وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا
Al-Risala, March 1977, pp. 57–58
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ نابینا تھا۔ بڑے ہال سے نکل کر باہر گیا۔ اور پھر اپنا ہاتھ دیوار سے لگا کر چلنے لگا۔ جانا چاہتا تھا۔ لیکن یہ اس کے لئے کوئی آسان با کے چہرے سے اب کبھی اطمینان ظاہر ہو رہا تھا۔ نہ تھی، ہال تو اچھا خاصہ وسیع تھا لیکن باہر نکلنے کے لیکن اس وقت وہ دروازے کی جگہ سے بہت آگے لئے دروازہ ایک ہی تھا۔ کسی کو موقع نہ تھا جو اس کی جا چکا تھا اور دروازہ اپنے پیچھے چھوڑ آیا تھا۔ رہنمائی کرتا اور اسے دروازہ تک لے جاتا۔ دیوار سے ہاتھ لگائے اپنے کو تھکا تا رہا، لیکن دروازہ ایک شخص نے جسے شاید اس نابینا پر رحم آگیا تھا۔ اسے کیسے ملتا، وہ تو چوک گیا تھا۔ اُس سے کہا: تم پریشان نہ ہو۔ دیوار پر ہاتھ لگائے ٹھیک یہی حالت بالعموم دنیا میں لوگوں کی ہوتی ہوئے چلتے جاؤ۔ جہاں دروازہ ہوگا اُسے تم خود ہے جب کامیابی کے مواقع سامنے ہوتے ہیں تو وہی ہی پالو گے۔ نابینا کی سمجھ میں یہ بات آگئی، وہ چل پڑا کھجلاہٹ میں ہوتے ہیں جب کھجلاہٹ دور ہوتی اس کا ہاتھ دیوار سے لگا ہوا تھا۔ وہ اطمینان ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ موقع ہاتھ سے کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ اتفاق سے جب وہ نکل گیا ہوتا ہے۔
دروازہ کے قریب پہنچا تو اس کی پیٹھ میں کچھ چبھٹ وقت نے کب کسی کا انتظار کیا ہے۔ محسوس ہوئی ۔ وہ بیٹھ کر کھجلانے لگا، اس نے ہاتھ دیوار یہ ہماری اپنی ذمہ داری ہے کہ وقت کو ہاتھ سے ہٹالیا ، لیکن اس کے قدم رکے نہیں، وہ آگے بڑھ سے نہ جانے دیں
عقود فاسدہ کا مسئلہ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ احکام اسلام پر