Al-Risala · April 1977

الفاظ جو فضا میں گم ہو گئے

Al-Risala, April 1977, pp. 21–27

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا محمد علی نومبر ۱۹۳۰ء میں لندن کی گول میز کانفرنس میں شریک ہوئے تھے۔ نے جو طوفان خیز تقریر کی، اس کے چند الفاظ یہ تھے: ”آج میں جس مقصد کے لئے یہاں آیا ہوں، وہ یہ ہے کہ میں اپنے ملک کو ایسی حالت میں واپس جاؤں جب کہ آزادی کا پروانہ میرے ہاتھ میں ہو۔ میں ایک غلام ملک کو واپس نہیں جاؤں گا۔ اگر آپ مجھے ہندوستان کی آزادی نہیں دیں گے تو پھر آپ کو یہاں مجھے قبر کے لئے جگہ دینی پڑے گی۔

ہمارے پاس ۳۲ کروڑ آدمی ہیں۔ قحط اور پلیگ سے لاکھوں کی تعداد میں مرنا کہ اگر اس کو کوئی غلط عادت لگی ہوئی ہو تب بھی کوئی بھی یہ فتویٰ نہیں دے گا کہ تمھاری عادت صحیح ہو جائے، اس وقت نماز پڑھنا۔ مگر شرعی ذمہ داریوں کا یہی اصول ہم اس وقت بھول جاتے ہیں جب کہ معاملہ دوسری قوموں جاتے ہیں تو یقیناً وہ برطانوی لونی ہے۔ جان دے سکتے ہیں “ آج ان الفاظ کو تلاش کیا جائے تو وہ تاریخ کی الماری کے سوا اور کہیں نہیں ملیں گے۔

محمود پاشا بارودی (۱۳۲۲ - ۱۲۵۵)ھ قاہرہ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد د نقلہ دبر بر کے ناظم تھے ۔ وہ عربی، ترکی، فارسی اور انگریزی زبانیں انھیں دو چیزوں کا ذوق تھا۔ اور شاعری ۔ ان کا اپنا دیوان دو جلدوں میں مصر سے شائع ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک کتاب " مختارات البارودی “ ہے۔ اس کتاب کے چار حصے ہیں اور اس میں عہد عباسی کے ۳۰ شاعروں کے کلام کا انتخاب ہے ۔

مصر میں وہ مختلف سرکاری عہدوں پر فائز میجر جنرل کی حیثیت سے انھیں فرانس اور انگلستان کے سفر کا بھی موقع ملا ۔ مصر میں جب انگریزوں کے خلاف بغاو ت ہوئی تو اس میں ان کا نام بھی تھا۔ عام چرچا یہ تھا کہ بارودی اس انقلابی تحریک کے تاہم یہ بغاوت وادی نیل پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد ختم ہوگئی ۔ مگر حکومت نے باغیوں کی پکڑ دھکڑ شروع کی تو بارودی بھی اس میں گرفتار ہوئے ۔ ان کے ناموافق حالات نے ان کے لئے ایک نیا موافق امکان پیدا کر دیا مادہ جب "برباد" کیا جاتا ہے تو وہ انرجی بن جاتا ہے جو مادہ کی زیادہ وسیع اور طاقت ور صورت ہے۔ خدا کی اس کائنات کا عام قانون ہے۔

یہاں ہر محرومی کے اندر ہمیشہ ایک نئی یافت کا امکان چھپا رہتا ہے۔ رگیر سرکشانی کو بار بار روکی.ی اس کافر فرمانروار ہے ان کو جلا وطن کرکے جزیرہ سراندیپ میں بھیج دیاگیا ۔ وہاں وہ سترہ سال سے کچھ زیادہ عرصہ تک قید ر ہے ۔ پاک کی صفت خاص جس کا ظہور عالم مادی میں ہوا ہے، اس کا وعدہ زیادہ ترے خدیو عباس ثانی کی سفارش پر، ۱۳۲۸ھ میں ان کو معافی دی گئی۔ وہ مصر واپس آگئے۔ اس کے بعد وہ صرف پانچ سال تک زندہ رہ سکے۔ آخر میں ان کی بینائی جاتی رہی تھی ۔

کہا جاتا ہے کہ بارودی کو عربی شاعری میں امرؤالقیس اور بشار کا درجہ حاصل تھا۔ موجودہ دور میں عربی شاعری کے احیاء کا کام کیا۔ پیمانہ پر اہل ایمان کے لئے کیا گیا ہے۔ ان کے لئے ان کا رب ناموافق حالات میں بھی موافق پہلو پیدا کر دیتا ہے، بشرطیکہ وہ فی الواقع خدا کے ہو چکے ان کی منصوبہ بندی خالص خدائی مشن کے لئے ہو نہ کہ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لئے۔

مکہ میں جب مسلمانوں کے حالات سخت ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے کہا: "تم لوگ حبش چلے جاؤ۔ وہاں کا بادشاہ نجاشی عیسائی ہے اور نیک نفس ہے۔ وہ تم لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک " چنانچہ ۵۱ھ میں پندرہ آدمی جدہ پہنچے اور کشتیوں پر سوار ہو کر حبش چلے گئے، دوسری بار ،۶۱میں ایک سو مسلمان حبش گئے۔

بظاہر یہ ایک ناپسندیدہ واقعہ تھا۔ مگر اس کے اندر اللہ تعالی نے ایک خیر کی صورت پیدا کر دی۔ مسلمانوں کا حبش پہنچنا وہاں اسلام کو موضوع بحث بنانے کا سبب بن گیا۔ پیغمبر اسلام کی بعثت اور آپ کی دعوت کی خبریں حبش میں پھیلنے لگیں۔ قریش کا ایک مخالفانہ وفد حبش پہنچنے کے نتیجہ میں حضرت جعفر کو موقع ملا کہ دربار شاہی میں اسلام کی دعوت پر مفصل تقریر کر سکیں ۔ اس طرح کے واقعات کا نتیجہ یہ ہوا کہ حبش سے ۲۰ عیسائیوں کا ایک وفد مکہ آیا تا کہ اصل معاملہ کی تحقیق کر سکے۔ جب یہ لوگ مکہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد حرام میں تھے۔ وہ وہاں گئے اور آپ سے مل کر مختلف سوالات کئے اور پوچھا کہ آپ کیا تعلیم لائے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ خدا نے میرے اوپر اپنا کلام اتارا ہے اور اور قرآن کی کچھ آیات پڑھ کر سنائیں۔ یہ لوگ چونکہ تعصب سے خالی تھے ، قرآن سن کر بہت متاثر ہوئے ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ انھوں نے تصدیق کی کہ بلاشبہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ اور اسی وقت اسلام قبول کر لیا۔ جس وقت یہ واقعہ ہو رہا تھا ، قریش کے بہت سے لوگ وہاں جمع تھے اور سارا ماجرا دیکھ رہے تھے۔ حیرت بھی تھی اور غصہ بھی آرہا تھا کہ جس دین کو انھوں نے رد کر دیا ہے، اس کو باہر کے لوگ آ کر اپنا رہے ہیں۔ کے یہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھے تو ابو جہل اپنے کچھ ساتھیوں کو لے کر ان سے راستہ میں ملا۔ اس نے ان لوگوں کو ملامت کرتے ہوئے کہا: " ہمارا خیال ہے کہ تم سے زیادہ احمق قافلہ یہاں کبھی نہیں آیا۔ تمھارے ہم مذہب لوگوں نے تم کو اس لئے یہاں بھیجا تھا کہ تم اس شخص کے حالات کی تحقیق کرو اور واپس جا کر اپنے ساتھیوں کو بتاؤ۔ مگر ابھی تم اس سے ملے ہی تھے کہ اپنے دین کو چھوڑ بیٹھے۔

جیسا کہ قرآن میں بتایا گیا ہے یہ بنی اسرائیل کے علماء تھے ۱۹۷) انھوں نے ابو جہل وغیرہ سے کوئی بحث بلکہ صرف یہ جواب دیا: "سلام ہے بھائیو تم کو، ہم تمھارے ساتھ جہالت نہیں کر سکتے۔ ہمیں ہمارے طریقے پر چلنے دو اور تم اپنے طریقے پر چلتے رہو۔ ہم اپنے آپ کو جان بوجھ کر بھلائی سے محروم نہیں رکھ سکتے۔ " (ابن ہشام) انھیں لوگوں کے بارے میں قرآن میں آیا ہے : "جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور جب ان کو سنا دیا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائے، یہ بلاشبہ خدا کی طرف ہم تو پہلے ہی سے اس کو ماننے والے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو دہرا اجر دیا جائے گا، ان کے صبر کے بدلے۔ برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے انھیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ انھوں نے جب لغوبات سنی تو یہ کہہ کر اس سے الگ ہوگئے: ہمارے اعمال ہمارے ساتھ اور تمھارے اعمال تمھارے ساتھ، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔

الرساله کے شائقین سے گزارش ہے کہ وہ پرچہ بذریعہ وی پی طلب نہ فرمائیں، بلکہ اپنا زر تعاون منی آرڈر کے ذریعہ بھیج دیں ۔ طرفین کے لئے سہولت کا باعث ہے۔

جو لوگ سالانہ یا ششماہی زر تعاون یکوقت ادا نہ کر سکیں، وہ ہر مہینے دو روپے کا ٹکٹ لفافہ میں رکھ کر بھیج دیں۔ پرچہ انھیں روانہ کر دیا جائے گا۔

خریدار حضرات براہ کرم اپنے خطوط میں خریداری نمبر کا حوالہ ضرور تحریر فرمائیں ۔ خط و کتابت کے وقت مازر تعاون لکھتے ہوئے اپنا پتہ صاف اور حتی الامکان انگریزی میں پته پر کسی شخص کا نام نہ لکھیں ۔ الرساله یا منیجر الرساله تحریر فرمائیں منی آرڈر کوپن پر اپنا پورا پتہ ضرور الرساله نه صرف ملک کے مختلف حصوں میں پڑھا جاتا ہے بلکہ ملک کے باہر بھی عرب دنیا اور دوسرے علاقوں میں جاتا ہے۔ الرساله میں اشتہار دے کر اپنی تجارت کو فروغ دیں۔ نائلون و پلاسٹک کے بٹن ہر کوالٹی اور ہر رنگ میں قمیص کوٹ، پینٹ، چسڑ اور کالر، شولڈر پیڈ وغیرہ کیلئے ہول سیل ریٹ پر طلب فرمائیں۔

دہلی بٹن اسٹور ۱۱۰۵ نواب منزل کشن گنج آزاد مارکیٹ دھلی ۔

مسلمانوں کا علمی و ذہنی انحطاط بارہویں یا تیرھویں صدی سے شروع ہوا اور سترھویں صدی میں ہم کشف الظنون کے مولف اور قدیم طرز کے عالم حاجی خلیفہ (۱۷۵۰) کو علم کلام اور علوم عقلی کے عام انحطاط پر ماتم کناں اپنی کتاب میزان الحق في اختیار الحق میں یہ کہتے ہوئے کہ امام غزالی و امام فخر الدین رازی، قاضی بیضاوی وشیرازی و قطب الدین رازی و سید شریف جرجانی اور جلال الدین دوانی اور ان سب کے تلامذہ اپنے عہد کے جید عالم اور مانے ہوئے صاحب و فکر و نظر تھے۔ لیکن انھوں نے کسی لمحہ بھی یہ گوارہ نہیں کیا کہ وہ علم و فن کی کسی ایک ہی شاخ کے ہو کر رہ جائیں، حاجی خلیفہ نے لکھا ہے۔

”لیکن بہت سے عجمی لوگ اس بنیاد پر کہ یہ علوم عقلی کبھی ممنوع قرار دے گئے تھے چٹانوں کی مانند جامد رہے اور قدماء کی اندھی تقلید کے قیدی بن گئے بغیر سوچے ہوئے کہ حقیقت حال کیا ہے انھوں نے نئے علوم کی طرف سے نہ صرف یہ کہ آنکھیں پھیر لیں بلکہ انھیں پورے طور پر رد کر دیا۔ انھوں نے اپنے آپ کو عالم سمجھا حالانکہ وہ نرے جاہل تھے۔ اس کے شوقین کہ اس چیز کا مذاق اڑائیں جسے وہ فلسفیانہ علوم تصور کرتے تھے حالانکہ انھیں اس کی خبر نہ تھی کہ زمین کیا چیز ہے اور آسمان کیا ہے ۔ اولم ينظروا في ملكوت السموات قرآن کریم کی اس ہدایت کا ان پر کوئی اثر ان کا خیال تھا کہ کائنات اور اس فضائے بسیط کو دیکھنے کے معنی یہ ہیں کہ انھیں گائے کی مانند گھورا جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے ۱۹۸۰ء پروفیسر ضیاء الحسن فاروقی وہ سیاست میں الجھ گئے، حالانکہ ضرورت یہ تھی کہ اسلام کی فطری قوتوں کو بروئے کار لانے کی جدوجہد سے لے کر جب صلحنامہ برلن پر دستخط ہوئے اور جس کے سبب سلطنت عثمانیہ کے انتشار وانحطاط میں تیزی پیدا خاص طور سے 1911ء سے جب طرابلس پر اٹلی کا یونیورسٹیوں اور کالجوں کے تعلیم یافتہ مسلم دانشور اور مدرسوں کے پڑھے ہوئے علماء سب سیاست کے جال میں ایسے الجھے کہ ملت اسلامیہ ہند کی ذہنی و روحانی ضروریات کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی۔ میں اولین اہمیت کی ضرورت یہ تھی کہ بغیر کسی انحراف تحریف کے اور دین اسلام کے اصولوں کو مستحکم رکھتے ہوئے انھیں کی بنیاد پر روایت اور عہد جدید کے قابلِ قبول تقاضوں کے مابین ربط اور مطابقت پیدا کی جاتی۔ تہذیب اسلام ایک زندہ اور جاندار تہذیب ہے، اس نے زمانے کے بے شمار نشیب و فراز دیکھے ہیں، نہ معلوم کتنی آزمائشوں سے یہ گزری ہے۔ پھر بھی زندہ اور باقی ضرورت ہے کہ اسکی فطری قوت متحرکہ کو بروئے کار مسلمانوں کو اس کی شدید ضرورت ہے۔ بھی اس کی طالب اور منتظر ہے۔

انکار کرنے والوں کی نفسیات ہمیشہ ایک رہی ہے سچائی اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔

وہ فطرت کی آواز ہے۔ علم وعقل کے سارے دلائل اس کے حق میں جاتے ہیں۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ بے آمیز سچائی سامنے آئے اور اس کے خلاف کوئی مضبوط دلیل قائم کی اس کے باوجود ساری تاریخ میں یہ ہوتا رہا کہ جو خدا کا بندہ بھی حق کی دعوت لے کر اٹھا، لوگوں نے اس کا انکار کیا :

افسوس لوگوں پر، جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا وہ اس کا استہزاء کرتے رہے ۔

اس انکار حق کی وجہ کیا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حق کا اعلان، سنت اللہ کے مطابق، ہمیشہ کسی " انسان " کی زبان سے ہوتا ہے، فرشتوں کی زبان سے یا پہاڑوں اور سمندروں کے ذریعے اس کا اعلان نہیں اب چوں کہ عام لوگ کسی بات کو اس کی اندرونی قیمت کے لحاظ سے نہیں دیکھ پاتے بلکہ اس سے متاثر ہوتے ہیں کہ بات کو کہنے والا کون ہے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے ہی جیسا ایک آدمی حق کا حامل کس طرح ہمارے ہی جیسا ایک گوشت پوست کا مجموعہ خدا کی اس نعمت سے بہرہ مند کیونکر ہوسکتا ہے کہ اس کو خدا کی طرف سے سچائی کی معرفت حاصل ہو جائے اور اس کو اس مقام پر کھڑا کیا جائے کہ وہ دوسروں کو حق سے باخبر کرے ۔

قرآن میں ہے کہ حضرت ہود علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو حق کی دعوت دی تو ان کو قوم کی طرف سے یہ یہ جواب ملا :

يَٰهُودُ مَا جِئۡتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَّ مَا نَحۡنُ بِتَارِكِيۡ اٰلِهَتِنَا عَنۡ قَوْلِكَ وَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ ۔ اے ہود تم کوئی دلیل لے کر نہیں آئے ہو اور ہم صرف تمھارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ تمھاری بات پر یقین کرنے والے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو حق کا پیغام دیا تو انھوں نے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا : ان ھذا الا قول البشر مدثر۔ یہ تو صرف آدمی کا قول ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت حق کا انکار کرنے کی نفسیات ہمیشہ کیا رہی ہے : یہ تو ایک آدمی کی بات ہے جو فلاں شخص کا لڑکا ہے۔ ذاتی حوصلہ مندی نے اس کو اس قسم کے کام کے لئے ابھار دیا ہے (لتكون لكما الكبرياء فی الارض) اس کو یہ جرأت اس لئے ہو رہی ہے کہ کچھ لوگ اتفاق سے اس کو مدد کرنے والے مل گئے ہیں (دَاعَانِہ علیہ قوم آخرون) وغیرہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آج آپ کے مخالفین بھی عزت و احترام کے ساتھ لیتے ہیں کیونکہ آج آپ کے نام کے گرد چودہ سو برس کی عظمتیں قائم ہو چکی ہیں۔ مگر آپ کی زندگی میں ، جب کہ یہ تاریخ آپ کے گرد جمع نہیں ہوئی تھی ، مکہ کے لوگ آپ کو ” ابن ابی کبشہ “ کہتے تھے۔ جس کا مطلب ہوتا تھا : فلاں دیہاتی کا لڑکا۔

نبت کے ابتدائی سالوں کا واقعہ ہے قریش کے سرداروں نے نبی اللہ علیہ وسلم سے کہا اگر تمھارا پیغام حق ہے اور تم خدا کے رسول ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرواؤ اور ان میں قصی بن کلاب بھی ضرور ہوں اگر قصی بن کلاب نے زندہ ہو کر کہہ دیا کہ وہی بات حق ہے جو تم کہتے ہو تو ہم ضرور مان لیں گے۔ اس مطالبہ کی نفسیات یہی تھی کہ اس وقت قریش کی روایات کے مطابق قصی بن کلاب کے حق میں تاریخی عظمتیں قائم ہو چکی تھیں جبکہ "محمد بن عبد اللہ" ابھی ایک نوخیز شخص تھے ۔ انھیں مکہ کے معاشرہ میں اس قسم کی عظمت کا مقام ابھی حاصل نہیں ہوا تھا۔ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ”ظاہر“ کو دیکھ کر رائے قائم کرتا ہے، کسی حقیقت کو وہ اس وقت تک تسلیم نہیں کرتا جب تک اس کے گرد ظاہری لوازم جمع نہ ہو چکے حالاں کہ اصلی یافت یہ ہے کہ آدمی حقیقت کو اس وقت دیکھ لے جب کہ وہ معری شکل میں ہوتی ہے۔ اس کے گرد و زخارف کا انبار اکٹھا ہو جائے، اس وقت کا دیکھنا معتبر نہیں ۔ اس وقت تو ایک اندھا بھی ہاتھوں سے ٹٹول کر حقیقت کو پالیتا ہے۔

Printed page