Al-Risala · March 1977

لا یدخل الجنة من كان فی قلبه

Al-Risala, March 1977, pp. 50–57

By Maulana Wahiduddin Khan

مثقال حبة خردل من كبر، قيل وما الكبر قال : بطر الحق وغمط الناس۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت میں وہ شخص نہیں جائے گا جس کے اندر رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہو، پوچھا گیا کبر کیا فرمایا : حق کو نظر انداز کرنا اور لوگوں کو

انسان کو اللہ تعالیٰ نے آزمائش کی خاطر اٹھتا ہے اور چاہتا ہے کہ آپ کو مٹا ڈالے جس طرح نمرود اور فرعون نے اپنے خدائی کے دعوے کا انکار کرنے والوں کو مٹا دینا چاہا تھا۔

بہت سے لوگ ہیں جو اپنی کسی تحریر میں اپنے نام کے ساتھ "خاکسار"، "ہیچمدان"۔ جیسے الفاظ کو لکھنا اتناہی ضروری سمجھتے ہیں جتنا تحریر پیدا کیا ہے۔ اس لئے اس کے اندر نفس بھی رکھ دیا ہے جو اس کو برائیوں پر اکساتا ہے۔ تاہم اسی کے ساتھ تمیز کی قوت بھی انسان کے اندر موجود ہے جو اس کو حق و ناحق بتاتی رہتی ہے۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے کہ کبھی کوئی ناموافق بات سن کر آدمی پر جھنجھلاہٹ اور غصہ طاری ہو جائے اور اس کی

زبان سے نامناسب الفاظ نکل جائیں۔ مگر مومن کی شان یہ ہے کہ ایسے واقعہ کے تھوڑی دیر بعد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوتا ہے۔ اپنے رویے کی اصلاح کا عزم کرتا اس کی ذات سے کسی کو نقصان پہنچ گیا ہے تو اس کی تلافی کرتا ہے، جس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا اس سے معافی مانگتا ہے۔ جب وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ صرف اس کا جرم بخش دیا جاتا ہے بلکہ خود جرم کو بھی نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کیلئے ایک یا دو بڑی نیکی کے کرنے کا مگر جو لوگ اختلاف کو عناد اور کینہ کے مقام جو اپنی خدائی تسلیم نہ کرنے والے شخص سے ہمیشہ کیلئے بدگمان ہو جائیں اور جنہیں یہ توفیق نہ ملے کہ اس سے معافی مانگ کر اس کی طرف سے اپنے دل کو صاف کر لیں وہ بدترین مجرم ہیں، وہ کسی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے خواہ دنیا میں اپنے اتفاقی حالات کی وجہ سے وہ اپنے دل کی گندگی کو چھپانے میں کامیاب ہو جائیں۔ خدا پرست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکا دے' اس کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کے تمام احساسات کو بالکل ختم کر دے۔ اگرچہ خدا کے مقابلہ میں مطلوب ہے' مگر اس کا امتحان بندوں کے معاملات ہی میں ہوتا ہے۔ انسانوں کے ساتھ تعلقات میں جو شخص یہ ثابت کرے کہ اس کے دل میں جھکاؤ ہے' وہی دراصل خدا کے آگے جھکا ہوا ہے' اس کے برعکس انسانوں سے ٹھیس پہنچنے کے وقت جو شخص ظالم اور متکبر بن جائے' وہ خدا کے مقابلہ میں بھی ایسا ہی ہے' خواہ وہ فرائض و نوافل میں کتناہی تواضع کا اظہار کرتا ہو۔ دیکھو رول نمبر ۸ ماہنامہ "الرسالہ"، ۱۰۳۶، کشن گنج، دہلی ۔ مقام اشاعت ۱۰۳۶، کشن گنج، دہلی ۔ وقفہ اشاعت ماہانہ نام پرنٹر (طابع) محمد احمد کشن گنج، دہلی ۔ نام پبلشر (ناشر) محمد احمد پتہ ۱۰۳۶، کشن گنج، دہلی ۔ نام ایڈیٹر (مدیر مسئول) محمد احمد کشن گنج، دہلی ۔ نام اور پتہ مالک رسالہ محمد احمد ۱۰۳۶، کشن گنج، دہلی ۔ میں محمد احمد تصدیق کرتا ہوں کہ جو تفصیلات اوپر دی گئی ہیں، میرے علم و یقین کے مطابق صحیح ہیں۔ یکم مارچ ۱۹۷۷ء

تاریخ انسانی عمل کا ریکارڈ ہے۔ لیکن تاریخ کو اگر افسانہ بنا دیا جائے تو وہ ایک ایسا ذہنی کار خانہ بن جاتی ہے جس میں صرف خوش فہمی کی مہلک گولیاں تیار ہوتی ہوں۔

یہ ایک سوچا سمجھا ہوا منصوبہ نہ تھا نہ کہ محض پر جوش اقدام طارق بن زیاد رمضان ۹۱ ھ میں اسپین کے ساحل پر اترے تو ان کے ساتھ سات ہزار کا لشکر تھا ساحل افریقہ اور اسپین کے درمیان دس میل کی آبنائے کو ان کے لشکر نے چار کشتیوں کے ذریعہ پار کیا تھا۔ کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ زمانہ کے ایک مورخ اسلام لکھتے ہیں:

" اس سے اس زمانہ کے جہازوں کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ کتنے بڑے تھے "

موصوف نے قیاس کیا کہ پورا لشکر ایک ہی بار چار کشتیوں پر لے کر دوسری طرف پہنچ گیا ہوگا۔ حالاں کہ یہ صحیح نہیں اس زمانہ میں ایسی کشتیاں وجود میں نہیں آئی تھیں جن پر دو ہزار فوجی اپنے تمام ساز و سامان کے ساتھ بیک وقت اصل یہ ہے کہ ان لشکر یوں نے کئی پھیروں میں آبنائے طارق کو پار کیا تھا ۔ ساتویں صدی عیسوی کے آخر تک مسلمانوں نے افریقہ کو بحر روم کے آخری ساحل تک فتح کر لیا تھا۔ باز نطینی سلطنت ایشیا اور افریقہ سے ختم ہو چکی تھی۔ تاہم مراکش کے ساحل پر سبطہ اور اس کے مضافات ۔ علاقے اب بھی اسپینی گورنر یلیان (کاؤنٹ جولین) کے قبضہ میں تھے۔ یہاں رومیوں نے زبر دست قلعہ بنایا تھا۔ بن نصیر نے اس کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ مگر ان کی طاقت دیکھ کر بالآخر انھوں نے مصلحت یہ سمجھی کہ جولین سے " کر لیں اور اس ساحلی قلعہ کو اس کے قبضہ میں چھوڑ دیں۔ افریقہ سے باز نطینی سلطنت کے خاتمہ کے بعد جولین نے ! سیاسی تعلقات اسپین کی عیسائی حکومت سے قائم کر لئے ۔ سبطہ اس وقت اندلس کا ایک سمندر پار صوبہ سمجھا جاتا ؟ اندلس سے بہتر کشتیوں کے ذریعہ اس کو مدد پہنچتی رہتی تھی ۔

یہاں یہ سوال ہے کہ جو مسلمان اسپین کے ایک ماتحت گورنر سے خود اپنے مفتوحہ ہر اعظم میں صلح کرنے پر مجبور تھے ، انھوں نے سمندر پار کر کے خود اسپین پر حملہ کرنے کی جرات کس طرح کی۔ اس کا جواب زیر بحث مسئلہ کے تار مطالعہ سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

۹۰ھ میں قوط (گاتھ) قبائل اسپین میں گھس آئے اور پانچ سو سالہ رومی سلطنت کو ختم کرکے وہاں اپنی حکومت قائم کرلی۔ بعد کو ان لوگوں نے ٹھیک اسی طرح مسیحی مذہب کو اختیار کرلیا جس طرح ترکوں کے ایک گروہ بنو سلجوق نے مسلم دنیا پر قابض ہونے کے بعد اسلام قبول کرلیا۔ گاتھ کا مقصد اس تبدیلی مذہب یہ تھا کہ مقامی عیسائیوں کو مطمئن کرکے اسپین میں اپنے سیاسی اقتدار کو مستحکم کریں۔ جس زمانہ میں مسلمانوں نے باز نطینی اقتدار کو شام، مصر، فلسطین سے ختم کیا، طلیطلہ (ٹالیڈو) پر گاتھ کا آخری بادشاہ ڈئیکا (ریفش) حکمراں تھا۔ ڈئیکا کی بعض کمزوریوں سے اس کے ایک فوجی افسر ذریق (RADRICK) کو موقع ملا کہ وہ اس کی حکومت کا تختہ الٹ دے اور خود اسپین کا حکمراں بن جائے۔ سبطہ کا گورنر جولین اگرچہ ڈئیکا کا رشتہ دار تھا۔ تاہم اس نے مصلحت کے تحت اپنی وفاداریاں ذریق سے مگر بعد کو ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس کو بے حد مشتعل کردیا۔ اور اس کو اپنے بادشاہ کا مخالف کرکے مسلمانوں کے قریب کردیا جو افریقی براعظم میں اس کے جغرافی پڑوسی تھے۔

اس زمانہ میں اسپین کا حکمران طبقہ بدترین قسم کی عیاشیوں کا شکار تھا۔ رواج کے مطابق امراء کی لڑکیاں عرصہ تک شاہی محل میں رکھی جاتی تھیں تاکہ شاہی آداب و قواعد کو سیکھ سکیں اور بادشاہ کی خدمت کریں۔ کے عہد میں جولین کی لڑکی فلورنڈا بھی اسی رواج کے مطابق شاہی محل میں داخل ہوئی۔ لڑکی جوان ہوئی تو ذریق اس پر فریفتہ ہوگیا اور جبر یہ طور پر اس کی عصمت دری کی۔ لڑکی نے کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع اپنے باپ کو دی۔ جولین کو اس واقعہ کا انتہائی صدمہ ہوا۔ اس نے قسم کھائی کہ جب تک ذریق کی سلطنت کو دفن نہ کرلے، چین سے نہ بیٹھے گا۔ اولا وہ طلیطلہ گیا اور لڑکی کی ماں کی بیماری کا بہانہ کرکے اس کو سبطہ واپس لایا۔ اس کے بعد وہ موسیٰ بن نصیر سے ملا اور اس کو اکساکر تسخیر اندلس پر آمادہ کیا۔ اس نے موسیٰ کو اندلس کی اندرونی کمزوریاں بتائیں اور وعدہ کیا کہ وہ اور خود اندلس کے بہت سے لوگ اس مہم میں اسلامی فوج کا ساتھ دیں گے۔ یہ واقعہ ۹۰ھ کا ہے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جولین نے اسلام قبول کر لیا تھا اور اپنا نام مسلم رکھا تھا۔

اس کے بعد موسیٰ بن نصیر نے خلیفہ ولید بن عبد الملک سے خط و کتابت کی کئی خطوط کے بعد ولید نے لکھا: مسلمانوں کو خوفناک سمندر میں نہ ڈالو۔ اگرچہ پر امید موجب بھی ابتداے تھوڑی سی فوج بھیج کر صحیح اندازہ کرو۔ موسیٰ نے رمضان ۹۱ ھ میں ایک شخص طریف کو، جس کی کنیت ابو زرعہ تھی پہلی مہم کے طور پر پانچ سو آدمیوں کے ساتھ اسپین روانہ کیا۔ جولین بھی ان کے ساتھ تھا۔ شمالی افریقہ کے ساحلی ملک مراکش اور اسپین کے درمیان صرف دس میل کا آبی فاصلہ ہے۔ ان لوگوں نے چار کشتیوں کے ذریعہ اس کو عبور کیا اور دوسری طرف ساحل پر اتر یہ لوگ ساحلی علاقوں میں رہے اور وہاں کے حالات کا اندازہ کرکے دوبارہ واپس آگئے۔ اس کے بعد اگلے سال رمضان ۹۲ ھ میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں سات ہزار کا لشکر تیار کیا گیا۔ دس میل کی آبنائے کو پار کرکے جب وہ لوگ اسپین کے ساحل پر اترے تو کہا جاتا ہے کہ طارق نے اپنی تمام کشتیاں مگر کشتیاں جلانے کا واقعہ بعد کا اضافہ شدہ افسانہ معلوم ہوتا ہے۔ اس زمانہ میں، اور آج بھی‘ فاتح

کی داستانوں میں اس قسم کے اضافے عام رہے ہیں۔ ہمارے اس خیال کے لئے ایک قرینہ یہ ہے کہ تاریخ اندلس کی بعض قدیم کتابوں ، مثلاً اخبار مجموعہ فی فتح الاندلس" میں یہ واقعہ سرے سے مذکور نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سمندر کو پار کرکے جب طارق بن زیاد اسپین کے ساحل پر اترے تو انھوں نے اپنے فوجیوں کو للکارا : ایہا الناس ! العدو امامکم والبحر وراءکم وليس لكم والله الا الجلد والصبر اے لوگو دشمن تمھارے سامنے ہے اور سمندر تمھارے پیچھے ہے تمھارے لئے خدا کی قسم اس کے سوا کوئی راہ نہیں کہ صبر کرو اور جم کر مقابلہ کرو۔

سپہ سالار کے یہ جوشیلے الفاظ سن کر لشکر کی چیخ اٹھے :

انا وراءك يا طارق طارق ہم سب تمھارے ساتھ ہیں ۔

تمام تاریخوں کے متفقہ بیان کے مطابق مخالف فوجوں سے مقابلہ ساحل پر اترتے ہی فوراً پیش نہیں آیا تھا۔ قیاس یہ ہے کہ یہ تقریر بعد کو اس وقت کی گئی ہے جب کہ عملاً مقابلہ پیش آیا ہے۔ اور فتح اندس کے بعد جب تقریر کے الفاظ " سمندر تمھارے پیچھے ہے ، لوگوں میں عام ہوئے تو قصہ گویوں نے اس میں اپنی طرف سے یہ اضافہ کر دیا کہ یہ تقریر کشتیوں کو جلانے کے بعد کی گئی تھی۔ شاید ان کے نزدیک سمندر کے پیچھے ہونے کے لئے ضروری تھا کہ سمندر اور فوجیوں کے درمیان سے کشتیوں کو ہٹایا جا چکا ہو!

وائرلیس کے دور سے ایک ہزار سال پہلے سمندر پار کے ملک میں اترنے والا ایک کمانڈر اس حقیقت سے بے خبر نہیں رہ سکتا تھا کہ اسپین کے ساحل پر اترنے کے بعد یہی کشتیاں وہ واحد ذریعہ ہیں جن سے وہ اپنے مرکز سے مربوط رہ طارق اور موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے درمیان پیغام رسانی کا دوسرا کوئی ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا یہ صرف قیاس نہیں ہے بلکہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ، ساحل اسپین پر اترنے اور مقابلہ پیش آنے کے درمیان تقریبا دو ماہ تک یہی کشتیاں تھیں جو دونوں کے درمیان باہمی ربط اور پیغام رسانی کا ذریعہ بنی رہیں ۔ طارق جس مقام پر اترے اس کا نام قلعہ الاسد LION'S ROCK تھا۔ بعد کو وہ جبل الطارق (جبرالٹر) کے نام سے طارق اسپین کے جس ساحل پر اترے وہ اس وقت ایک غیر آباد علاقہ تھا۔ وہاں ایک دشوار گزار پہاڑی کو جائے پناہ قرار دے کر وہ لوگ اکٹھا ہو گئے تاکہ حالات کو سمجھ کر آئندہ کا نقشہ بنا سکیں۔ اسپین کا بادشاہ رذریق ان دنوں بنبلونہ (PAMPLONA) کی ایک جنگ میں مشغول تھا ، جہاں اس کے خلاف بغاوت ہو گئی تھی۔ جب طارق کے اسپین میں داخلہ کی خبر ملی تو اس نے حکم دیا کہ ایک لاکھ فوج جمع کی جائے تاکہ مداخلت کاروں کو باہر نکالا طارق کا جاسوسی نظام بھی کام کر رہا تھا۔ انھیں جب رذریق کی تیاریوں کی خبر ملی تو انھوں نے فوراً اپنا ایک قاصد موسیٰ بن نصیر (گورنر افریقہ) کے یہاں روانہ کیا اور مزید کمک کی درخواست کی ۔ ادھر موسی بھی خاموش نہ تھے۔ بلکہ مسلسل تیاریوں میں مشغول تھے ۔ چنانچہ انھوں نے کشتیوں کے ذریعہ پانچ ہزار مزید سپاہی بھیج دیئے۔ طارق کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار ہو گئی ۔

طارق نے پیغام رسانی کا یہ تمام کام کشتیوں کے ذریعہ کیا۔ کوئی دوسرا ذریعہ اس زمانہ میں ممکن نہ تھا، اور پھر یہ کشتیاں ہی تھیں جنھوں نے پانچ ہزار فوجیوں کی دوسری قسط کو اسپین کے ساحل پر اتارا، جس کے بعد طارق اس قابل ہو سکے کہ وہ اسپین پر حملہ کر سکیں۔ طارق اگر اسپین کے ساحل پر اترتے ہی اپنی کشتیوں کو جلا دیتے تو یہ پیغام رسانی ممکن نہ ہوتی۔ اور نہ مقابلہ کے وقت مزید کمک پہنچ سکتی۔

اس معرکہ میں جولین بھی پوری طرح طارق کے ساتھ تھا۔ اس نے شاہ رذریق کے خلاف مقامی باشندوں کی ناراضگی سے فائدہ اٹھایا اور اپنے تعلقات کی بنیاد پر اسپینی شہریوں کی ایک جماعت طارق کی خدمت میں حاضر ان لوگوں نے دشمن کی خبریں فراہم کرنے کا کام اپنے ذمہ لیا اور فوجی اعتبار سے کم زور مقامات کی اطلاع مسلمانوں کو دی اور مسلمانوں کی رہبری کرتے رہے۔ یہ واقعہ بھی مسلمانوں کے لئے ایک نعمت ثابت ہوا کہ تین سال (۷۱۱ - ۷۱۴ ء) تک اندلس میں سخت قحط پڑا تھا، اس کی وجہ سے اتنے لوگ مرے کہ کہا جاتا ہے کہ اندلس کی آبادی آدھی رہ گئی۔ مزید یہ کہ رذریق کی ایک لاکھ فوج میں ایک عنصر ایسا بھی تھا جو سابق شاہ اسپین سے عقیدت رکھنے کی وجہ سے باغی رذریق کا اندر اندر مخالف تھا۔ ان کے فوجی سرداروں میں شسرت اور ابتہ بھی تھے جو سابق شاہ کے بیٹے انھوں نے اپنی خفیہ میٹنگ کی اور کہا:

"رذریق خبیث ہمارے ملک پر خواہ مخواہ مسلط ہو گیا ہے، حالاں کہ شاہی خاندان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ یہ تو ہمارے یہاں کے کینوں میں سے ہے، رہے مسلمان، وہ تو صرف وقتی لوٹ مار کے لئے آئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے وطن کو واپس چلے جائیں گے۔ اس لئے مقابلہ کے وقت اس خبیث کوزک دینے کے لئے ہم کو خود شکست کھا جانا چاہئے "

رذریق کی فوج کے ایک حصہ نے نہایت سخت جنگ کی۔ مگر غیر مطمئن فوجیوں نے جنگ میں زور نہیں دکھایا۔ شکست ہوئی اور رذریق میدان جنگ سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کے بعد وہ نہ زندہ مل سکا نہ مردہ۔ کہا جاتا ہے کہ بھاگنے کے دوران وہ ایک دلدل میں پھنس کر مر گیا۔

اسپین کے بعض علاقوں کو طارق نے فتح کیا۔ بعض کو مغیث رومی نے، بعض کو موسیٰ بن نصیر نے، جو بعد کو ۱۸ ہزار فوج کے ساتھ اندلس میں داخل ہوئے تھے۔ رعایا کی اپنے بادشاہ اور سرداروں سے بیزاری کی وجہ سے ان کو خود اسپینیوں میں مددگار اور جاسوس ملتے چلے گئے۔ تمام مورخین لکھتے ہیں کہ غیر مسلم جاسوسوں نے اسپین کی ابتدائی فتوحات میں بہت مدد کی تھی۔

یونیورسٹی کے ایک استاد نے اپنے ساتھی سے ماہنامہ الرسالہ کا تعارف کرتے ہوئے کہا: IT PRESENTS ISLAM AS A LIVING FAITH یہ اسلام کو ایک زندہ مذہب کی حیثیت سے پیش کرتا ہے ۔

قدیم زمانے میں انسان کس طرح لکھتا تھا قدیم زمانہ میں انسان تصویر و غلیفی دنیا کی سب سے قدیم اور پہلی حروف تہجی) یہ تصویری خط اوپر سے نیچے کی طرف اور کبھی اس کے برعکس لکھا جاتا تھا۔ اس خط کے کاتب مندروں کے پجاری تھے اور یہ خط صرف مقتدرایانِ مذہب کے لئے مخصوص تھا۔ دیوتاؤں کے منتر، دیوانیاں اور جملہ مذہبی دعائیں اور احکامات، تنقیدیں اور سرکاری احکامات، کتبات اور تاریخی واقعات نِشَرى مِنها سها پتھروں، آج کی دیواروں اور لکڑی کے تابوتوں پر کندہ کیے گئے چاکے تھے ، یہ خط پڑھنے میں بہت مشکل تھا۔ اہرام مصر اور شہر ایڈفو (EDFU) میں دیوتا ہورس کے مندر اور خصوصاً دیوتا آمون کے مندر TEMPLE OF AMUN) میں اس خط میں بکثرت عبارتیں موجود ہیں۔ مورخ بروسوس کا ہن کلدانی (چار سو برس قبل مسیح ) کی تاریخ سے ثابت ہے کہ چار ہزار برس قبل مسیح بابل میں سمیّرین قوم کی حکومت تھی۔ تہذیب قدیم مصر کی ہمعصر تہذیب تھی۔ یہ قوم دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقہ میں پھیلی ہوئی تھی ۔ یونانیوں نے اس سر زمین کا نام میسوپوٹامیہ (دو آبہ) بابل کے عین جنوب میں واقع قدیم شہر نیپور (NIPOUR) کی کھدائی کے دوران سختہ اینٹوں پر اس دور کے کتبات حاصل ہوئے ہیں حن، پر تصوراں پور) (NIPOUR) کی ھدای کے دوران پر چہ امیون پر اس دور کے لبهات حاصل ھوۓ ہیں جن پر تصویریں کے ساتھ ساتھ خط مسماری میں عبارتیں لکھی ہوئی ہیں ۔ اقتباس زیر طبع کتاب " عربی خط " ، تاریخ ، طرز نگارش ، عہد بعد ترقيات ) تالیف: سید احمد آرٹسٹ رام پوری ۔

خط میخی پیکانی بابل میں حموربی نامی بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا عدل مشہور ہے۔ نے قانون سلطنت مرتب کیا جو دنیا کا سب سے پہلا آئین سمجھا جاتا ہے، تعلیم کے لئے مدارس کا اجرا کیا۔ اپنے دورِ حکومت میں سمیرین خط سے مشابہ ایک جدید خط نکالا جس کا نام عرب و عجم میں میخی اور پیکانی مشہور ہوا۔ انگلش میں کنی فارم کہتے ہیں۔ بہت سے خطوط جو مٹی کی پختہ اینٹوں پر تھے کھدائی کے دوران حاصل ہوئے ہیں۔ یہ خطوط یورپ کے بڑے بڑے میوزیموں میں رکھے ہوئے ہیں۔

Printed page