جانا ہے بہت دور
Al-Risala, April 1977, pp. 12–16
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بزرگ نے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ شروع میں اس تعلیم گاہ کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اساتذہ کو وقت پر تنخواہیں نہ ملتیں۔ طلباء کے لیے بعض اوقات کھانے کا انتظام نا ممکن ہو جاتا۔ چھپر کے سائے کے نیچے تعلیم دی جاتی اس طرح کی بے شمار دشواریوں کے درمیان اس درس گاہ کو سفر کرنا پڑا۔
مگر دشواریاں جس طرح آدمی سے کچھ چیزیں چھینتی ہیں، اسی طرح وہ اسے کچھ چیزیں دیتی بھی ہیں۔ اسباب کی کمی عزم و ہمت کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ ایسے جذبات اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں جو فراوانی کے اندر بھی پیدا نہیں ہوتے۔
اس تعلیمی ادارے کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے ایک روز سارے ادارے میں اداسی چھائی ہوئی تھی ۔ حالات بے حد نامساعد نظر آ رہے تھے۔ درس گاہ کے ناظم نے طلبا و اساتذہ کا ایک اجتماع کیا جب وہ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو بے اختیار ان کی زبان سے نکلا۔ " موجودہ حالات میں ممکن ہے آپ کا جی ملامت کرتا ہو کہ آپ کہاں اگر پھنس گئے۔ کسی بنی بنائی درس گاہ میں گئے ہوتے تو آرام سے رہ سکتے تھے۔ مگر یہ گھبرانے کی کیونکہ دوسرے اگر حال کے وارث ہیں تو یہاں آپ ایک نئے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں لوگ تاریخ خواں ہوتے ہیں مگر آپ کو قدرت نے ایک ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ آپ تاریخ ساز بن سکتے ہیں۔
یہ الفاظ جن حالات میں کہے گئے تھے اس کے اعتبار سے وہاں اس نے بجلی کا کام کیا۔ طلبہ اور اساتذہ میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا۔ وہ زندگی کی ایک اعلیٰ ترین اخلاقی قدر سے آشنا ہوئے۔ یہ کہ مستقبل کی تعمیر کے لیے حال میں جدوجہد کی جائے۔ یہ قدرِ نفسیاتی طور پر اس وقت ان کے لیے لامعلوم رہتی جب کہ وہ ایسے حالات میں اسی طرح ناظم درس گاہ کی زبان سے کبھی ہرگز یہ الفاظ نہ نکلتے اگر وہ آسودگی اور فارغ البالی میں ہوتے۔ ناظم اسی لیے یہ الفاظ بول سکے اور سننے والے اسی لیے ان کو سمجھ سکے کہ وہ دشوار حالات میں تھے۔ آسانیوں کی فضا میں انھیں یہ سبق نہیں مل سکتا تھا۔
جو لوگ اپنے آپ کو مشکل حالات میں پائیں وہ اسے اپنی بدقسمتی تصور کرتے ہیں حالانکہ یہ صرف سمجھنے کی غلطی ہے اگر صحیح ذہن ہو اور عزم بیدار ہو تو مشکل حالات اس سے زیادہ بڑی چیزیں دیتے ہیں۔ جو آسانیوں اور راحتوں میں کسی کو ملتی ہے۔ دشواریاں آپ کو اعلیٰ ترین انسانی قدروں سے آشنا کرتی ہیں۔ آپ کے اندر سوزو درد پیدا کر کے آپ کے کلام کو بے پناہ بنادیتی ہیں مشکلات کو عبور کرنے کا نیا ولولہ پیدا کرتی ہیں اور بالآخر آپ کو ان بلند ترین انسانوں میں شامل کرتی ہیں جن کو تاریخ خواں کے مقابلے میں تاریخ ساز کہا جاتا ہے۔
اوپر جس واقعہ کا حوالہ دیا گیا، وہ جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ کا واقعہ ہے اور جس نے مذکورہ تقریر کی وہ مولانا مجیب اللہ ندوی تھے۔ اب خدا کے فضل سے یہ ادارہ "چھپر" کے دور سے نکل کر "بلڈنگ" کے دور میں داخل ہو چکا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملت کو ایک نئی راہ دینے کے لیے ہر بار جب کوئی شخص نیا کام شروع کرتا ہے تو اس میں مذبذب کا مرحلہ لازما آتا ہے، لیکن اگر وہ جمارہے تو استحکام کے مرحلہ پر پہنچنے سے بھی کوئی اسے روک نہیں سکتا۔
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت (۶۱۰) ہوئی تو ایران کی ساسانی سلطنت اور روم کی بازنطینی سلطنت کے درمیان تصادم جاری تھا۔ اس دو طرفہ جنگ میں تقریباً بیس سال گزر گئے ۔ ابتدا ء ایرانیوں کو غلبہ حاصل ہوا ۔ 615 تک رومی سلطنت کے تقریباً تمام شمالی مقبوضات اردن ، شام، فلسطین، عراق، مصر سب ایرانیوں کے قبضہ میں چلے گئے یہ ٹھیک وہی وقت تھا جب کہ مکہ میں اسلام اور غیر اسلام کے درمیان کش مکش جاری تھی۔ یہ کش مکش اتنی شدید ہو چکی تھی کہ 615میں مکہ کے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو اپنا وطن چھوڑ کر پڑوسی ملک حبش چلا جانا پڑا۔ حالات میں اہل کتاب رومیوں کے مقابلہ میں بت پرست ایرانیوں کی فتح مکہ والوں کے لیے گفتگو کا خصوصی موضوع بن گئی مشرکین نے مسلمانوں سے کہا کہ جس طرح پڑوس کے ملکوں میں بت پرست لوگ آسمانی کتاب کے حاملین پر غالب آئے ہیں، اسی طرح ہم بھی تمھارے اوپر غالب آجائیں گے۔ عین اس وقت قرآن کی سورہ نمبر ۳۰۰ اتری اور اعلان کیا گیا کہ چند سالوں کے بعد دوبارہ انقلاب آئے گا اور رومی سلطنت ایرانیوں کے اوپر غالب آ جائے گی۔
سورہ روم کی یہ آیتیں مکہ والوں کے لئے مذاق کا نیا موضوع بن گئیں۔ ابی بن خلف نے حضرت ابوبکر صدیق سے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ اور اگر تم کو یقین ہے کہ ایسا ہی ہوگا تو آؤ مجھ سے شرط کر لو۔ اس نے اپنی طرف سے یہ شرط رکھی کہ رومی اگر تین سال کے اندر غالب آگے تو میں دس اونٹ تمہیں دوں گا ۔ اور اگر اس کے خلاف ہوا تو تم دس اونٹ مجھے دینا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ قرآن میں بضع سنین کا لفظ ہے اور عربی میں بضع کا اطلاق دس سے کم پر ہوتا اس لئے دس کے اندر کی شرط کرو اور اونٹوں کی تعداد بڑھا کر ایک سو کر دو۔ حضرت ابو بکر نے دوبارہ ابی بن خلف سے یہ بات کہی۔ وہ راضی ہو گیا کہ دس سال کے اندر دونوں میں سے جس کی بات غلط ثابت ہوگی وہ دوسرے فریق کو سو اونٹ دے گا۔
قرآن کی پیشین گوئی لفظ بلفظ پوری ہوئی۔
نو سال بعد قیصر روم نے ۶۲۴ میں ایرانیوں کو نینوی (عراق) کے مقام پر فیصلہ کن شکست دی اور اپنے تمام چھینے ہوئے علاقے ایرانیوں سے واپس لے لئے۔ اس مدت میں مکہ کی کش مکش اس نوبت کو پہنچ چکی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تمام ساتھی مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ دونوں فریقوں کے درمیان کش مکش اس شدید نوبت کو پہنچی کہ ۶۲۴ میں جنگِ بدر اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح ہوئی ، اور مشرکین مکہ کے اکثر بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ اس سخت ترین ہیجانی فضا میں رومیوں کے غلبہ کی خبر آتی ہے۔ بدر کی شکست نے مکہ والوں کی دشمنی کو جنون کی حد تک پہنچا دیا تھا۔ مگر حضرت ابو بکرؓ نے جب ابی بن خلف کے پاس پیغام بھیجا کہ ہماری بات پوری ہو گئی ، اس لئے تم شرط کے مطابق مجھے ایک سو اونٹ
ادا کر د، تو مکہ میں کسی نے مخالفت نہ کی، اور ابی بن خلف نے کسی قسم کی تکرار کے بغیر پورے ایک سو اونٹ ابو بکر صدیق کے پاس بھیج دیئے۔ جب یہ اونٹ مدینہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کو حکم دیا کہ ان کو صدقہ کر دو۔
سخت ترین دشمنی کے باوجود مشرکین عرب اس بات سے ناواقف تھے کہ شرط کے مطابق اپنے حریف کو ایک سو اونٹ نہ دینے کے فرضی بہانے تلاش کریں۔ یا ان کی تعداد میں کمی کرنے کی کوشش کریں۔ ہی بات جانتے تھے: جو بات طے ہو گئی ہے اس کو پورا خواہ وہ اپنے دوست کے ساتھ ہو یا دشمن
صلح حدیبیہ کے بعد ذی الحجہ6 ھ میں آپ نے ارادہ فرمایا کہ امرار اور سلاطین کے نام دعوتی خطوط بھیجے جائیں۔ اس سلسلے میں تقریباً ایک ماہ ضروری تیاری میں صرف ہوا۔ اور محرم ۷ھ ہجری میں آپ نے بادشاہوں کے نام اپنے سفیروں کے ذریعہ خطوط روانہ کئے۔
انھیں میں سے ایک خط ہرقل قیصر روم کے نام تھا جس کی سلطنت اس وقت شام سے لے کر قسطنطنیہ تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے پاس دحیہ کلبی خط لے کر گئے۔ ہر قل کو اس زمانہ میں ایران کے مقابلہ میں فتح حاصل ہوئی تھی اور اپنی نذر کے مطابق پیدل چل کر فلسطین آیا ہوا تھا۔ ہرقل کی خدمت میں آپ کا خط پیش کیا گیا تو اس نے حکم دیا کہ اس علاقہ میں عرب کا کوئی شخص آیا ہو تو اس کو میرے سامنے پیش کرو۔ اتفاق سے ابو سفیان (جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے اور ابو جہل کے بعد مشرکینِ مکہ کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ بغرضِ تجارت شام آئے ہوئے تھے۔ ان کو ڈھونڈ کر لایا گیا۔ قیصر نے کہا، ”تمھارے یہاں جس آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے، میں اس کی بابت تم سے سوال کروں گا تم اپنے علم کے مطابق اس کا جواب دو۔ اس موقع پر ہرقل اور ابو سفیان کے درمیان جو گفتگو ہوئی، وہ سیرت کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ اس وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ابو سفیان کے نزدیک ان کے سب سے بڑے دشمن تھے۔ وہ آپ کو مکمل طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔ مگر ساری گفتگو میں ابو سفیان نے ایک بھی غلط بات نہیں کی: چند سوال و جواب یہ تھے:
ہرقل: محمد کا نسب کیسا ہے ابو سفیان: شریف و عظیم ہرقل: کیا اس شخص پر کبھی جھوٹ بولنے کی تہمت لگائی گئی۔
ابو سفیان: کبھی نہیں ۔
ہرقل: ان کے ماننے والوں کی تعداد گھٹ رہی ہے یا بڑھ رہی ہے۔
ابو سفیان: بڑھ رہی ہے۔
ہرقل: وہ کس بات کی تعلیم دیتے ہیں ۔
ابو سفیان: وہ توحید اور حسن اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہرقل: کیا وہ عہد کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں ابو سفیان: نہیں ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے کسی سوال کے جواب میں غلط بیانی نہیں کی اور نہ طعن کیا۔ مجھے اندیشہ تھا کہ میرے
ساتھی مجھے جھوٹا کہیں گے۔ صرف آخری سوال کے جواب میں وہ اتنا اضافہ کر سکے" امسال ہمارے ان کے درمیان ایک معاہدہ (حدیبیہ) ہوا ہے، دیکھئے اس میں وہ کیا
اس سوال و جواب کے وقت ابو سفیان اور ان کے ساتھی مشرک تھے اور سب کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت ترین دشمنی تھی۔ مگر ان کو یہ گوارا نہ تھا کہ آپ کے بارہ میں کوئی غلط بیان دیں یا آپ کو مطعون کرنے کی کوشش
نبوت کے دسویں سال آپ کے چچا ابو طالب کا انتقال ہو گیا۔ اب خاندانی رسم کے مطابق عبد العزی (ابو لہب) بنی ہاشم کا سردار منتخب ہوا جو اس وقت خاندان کا سب سے بزرگ آدمی تھا۔ ابو لہب آپ کے خاندان میں آپ کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ شعب ابی طالب کے مقاطعہ کے زمانہ میں سارے خاندان بنی ہاشم نے آپ کا ساتھ دیا تھا۔ صرف ایک ابو لہب تھا جو آپ سے اب جب کہ ابو لہب کو خاندان کے سردار کا مقام بھی مل گیا، اس نے آپ کو خاندان سے خارج کر دیا۔ خاندان سے خارج کیا جاتا قدیم عرب میں بد ترین اس کے بعد آدمی بالکل تنہا ہو جانا تھا۔ جب کہ قبائلی نظام میں خاندانی پناہ کے سوا کوئی پناہ نہ تھی جس کے تحت آدمی محفوظ طور پر اپنی زندگی گزار سکے ۔ چنانچہ اس کے بعد مکہ میں لوگوں کی مخالفتیں بہت بڑھ گئیں۔ اس سے پہلے زیادہ تر زبانی طنز و تشنیع کا مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ اب جارحانہ قسم کی سختیاں شروع ہو گئیں ۔ یہ حالات دیکھ کر آپ نے ارادہ کیا کہ عرب کے دوسرے قصبے شہر طائف جائیں اور وہاں کے لوگوں سے پناہ کی درخواست کریں ۔
آپ مکہ سے پیدل چل کر طائف پہنچے جو مکہ کے جنوب مشرق میں 65میل پر واقع تھا۔ امید کے خلاف وہاں کے لوگوں نے بہت برا برتاؤ کیا ۔ نہ صرف یہ کہ آپ کو پناہ دینے پر تیار نہ ہوئے بلکہ آپ کو پتھر مار مار کر بستی سے نکل جانے پر مجبور کر دیا حتی کہ آپ کو وہاں کے لوگوں سے کہنا پڑا کہ دیکھو یہ خبریں مکہ نہ پہنچنے پائیں۔ ایک طرف اپنے وطن مکہ میں زمین کا تنگ ہو جانا، دوسرے طائف والوں کا وحشیانہ سلوک ، ان واقعات نے آپ پر شدت سے اثر کیا طائف سے واپسی پر آپ نے اپنے رب سے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے :
اللهم الیک اشکو ضعف قوتی و قلة حیلتی و عرب کے مشرکین نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی شدید مخالفت کی آپ کو اپنے وطن سے نکالا۔ مگر انھوں نے کبھی آپ کے خلاف کوئی ذلیل حرکت نہیں کی۔ آپ کو اپنے مخالفین کی طرف سے ذلیل اور رکیک حرکتوں کا تجربہ صرف ہجرت کے بعد ہوا جب کہ آپ کا سابقہ یہود کے ساتھ پیش آیا جو کتاب الہیٰ کے حامل تھے، جو اپنے نبیوں کا وارث کہتے تھے، جو گویا اس وقت کے "مسلمان" تھے !
وهو انی علی الناس یا ارحم الراحمین خدایا میں تجھ سے اپنی قوت کی کمی اور اپنی بے سروسامانی اور لوگوں کی نظر میں حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں ۔ طائف سے واپسی کے بعد کوئی دوسری جگہ نہ تھی جہاں کیونکہ مکہ سے نکالے ہوئے ایک شخص کو پناہ دینے کا کام طائف جیسے بڑے شہر کا کوئی سردار ہی کر سکتا تھا۔ مجبوراً آپ نے دوبارہ مکہ کا رخ کیا اور شہر کے باہر غار حرا میں اپنے خادم زید بن حارثہ کے ساتھ مقیم ہوئے۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا کریں۔ چند روز کے غور و فکر کے بعد آپ نے مکہ کے ایک سردار مطعم بن عدی کے پاس پیغام بھیجا کہ میں غار حرا میں ٹھہرا ہوا ہوں۔ تم مجھ کو اپنی پناہ میں لے لو۔ تا کہ مکہ میں آکر رہ سکوں۔ مطعم ایک کافر تھا اور بدر سے پہلے کفر ہی کی حالت میں اس کا انتقال ہوا۔ نجی صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس کے قومی دشمن کی حیثیت مگر جب آپ نے اس سے حفاظت طلب کی تو اس کے لئے نا ممکن ہو گیا کہ وہ آپ کو اپنی حفاظت میں لینے سے انکار کر دے۔ اس کے چھ جوان لڑکے تھے، اس نے تمام لڑکوں کو حکم دیا کہ تم تلوارلے کر جاؤ اور محمد کو اپنی حفاظت میں مکہ لے آؤ۔ چنانچہ اس کے یہ لڑکے غارِ حرا پہنچے اور ان کی تلواروں کے سایہ میں آپ دوبارہ مکہ میں داخل ہوئے مکہ میں آکر آپ نے سب سے پہلے کعبہ کا طواف کیا، جب آپ طواف میں مشغول تھے تو مطعم بن عدی نے دروازہ پر کھڑے ہو کر اعلان کیا :
”میں نے محمد کو پناہ دی ہے، خبر دار کوئی انھیں تکلیف نہ پہنچائے“ مطعم بن عدی ایک کافر و مشرک تھا۔ نیز آپ کے دشمن گروہ سے تعلق رکھتا تھا۔ مگر جب آپ نے اس سے پناہ طلب کی تو اس کے لئے نا ممکن ہو گیا کہ آپ کو پناہ دینے سے انکار
یہ تھا کردار ان لوگوں کا جو مشرک و کافر کہے جاتے ہیں۔ طبقات ابن سعد (جلد ۱ ، صفحہ ۱۷۳) میں زہری سے منقول ہے کہ ایک یہودی نے کہا کہ تورات میں پیغمبر آخر الزماں کے جو اوصاف بیان ہوئے ہیں، وہ سب میں نے آپ کے اندر دیکھ لئے تھے۔ صرف ایک وصف باقی اور وہ تھا حلم وبرد باری ۔ چنانچہ اس کے تجربہ کے لئے میں نے آپ کو ۳۰ دینار قرض دیئے ۔ اس کے بعد میں یہاں تک کہ جب مدت پوری ہونے میں صرف ایک دن باقی تھا میں آپ کے یہاں پہنچا اور سختی سے تقاضا کیا میں نے کہا میرا حق ادا کیجئے، اور میں جانتا ہوں کہ عبد المطلب کا خاندان تو ہمیشہ کا ٹال مٹول کرنے والا ہے ۔ اس وقت عمر فاروق آپ کے ساتھ تھے۔ یہودی کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی غضب ناک ہو گئے اور کہا: اگر رسول اللہ کا خیال نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا ۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: غفر اللہ لک یا ابا حفص ، نحن كنا الى غير هذا امنك احوج ، تأمرني بحسن القضاء وتامره بحسن الطلب اے ابو حفص ، خدا تھیں معاف کرے۔ ہم تم سے ایک اور سلوک کے زیادہ محتاج تھے تم مجھ سے بہتر ادائیگی کے لئے کہتے اور اس کو نصیحت کرتے کہ بہتر طریقے سے طلب کرو ۔