سوال و جواب
Al-Risala, April 1977, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
’’میں الرسالہ کو باقاعدہ خرید کر پڑھ رہا ہوں۔ مجھے آپ کی بہت سی باتوں سے مکمل اتفاق ہے۔ تفصیل میں بالکل نہیں جاؤں گا۔ میں آپ کی توجہ الرسالہ جنوری ۱۹۷۷ء میں ”ایک خاندانی جھگڑا جو پوری تاریخ پر چھا گیا‘‘ کے عنوان سے جو مضمون چھپا ہے اس کے چند اقتباسات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔ ‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اگر خلافت راشدہ کے آخر میں آپس کی لڑائیاں شروع نہ ہو گئی ہوتیں تو طاقت و قوت کا بے پناہ سیلاب جو عرب سے اٹھا تھا ایشیا، افریقہ اور یورپ کے تمام علاقوں کو توحید کا علاقہ بنا دیتا، بلاشبہ ان لڑائیوں سے تحریک اسلامی کو زبردست نقصان پہنچا۔ مگر اس قسم کی تحریر سے اگر کوئی بھی شخص یہ سمجھے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ پھیلا تو کیا وہ غلط ہوگا؟ ’’حضرت عمرؓ اپنے بعد علیؓ بن ابی طالب کو موزوں ترین شخص سمجھتے تھے۔ مگر اسی اندیشہ کی بنا پر وہ آنجناب کو نامزد نہ کرسکے۔ ‘‘ اس طرح کے اندیشہ کا ٹھوس ثبوت سوال یہ بالکل نہیں ہے کہ خلافت کے لئے موزوں ترین شخص حضرت علیؓ تھے یا عثمانؓ سوال یہ ہے کہ حضرت عمرؓ جیسے محتاط اور زبردست قوتِ ارادی والے شخص جس نے حضرت خالد بن ولید کو سپہ سالاری سے صرف اس لئے معزول کر دیا تھا کہ مسلمان یہ نہ سمجھنے لگیں کہ فتح خالدؓ کی وجہ سے ہو رہی ہے) سے یہ توقع ہرگز نہیں کی جاسکتی کہ وہ محض ایک سیاسی مصلحت کی بنا پر تحریک اسلامی کو ایک موزوں ترین شخص کی لیڈرشپ سے محروم کر دیتے ۔
مذکورہ مضمون سے اس طرح کے چند اور اقتباسات نقل کرنے کے بعد اچھے تاریخ دان اس طرح کے COMMENTS کو پسند میں خود بھی تاریخ کا طالب علم ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ HISTORICAL GENERALISATIONS میں ایسی غلطیاں بہت عام ہیں۔ اسی لئے کہا گیا ہے تاریخ کے چند HARD FACTS پر کوئی بھی نظریہ قائم کرتے وقت اسے TENTATIVE ہی سمجھنا چاہئے اور بہت ہی احتیاط
کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ اب کوئی بھی کہہ سکتا ہے کہ مولانا وحید الدین خاں جیسے جید عالم کا بھی یہ خیال .... بے شک خیال کی حد تک ہر شخص آزاد ہے۔ GENERALISATIONS کے بعض زبردست غلط فہمیوں کا موجب ہوتے ہیں۔