Al-Risala · April 1977

درخواست کے بغیر

Al-Risala, April 1977, pp. 27–32

By Maulana Wahiduddin Khan

بھٹنا گر (1914)

نے 1933ء میں ایم ایس سی میں ٹاپ کیا تو گھر والوں کی بہترین تمنا یہ تھی کہ وہ آئی سی ایس کے مقابلہ میں بیٹھیں ۔ اس وقت ممتاز طالب علموں کے کے لئے سب سے زیادہ پرکشش چیز یہی تھی ۔ ڈاکٹر بھٹنا گر کے علمی شوق نے انھیں مجبور کیا کہ وہ آئی سی ایس افسر بننے کے بجائے ٹیچر اور اسکالر بننے کو ترجیح دیں ۔

1950ء کا واقعہ ہے پروفیسر ہمایوں کبیر وزارت تعلیم میں سکریٹری تھے ۔ ان کو ایک ایسے قابل ریاضی داں کی تلاش تھی جس کو انڈین انسٹی آف سائنس بنگلور میں اپلائیڈ میتھمیٹکس کے شعبہ کا صدر بنایا جاسکے ۔ انٹرویو کے لئے سلکشن کمیٹی مقرر ہوئی جس کے صدر خود ہمایوں کبیر تھے ۔ کمیٹی کو درخواست دہندگان میں کوئی بھی شخص عہدہ کے لائق نہ ملا۔

پروفیسر ہمایوں کبیر نے پروفیسر ڈی۔ سے کہا جو کہ سلیکشن کمیٹی کے ممبر بھی تھے: "کیا ہمارے ملک میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس عہدہ پر بیٹھنے کے لائق ہو؟ " کوٹھاری نے کہا: "کم از کم ایک شخص تو مجھے معلوم ہے، اور وہ ڈاکٹر بھٹنا گر ہیں"۔ ہمایوں کبیر نے تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فوراً ڈاکٹر بھٹنا گر کے نام اپائنٹمنٹ لیٹر بھیج دیا، اگرچہ موصوف نے اس عہدہ کے لئے کوئی درخواست نہیں دی تھی۔ ڈاکٹر بھٹنا گر نے ٹیچر کے مقابلہ میں صدر بننے کی پیشکش کو بجر قبول کیا تھا۔ تاہم وہ ان کے لئے مزید عہدوں کا زینہ بنا۔ وائس چانسلر راجستھان یونیورسٹی اور جے پور یونیورسٹی، ممبر یونین پبلک سروس کمیشن - ۱۹۴۸ میں ان کو پدم بھوشن کا خطاب دیا گیا۔ یہ تقریب ڈاکٹر ذاکر حسین کے ہاتھوں انجام پائی تھی جو اس وقت صدر جمہوریہ ہند تھے۔

ترکی مشرق و مغرب کا سنگم ہے اس لیے مغربی تہذیب سے تصادم کا مسئلہ سب سے پہلے یہیں پیش جدید تاریخ کا ایک صفحہ مگر اس کے جواب میں کیا ہوا۔ ایک طرف قدیم علماء کا گروہ تھا جو مغرب کی طرف سے آنے والی ہر چیز کا اس درجہ مخالف تھا کہ سلطان سلیم ثالث (۱۸۰۴ء-۱۷۸۹ء) اور اس کے جانشین سلطان محمود (۱۸۳۹ء-۱۸۰۸ء) کی نئی فوجی تنظیمات اور ان جدید اصلاحات تک کی مخالفت کی جو انھوں نے ترکی کو عسکری اور علمی لحاظ سے یورپ کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے دوش بدوش لے چلنے کے لیے نافذ کی تھیں ۔

دوسری طرف ترکی کی وہ نئی نسل تھی جو پیرس اور برلن اور لندن کی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر کے آئی تھی، وہ ترکی کو مغرب کے رنگ میں رنگ دینا چاہتی ان کی انتہا پسندی کا عالم یہ تھا کہ انھوں نے مغربی تقلید کے جواز کے لیے ایک پورا فلسفہ بنا ڈالا۔ الپ نے کہا:

" مغربی تہذیب در حقیقت بحر روم کی تہذیب کا امتداد ہے، اس تہذیب (جس کو ہم بحیرہ روم کے منطقہ کی تہذیب کہتے ہیں) کے بانی سماری، سیتھی فنیقی رعاة، ترکی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔

تاریخ میں قدیم زمانوں سے پہلے ایک طورانی دور کا وجود ملتا ہے، اس لیے کہ وسط ایشیا کے قدیم باشندے ہمارے اجداد تھے۔ اس کے بعد مسلمان ترکوں نے اس تہذیب کو ترقی دی اور اس کو یورپ تک پہنچایا، پھر مغربی و مشرقی سلطنت روما کے خاتمہ کے بعد ترکوں نے یورپ کی تاریخ میں انقلاب پیدا کیا، اور اسی بنیاد پر ہم مغربی تہذیب کا جزو ہیں اور ہمارا اس میں حصہ ہے“۔

ان کا منتہائے فکر یہ تھا کہ ”وہ اپنے دماغ سے کام لے کر اپنے کو مغرب کی روشن اور بلند پایہ تہذیب میں نصب کر لیں“ (عوفان اور گا، اتا ترک، ۲۹۷) کمال آتاترک (۱۹۳۸ء - ۱۸۸۱ء) جب ۱۹۲۳ء میں ترک جمہوریہ کے پہلے صدر مقرر ہوئے تو ان کے نزدیک جو سب سے اہم کام تھا وہ یہ کہ ترکوں کو مغرب کا لباس پہنا دیں۔ انھوں نے پردہ کو خلاف قانون قرار دیا۔ عربی حروف کی جگہ لاطینی حروف جاری کیے۔ عربی میں اذان ممنوع ہوگئی۔ ہیٹ کا استعمال لازمی قرار دیا حتیٰ کہ جب ایک خوں ریز انقلاب کے بعد ہیٹ کی جنگ جیت لی گئی تو مصطفیٰ کمال نے مکہ کی موتمر اسلامی (۱۹۲۷) میں شرکت کے لیے ترک پارلیمنٹ کے ایک ممبر ادیب ثروت کو اس حال میں روانہ کیا کہ وہ اس کے واحد مندوب تھے جو اپنے سر پر مغربی ہیٹ رکھے ہوئے تھے۔ یہ گویا ترکی کی فتح عظیم کا اعلان تھا۔

یہی مثال ہر مسلم ملک میں پیش آئی ہے۔ ڈگری کا فرق تو ہو سکتا ہے مگر نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ یہی ہوا کہ قدیم مذہبی طبقہ نے مغرب سے نفرت او اجتناب میں زندگی کا راز بتایا اور جدید تعلیم یافتہ نے مغرب کی تقلید سے یہ امید کی کہ وہ دوبارہ بام عروج پر پہنچ مگر یہ مثال کہیں نظر نہیں آتی کہ کچھ لوگ شدت سے اس پہلو کی طرف قوم کو متوجہ کر رہے ہوں کہ قوت و طاقت کے اس راز کو معلوم کرو جس سے مسلح ہو کر مغرب تمہارے اوپر اور دنیا کے اوپر چھا رہا ہے۔

ایک بار میں ایک دیہات میں گیا ہوا تھا۔

وہاں میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے نیم کا درخت کاٹا اور اس کے بعد اس کے تنے کا چھلکا اتار نے لگا۔ " آپ اس کا چھلکا کیوں آتار رہے ہیں، میں نے دیہات کے اس آدمی سے پوچھا۔ اس نے مسکرا کر جواب دیا : " اگر چھلکا نہ اتارا جائے تو اس کے اندر کیڑے لگ جائیں گے اور لکڑی کو خراب کر دیں گے۔ یہ دس سال پہلے کی بات ہے۔ اگست ۱۹۷۵ میں دوبارہ مجھے ایک اور دیہات میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ نیم کا ایک کٹا ہوا تنہ پڑا ہے۔ ایک شخص نے اپنے گھر کے پاس نیم کا ایک درخت کاٹ دیا تھا مگر اس کا چھلکا نہیں یہ دیکھ کر مجھے دس سال پہلے والی بات یاد میں نے سوچا کہ تجربہ کر کے دیکھوں کہ اس کی بات صحیح بھی یا نہیں۔ میں نے اس کے گھر کے ایک آدمی سے کہا کہ کوئی اوزار لاؤ اور اس کا چھلکا اتارو۔ جب اس نے چھلکا اتارا تو میں نے دیکھا کہ چھلکے کے نیچے ایک انچ کے موٹے موٹے کیڑے ہیں یہ کیڑے نہایت نرم تھے مگر انھوں نے تنے کی سطح کو جگہ جگہ اس طرح کاٹ ڈالا تھا جیسے اس کے اندر نالیاں بنائی گئی ہوں۔

یہ قدرت کا نظام ہے۔ قدرت اس طرح سبق دیتی ہے کہ اس دنیا میں تم کو نہایت محتاط رہ کر زندگی گزارنی ہے۔ کیونکہ دنیا کا نظام اس طرح بنایا گیا ہے کہ یہاں ایک غلطی تمھاری ساری خوبیوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ تمھارے سارے امکانات کو برباد کرنے کے لئے کافی ہے۔ قدرت یہ کر سکتی تھی کہ چھلکا اتارے بغیر نیم کے تنے کو محفوظ مگر اس نے یہ قانون بنا دیا کہ اس کا مالک اس کا اس کے بعد ہی اس کا تنہ اس دنیا میں محفوظ رہ سکے گا۔

اس قانونِ قدرت کا انطباق اب انسانی زندگی میں دیکھئے ۔

۱۹۴۴ میں جون پور (یو پی) کے دو آدمیوں نے مل کر کاروبار شروع کیا۔ ابتدائی سرمایہ ان لوگوں کے پاس چند سو سے زیادہ نہیں تھا۔ مگر ان کے مشتر کہ کاروبار میں خدا نے برکت دی اور چھ سال میں ان کے کاروبار کی حیثیت ۳۰ ہزار تک پہنچ گئی۔ اب دونوں میں اختلاف شروع ہو گیا اور نتیجہ علیحدگی تک پہنچا۔ ایک ثالث کے مشورہ سے طے ہوا کہ کاروبار تقسیم نہ کیا جائے بلکہ اس کی مالیت کا اندازہ کر کے اس طرح بٹوارہ ہو کہ ایک شخص نصف کے بقدر رقم لے لے اور دوسرے کو اثاثہ سونپ دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ایک شخص کو مال و اسباب اور دوسرے کو نقد پندرہ ہزار روپے دے دیئے گئے۔

۱۹۴۹ میں پندرہ ہزار روپے آج کی قیمت کے لحاظ سے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھے۔ جس شخص نے نقد رقم لی تھی، اس نے جون پور کے ایک بازار میں کپڑے کی دکان انھیں شروع ہی سے بڑا اچھا میدان ملا اور ایک سال میں ان کا سرمایہ دگنا ہو گیا۔ کے دوسرے سال میں وہ اس طرح داخل ہوئے کہ ان کے سامنے ترقی اور کامیابی کا ایک نہایت وسیع دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مگر اب ایک کم زوری نہایت آہستگی سے ان کے اندر داخل ہو گئی۔ وہ خرچ کے بارے میں لاپروا

ہو گئے ۔ اپنی ذات پر ، بیوی بچوں پر اور دوستوں پر ان کا خرچ بے حساب بڑھ گیا ۔ وہ بھول گئے کہ دن بھر کی بکری سے ایک ہزار روپئے جوان کے گلہ میں آئے ہیں ان میں سے صرف ۱۰ فی صدا ن کا ہے ، باقی ۹۰ فی صد مہاجن کا ہے۔ وہ اپنے گلہ کی رقم اس طرح خرچ کرنے لگے گویا یہ سارا روپیہ ان کی آمدنی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے وکیل کی جیب میں فیس کی جو رقم آتی ہے وہ سب اس کی آمدنی ہوتی ہے۔

دکان داری کے ساتھ اس قسم کی شاہ خرچی نہیں چل سکتی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ چند سال میں وہ دیوالیہ ان کے پاس پندرہ ہزار میں سے ایک روپیہ بھی باقی نہ رہا۔ اس واقعہ کے بعد وہ تقریباً پندرہ سال تک زندہ رہے۔ مگر دوبارہ کوئی کام نہ کرسکے ۔ نے مشورہ دیا کہ تبلیغ میں " چلے " دے دو تو تمھارا کام بن جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کیا۔ مگر واپسی کے بعد پہلے سے بھی زیادہ برا حال ہو گیا۔ یہاں تک کہ پریشانی کے عالم میں وہ ۱۹۷۱ء میں ایک جیپ سے ٹکرا گئے اور سڑک ہی پر ان کا انتقال ہو گیا۔

یہ ایک انفرادی واقعہ ہے جس میں نظر آ رہا ہے کہ زندگی میں ایک غلطی کس طرح سارے امکان کو برباد کر دیتی ہے اور آدمی کو ناکامی کے آخری کنارے پہنچا

اب ایک قومی مثال لیجئے ۔ انیسویں صدی کے نصف آخر کا مصری حکمراں خدیو اسمٰعیل پاشا ۱۸۳۰) نہایت اولی صلاحیت کا مالک تھا۔ اس نے ایسی پالیسی اختیار کی کہ مصر عملی طور پر ترکی سے آزاد ہو گیا۔ بحر احمر اور بحر روم کو ملانے کے لئے نہر سوئز کا منصوبہ جو ۱۸۶۶ میں بنا وہ اس لئے مکمل ہو سکا کہ اس وقت کے اس مصری حکمراں نے اس تجویز کی اہمیت کو سمجھ لیا اور اس کی منظوری دے دی۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے مصر میں ۱۸۶۷ میں اسمبلی کے طریقے کو رائج کیا۔ اس کی زندگی میں اس طرح کے بہت سے واقعات ہیں جو اس کی اعلیٰ صلاحیت کو ثابت کرتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود اسمٰعیل پاشا اس قدر نا کام ہوا کہ ۱۸۷۹ میں اس کو اپنے بیٹے توفیق پاشا کے حق میں تخت و تاج چھوڑ نا پڑا۔ اس نا کامی کی واحد وجہ خدیو اسمٰعیل پاشا کا حد سے بڑھا ہوا اسراف تھا۔ مصر میں اپنی روز مرہ فضول خرچیوں کے علاوہ جب وہ باہر (ترکی، فرانس وغیرہ) جاتا تو وہاں بے تحاشا دولت برباد کرتا۔ بعض مورخین نے اندازہ لگایا ہے کہ اس کے قرضوں کی مقدار ۱۱۰ ملین پونڈ تک پہنچ گئی تھی ۔ مزید یہ کہ ملک کے بیت المال، خیراتی اوقات اور یتیموں اور بیواؤں کے فنڈ سے بھی اس نے قرض لے رکھا تھا جو تقریباً ۳۰۰۰۰ ۵ پونڈ کے برابر تھا، ان قرضوں کی ادائیگی کے لئے اس نے مصری عوام کے اوپر ٹیکسوں کا بوجھ لا د دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے زمانے میں چالیس قسم کے ٹیکس نافذ تھے۔ عبدالرحمن الرافعی کی کتاب اسماعیل اور یوسف نحاس کی کتاب الفلاح میں اس کے ٹیکسوں کی جو تفصیل درج ہے وہ انتہائی ہیبت ناک ہے۔ مصری کسان ایک لباس پہنتے تھے جس کو زعبوط کہا جاتا اسماعیل پاشا کی حکومت نے اس کپڑے پر بھی ٹیکس لگا ایک زعبوط پر ایک ریال ٹیکس تھا۔ وقت زعبوط کی آستین پر ایک مہر ڈالی جاتی تھی ۔ یہ تھی کہ یہ مہر پانی لگنے سے چھوٹ جاتی تھی۔ اس لئے کسان اپنے زعبوط کو دھوتے ہوئے اس کے مہر کے حصے کو چھوڑ

کیونکہ معلوم تھا کہ ٹیکس وصول کرنے والے ہر وقت بازاروں میں گھومتے رہتے تھے مہر کا نشان مٹتے ہی اس کے اوپر دوسرا ریال لگا دیں گے۔ اس کثرت کے باوجود یہ حال تھا کہ دو سال تک سرکاری ملازموں اور فوجیوں کو تنخواہیں نہ دی جا سکیں۔ مگر قرض کی ادائیگی کے لئے یہ سارے ٹیکس بھی ناکافی کیونکہ اسماعیل پاشا کا اسراف بھی اسی کے ساتھ برابر جاری تھا۔ آخر وہ اندوہناک واقعہ ہوا جس نے مصر کی تاریخ بدل ڈالی۔ اسماعیل پاشا نے قرضوں کی ادائیگی کے لئے نہر سوئز میں حکومت مصر کے حصہ کو ۱۸۶۷ میں انگلستان کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ جب اس سے بھی قرضوں کا بوجھ ختم نہ ہوا تو اس نے فرانس کے قرضوں کے معاوضہ میں فرانس کو انگلستان کے ساتھ سوئز میں شریک قرار دے دیا۔ اور سوئز کے اوپر جہاں پہلے انگلستان اور مصر کا کنٹرول تھا، اب فرانس اور انگلستان کا کنٹرول قائم ہوگیا اور اسی کے ساتھ مصر میں ان کی سیاست کے داخلہ کا دروازہ بھی کھل گیا۔ جمال عبدالناصر کا ۱۹۵۶ میں سوئز کو نیشنلائز کرنا، اسماعیل پاشا کی اسی غلطی کی اصلاح مگر صدر ناصر نے یہ دوسری غلطی کی کہ اسراف کی اصلاح نا عاقبت اندیشانہ اقدام سے کرنی چاہی جو مصر کے حق میں پہلے سے بھی زیادہ مہنگی ثابت ہوئی۔

زندگی، خواہ افراد کی ہو یا قوموں کی، نہایت نازک یہاں ہر ایک کے حوصلہ اور ہوش مندی کی جانچ ہو رہی ہے۔ ہمیں ہر وقت چوکنار رہنا ہے۔ کیونکہ کوئی ایک غلطی بھی اتنی فیصلہ کن ہو سکتی ہے کہ ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دے اور ہمارے لئے بالآخر حسرت دیاں کے سوا اور کچھ نہ چھوڑے۔

ابو عبداللہ لسان الدین معروف بہ ابن الخطیب (۱۳۲۲-۱۳۷۴ء) غرناطہ میں پیدا عربی زبان و ادب، علوم دینیہ، فلسفہ و طب، ریاضی و تاریخ میں وقت کی اعلیٰ ترین تعلیم مگر حاکم غرناطہ ابو الحجاج یوسف (۱۳۵۴-۱۳۵۹ء) کے دربار میں اس کو جس چیز نے پہنچایا، وہ اس کی ادب و شاعری تھی۔ نے اس کو اپنا سیکرٹری بنا لیا۔ اس کے بعد اس کو وزیر کا منصب عطا ہوا۔ ابو حجاج کے بعد اس کا بیٹا محمد خامس تخت نشین ہوا تو اس نے بھی اس کو دفتار پر بحال رکھا۔ مگر اس کی ترقی نے اس کے حاسدوں کی تعداد بہت بڑھادی۔ انھوں نے بادشاہ کو اس کے خلاف بد گمان کر دیا۔ وہ غرناطہ سے بھاگ کر افریقہ یہاں بھی ابتداء اس کی عزت و تکریم ہوئی ۔ اس کے بعد کچھ لوگوں نے فقہا کو اس کے خلاف بھڑکایا۔ انھوں نے اس کے الحاد کا فتویٰ دے دیا۔ کچھ جو شیلے لوگ دیوار پھاند کر اس کے گھر میں گھس گئے اور گلا گھونٹ کر اس کو مار ڈالا۔

کہا جاتا ہے کہ جس طرح افریقہ میں علم و ادب کی امامت ابن خلدون پر ختم ہو گئی اسی طرح اندلس میں علم و ادب کی امامت ابن الخطیب پر ختم ہوئی۔ ابن الخطیب کا تاریخ میں بہت بلند مقام تھا۔ تقریباً ۶۰ تصنیفات چھوڑی ہیں۔ الاحاطہ فی تاریخ غرناطہ (تین جلدیں) غرناطہ کی شخصیتوں کے لئے تاریخی ڈکشنری کی حیثیت رکھتی ہے ۔

زمین کے اندر سے تیل نکالنے کا کام جدید تاریخ میں ۱۸۵۹ میں شروع ہوا جب کہ امریکہ کے ڈریک نے پنسلوانیا میں ۷۰ فٹ کی گہرائی سے تیل نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ شرقِ اوسط میں تیل کی دریافت پہلی بار ۱۹۰۸ء میں مسجد سلیمان میں ہوئی۔ اس وقت عرب دنیا پر ترکوں کی حکومت تھی۔ نے عثمانی سلطنت سے اس علاقہ میں تیل نکالنے کی خصوصی مراعات حاصل کر لیں۔

جدید صنعتی دنیا کی قوت اور ترقی کا راز یہی تیل ہے ٹھیک ویسے ہی جیسے زراعت کے لئے پانی اور انسانی جسم کے لئے خون ہوتا ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اس قدرتی دولت کا بڑا حصہ اسی زمین کے نیچے دفن ہے جس کو شرق اوسط یا خلیج فارس کے ممالک کہا جاتا ہے۔ صدی کے آغاز سے لے کر اب تک یہ دولت تمام تر مغرب کی صنعتی قوموں کے قبضہ میں رہی ہے۔ ان قوموں کی ترقی کا اصل راز وہ سستا ایندھن تھا جو انھیں نہایت آسانی سے مسلسل شرق اوسط سے مل رہا تھا۔ مسلم دنیا کے تیل سے طاقتور ہو کر وہ مسلم دنیا کے اوپر چھائے رہے۔ اکتوبر ۱۹۷۳ء کی جنگ میں تیل کے حربہ کا استعمال وہ بھی شعوری طور پر نہیں بلکہ زیادہ تر "گر بہ عاجز" کی نفسیات کے تحت پہلا تجربہ تھا، جب کہ لوگوں کو معلوم ہوا کہ تیل ایک طاقت ہے، اتنی بڑی طاقت کہ اس کا جزوی استعمال بھی پوری صنعتی دنیا کو ہلا سکتا ہے۔ آج شرق اوسط کی زمین سے جو تیل نکالا جا رہا ہے اس کی قیمت ۲۰ کروڑ ڈالر سالانہ سے بھی زیادہ ہے۔ کے اس سیلاب نے خلیج فارس کے ملکوں کو اچانک اس قدر مالامال کر دیا ہے کہ تعیشات کی ہر قیاسی مد اس کے (رسالہ اپریل ۱۹۷۷ء)

استعمال کے لئے ناکافی ہے۔ عالمی بنک کے اندازہ کے مطابق ۱۹۸۵ ء تک تیل کے ممالک کے پاس، تمام ممکن مدوں میں مسرفانہ حد تک خرچ کرنے کے بعد بھی، ایک ٹریلین ڈالر کے بقدر فاضل رقم موجود ہوگی۔

تیل کی دولت کے اس ارتکاز کو جغرافی اتفاق (ACCIDENT OF GEOGRAPHY) کہا جاتا ہے۔ ماہرین ارضیات کے اس قیاس سے زیادہ یقینی بات وہ ہے جو قرآن میں بتائی گئی ہے۔ قرآن کے مطابق، اس دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ تمام تر خدائی فیصلہ کے تحت ہوتا ہے، خواہ ظاہری آنکھوں کو واقعات کے پیچھے خدائی ہاتھ کام کرتا ہوا نہ دکھائی دے۔

خدا نے یہ دولت مسلم ممالک کو کیوں دی ہے، اس پر غور کیا جائے تو سب سے پہلے یہ حدیث ہمارے سامنے

يوشك ان يحسر الفرات عن كنز من ذهب شكوى من اهالي الحي پاکستان سے تقریباً چار سو خاکروب سعودی عرب بھیجے گئے ہیں، سعودی عرب کے اخبار الرياض (۲۳ دسمبر ۱۹۷۶ء)

کا یہ کارٹون اسی پس منظر میں ہے ایک عرب پاکستانی خاکروب کو عربی آمیز اردو میں کوڑا کرکٹ کی صفائی کے لئے ہدایات دے رہا ہے۔

Printed page