مشینی اصلاح کی ناکامی
Al-Risala, April 1977, pp. 50–6
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا اخبار کہاں کہاں پہنچ رہا تھا الرسالہ کا ذکر عربی اخبارات میں
صحفی ھندی - بقیۃ ملاحظات عن ليبيا نشرت مجلة الرسالة الشهرية الهندية بقلم المفكر الهندى وحيد الدين خان مقالا عن انطباعاته عن زيارته لليبيا التي زارها في شهر فبراير لحضور ندوة الحوار الإسلامي وبعد ذكر انطباعاته بتفصيل عن ندوة الحوار كتب يقول :
في مساء ٢ فبراير ١٩٧٦ كان نحو خمسماة مسلم ومسيحي مجتمعين في مسرح التحرير بطرابلس حين توقفت الحركة فجأة وهروع بعض الناس نحو الباب واخذ المصورون بآلاتهم الثقيلة يلتقطون الصور فعرفنا ان الرئيس الليبي العقيد معمر القذافي قد حضر الندوة فجأة .. وحاول بعض الناس ان يدخلوه الى المنصة ، ولكنه جلس البقية ص ٧ على مقعد شاغر مع الناس واخذ ينصت للكلمات التي تلقى في الندوة . كان ذلك رجلا نحيلا ونحيفا بدون قبعة على راسه وكان يلبس بدله عادية بدون رابطة عنق وكان خاليا من أية علامة تدل عليه وكان يجلس بصمت على كرسيه كأى شخص آخر . واستمرت الكلمات تلقى في الندوة .. وبعد انتهاء فترة من الندوة ، ذهب القذافي الى المنصة يسبقي اصرار الناس ، ولم يجلس هناك على كرسي الرئيس بل جلس على كرسى عد .. وخلال وجوده ذلك المساء تحدث ثلاث مرات عندما طلب الناس ، وكلماته الثلاثة كانت بسيطة وبدون بدون تمهيد وانتهت أيضا كذلك . وفي ٦ فبراير التقيت بمعمر القذافي ، فقال لى من فوره : لقد قرات كتابك ... الاسلام وقال انه - كتاب عظيم - وقدمني الى أحد مرافقيه يقول : هو مفكر ومؤلف كبير ونحن نقدره .. ان المقيد القذافي شخصي لا منتہی البساطة . ولا يبدو لك حين تراه انه بحكم دولة عظيمة . وفكرت .. ما هي الميزة التي اوصلت هذا الشخص البسيط الى مقامه هذا ؟ واجبت بنفسي .. أنها ميزة تقبل المخاطرة - على ليسبلة الفاتح من سبتمبر ١٩٦٩ حين خرج هذا الضابط مع زملائه من معسكر فار يونس الى بنغازي ، كانت كل لحظة تمثل لهم خطر الموت .. وان كان الملك السابق ادريس في تركيا فى تلك الوقت ، الا ان قوات امنه ، المزودة بالطائرات ، كانت قادرة على القيام باى اجرام ، ولكن القذافي تقبل المخاطرة واستولى على محطة الاذاعة فيعلن الشعب الليبي ، قامت قواتة المسلحة بالاطاحة بالنظام الرجعي المتخلف المتعفن ، وهكذا من الآن تعتبر ليبيا جمهورية حرة ذات سيادة تحت اسم الجمهورية العربية الليبية . وانتهى المقال بتفاصيل اخرى عن ندوة الحوار الإسلامي المسيحي . الرسالة کے ذکر عربی اخبارات میں امریکی ماہنامہ ریڈرز ڈائجسٹ ۱۳ زبانوں میں چھپتا ہے اور دنیا بھر میں اس کی ۲۹ ملین سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوتی ہیں آج ایک دینی اور اصلاحی پرچے کے لئے اس سے بھی زیادہ شان دار امکانات ہیں ۔ بشرطیکہ جاننے والے اس کو جانیں اور کرنے والے اس کو کریں ۔
لیبیا کے روز نامہ الجہاد ( طرابلس ) نے اپنی اشاعت ۷ جنوری ۷۶ ۱۹ء میں الرسالہ کا ذکر کیا ہے وہ لکھتا ہے" ہندوستان کا ماہنامہ الرسالہ نے ہندی مفکر وحید الدین خاں کا ایک مقالہ شائع کیا ہے جس میں انھوں نے اپنے لیبیا کے سفر کے تاثرات بیان وہ پچھلی فروری میں مسلم۔ میں شرکت کے لئے یہاں آئے تھے۔ کانفرنس کے بارہ میں اپنے مفصل تاثرات تحریر کرنے کے بعد وہ کہتے ہیں " اس کے بعد الرسالہ ماہ اکتوبر ۱۹۷۶ء کے صفحہ ۵۵ کالم ۲ ، اور صفحہ ۵۷ ۲ کا مضمون نقل کیا ہے جس کا پرچہ یہاں درج کیا جاتا ہے ۔
(ظفر الاسلام خاں)
رائے قائم کرنے سے پہلے قرآن میں اجتماعی زندگی کے بارے میں جو احکام دیئے گئے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:
يا ايها الذين آمنوا اذا جاءكم فاسق بنبا فتبينوا ان تصيبوا قوماً بجهالة فتصبحوا على ما فعلتم نادمين ( حجرات ۔
اے ایمان لانے والو! اگر تمھارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کے اوپر نادانی سے جاپڑو، پھر اپنے کئے پر تم کو پچھتاوا ہو یہ ایک نہایت اہم ہدایت ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خبر لانے والا ناقص خبر لاتا ہے۔ سننے والا اگر اتنے ہی سے رائے قائم کرلے تو وہ ضرور غلط فہمی میں پڑ جائے گا اور اس کی بنیاد پر کوئی اقدام کرے تو شدید امکان ہے کہ وہ ایک شخص کو بے قصور سزا دینے کا مجرم بن جائے۔ اس لئے، جو دل خدا سے ڈرتا ہو، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سنی ہوئی باتوں کی تحقیق کرے۔ خاص طور پر وہ بات جو کسی کے خلاف ہو، اس کو تو بلا تحقیق مان لینا شدید ترین قسم کا اجتماعی گناہ ہے۔ ایسی حرکت وہی کر سکتا ہے جس کا دل خدا کے خوف سے خالی ہو۔ یا اس کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنی بڑائی کا جھوٹا احساس پیدا ہو گیا ہو، وہ سمجھنے لگا ہو کہ اگر میں نے کسی کے خلاف بے قصور کارروائی کر دی تو وہ میرا کیا بگاڑلے گا۔
یہاں چند واقعات درج کئے جاتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح ایک خبر بظاہر صحیح، مگر حقیقتہً بالکل غلط ہو سکتی ہے۔
صحیح بخاری میں عبادہ بن الصامت سے روایت انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکلے کہ ہم کو لیلۃ القدر کے بارے میں بتا دیں کہ وہ کب ہوتی ہے۔ اس اثنا میں دو مسلمان لڑپڑے۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا (رفععت) اس سے شیعہ حضرات نے یہ استدلال کیا ہے کہ لیلۃ القدر صرف ایک بار ہوئی تھی۔ اب وہ ہمیشہ کے لئے اٹھالی گئی ہے۔ بظاہر حدیث کے لفظ "فرعت" کو دیکھتے ہوئے ان کا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔ کے آگے کے الفاظ اس خیال کی تردید کر دیتے ہیں کیونکہ آگے ارشاد ہوا ہے:
وعسٰی ان يكون خيرا لكم فالتمسوها فی التاسعة ممکن ہے اس میں تمھارے لئے بہتری ہو۔ اس کو رمضان کی نویں شب، ساتویں شب اور پانچویں شب میں تلاش کرو یہ فقرہ بتاتا ہے کہ رفعت سے مراد یہ ہے کہ اس کی تعیین کا علم اٹھا لیا گیا نہ کہ خود لیلۃ القدر کا وجود ختم کر دیا گیا۔
امام ابو حنیفہ ایک باغ سے گزرے وہاں کچھ عورتیں گانا گا رہی تھیں۔ ابو حنیفہ کو دیکھ کر وہ چپ انھوں نے فرمایا قد احسنتن (تم نے اچھا کیا) کچھ لوگوں نے جو ساتھ تھے آپ کو ملامت کی کہ آپ غنار کی تحسین کر رہے ہیں۔ یہ تو معصیت الہیٰ کے کام کی حوصلہ
بظاہر یہ اعتراض صحیح معلوم ہوتا ہے۔
دیکھیے تو بات بالکل بدلی ہوئی نظر آئے گی۔ امام ابو حنیفہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: جب وہ گارہی تھیں تب میں نے احسنتم کہا یا جب وہ خاموش ہوگئیں تب لوگوں نے جواب دیا جب وہ خاموش ہو چکی تھیں آپ نے فرمایا:
اللہ اکبر، اردت احسنتم في السكوت لافی الغناء ۔ میں نے ان کے سکوت کی تحسین کی نہ کہ ان کے غنا کی ۔ ماہنامہ الوعی الاسلامی (کویت) کے ایک مضمون پر اعتراض کرتے ہوئے اس کے ایک قاری نے لکھا: لقد ذكر تم فی جوابکم على خطاب احد القراء في مجلة الوعی الاسلامی العدد والصادس فی اول جمادی الاولی ۱۳۸۶ ان الخلافة (الاسلامية) موضوع تاریخی لا يمكن ان يكون له صلة بحاضرنا اپنے رسالہ کے ایک قاری کے خط کا جواب دیتے ہوئے آپ نے لکھا ہے کہ خلافت (اسلامی) ایک تاریخی موضوع ہمارے موجودہ حالات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس کے بعد مکتوب نگار نے ایڈیٹر کو لکھا کہ یہ آپ کا جہل ہو سکتا ہے یا تجاہل۔ ورنہ یہ ایک حقیقت ہے کہ خلافت ایک حکم شرعی ہے مسلمانوں میں اس پر تو اختلاف رائے ہے کہ خلیفہ بنانے کا مستحق کون ہے۔ مگر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ خلیفہ کا نصب واجب ہے ۔
بظاہر یہ اعتراض بہت صحیح معلوم ہوتا ہے، مگر جواب پڑھئے تو وہ بالکل بے بنیاد نظر آئے گا۔ رسالہ کے ایڈیٹر نے جواب میں لکھا کہ ہم نے جس خط کے جواب میں یہ بات لکھی تھی اس میں خلافت کا اصولی مسئلہ زیر بحث نہ تھا، بلکہ صرف یہ سوال تھا کہ دور اول میں خلافت حضرت ابوبکر کا حق تھا یا حضرت علی کا۔
فالکلام اذن صريح فى انه كان عن موضوع: من احق بالخلافة، ابو بکر ام علی- لا على موضوع الخلافة پس واضح ہے کہ یہ گفتگو اس موضوع پر تھی کہ آنحضور کی وفات کے بعد خلافت کے عہدہ کے مستحق ابو بکر تھے یا علی۔ کا مسئلہ اس میں زیر بحث ہی نہ تھا۔
ایڈیٹر نے لکھا کہ اس مسئلہ پر آج بحث کرنا بے فائدہ ہے۔ جو ہونا تھا، ہو چکا۔ اب ہم کیوں اس بحث میں پڑیں۔ اب تو آج کی خلافت پر گفتگو ہونی چاہئے نہ کہ ماضی کی خلافت (الوعی الاسلامی، کویت، اکتوبر ۱۹۶۶) کوئی شخص جتنی بلندی پر اپنے آپ کو کھڑا کرے اتنا ہی دور تک کا منظر اسے دکھائی دے گا، اسی طرح فہم قرآن کے بھی کسی شخص کے اوپر کتاب الہی کے وہی معانی کھلتے ہیں جن کے لئے اس نے اپنے آپ کو اہل بنایا ہو۔ حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
انزل القرآن على سبعة احرف، لكل آية منها ظهر وبطن، ولكل حد مطلع (مشکوٰة، کتاب العلم)
قرآن سات حرفوں پر اتارا گیا ہے۔ کی ہر آیت کا ایک اوپر ہے اور ایک اندر ہے اور ہر حد تک دیکھنے کی ایک جگہ ہے۔
آخوت کی طرف ہو جائے A K H I R A T O R I E N T E D L I F E غزوہ ذات السلاسل کا واقعہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص کو لشکر کا سردار مگر پورا لشکر بیک وقت تیار نہ تھا۔ آپ نے عمرو بن العاص کو ایک دستہ کے ساتھ پہلے روانہ کر دیا۔ اس کے بعد دو سو مہاجرین وانصار کے ساتھ دوسرا دستہ تیار ہوا اور ابو عبیدہ بن الجراح کی سرداری میں روانہ ہوا۔ ان کو جھنڈا دیتے ہوئے آپ نے ان کو جو نصیحتیں کیں، ان میں سے ایک یہ تھی : جب تم اپنے ساتھی (عمرو بن العاص) سے ملو تو تم دونوں مل کر کام کرنا، اختلاف مت کرنا ( اذا قدمت علی صاحبك فتطاوعا ولا تختلفا )
ابو عبیدہ کا دستہ جب مدینہ سے چل کر عمرو بن العاص کے پاس پہنچا تو نماز کا وقت صفیں کھڑی ہوئیں، ابو عبیدہ نے چاہا کہ امامت کریں۔ عمرو بن العاص نے اس سے انھوں نے کہا آپ میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ آپ میری امامت کریں جب کہ اصل امیر میں ہوں۔ ابو عبیدہ کے دستہ کے لوگ، جن میں ابو بکر ؓو عمر بھی تھے ، نے کہا کہ عمرو بن العاص اپنے دستہ کے امیر ہیں اور ابو عبیدہ اپنے دستہ کے۔ عمرو بن العاص نے اس تقسیم سے اتفاق نہیں کیا، اور کہا: تم لوگ میری مدد کے لئے بھیجے گئے ہو، پس میں ہی قائد ہوں ( انما انتم امددت بكم فانا القائد )
اس کے بعد ابو عبیدہ بن الجراح نے اپنا حق واپس لے لیا، اور کہا: رسول اللہ نے مجھے نصیحت کی تھی کہ تم عمرو بن العاص سے ملو تو جھگڑا مت کرنا، اتفاق کے ساتھ کام کرنا : :وانک والله ان عصيتني لا طعتك خدا کی قسم اگر تم میری بات نہ مانو تب بھی میں تمھاری اطاعت کروں گا۔