مطالعہ
Al-Risala, January 1977, pp. 17–26
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عثمان نے اپنی خلافت کے دوسرے سال ۲۵ ھ میں جمع قرآن کا کام کیا۔ صدیق اکبر کا تیار کرایا ہوا مصحف، جو حضرت حفصہ کے پاس محفوظ تھا، اس کو انھوں نے منگوایا، زید بن ثابت کی نگرانی میں اس کے چھ نسخے تیار کرائے۔ ایک ایک نسخہ شام، بصرہ، کوفہ، مکہ اور مدینہ والوں کے لئے خاص کیا اور حکم دیا کہ اس کے سوا جو مصاحف ہیں وہ محو کر دیے جائیں۔ اور ایک نسخہ خود اپنے پاس رکھا۔ اس کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قرآن کی قرأت میں اختلاف پیدا ہوگیا مثلاً یزید نخعی کہتے ہیں کہ میں ولید بن عقبہ کے زمانہ میں ایک مسجد میں تھا۔ ایک شخص نے آواز دی: جو شخص ابو موسیٰ کی قرأت پر قرآن پڑھتا ہو وہ باب کندہ کے حلقہ دوسرے نے آواز دی: جو ابن مسعود کی قرأت پر قرآن پڑھتا ہو وہ دار عبداللہ کے حلقہ میں آجائے۔ دونوں سورہ بقرہ کی ایک آیت میں مختلف تھے۔ اتموا الحج والعمرۃ للبيت پڑھتا تھا اور دوسرا اتموا الحج والعمرۃ للہ۔ اس طرح کے اختلافات کثرت سے پیدا ہوگئے تھے اور لوگ اپنی پسندیدہ قرأت یہ نسخہ ۳۵۳ صفحات پر مشتمل ہے۔
ہر صفحہ کا سائز ۳۵ × ۵۶ سنٹی میٹر ہے۔ اور ہر صفحہ میں دس سطریں ہیں۔
بالمقابل عکس میں سورہ انعام رکوع ۱۴ کی ابتدائی چند آیتیں نظر آ رہی ہیں۔
کے خلاف پڑھنے والوں کی تکفیر کرنے لگے تھے۔ حضرت عثمان کے یہ نسخے چونکہ ام المصاحف کی حیثیت رکھتے تھے، لوگوں نے انتہائی اہتمام کے ساتھ ان کی حفاظت کی۔ بعد کو وہ خلفاء اور سلاطین کے خزانوں میں قیمتی تبرک کی حیثیت سے رکھے گئے۔ انقلابات اور حکومتوں کی تبدیلی کے نتیجہ میں وہ ادھر سے اُدھر ہوتے ر۔ قاہرہ کے مجلہ " الدنیا وکل شیء" نے اپنی اشاعت ۲۴ اگست ۱۹۳۸ء میں لکھا تھا: مصحف عثمانی کا ایک نسخہ ترکی فوجیں مدی سے ترکی وہاں سے وہ جرمن شہنشاہ غلیوم ثانی تک پہنچا، اور ایک معاہدہ کے مطابق یہ نسخہ دوبارہ واپس ہو کر حکومتِ حجاز کو مل گیا۔ ابن جبیر نے لکھا ہے کہ وہ اپنی سیاحت کے دوران ۵۸۰ھ میں مدینہ پہنچے تو وہاں مسجد نبوی میں عثمانی مصحف موجود تھا۔ محققین نے لکھا ہے کہ مدینہ میں مصحف عثمانی ۱۳۳۴ھ تک موجود تھا۔ اس کے بعد ترک اسے آستانہ لے گئے ۔ قرآن کا وہ نسخہ جو حضرت عثمان نے اپنے لئے خاص کیا تھا، بعض روایتوں کے مطابق وہ آپ کے بعد آپ کے خاندان میں محفوظ رہا۔ پھر بنی امیہ کے ساتھ وہ اندلس اندلس میں جب حکومتِ اسلامی ختم ہوئی تو وہ فاس منتقل ہو گیا۔ ابن بطوطہ کے بیان کے مطابق آٹھویں صدی ہجری میں وہ فاس میں موجود تھا اور اس پر خون کا نشان تھا۔ بعض دوسرے لوگ اس بیان کی تاریخ المصحف العثمانی في طشقند (عربی) تالیف: الشیخ اسماعیل مخدوم الادارة الدينية في المطبعة الحكومية ، طشقند ۱۹۷۱ء، صفحات ۵۲ صحت پر شک کرتے ہیں۔ ابن کثیر نے فضائل القرآن (صفحہ ۴۹) میں لکھا ہے کہ مصحف عثمانی کا ایک نسخہ میں نے دمشق میں دیکھا ہے۔ یہ نہایت عمدہ لکھا ہوا تھا۔ تاشقند کا موجودہ نسخہ تیمور کے زمانے سے سمرقند ۱۸۶۸ء میں جب روس کا غلبہ سمرقند میں ہوا تو زار کے حکم کے تحت وہ پیٹرس برگ کے میوزیم میں منتقل کر دیا گیا۔ ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلاب کے بعد مسلمانوں نے لینن سے اس کی واپسی کی درخواست کی، چنانچہ لینن کے حکم کے تحت واپس ہو کر وہ تاشقند پہنچا۔ حضرت عثمان کے مصحف خاص کے محفوظ رہنے میں جو لوگ شک کرتے ہیں۔ ان کے شک کی بنیاد متعدد امور پر ہے۔ برزنجی نے اپنی کتاب نزهة الناظرین میں لکھا ہے کہ اس وقت چار نسخے موجود ہیں (مکہ، مدینہ، قاہرہ اور پیٹر و گراڈ میں) اور چاروں کے بارے میں مصحف عثمانی نہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، حیرت انگیز بات ہے کہ چاروں نسخوں میں آیت قرآنی فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللہ پر سرخ نشان ہے۔ حالانکہ اس قسم کا نشان کسی ایک ہی نسخہ پر ہو سکتا ہے۔ زیر نظر کتاب کے مصنف کا خیال ہے کہ بعد کو لوگوں نے اپنے نسخوں پر بطور تبرک مندرجہ بالا آیت پر سرخ نشان لگا لیا ہے اسی طرح بعض روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مصحف عثمانی میں آیت ولات حِينَ مناص (ص- (۳) کو ولا تحین لکھا گیا تھا جبکہ موجودہ تینوں مصاحف میں ولات حين لکھا ہوا ہے
مصنف کی یہ کوشش قابل داد ہے کہ انھوں نے نہایت محنت سے دونوں قسم کے دلائل اور روایتیں جمع تاہم آخر میں انھوں نے جو نتیجہ نکالا ہے وہ
یہی ہے کہ تاشقند کے میوزیم کا موجودہ نسخہ اصل عثمانی نسخہ ان کے خیالات کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔ ابن قتیبہ نے مصحف عثمانی کا طوس تک پہنچنا بیان کیا ہے ۔ تاریخ سمرقند سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کے ایک عزیز جن کا نام سعید تھا اس نسخہ کو ٥٥ھ میں سمرقند لے آئے ۔
ابن بطوطہ کا بیان ہے کہ انھوں نے بصرہ میں مصحف عثمانی کو دیکھا تھا ، قیاس ہے کہ تیمور نے اس کے بعد جب بصرہ پر قبضہ کیا تو وہ اس نسخہ کو سمرقند لے آیا ، اس کے بعد سے یہ نسخہ مسلسل سمرقند میں رہا۔ کے اشتراکی انقلاب کے بعد تاشقند منتقل ہوا : ان هذا المصحف الموجود عندنا هو احد المصاحف العثمانية التي بعث بها الى الامصار ان لم نقل انه نفس المصحف الامام اذ دعوى ذلك يحتاج الى نصوص صريحة (صفحه ۴۰ )
" یہ مصحف جو آج ہمارے پاس ہے ، اگر یہ وہی مصحف نہ ہو جو حضرت عثمان کے زیر تلاوت تھا تو کم از کم وہ ان مصاحف میں سے ایک ضرور ہے جو آپ نے تیار کرا کر مختلف شہروں کو روانہ فرمایا تھا۔ کیونکہ اس کو حضرت عثمان کا ذاتی مصحف قرار دینے کے لئے ہمارے پاس صریح دلائل موجود نہیں ہیں ۔
اس مصحف میں کل ۷۰۶ صفحات تھے ۔ ۵۵۲ صفحات باقی رہ گئے ہیں ۔ بقیہ کو لوگ تبرک کے ہر قسم کی قرآن، درسیات اور دوسرے تمام موضوعات پر کسی بھی ادارہ کی چھپی ہوئی اردو، ہندی ، انگریزی اور دوسری زبانوں میں ہم سے طلب کیجئے رسالہ بک ڈپو طور پر نکال لے گئے۔ (۲۹) اگر انھیں معلوم ہوتا کہ یہ تبرک نہیں بلکہ اسلام کی تاریخی دستاویز ہے تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتے ۔ مذہب کے غلط تصور نے مذہب کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے ۔
نیا ز فتح پوری جب آپ دلدل میں پھنس جائیں ؟
۱۹۰۹ء میں میرا تعلق ریاست باؤنی کد وره (بندیل کھنڈ) سے ہو گیا تھا۔ نواب ریاض الحسن خاں کا عہد حکومت اس وقت میرے بہنوئی محمد سلیمان خاں مودھا (ضلع ہمیر پور) کے تھانہ میں مامور تھے۔ اور میں ہر پندرہویں دن اپنی بہن کو دیکھنے وہاں چلا جاتا تھا۔ فاصلہ صرف دس بارہ میل کا تھا جسے میں گھوڑے پر طے کرتا تھا۔
میں شام کو کدورہ سے چلا۔ میں جاگیر بیری کے قریب پہنچا جو کدورہ سے صرف تین میل دور تھی۔ تو آفتاب غروب ہو چکا تھا اور رات کا دھندلکا شروع ہو گیا تھا۔ ایک اونچی پہاڑی پر دریا کے کنارے واقع ہے اور مودھا جانے کے لئے اس دریا کو عبور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ دریا کے دونوں کناروں پر دور دور تک ریت پھیلی ہوئی میں ریت کے اس حصے کو معمولاً پیدل طے کرتا تھا کہ گھوڑے پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔ لیکن اس مرتبہ دیر ہو جانے کی وجہ سے میں گھوڑے پر سوار رہا اور اس کو تیز تیز چلانے لگا اس دریا کے متعلق مشہور تھا کہ اس کے کناروں پر کہیں کہیں پور بالو بھی پائی جاتی ہے۔ چور بالو سے مراد وہ رتیلا حصہ ہے جو بظاہر صاف اور مسطح نظر آتا ہے لیکن پانی کی سطح سے قریب تر ہونے کی وجہ سے اس کے نیچے دلدل ہو جاتی ہے اور اس پر پاؤں رکھتے ہی آدمی ہو یا جانور اندر دھنسنے اس مرتبہ چونکہ مجھے جلدی تھی اس لئے معمولی راستہ سے ہٹ کر میں نے مختصر راستہ اختیار کرنا چاہا۔ کو اسی طرف ڈال دیا۔ تھوڑی دور چل کر مجھے ایک رتیلی تنگ کنارے ملی۔ اور میں نے گھوڑے کو ایڑ لگائی تاکہ وہ اسے پھاند کر گزر جائے۔ میں تاریکی میں اس کی چوڑائی کا صحیح اندازہ نہ زیادہ سے زیادہ میں اسے تین گز کا سمجھتا تھا۔ وہ چھ گز سے کم نہ تھا۔ میرے ایڑ لگانے پر گھوڑے نے جست تو کی، لیکن وہ اس فاصلہ کو عبور نہ کر سکا۔ اور اس کے اگلے پاؤں رتیلے حصے کے اندر ہی رہے۔ اس کے بعد دفعتاً گھوڑا اندر دھنسنے لگا تو مجھے پتہ چلا کہ میں چور بالوں میں پھنس گیا ہوں۔ سے جان بچانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ اس سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں نہ مارے جائیں، اس طرح آدمی اور اندر دھنستا چلا جاتا ہے۔ بلکہ اپنے آپ کو بالو پر چت یا پٹ ڈال دیا جائے گھوڑا سینہ تک دھنس چکا تھا اور میں بھی اس کے ساتھ گھٹنوں گھٹنوں بالو کے اندر غرق تھا۔ غور کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا کہ گھوڑے کو بچانا تو ممکن نہیں اس لئے اس کے ساتھ اپنی جان کیوں گنوائی جائے۔ میں نے آہستہ آہستہ اپنے دونوں پاؤں رکاب سے الگ کر کے اوپر نکالے اور فوراً چور بالو پر بے حس و حرکت لیٹ گیا۔ اتفاق کی بات کہ اس وقت میری کے دو راجپوت گھر لوٹتے وقت میرے پاس اور میں نے انہیں آواز دی۔ دوڑے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنی پگڑی کھول کر اس کا سرا میری طرف پھینکا تاکہ اسے مضبوط پکڑلوں۔ اور جب میں نے اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا تو انہوں نے مجھے آہستہ آہستہ گھسیٹنا شروع کیا۔ اور میں اس چور بالو سے نکل گیا۔ بعد یہ سوال پیدا ہوا کہ گھوڑے کو کیوں کر نکالا جائے۔ کے لئے انہوں نے یہ ترکیب نکالی کہ پگڑی کا ایک سرا پھندا بنا کر اس کی گردن میں ڈالا جائے اور اس کو بھی گھسیٹا جائے۔ میں لگام کا جھٹکا دینے لگا۔ مگر گھوڑا تھک کر اس قدر بے جان ہو گیا تھا کہ جھٹکے سے بھی اس کے جسم میں کوئی حرکت پیدا نہ ہوئی۔ اور آخر کار وہ دھنستے دھنستے غائب ہو گیا
ظفر الاسلام خاں ایم اے الفقیر الی اللہ نظامی اس سلام حامی اسلام اور سعودی عرب کے دارالسلطنت الریاض میں اکتوبر ۱۹۷۶ء کے آخری ہفتہ میں اسلامی قانون کے بارے میں ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ساری دنیا سے تقریباً ۵۰ علماء و مفکرین اسلام نے شرکت کی۔
آٹھ دن کی فکر انگیز ملاقاتوں اور مناقشات کے بعد اسلامی فقہ کانفرنس ۳۱ اکتوبر کو ختم ہوئی۔ کانفرنس کی اہم قراردادیں حسب ذیل ہیں : اسلامی ملکوں میں شریعتِ اسلامیہ کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ۔
اسلامی فقہ اکیڈمی کا قیام جو کہ اسلامی قوانین کی جدید تدوین کے علاوہ عصرِ حاضر کے پیدا کردہ مسائل کا حل تلاش کرے گی اور اس میں تمام عالمِ اسلامی کے ممتاز علماء و مفکرین شامل ہوں گے۔ یہ اکیڈمی کانفرنس کی دعوت دینے والی جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ (الریاض) میں قائم کی جائے گی۔
مسلم ممالک میں سود کا فوری طور سے خاتمہ، اور بنکاری اور دوسرے اقتصادی امور کو اسلامی قانون کے مطابق ڈھالنا۔
جامعۃ الامام محمد بن سعود میں اقتصادی ریسرچ کا مرکز قائم کرنا۔
مناہجِ تعلیم میں اسلامی علوم و ثقافت کو کما حقہ
ایک دائمی مرکز کا قیام جو اسلام کے خلاف استشراقی، ،الحادی اور صلیبی فکری حملوں پر نظر رکھے اور ان کا توڑ کرے۔ اسلامی انسائیکلو پیڈیا کوتیار کرنا۔ عالمی اسلامی صحافتی ادارہ کا قیام جو کہ پر چوں اور روز ناموں کے ذریعے اسلامی قضایا کو ابھارے اور عمدہ اسلامی کتابوں کا ترجمہ کرے۔
اسلامی تعلیمی ریسرچ کے لئے جامعۃ الامام محمد بن سعود اور دوسری اسلامی یونیورسٹیوں میں دائمی مراکز کا قیام جو کہ عمدہ کتابیں تیار کرے تا کہ اسلامی مدارس میں تدریسی کتابوں کا خلا پورا ہو سکے۔ کانفرنس پہلی ذی القعدہ (۲۴ اکتوبر ۱۹۷۶) کو شروع ہوئی تھی۔ پہلے اجلاس کا افتتاح سعودی ولی عہد الامیر فہد بن عبدالعزیز نے کیا۔ انھوں نے کانفرنس کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اس کانفرنس کی قراردادوں کو نافذ کرنے کے لئے تیار ہے۔ دوسرے دن کانفرنس کے اعضاء کو (جو کہ ۲۶ ملکوں سے آئے تھے) چار کمیٹیوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ پہلی کمیٹی نے کانفرنس کے ایجنڈا کے مندرجہ ذیل مسائل پر غور کیا :
اسلامی شریعت کی تطبیق ہر زمان و مکان کے لئے واجب ہے۔
شریعت کے بارے میں پیدا کئے ہوئے شبہات۔
کو قرار دادیں تیار کرنے والی کمیٹی کے حوالے کر دیا اور عروہ زیارت مسجد نبوی کے راغبین نے جمعہ کے دن فوجی جہازوں کے ذریعہ یہ سعادت حاصل کی۔
شام کے جلسوں کو عام اجتماعات کے لئے رکھا گیا تھا جس میں تمام اعضاء اور سعودی یونیورسٹیوں کے طلباء اساتذہ اور دوسرے دلچسپی رکھنے والے لوگ شریک ہوتے موصول ہونے والے مقالات میں سے پانچ مقالات کو اس موقع پر پڑھنے کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ پہلے دن کے اجلاس میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کا مقالہ تھا جو کہ بعض مصروفیات کی وجہ سے کانفرنس میں شریک نہ ہو سکے۔ تاہم انھوں نے اپنا مقالہ بھیج دیا تھا۔ ان کی نیابت میں راقم الحروف نے یہ مقالہ پڑھا۔ یہ مقالہ جس کا عنوان وجوب تطبیق الشریعۃ الاسلامیۃ فی کل زمان ومکان تھا کانفرنس میں پیش ہونے والا سب سے عمدہ مقالہ تسلیم کیا گیا مقالہ اسلام میں نظام قضا (عدالت)
حدود شرعیہ کی تطبیق کا سوسائٹی کے امن و استقرار
سوسائٹی کے لئے اسلام کا اقتصادی نظام۔ اسلامی بنک - نظریہ و تطبیق میں۔
چوتھی کمیٹی :
ذرائع ابلاغ اور ان کا اسلامی قدروں کے پھیلانے اور محفوظ رکھنے میں اثر۔
اسلامی تعلیم کا سوسائٹی پر اثر۔
فکری اور اسلام دشمن حملے۔
اگلے چار دنوں تک کمیٹیوں نے صبح کے جلسوں میں الگ الگ اپنے موضوعات پر بحث کی اور اپنی قرار دادوں مساء الاثنین ۱۳۹۶/۱۱/۲ ھ كلمة سماحة الشيخ عبد العزيز بن باز محاضرتان عنوانها : " وجوب تطبيق الشريعة الإسلامية في كل زمان ومكان » لكل من الاستاذ : الدكتور عبدالسلام الترماطيني ، والاستاذ وحيدالدین خان . مساء الثلاثاء ۳ / ۱۱ / ۱۳۹۶ ھ كلمة لسماحة الشيخ عبدالله بن حميد . محاضرة للاستاذ جمال المرصفاوي " نظام القضاء في الإسلام » . مساء الخميس ٥ / ١١ / ۱۳۹۶ ھ محاضرتين بعنوان " الغزو الفكري والتيارات المعادية للاسلام » لكل من الدكتور «عبد الستار السعيد» والدكتور المهدي بن عبود .
لقاء قمة على المستوى الفكرى !
ختم ہونے کے بعد لوگ اس کی مطبوعہ کاپیاں حاصل کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے اور تھوڑی دیر میں سارا ذخیرہ کانفرنس میں شریک ہونے والے اعضائے بکثرت مجھ سے ملاقات کی اور مقالے کو سراہتے ہوئے مولانا موصوف کو اپنی عقیدت وسلام پہنچانے کی عزوز الرباعی (ڈائرکٹر جنرل الدار التونسية للنشر جوکہ تونس کا سب سے بڑا اشاعتی ادارہ ہے) نے کہا کہ یہ مقالہ اس پورے سال کا سب سے عمدہ مقالہ تھا (هذا اعظم بحث لهذه السنة) ۔
ترکی کے نمائندے محمد امین سراج نے کہا کہ "خدا کی قسم تم نے اس مقالہ سے ہمارے دلوں کو ٹھنڈک پہنچائی" (والله انك قد اثلجت صدورنا بهذا البحث) ۔ دوسرے لوگ جنہوں نے مقالہ کو سراہا اور سلام پہنچانے کو کہا ان میں سے کچھ نام یہ ہیں: احمد الحمانی (الجزائر کی وزارت امور دینیہ میں المجلس الاسلامی الاعلٰی کے ڈائرکٹر) ۔ محمد صلاح الدین المستادی (ایڈیٹر جوہر الاسلام۔ محسن عبدالحمید (پروفیسر بغداد یونیورسٹی)۔ ڈاکٹر احمد شلبی ۔ انور الجندی ۔ رجب البنا (الاہرام) ڈاکٹر عبد الصبور شاہین ۔ ڈاکٹر عبداللہ شحاتہ ، ڈاکٹر (ایڈیٹر البلاغ) - عبد اللہ العقیل (ڈائرکٹر امور اسلامیہ وزارت اوقاف) ۔ سعودیہ کے شیخ محمد محمود الصواف (رابطہ عالم اسلامی) ۔ شیخ ابوبکر الجزائری (استاذ مدینہ اسلامی یونیورسٹی) - احمد محمد جمال (عضو مجلس الشوریٰ) مراکش سے عبدالرحیم بن سلامہ (صدر جمعیتہ التضامن الاسلامی) - ڈاکٹر عبد المنعم البدراوی (پروفیسر معہد الادارۃ الوطنی) ترکی سے پروفیسر اسماعیل حقی اور ڈاکٹر مصطفٰی ہیلکا - امریکا سے عمر فاروق عبد اللہ (شیکاگو یونیورسٹی) - جامعۃ الامام محمد بن سعود اور مدینہ یونیورسٹی کے متعدد اساتذہ و طلبا نے بھی اسی قسم کے جذبات کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہم استاذ وحید الدین خاں کی کتابوں کے ذریعے اپنے ملکوں میں الحادی اور کمیونسٹ خطرات کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ایسی ہی کتابیں موجودہ دنیا میں اسلام کو پیش کر سکتی ہیں۔
سعودی ذرائع ابلاغ (اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن) نے خصوصیت سے مقالہ کا ذکر کیا۔ کے روزنامہ الاہرام نے اپنی ۲۹ اکتوبر ۱۹۷۶ء کی اشاعت میں مقالہ کا واضح خلاصہ پیش کیا۔ آئندہ اس مقالہ کا اردو ترجمہ الرسالہ میں شائع کیا جائے عربی زبان میں کئی جرائد اس کو شائع کر رہے ہیں۔
علی محمد جریشہ ۔ ڈاکٹر محمد احمد عاشور (ایڈیٹر الاعصام)۔ کوئٹہ کے ڈاکٹر جمال الدین عطیہ (ایڈیٹر المسلم المعاصر) ۔ تاب اور بہنیں بھی اس سلسلے کا ایک حصہ ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ کتابچہ کی شکل میں وہ قاہرہ سے عنقریب شائع ہونے والا ہے۔
تریحات زائد: ناصر، مان انڈیا، سمیرا، یلدیز نام زین الدین الرکابی (رائڈ ٹیرا المجتمع) ۔ کا نفرنس میں ہندوستان سے بلائے جانے والے