میدان ابھی تک خالی هے
Al-Risala, April 1977, pp. 7–11
By Maulana Wahiduddin Khan
مغر بی دنیا میں طبیعی دنیا کی طرف سے مایوسی نے کثیر تعداد میں ایسے لوگ پیدا کر دیئے ہیں جو سائنسی طور پر دماغی قوتوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ کیلی فورنیا یونیورسٹی میں انسٹی ٹیوٹ آف برین ریسرچ اس کی ایک مثال ہے۔ حتیٰ کہ تخلیقی ذہانت (CREATIVE INTELLEGENCE) موجودہ زمانہ میں ایک مستقل سائنس بن گئی ہے۔ زرخیز زمین ہے جس نے ہندوستانی یوگیوں کو موقع دیا ہے کہ وہ مغرب میں اپنے بہت سے شاگرد پاسکیں، تاہم اس کے علاوہ اس سے بھی زیادہ بڑے پیمانہ پر ایک اور تلاش یہ ہے دور سائنس کے لئے ایک مذہب کی آخری حقیقت کیا ہے ، مرنے کے بعد انسان کہاں جاتا ہے ، مادی دنیا کے ماورا اگر کوئی دنیا ہے تو وہ کیا ہے اور کہاں ہے۔ ان سوالات کا جواب دینے کا میدان ساری دنیا میں ابھی تک خالی ہے۔ دین حق کے حاملین کو موقع ہے کہ اس اہم رول کو ادا کر کے یہاں اپنی جگہ بنا سکیں ۔
"محسوس مادہ ہی سب کچھ ہے" یہ نظریہ دو سو برس تک علمی دنیا کو مسحور رکھنے کے بعد انیسویں صدی کے آخر میں ختم ہو گیا۔ اس کے بعد مسلسل ایسے شواہد سامنے آئے جنھوں نے انسان کو مجبور کیا کہ وہ غیر مادی حقائق کو بھی تسلیم کرے۔ اس سلسلہ کی ایک کڑی جدید ذہنی نظریات ہیں جنھوں نے اقرار کیا ہے کہ دماغ پر اسرار طاقتوں کا خزانہ ہے اور دماغی لہروں کے ذریعہ خارجی چیزوں پر اسی طرح اثر انداز ہونا ممکن ہے جس طرح مادی چیزوں کے ذریعہ اس کو یقینی سمجھا جاتا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد اس سلسلے میں امریکہ، انگلستان اور ندر لینڈ وغیرہ میں کثیر تحقیقات ہوئی ہیں اور اب بھی بہت بڑے پیمانہ پر جاری ہیں۔
ان حالات نے ہندوستان کے یوگیوں کو موافق زمین فراہم کی ہے کہ وہ مغربی دنیا میں داخل ہوں اور اپنے قدیم فن کو نئے عنوانات کے ساتھ لوگوں میں مقبول بنائیں۔ ان کی کوششوں سے مغربی دنیا، خاص طور پر امریکہ میں ایک نئی "سائنس" وجود میں آگئی ہے جس کو ماورائی مراقبہ (TRANSCENDENTAL MEDITATION) یا مختصر طور پر ٹی ایم ( TM ) کہتے ہیں۔ اس سائنس کو مغربی دنیا میں پھیلانے کے لئے ہندوستان کے یوگی بہت بڑی تعداد میں یورپ اور امریکہ میں کام کر رہے ہیں۔ ہے کہ ایک سو سے زیادہ ہندو جماعتیں صرف امریکہ میں ایک جائزہ کے مطابق 1958ء سے لے کر 1974ء تک ساڑھے سات لاکھ لوگوں نے ٹی ایم کی تربیت حاصل کی۔ امریکہ میں ان کی تعداد میں ہر ماہ تقریباً 20 ہزار مردوں اور عورتوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ سوامیوں کے امریکہ میں اتنے بڑے بڑے ادارے ہیں جن کے اپنے ہوائی اور سمندری جہاز ہیں۔ یونیورسٹی کے نام سے آئیووا(امریکہ) میں ایک باقاعدہ جامعہ قائم ہو گئی ہے۔ سویڈن میں ٹی ایم کے طلبہ کو سرکاری فنڈ سے امداد دی جاتی ہے۔ یہ مستند سائنس جنرل مثلاً سائنٹفک امریکن ، امریکن جنرل آف فزیالوجی
وغیرہ نے پچھلے چار برسوں میں تقریباً ڈیڑھ سو مقالات شائع کئے ہیں جن میں ٹی ایم کے اثرات کا اقرار انسانی عضویات (HUMAN PHYSIOLOGY) پر کیا گیا ہے ۔ اکتوبر ۱۹۷۳ کے آخری ہفتہ میں ۲۶ ویں انٹرنیشنل کانگریس آف فزیالوجیکل سائنسز کا اجلاس نئی دہلی میں ہوا تھا ۔ اس موقع پر دنیا بھر کے سائنس دانوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی ۔ یہ اجتماع اتنے بڑے پیمانہ پر کیا گیا تھا کہ اشو کا ہوٹل میں اس کی کارروائیوں کے لئے گیارہ کانفرنس روم مخصوص کرنے پڑے ۔ والوں میں متعدد وہ لوگ بھی تھے جو اس ہندوستانی سائنس سے متاثر ہیں۔ مثلاً مہارشی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر آر ۔ ویلیس (R. K. WALLACE) اور ڈاکٹر لارنس ڈومیش (LAWRENCE DOMASH)
کہا جاتا ہے کہ انسانی دماغ میں بے پناہ ایسے مزید امکانات چھپے ہوئے ہیں جن کا عام انسان کو تجربہ نہیں ٹی ایم ان امکانات میں داخلہ کا دروازہ ہے ۔ عام طور پر انسان اپنے دماغ کو صرف پانچ فی صد تک استعمال کر پاتا ہے ۔ مگر ٹی ایم کے ذریعہ یہ ممکن ہے کہ اس کو صد فی صد استعمال کیا جاسکے۔ اپنی دماغی قوت کو کام میں لا کر ایک شخص اپنے سر درد کو دور کر سکتا ہے ۔ پریشر کو تبدیل کر سکتا ہے ۔ دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان ریڈیائی مواصلات قائم کئے جاسکتے ہیں۔ ٹی ایم کے ذریعہ دوران خون کے نظام ، تنفس کے نظام ، جسمانی ٹمپریچر کے نظام ، تحلیل غذا کے نظام کو متاثر کیا جاسکتا ہے ۔ تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ تربیت یافتہ یوگی اپنے جسم کے ایک حصہ کا ٹمپر یچر اس طرح بدل سکتا ہے کہ دیگر حصہ کا ٹمپر یچر تبدیل نہ نہ ہو ۔ وہ یعنی کی غیر معمولی مقدار جسم میں داخل کر کے اس کو ہضم کر سکتا ہے یاقے کے ذریعہ خارج کر سکتا ہے ، بعض لوگوں کو ایئر ٹائٹ کوٹھنے میں لمبی مدت کے لئے بند کر دیا گیا اور دیکھا گیا کہ وہ عام انسان کے مقابلہ میں ٥٠ فی صد کم آکسیجن پر زندہ رہ سکتے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ برائن جوزف سن (BRIAN JOSEPHSON) نے کہا ہے کہ ٹی ایم کے ذریعہ دماغی توازن پر کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور اس طرح غم اور تناؤ سے بچا جا سکتا ہے۔ ٹی ایم کی طرف سائنس دانوں کی توجہ کی خاص وجہ جیسا کہ ڈاکٹر ڈروش نے کہا ہے، یہ ہے کہ اس کی تعلیم یکساں طور پر ساری دنیا میں دی جا سکتی ہے اور تحقیقات کے جدید سائنسی طریقوں کے ذریعہ اس کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔
ٹی ایم کی اس مقبولیت کو دیکھ کر اس کے بعض پر جوش داعی یہ کہتے ہیں کہ مستقبل کے انسان کا مذہب ہندو ازم یاویدانت ہوگا تاہم ابھی وہ یہ نہیں بتا سکے ہیں کہ ٹی ایم اپنی موجودہ یا آئندہ کی متوقع کامیابیوں کے باوجود ، کس طرح اس سوال کا جواب ہے جس کے لئے انسان قدیم ترین زمانہ سے ایک مذہب کی تلاش کرتا رہا ہے۔
ٹی ایم اپنی نوعیت کے اعتبار سے کوئی نئی چیز نہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو مسلم صوفیاء اور دوسرے مذاہب کے درویش ذہنی ریاضتوں کے ذریعہ مختلف زمانوں میں حاصل کرتے رہے ہندوستانی یوگیوں اور سادھوؤں نے بلاشبہ اس فن میں خصوصی کارنامے دکھائے ہیں۔ مگر اس طریقہ کے آخری ممکن استعمال کے بعد بھی انسان کو جو چیز ملتی ہے وہ صرف انسان کی مادی قوتوں میں بعض ذہنی قوتوں کا اضافہ یہ زیادہ سے زیادہ بس مادی سائنسوں کی ایک اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ انسان جواب تک صرف مادی تدابیر کے ذریعہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا، وہ اپنی دماغی لہروں یا اپنی ارادی قوت سے بھی خارجی اشیاء پر اثر انداز ہونے کی کوشش
مگر انسانی قوت کی یہ توسیع اس سوال کا جواب نہیں ہے جس کے لئے انسان ایک مذہب یا اخلاقی نظام کی تلاش کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ انسان کی ارادی قوت کی توسیع کے بارے میں نہیں بلکہ اُس کو کنٹرول کرنے کے بارہ میں ہے مذہبی نقطہ نظر سے اصل سوال یہ ہے کہ وہ انسانی ارادہ جو کبھی مادی بٹن اور کبھی اپنی دماغی لہروں کو استعمال کرکے خارجی دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے خود اس ارادہ کو کس طرح نظم و ضبط کے دائرہ میں لایا جائے۔ ایٹمی ملکوں کےوزراءجنگ اگر اپنی دماغی لہروں یا اپنی قوت ارادی کے ذریعے اپنے راکٹوں اور بمبار جہازوں کو متحرک کرنے لگیں تو اس سے اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ دنیا کو ایسے وزراء جنگ سے کس طرح بچایا جائے جو یہ طاقت رکھتے ہیں کہ چند گھنٹوں کے اندر ساری آباد دنیا کو خاکستر بنا دیں۔
مذہبی یا فلسفیانہ اعتبار سے دوسرا مسئلہ جو انسان کے سامنے درپیش ہے، وہ یہ کہ اگر اس کائنات میں کوئی ایسی آخری حقیقت ہے جو انسان سے ماورا ہے، تو انسان سے اس کا کیا تعلق ہے۔ انیسویں صدی کے آخر تک علمی دنیا میں یہ فرض کر لیا گیا تھا کہ انسان سے بالا تر اس کائنات میں کوئی حقیقت نہیں۔ مگر موجودہ صدی میں ایسے کثیر شواہد سامنے آئے ہیں جو انسان یا کائنات کو آخری حقیقت تسلیم کرنے میں مانع ہیں اور اگر براہ راست نہیں تو بالواسطہ طور پر یہ قرینہ پیدا کرتے ہیں کہ اس عالم میں انسان سے بلند تر بھی کوئی حقیقت ہے۔ اس قرینہ کی وجہ سے یہ سوال شدت کے ساتھ انسان کے سامنے آگیا ہے کہ وہ اپنے اور اس آخری حقیقت کے درمیان تعلق کو دریافت کرے۔ وہ سوال ہے جس نے جدید انسان کو دوبارہ مذہب کے مطالعہ کی طرف مائل کر دیا ہے۔
ظاہر ہے کہ ٹی ایم کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ زیادہ سے زیادہ انسان اور انسان کے درمیان ایک مخفی رشتہ کی دریافت ہے انسان اور خدا کے درمیان رشتہ کو دریافت کرنا اس کے حدود عمل سے باہر ہے۔ نہ وہ اس کا مدعی ہے نہ اب تک ایسا کوئی قرینہ سامنے آیا ہے کہ اس سے یہ امید کی جاسکے کہ وہ انسان اور خدا کے درمیان رشتہ کو دریافت کر کے مذہب کو غیر ضروری چیز ثابت کر دے گا۔
جنوب مغربی سمت سے ماؤنٹ ایورسٹ پر چڑھائی کرنا اب تک بہت مشکل سمجھا جاتا تھا۔ اگست ۱۹۷۵ میں پہلی بار اس کو ایک برطانوی ٹیم نے سر کیا جس کے قائد کرس بوننگٹن تھے۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی ٹیم کی اس کامیابی کا اہم سبب ایک برطانوی فرم کی ایک ایجاد تھی۔ اس نے بہت ہلکے وزن کے آکسیجن ان سلنڈروں کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا کہ ایک سو لیٹر آکسیجن ایک ایسے سلنڈر میں رکھا جا سکے جس کا وزن صرف ۳۳ کلو گرام ہو۔ یعنی تقریباً نہیں کے برابر۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومی زندگی میں کس طرح ایک شعبہ میں کچھ لوگوں کے آگے بڑھنے کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے شعبوں میں کچھ دوسرے لوگ آگے بڑھے ہوئے ہوں۔ جس قوم میں سارے لوگ صرف تقریر و تحریر کا کمال دکھانے لگیں، وہ کبھی ترقی کے مقام پر نہیں پہنچ سکتی۔
قطب جنوبی سے برف کے کوہ پیکر تودے لاکر اپنی پانی کی ضرورت پوری کرے گا سعودی عرب اپنے تیل کے ذخیروں سے صنعتی گفت و شنید کے بعد طے پایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دس دنیا کی کبھی نہ ختم ہوتے والی تیل کی پیاس بجھاتا ہے۔ مگر کروڑ ٹن کا ایک برف کا تودہ (آئس برگ) ۱۰۰۰ کلومیٹر دو طرف سمندروں سے گھرے ہوئے اس ملک کو میٹھے پانی کا فاصلہ طے کر کے قطب جنوبی سے سعودی عرب کے ساحل کے لئے بیرونی دنیا کی ضرورت ہے۔ پانی کی کمی پوری کرنے پر لایا جائے گا۔ اس اندیشے کے پیش نظر کہ راستہ میں سورج کے لئے سعودی عرب اس سے پہلے سمندری پانی کو صاف کی گرمی سے وہ پگھل نہ جائے ، اس کو پلاسٹک سے ڈھک کرنے کا کارخانہ لگا چکا ہے جو کھاری پانی کو صاف کرلے دیا جائے گا۔ اس برفانی پہاڑ کو کھینچنے کے لئے پانچ قسم کے روزانہ ا ملین گیلن سے زیادہ میٹھا پانی تیار کرتا ہے ساب جہاز استعمال ہوں گے جو نہایت مضبوط ڈوریوں سے تازہ ترین خبر یہ ہے کہ برف کے پہاڑ (آئس برگ) جو قطب تودہ سے بندھے ہوئے ہوں گے۔ برفانی تودہ قطب جنوبی جنوبی کے سمندروں میں تیر رہے ہیں، ان کو کھینچ کر عرب کے سے چل کر بحر ہند میں داخل ہوگا۔ باب المندب پر اس کو توڑ ریگستان میں لایا جائے گا اور ان کو پگھلا کر تازہ پانی حاصل کر ٹکڑے کیا جائے گا تاکہ اس تنگ گزرگاہ سے نکل کر دہ کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ کثیر دولت کا متقاضی ہونے کے علاوہ بحر احمر میں داخل ہو سکے۔ اس پورے سفر میں تقریباً چھ مہینے لگیں گے جب کہ راستہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو اور برفانی تودہ ، حسب نقشہ ، فی گھنٹہ ایک سمندری میل کی میٹھا بنانے کے مقابلہ میں وہ سستا ہو گا۔
یہ منصوبہ سعودی شہزادہ محمد الفیصل اور فرانسیسی ماہر ڈاکٹر وکٹر (PAUL EMIL VICTOR) کے درمیان اس منصوبے پر عمل شروع کرنے سے پہلے کئی ابتدائی تیاریاں کرنی ہوں گی۔ سب سے پہلے خلائی سٹلائٹ کے
ایک شخص اپنے بچوں کے ساتھ باغ میں داخل ہوا۔ وہاں کیڑے مکوڑے تھے۔
چوہے اور چیونٹیاں تھیں۔ کے بیچ میں ایک بھیانک بھیڑیا کھڑا اس منظر کو دیکھنے کے بعد اس کے م سے کیا چیخ نکلے گی، وہ بے ساختہ پکار اٹھے گا:
بچاؤ اپنے کو بھیڑیئے سے۔ بھیڑیئے کے بھیانک چہرے کو دیکھنے کے بعد وہ دوسری تمام چیزوں کو بھول اس کو ایسا نظر آئے گا گو یا سارا باغ بھیڑیا بن گیا ہے۔ سامنے اس کے سوا کوئی مسئلہ نہ ہوگا کہ بھیڑیئے سے بچنے کی تدبیر کرے۔
ہم جس دنیا میں ہیں، اس میں بھی بہت سے مسائل ویسے ہی جیسے باغ میں کیڑے اور چیونٹیاں ہیں۔ کے بیچ میں ایک سب سے بڑا مسئلہ کھڑا یہ آخرت کا مسئلہ ہے۔ اس کو جان لیں تو ہم کو پوری کائنات میں آخرت کے سوا کوئی دوسری چیز نہ دکھائی نہ دے۔ اس کے بعد ہم آخرت کے لئے پکاریں گے، نہ کہ کیڑوں اور چیونٹیوں کے لئے۔
ذریعہ برفانی تودہ کی جائے وقوع معلوم کی جائے گی۔ بھی اسی سے معلوم ہو گا کہ اس علاقہ کے سمندروں کی لہریں کدھر سے کدھر جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہوائی جہاز ان کے اوپر اُڑان کرکے اندازہ کریں گے کہ ان کی لمبائی، چوڑائی اور اونچائی ٹھیک ٹھیک کتنی ہے اور ان کی صورت پھر جب ان کو خاص طرح کے تاروں سے باندھ کر سمندری جہازوں سے کھینچا جائے گا تو اس سلسلے میں توازن کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہوگا تاکہ برفانی تودہ ٹوٹ نہ جائے۔ باب المندب پر اس کو کاٹنے کے لئے تھرمل ڈرلنگ کا طریقہ استعمال کیا جائے گا۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے مکھن کی بڑی ٹکیہ کو باریک تار سے کاٹا جائے۔ ڈاکٹر وکٹر نے بتایا کہ اس منصوبہ پر وہ پچھلے پندرہ سال سے مطالعہ وتحقیق کرتے رہے ہیں اور اب یہ منصوبہ آخری مرحلہ پر پہنچ چکا ہے۔
ساحل عرب پر پہنچنے کے بعد برفانی تودے کے ٹکڑوں کو مختلف مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ سعودی عرب جیسے گرم ملک میں ان برفانی تودوں کو پگھلانے کے لئے کسی مشینی عمل کی ضرورت نہیں۔ وہ سورج کی گرمی سے پگھلتا رہے گا۔ اندازہ ہے کہ ۱۲۰ گز چوڑے تودے کو سورج کی گرمی سے پگھلنے میں ۱۴ سے ۱۸ ماہ تک لگیں گے۔ منصوبہ کامیاب رہا تو ایک برفانی تودہ ایک سال سے زیادہ مدت کے لئے
یہ منصوبہ صرف پینے کا پانی مہیا کرنے ہی کے لئے کار آمد نہیں ہوگا بلکہ زراعت اور باغبانی اور صنعت میں بھی اس سے کام لیا جاسکے گا۔ ریگستانی علاقوں یا خشک سالی کے زمانوں کے لئے یہ منصوبہ ایک عظیم تحفہ کی حیثیت رکھتا ہے۔