یہ عذر صحیح نہیں
Al-Risala, April 1977, pp. 15–21
By Maulana Wahiduddin Khan
"مسلمان خود ہی اسلام کو چھوڑے ہوئے ہیں پھر وہ کس منہ سے دوسروں کو اسلام کا پیغام دے سکتے اس اعتراض کا دین وشریعت سے کوئی تعلق نہیں جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ ہے آپ نے عرب میں کام شروع کیا تو ایک طرف آپ تھے، دوسری طرف شرک وکفر میں مبتلا لوگ۔ مگر دوسرے انبیاء بگڑے ہوئے مسلمانوں کے درمیان مبعوث ہوئے ۔ میں انھوں نے جو طریقہ اختیار کیا وہ ہمارے لئے اسی طرح اسوہ ہے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اسوہ ہے کیونکہ قرآن میں صراحتہ حکم دیا گیا ہے: فبهداهم اقتده (ان کے طریقہ کی پیروی کرو)
یہاں ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مثال پیش کریں گے۔ وہ مصر میں بنی اسرائیل کے درمیان مبعوث ہوئے تھے۔ امت محمدی کے وجود میں آنے سے پہلے بنی اسرائیل اسی طرح "مسلمان" تھے جس طرح اب اصطلا حاً آپ کی امت کو مسلمان کہا جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ بنی اسرائیل اس زمانہ میں اس مقام دعوت پر تھے جس پر آپ کی بعثت کے بعد امت مسلمہ کو فائز کیا گیا ہے۔ جس خصوصیت کے لئے امت مسلمہ کو "خیر امت" کہا گیا ہے اسی خصوصیت کے لئے ان کے حق میں فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ (بقرہ - ۴۷) کے الفاظ آتے ہیں۔ یہ ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ کی بعثت کے وقت بنی اسرائیل میں وہ ساری کمیاں پوری طرح موجود تھیں جو آج مسلمانوں میں نظر آتی ہیں، مگر اس کے باوجود غیر مسلموں پر تبلیغ حق کے کام کو موخر نہیں کیا گیا۔ تعالیٰ نے ایک طرف یہ حکم دیا کہ بنی اسرائیل کی دینی و اخلاقی اصلاح کی مہم چلائی جائے۔ (یونس - ۸۷) دوسری طرف اسی کے ساتھ انھیں یہ حکم بھی دیا گیا کہ وہ مصر کی قبطی قوم کو خدا کا پیغام پہنچائیں: اِذْهَبْ إِلَى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَى فرعون کے پاس جا کیونکہ وہ سرکش ہو گیا ہے یہ نہیں کہا گیا کہ تم چونکہ خود اسلام سے دور ہو اس لئے فی الحال صرف دینی اصلاح میں مشغول رہو بلکہ اپنی داخلی اصلاح کے ساتھ بیک وقت غیر مسلم قوم کو خطاب کرنے پر بھی انھیں مامور کیا گیا۔
"پہلے مسلمانوں کو تیار کرو" کے ذہن کے تحت ہمارے یہاں بے شمار کام ہو رہے ہیں، حتیٰ کہ بعض ایسے یسعیاہ نبی کی زبان سے بائبل میں کہا گیا ہے : " خداوند فرماتا ہے کہ تم میرے گواہ ہو اور میرے خادم بھی جسے میں نے برگزیدہ کیا تا کہ تم جانو اور مجھ پر ایمان لاؤ ۔ میرے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔ سو تم میرے گواہ ہو “ یسعیاہ ۴۳ : ۱۲ - ۱۰ گویا اہل ایمان کی بیک وقت دو ذمہ داریاں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خود خدا کے خادم اور فرماں بردار بنیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ قوموں کے اوپر خدا کے دین کے گواہ ہوں تاکہ ، بائبل کے الفاظ میں ، جب تمام قومیں فراہم کی جائیں اور سب امتیں جمع ہوں تو یہ لوگ خدا کی طرف سے سب کے اوپر گواہ بن کر کھڑے ہو سکیں ۔
کام بھی ہیں جس کے بانی اول کا انتقال ۱۸۹۸ میں اس کے بعد یہ سلسلہ ٹوٹا نہیں بلکہ ایک دن کے ناغہ کے بغیر مسلسل آج تک جاری ہے۔ گویا مسلمانوں کو تیار کرنے کی صرف ایک جماعت وہ ہے جس کی سرگرمیوں پر پوری ایک صدی گزر چکی ہے۔ آج جب کہ اس کے حامیوں کے دعوے کے مطابق یہ تحریک بین اقوامی بن چکی ہے منقسم ہندوستان کا کوئی ایک گاؤں یا محلہ بھی ایسا وجود میں نہ آسکا جس کے متعلق یہ کہا جاسکتا ہو کہ وہ ، مذکورہ معیار کے مطابق اس قابل ہو گیا ہے کہ دوسروں کو اسلام کی دعوت
ہمارے اس ملک میں روزانہ ایک لاکھ سے زیادہ آدمی مرجاتے ہیں۔ ساری دنیا کے اعتبار سے دیکھا جائے تو روزانہ مرنے والوں کی تعداد تقریباً دس لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ کیسی عجیب بات ہے کہ ہر روز دس لاکھ آدمی دین حق سے بے خبری کی حالت میں مررہے ہوں اور ہم پوری پوری صدی صرف اس عذر میں گزار دیں کہ ابھی ہم مسلمانوں کو تیار کر رہے ہیں۔ اور یہ جواب اس نبی کے امتیوں کا ہو جس کا کہنا یہ تھا کہ لوگ پتنگوں کی طرح آگ میں گر رہے ہیں اور میں ان کو اپنی ساری طاقت سے کھینچ کر نکالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کسی کے مخارج غلط ہوں یا سورتیں یاد نہ ہوں تو ہر شخص جانتا ہے کہ نماز اس سے ساقط نہیں ہوتی۔ کے سامنے دعوتی فریضہ ادا کرنے کا ہو۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ نماز کی اہمیت ہم کو معلوم مگر شہادتِ حق اور دعوت الی اللہ کی اہمیت کی ابھی تک ہم کو خبر نہیں۔ ”اولیں پرسش نماز بود“ کا سبق ہم کو یاد ہے۔ مگر اس حقیقت کو ہم بھول گئے ہیں کہ خدا کے بے خبر بندوں کو خدا کے دین سے باخبر کرنا امتِ محمدی پر اسی طرح فرض ہے جس طرح ایک شخص کے لئے روزانہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا۔