Al-Risala · April 1977

فمن حضره فلا يأخذ منه شيئاً

Al-Risala, April 1977, pp. 33–42

By Maulana Wahiduddin Khan

قریب ہے کہ فرات سے سونے کا خزانہ نکلے، اس وقت جو موجود ہو، وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔

یہ حدیث غالباً اسی سیال سونا (LIQUID GOLD) کے بارہ میں ہے جس کو تیل کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قدرتی دولت جو خلیج فارس کے علاقہ میں ظاہر ہوگی، وہ ذاتی عیش کے لئے نہ ہوگی۔ اس کے بعد جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ حرم کی توسیع اور مقامات مقدسہ کی عمارتیں ترمیم کے لئے ہے، ان کو قرآن کی سورہ توبہ آیت ۱۹ اجعلتم سِقَایَةَ الْحَآجَّ الخ) کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ اصل یہ ہے کہ تیل کا یہ قدرتی خزانہ مسلمانوں کی صنعتی پس ماندگی کی تلافی ہے۔ موجودہ دور میں مسلمان صنعت و تجارت میں دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے تھے، حتیٰ کہ بعض مغربی ماہرین کو یہ کہنے کی جرأت ہوئی کہ یہ ممالک اب کبھی بھی ، اقتصادی حیثیت سے، مغربی اقوام کے برابر نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ہزار کوششوں کے بعد جب وہ صنعتی دور (INDUSTRIAL AGE) میں پہنچیں گے تو ترقی یافتہ "دنیا مافوق صنعتی دور (SUPER INDUSTRIAL AGE) میں پہنچ چکی ہوگی ۔

تیل کی دولت کے ظہور نے صورت حال کو اچانک طور پر بدل دیا ہے۔ عالمی بنک کی رپورٹ نمبرے، ۱۴۰۳) کے مطابق پٹرولیم برآمد کرنے والے اوپیک ممالک کے ہاتھ میں آج تیل کی عالمی تجارت کا ۸۵ فی صد حصہ ہے۔ طرح انھوں نے جدید دنیا میں کلیدی اقتصادی پرزہ (ECONOMIC LEVERAGE) کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ مسلم ملکوں کے پاس تیل کی دولت کے ظہور نے انھیں اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ اس مشن کی انجام دہی کی بڑی سے بڑی قیمت دے سکیں جو خدا نے ان کے ذمہ کیا یہ مشن ہے دنیا کی قوموں کو خدا کے پیغام سے باخبر لوگوں کو بتانا کہ مرنے کے بعد وہ اپنے مالک کے رفیع... ایدر جائیگا! (الزبالة هندسة بالتفل "هائگا هایگا")

الکلمات اللغویة وسیمة دو صفحہ پر...

پاس جانے والے ہیں اور وہاں ان کا رب ان کے اعمال کا حساب لے گا۔

سے محروم ہو چکے تھے ۔ اس وقت بیابان میں من وسلویٰ اتار کر خدا نے ان کی اقتصادی محرومی کی تلافی کر دی ۔ مسلمان جدید دور میں اقتصادی حیثیت سے اپنے مشن کو اعلیٰ معیار پر انجام دینے کے قابل نہ ر تھے۔ خدا نے ان کو صنعتی دور کا خزانہ دے کر ان کا یہ عذر ختم یہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ٹھیک ویسا ہی ایک معاملہ ہے جو بنی اسرائیل کے ساتھ چار ہزار برس پہلے پیش آیا تھا۔ بنی اسرائیل جب مصر کے زرخیز علاقے سے نکل کر صحرائے سینا میں پہنچے تو وہ تمام اقتصادی ذرائع یہ نصرت الہی کی غیر معمولی صورتیں ہیں۔ اس کے بعد بھی جو قوم اپنی دینی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرے، وہ خدا کی نظر میں اتنی بڑی مجرم ہو جاتی ہے جس کے بعد کوئی بھی عذر سنا حامل کتاب قوم کے لئے مواقع کار کی فراہمی اللہ نے اپنے ذمہ لے لی ہے، مگر اس کے بعد کا کام تو بہر حال خود ہم کو انجام دینا پڑے گا۔ مواقع کار جتنے زیادہ ہوں، ذمہ بھی اتنی ہی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

Printed page