیجیے تو اچانک وہ ایسا نامعقول بن جاتا ہے کہ یقین نہیں آتا کہ یہ وہی شخص ہے جس سے اب تک آپ واقف ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر خدا بننے کی ایک تمنا چھپائے ہوئے ہے۔ جب آپ اس سے عقیدت مندی کے ساتھ ملتے ہیں، جب اس سے اس کی پسندیدہ باتیں کرتے ہیں تو اس کی خاموش تمنا کو تسکین ملتی رہتی ہے۔ اس کا لاشعور آپ کو قدردانی کی نظر سے کیونکہ اس کے نزدیک گویا آپ اس کے خدائی کے دعوے کو تسلیم کر رہے ہیں۔ مگر جب آپ ناقد کی حیثیت سے اس کے سامنے آئیں تو اس کا رد عمل بالکل برعکس ہوتا ہے۔ اب وہ محسوس کرتا ہے کہ آپ اس کے دعوے کو چیلنج کر رہے ہیں، وہ غصہ سے بھر ہیں اس سے ہر گز یہ معلوم نہیں ہوتا کہ فی الواقع وہ اپنے کو حقیر یا خاکسار یا کچھ نہ جاننے والا سمجھتے ہیں ۔ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ یہ کبر ہے اور خدا کے یہاں کبر کی معافی نہیں ۔