Al-Risala · March 1977

عمل کرتے ہوئے خیر امت کا مظاہرہ کرے

Al-Risala, March 1977, pp. 58–14

By Maulana Wahiduddin Khan

عقود فاسدہ کے جواز کا مطلب کیا ہے۔ کیا دارالامن میں دارالحرب جیسے معاملات جائز ہیں۔ یہ اس سوال کا جواب اثبات میں دیا جا سکتا ہے۔ مگر بنیادی طور پر فقہاء کا یہ مسلمہ اصول یاد رکھنا ضروری ہے۔ المسلم ملتزم بحکم الاسلام حيث مايكون (شرح كبير جلد ۴) مسلمان احکام اسلام کا پابند ہے جہاں کہیں بھی وہ ہو۔

چنانچہ خیانت، دھوکہ، رشوت، احتکار (ذخیرہ اندوزی)، استحصال بالجبر، ٹیکس کی چوری وغیرہ جس طرح دارالاسلام میں حرام ہیں دارالحرب میں بھی حرام ہیں۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ان سب برائیوں سے باز رہے۔ اور خصوصاً ایسے موقع پر کہ یہ امراض وبا کی طرح پھیل رہے ہوں۔ مسلمان پر لازم ہو جاتا ہے کہ وہ احکام اسلام پر عمل کرتے ہوئے خیر امت ہونے کا مظاہرہ کرے۔ موقعہ ہے کہ عملاً اسلام کی برتری ثابت کی جا سکتی ہے۔ اور دوسروں کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ باقی بہت سے معاملات ایسے ہیں جو دارالاسلام میں اسلامی قانون کے مطابق ناجائز ہوتے ہیں اگر ان کے سلسلہ میں کوئی مقدمہ اسلامی عدالت میں پیش ہو تو عدالت اس کے ناجائز ہونے کا فیصلہ کرے گی اور اس خرید و فروخت کو ناجائز قرار دے گی لیکن یہی معاملات اگر دارالحرب میں کئے جائیں۔ تو وہاں کے قانون کے مطابق وہ غلط نہیں ہوتے بلکہ ان کو جائز قرار دیا جاتا ہے مثلاً ایک من گیہوں کے معاوضہ میں ڈیڑھ من یا دو من گیہوں خریدنا "ربوا "کہلاتا ہے جو اسلامی قانون کے مطابق جائز اس طرح کی بیع اگر دارالاسلام میں ہو اور مقدمہ عدالت میں پہونچے تو اس بیع کو ناجائز قرار دیا جائے گا۔ یہ دارالحرب میں ہو اور وہاں کا قانون اجازت دیدے تو اسے مسلمان کی ملک تصور کیا جائے گا۔

اب اگر کوئی فریق دارالاسلام میں اس مقدمہ کو چلانا چا ہے تو قاضی اسلام اس کو خارج کر دیگا کیونکہ یہ معاملہ دارالاسلام کا نہیں ہے۔ اسی طرح کے احکام ہیں جن کے متعلق مشہور ہو گیا ہے کہ دارالحرب میں بیوع فاسدہ جائز ہوتی ہیں بشرطیکہ فریقین راضی ہوں اور معاملہ خوش دلی سے ہو۔ سیر کبیر میں ہے۔ اذا دخل المسلم دار الحرب بامان فلا بأس بان ياخذ منهم اموالهم بطیب انفسہم بای وجه کان لانه انما اخذ المباح علی وجه عَرِيَ عن الْغَدْرِ فیکون ذلک طیباً له والاسیرو المستامن سواء حتی لو باعهعم درهما بدر همین او باعهم میتة بدر اهم او اخذ مالا منهم بطریق القمار ذلک کلہ طیب لہم ( سیر کبیر بحواله كشف الاسار)

کوئی مسلمان دارالحرب میں پروانہ امن (ویزا) لے کر جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہاں دارالحرب والوں کے مال کسی بھی صورت سے حاصل کرے جو طیب خاطر اور خوشدلی سے ہو۔ کیونکہ یہ ایسا مال لے رہا ہے جو مباح ہے ایسی صورت سے لے رہا ہے۔ جو دھوکہ اور فریب سے پاک ہے۔ پس یہ مال اس کے لئے حلال و طیب ہوگا۔ کوئی مسلمان دارالحرب میں اسیر کی حیثیت سے ہو یا پروانہ امن حاصل کر کے (ویزا لیکر ) گیا ہو۔ دونوں کے لئے یہی حکم ہے۔ چنانچہ اگر وہاں ایک درہم دو درہم میں فروخت کر دے یا مردار جانور کو درہموں کے بدلے فروخت کر دے (قیمت فروخت کر دے) یا قمار کی صورت میں مال حاصل

کرلے تو یہ سب صورتیں اس لئے جائزہ ہوں گی۔ (سیر کبیر بحوالہ کشف الاستار)

سیر کبیر کی مذکورہ بالا عبارت سے معلوم ہوتا ہے، دار الحرب میں جو معاملہ اہل حرب سے ہو اس کے حلال و طیب ہونے کے لئے طیب نفس یعنی خوش دلی اور رضامندہی کافی ہے۔ وہ رضامندی شرعاً معتبر ہو یا نہ ہو۔ چنانچہ سود اور قمار میں جو رضامندی اگر چہ وہ شرعاً معتبر نہیں ہے۔ لیکن دار الحرب میں یہ غیر معتبر بھی معتبر ہوگی۔ اور اس رضامندی سے حاصل شدہ مال طیب قرار دیا جائے گا۔

تو سوال یہ ہے کہ شریعت نے جس کو خبیث فرمایا ہے کیا اس کی خباثت صرف دارالاسلام تک ہے۔ یا وہ خباثت اس معاملہ کی فطرت ہے۔ جہاں بھی اس معاملہ کا وجود ہوگا ۔ خباثت موجود رہے گی۔

مثلاً قمار بقول حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اس لئے حرام ہے کہ کسب واستحصال کے جو ضابطے شریعت نے مقرر کئے ہیں یہ اُن کے برعکس اور ان کے مناقض و مخالف ہے۔ مثلاً یہ کہ اُن میں ایسی محنت نہیں ہوتی جس سے قوم اور ملک کو فائدہ پہونچے حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ محنت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ چور، ڈاکو، گرہ کٹ اور بھیک مانگنے والے سب ہی محنت کرتے ہیں۔ مگر اُن کی محنت سے نہ ملک کی دولت میں اضافہ ہوتا ہے، نہ اس کی صنعت وحرفت میں، نہ تمدن ترقی کرتا ہے نہ تعمیر ملک میں فروغ ہے۔ بلکہ یہ جرائم ان مقاصد کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں۔ اسی طرح قمار باز اور سود خوار محنت ضرور کرتے ہیں۔ مگر اُن کی محنت سے ملک کی دولت میں کوئی اضافہ بلکہ اُن کی محنت ایک طرح کا ہیر پھیر ہوتی ہے۔ جس سے دوسرے کی رقم جھپٹ لی جاتی ہے۔ اور اس کی تہہ میں طمع و حرص کار فرما ہوتی ہے۔ جو قانون کی حد سے آگے بڑھ کر اخلاق اور روحانیت کے نقطہ نظر سے نہایت خطرناک سود کی اصل علت بھی حرص و طمع ہوتی ہے. جس میں جارحیت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ سود خوار کمزور کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اور اس کی کمزوری میں اور اضافہ کر دیتا ہے۔ کیونکہ ضرورت مندی قرض لینے پر مجبور ہے۔ ظاہر ہے اس میں ادار قرض کی وسعت مشکل ہی سے پیدا ہوگی۔ لیکن سود خوار اس مشکل کی بنا پر رحم کرنے کے بجائے اس کی مشکل میں اضافہ کر دیتا ہے کہ سود کے مطالبہ کو دو چند اور سہ چند کر دیتا ہے۔ (حجۃ اللہ البالغہ باب البیوع المنہی عنہا)۔ ان افعال کی قباحتیں جس طرح دار الاسلام میں ہوتی ہیں۔ دار الحرب میں بھی قائم رہتی ہیں۔ تو جن معاملات کی تہہ میں قباحتیں موجود ہوں ان کی آمدنی کو حلال و طیب کیسے کہا جاسکتا ہے۔ قانونی نقطہ نظر سے اگر جواز پیدا ہوتا ہے۔ تو اس کو اسی حد تک محدود رہنا چاہئے اسکو حلال و طیب نہیں کہنا چاہئے۔ قمار سے حاصل کردہ رقم دار الحرب میں جائزہ ہوگی۔ کیونکہ اس کو اسلامی قانون کا تحفظ حاصل نہیں تھا اور ملکی قانون اس کو جائز قرار دیتا تھا۔ لیکن اس جائز کو طیب نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ اخلاقی قباحتیں اس کی شکلوں میں بدستور پیوست ہیں ۔

کہا جا سکتا ہے کہ حسن و قبح کا مدار شریعت کے فیصلے پر ہے۔ شریعت جس کو جائز قرار دے وہ حسن ہے اور جس کو ناجائز قرار دے وہ قبیح ہے ۔

سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غلبہ روم کی قرآنی پیشین گوئی کے سلسلہ میں بازی لگا دینے پر جو مال حاصل کیا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ

علیہ وسلم نے اس کو جائز قار دیا۔ اس جائز کو حسن اور اس ملک کو طیب ہی کہا جائے گا۔ لیکن بحر العلوم میں حضرت مولانا فتح محمد صاحب رحمہ اللہ نے اس جواز کے متعلق جو تفصیل بیان کی ہے وہ بھی نظر انداز کرنے کے قابل نہیں ہے۔ آپ فرماتے ہیں:۔ جو مال ایسے ملک سے لیا جائے جہاں صلح و عہد ہے اگر قہر و غلبہ لیا ہے تو غیر مملوک و حرام ہے۔ اور اگر ایسی رضاسے لیا جائے جو شرعاً ممنوع ہے۔ جیسے حُرکی بیع یا سودیا قمار وغیرہ تو ملک آجائے گی برعایت صورت رضا اور حلّت نہ آئے گی بوجہ مخالفت شرعی اور اگر وہ رضا شرعاً معتبر یا مسکوت ہو تو ملک بھی آجائے گی اور حلت بھی۔ (عطر ہدایہ ص ۱۸۰)۔ مولاناحافظ الرحمن سیوہاروی پردہ سے متعلق دو قسم کی آیات پائی جاتی ہیں ایک میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور امت کی تمام عورتوں کو یکساں طور پر خطاب کیا ہے اور دوسری بعض آیات میں صرف ازواج مطہرات ہی کو خطاب کیا گیا ہے مگر قرآن کے مفسرین نے ان آیات کے مفہوم کو مقصود کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان کے احکام بھی تمام عورتوں کے لئے عام ہیں۔ البتہ رسول کی پاک بیویوں کی عظمت اور ان کے احتر ام کی اہمیت کی وجہ سے اُن کو خاص طور پر مخاطب بنایا ہے کہ وہ امت کی مائیں ہیں ان کا تمام امت مسلمہ کے ساتھ بہت نازک رشتہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ ادنی سی بے حجابی بھی اس رشتہ میں رخنہ کا باعث نہ بننے پائے۔

دراصل حجاب اور پردہ سے متعلق آیات کا اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو یہ صاف اور واضح نظر آتا ہے کہ ان آیات میں دو جدا جدا فیصلے دیئے گئے ہیں ایک یہ کہ عورت کی زندگی کا خصوصی امتیاز یہ ہے کہ وہ گھر کی زینت ثابت ہو اور وقتی ضرورت یا عام اسلامی مصلحت کو مستثنیٰ کرتے ہوئے عورت کا باہر گھرونا پھر نامعیوب اور ناپسندیدہ ہے۔ چناں چہ ارشاد ہے: " اے پیغمبر کی بیبیو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر تم کو خدا کا خوف ہے تو (مردوں سے)، ایسے نرم انداز میں گفتگو نہ کیا کرو جس سے ایسے شخص کے دل میں لالچ پیدا ہو جس کے دل میں چور ہے اور جب بات کہو تو بھلی بات کہو اور اپنے گھروں میں ہی قرار پکڑو اور جاہلیت کے زمانہ کی طرح باہر نہ پھرا کرو۔

اسی طرح دوسری جگہ ارشاد ہے۔

جب تم پیغمبر کی بیبیوں سے کوئی کام کی چیز مانگنے جاؤ تو پردہ کے باہر سے مانگو اس طرز عمل میں تمہارے اور اُن کے دونوں کے دلوں کی خوب ستھرائی اور پاکی ہے:

اور دوسری آیات میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اگر ذاتی ضرورت یا اسلامی مصلحت کی خاطربا ہرنکلناناگزیر ہو تو پھر شرم اور حجابات کا تقاضا ر ہے کہ ان باتوں کا خیال رکھو۔ چناں چہ ارشاد ہے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم! مسلمان عورتوں سے فرما دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور بجز چہرے اور ہاتھ پیروں، کے کہ جس قدر وہ خود بہ خود کھلے رہتے ہیں اپنی زینت کے کسی مقام کو کسی پر ظاہر نہ ہونے دیں اور ان کو

چاہیے کہ اپنے دو پٹوں سے اپنے گریبانوں کو پوشیدہ رکھیں " (احزاب)

اور اسی طرح یہ ارشاد ہے۔

اپنی بیبیوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ باہر نکلتے وقت، اپنی چادروں کو اپنے جسم پر نیچے تک لٹکائیں" یعنی چادروں سے اپنے پورے جسم کو لپیٹ لیں کہ غیر کی نظر نہ پڑے۔ اور اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ قرآن عزیز میں ازواج مطہرات ہی کو سختی کے ساتھ پردہ میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے مگر عام عورتوں کے لئے یہ سختی نہیں ہے اور ان کو باہر نکلنے کے آداب اور طریقے تبلا کر روز مرہ کی ضرورت کے لئے نکلنے کی اجازت دی گئی ہے تب بھی یہ تو ماننا پڑتا ہے کہ اسلام کی ترغیبات اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات یہی ہیں کہ عام عورتوں کو بھی سخت ضرورت کے علاوہ باہر نکلنا معیوب ہے اور زمانہ جاہلیت کی طرح زیب و زینت کے ساتھ حسن کی نمائش کرتے ہوئے نکلنے کی تو اسلام میں گنجائش ہی نہیں جیسا کہ آیت حجاب میں واضح ہے۔

ابو داؤد کی صحیح حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! عورت کی نماز اس کے کمرہ میں صحابہ میں افضل صلوٰۃ المرأۃ فی بیتھا افضل من صلاتها في حجرتها وصلا تها في مخدعها افضل من صلوتها فی بیتها۔ اور ترمذی کی حدیث میں اس سے بھی زیادہ واضح ارشاد ہے المرأۃ عورۃ فاذا خرجت استشرفها الشیطان, عورت ناموس ہے جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اُس کی تانک جھانک میں لگار ہتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ عصمت و عفت کا تحفظ اسلام کے اہم مقاصد میں سے ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اس سلسلہ میں معمولی سی لغزش بھی مرد کے مقابلہ میں عورت کی زندگی کے لئے ناقابل بیان ہلاکت و تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔ اس لئے از بس ضروری ہے کہ ایسے تمام وسائل و اسباب کا انسداد کیا جائے جو عام طور پر اس قسم کی لغزش یا گناہ کا سبب بن سکیں اور اس لئے پردہ اور حجاب اس مقصد نیک کے لئے بہتر سے بہتر طریق کار ہے (نور البشر فی سیرۃ خیر البشر) کائنات اپنی لا محدود وسعتوں اور امکانات کے ساتھ ہر شخص کو موقع دے رہی ہے کہ وہ جتنا چاہے آگے بڑھتا چلا جائے۔ مگر کوئی شخص اپنا مقصد غلط طریقے سے حاصل کرنا چاہے تو ساری کائنات اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہے۔ غلط کام کو یہ دنیا اسی طرح اگل دیتی ہے جیسے ایک نفیس ذوق کا آدمی غلط خوراک کو۔

تعارف و تبصرہ پر لوک کی چھایا میں (ہندی)

از محمد فاروق خاں۔ قیمت چھ روپے پتہ: مکتبہ اسلامی، اردو بازار دہلی۔ آخرت کا علم انسان کی سب سے اہم بنیادی اس کے بغیر انسان کبھی بھی تاریکی سے نکل اس کا ایک قدم بھی صحیح رخ پر نہیں اٹھ سکتا۔ تصور آخرت سے عدم واقفیت کی صورت میں ناکامی کے سوا انسان کے حصہ میں کوئی دوسری چیز نہیں آسکتی۔ دنیا میں انبیاء علیہم السلام کے بھیجے جانے کی اصل غرض و غایت ہی یہ تھی کہ وہ آنے والے اس دن سے لوگوں کو آگاہ کریں جو یا تو آدمی کے لیے خوشخبری لے کر آئیگا یا پھر وہ اس کے لیے رنج و غم اور تباہی کا دن ثابت دنیوی حیات کو انسان اہمیت دیتا ہے ، اسی کی فکر میں جیتا اور مرتا ہے ، حالانکہ یہ دنیا کی زندگی گزر جانے والی ہے ، جب کہ وہ آنے والا دن اگر کبھی واپس نہ ہوگا ، اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ! زیر تبصرہ کتاب میں نظریہ آخرت پر مختلف پہلوؤں سے بحث کی گئی ہے ۔ اس کے امکان کے دلائل تفصیل سے پیش کئے گئے ہیں ، یہ دلائل عقلی بھی ہیں ، نفسیاتی اور سائنٹیفک بھی ۔ آج سائنس جس مقام پر پہنچ چکی ہے ، وہاں عالم آخرت سائنس کی ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے ، وہ اب محض مذہب کی ضرورت نہیں رہا ۔

اس کتاب میں تفصیل سے دکھایا گیا ہے کہ آخرت کو مانے بغیر موجودہ زندگی بے معنی ہو کر رہ جاتی اس کی ساری معنویت اور خوب صورتی جاتی رہتی انسانی شخصیت کی تعمیر کے لیے کوئی ٹھوس بنیاد باقی نہیں رہتی ۔ انسان اگر صرف موت کے سائے میں جی رہا ہو ، کسی دائمی زندگی کی اسے توقع نہ ہو تو اس کی زندگی کو ایک المیہ کے سوا کسی دوسری چیز سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا ۔ زندگی سے موت فائق و برتر نہیں ہو سکتی ۔ یہ ممکن نہیں کہ زندگی پر موت کو فتح حاصل ہو سکے ۔ یہ ممکن ہوتا تو زندگی کبھی نمودار نہ ہوتی ۔ موت زندگی کا خاتمہ نہیں کر سکتی ۔ پھر یہ موت کیا ہے ؟ اس کا کیا مقصد انسان مر کر کہاں جاتا ہے ؟ ان سبھی پہلوؤں پر اس کتاب میں گفتگو کی گئی ہے۔

خواہ وہ ملحدین کا نظریہ ہو یا عقیدہ تناسخ ہو یا اور کوئی نظریہ __ آخرت کے مخالف جو نظریات پائے جاتے ہیں ، اس کتاب میں ان پر علمی اور سنجیدہ گفتگو کی گئی ہے۔

انسان کی انفرادی واجتماعی زندگی پر آخرت کے ماننے یا نہ ماننے کے کیا اثرات پڑتے ہیں اس پر بھی اس کتاب میں روشنی ڈالی گئی ہے ۔ کتاب نو ابواب پر مشتمل ہے اور ہر باب اپنی جگہ پر اہم ہے ۔ اس کتاب میں چونکا دینے والی اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ نظریہ آخرت ہی بھارت کا اصل نظریہ رہا ہے، دوسرے نظریات بعد میں ابھرے

در پرلوک کی چھایا میں“ کے مطالعہ کے بعد ہر شخص یہ محسوس کر سکتا ہے کہ خود انسانی زندگی کا مطالعہ اسے کس طرح کرنا چاہئے ۔ زندگی کو دیکھنے کا صحیح اور سائنٹیفک طریقہ کیا ہے۔ قرآن ہمیں کون سی نگاہ دیتا ہے جس سے ہم دنیا کو دیکھیں۔ اگر ہم موجودہ زندگی کو صحیح ڈھنگ سے دیکھ سکیں تو آخرت کبھی بھی ہماری نگاہوں سے اوجھل نہیں رہ سکتی ۔ موجودہ زندگی خود اپنے اندر آخرت کو اس طرح لیے ہوئے ہے جس طرح ایک چھوٹے سے بیج میں ایک تناور درخت آرام کر رہا ہوتا ہے۔ ”الرسالہ کے بہت سے قارئین اس سے واقف ہوں گے کہ محمد فاروق خاں صاحب ایم اے قرآن مجید کو ہندی زبان میں منتقل کرنے کی اہم خدمت انجام دے چکے ہیں اور ان کے ہندی ترجمہ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے مقبولیت بھی عطا کی ہے ۔ موصوف کی یہ تازہ تصنیف ہندی داں عوام کے سامنے اسلام کو پیش کرنے کے سلسلے کی اہم کڑی سمجھی جاسکتی ہے۔ یوں تو یہ کتاب ہر شخص کے لیے قابلِ مطالعہ ہے لیکن غیر مسلم بھائیوں کو خاص طور سے اس کتاب کو پڑھنے پڑھانے کی ضرورت بہتر ہوگا کہ صاحب خیر اس کتاب کے کچھ نسخے خرید کر اپنے ملنے جلنے والے غیر مسلم بھائیوں تک پہنچائیں۔ یہ ان کے روپے کا صحیح مصرف بھی ہو گا اور اس طرح پیغام رسانی کے اہم ترین فریضہ کی ادائیگی میں ان کا اشتراک عمل بھی ہو گا ۔ اصحابِ خیر کو حسب توفیق اس کتاب کو منگانا چاہئے یا رقم ارسال کرنے کے ساتھ ناشر کو اس کی اجازت دے دینا چاہئے کہ ان کی طرف سے کتاب مستحق اور شوق رکھنے والے حضرات تک پہنچادی جائے۔ کم از کم اپنے ذاتی مطالعے کے لیے تو ہر صاحبِ ذوق کو یہ کتاب منگانی ہی چاہئے ۔ (رانتظار نعیم - ایم اے) یہ ممکن نہیں کہ موت کو فتح حاصل ہو، زندگی کے اوپر فوقیت نہیں لے جاسکتی ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ زندگی کا خاتمہ موت کی صورت میں ظاہر ہو بلاشبہ یہ سب سے بڑی حقیقت ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں

از : مولانا وحید الدین خاں صفحات ۲۳۰ _____ قیمت مجلد ۵ روپے اسلام اور مسائلِ حاضرہ کا ایک جامع مطالعہ اپنے موضوع پر اس نوعیت کی پہلی کتاب ابواب : جدید مسئلہ کیا ہے ارکانِ اربعہ (نماز، روزہ، حج، زکواۃ) تحریکِ اسلامی، سیرت کی روشنی میں موجودہ زمانہ کی اسلامی تحریکیں دعوت الی اللہ دعوتِ اسلامی کے جدید امکانات رسالہ بک ڈپو ۔ ۱۰۳۶ کشن گنج دہلی ۶

میں شروع ہوا اور اب بیسویں صدی کے نصف آخر میں وہ بالکل ختم ہو چکا ہے۔

Printed page