Al-Risala · April 1977

توقیر احمد ایم اے

Al-Risala, April 1977, pp. 43–42

By Maulana Wahiduddin Khan

۳۳ - اے ، بٹلہ ہاؤس ، جامعہ نگر، نئی دہلی ۔ جواب : تاریخی جنرلائزیشن کے بارہ میں آپ کا ارشاد بجا ہے ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ تاریخ میں اس قسم کے جنرلا ئزیشن سے بچنا ممکن نہیں۔ تاریخ کے کسی واقعہ پر یا مجموعہ واقعات پر جب بھی آپ کوئی حکم لگائیں یا اس کو کوئی تعبیر دینے کی کوشش کریں گے تو لازما آپ اسی مقام پر ہوں گے جہاں آپ نے الرسالہ کے مضمون نگار کو کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سے نہ آپ مستثنیٰ ہو سکتے ہیں نہ کوئی دوسرا مورخ۔

مثال کے طور پر مطبوعہ مضمون کے بعض حصوں کو لے کر آپ نے جو اعتراضات کئے ہیں ، وہ بھی جنر لائزیشن ہی کی صورتیں ہیں۔ آپ کا یہ کہنا کہ فلاں پیرا گراف سے یہ یہ مطلب نکالا جا سکتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ، یا فلاں عبارت سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ عمر فاروق سیاسی مصلحت کا شکار ہو گئے تھے ، یہ سب بھی جنر لائزیشن ہی کی تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے آپ اس سے بے خبر نہیں ہو سکتے کہ تاریخ میں اُس قسم کی یکسانی رائے ممکن نہیں جو فزکس اور کیمسٹری میں ہوا کرتی ہے۔ ایک تعبیر دینے والا شخص جس نازک مقام پر ہوتا ہے ، ٹھیک اسی مقام پر وہ دوسرا شخص بھی ہوتا ہے جو اس کی تعبیر کو چیلنج کر رہا ہو۔ اس لئے تاریخ میں یہ کہنا بے معنی ہے کہ جنرلائزیشن مت کرو، آپ صرف یہ کر سکتے ہیں کہ اپنے دلائل و شواہد کے ساتھ کسی دوسرے جنرلائزیشن کو پیش کریں جو آپ کے نزدیک واقعات کی زیادہ صحیح تعبیر ہو۔ ”تاریخ کے کچھ HARD FACTS پر کوئی نظریہ قائم کرتے وقت اس کو TENTATIVE ہی سمجھنا چاہئے۔ آپ کے اس ارشاد سے مجھے اتفاق ہے، صرف اس اضافہ کے ساتھ کہ تاریخ کے بارہ میں ہر نظریہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے، کوئی بھی ایسا نظریہ نہیں ، TENTATIVE نہ صرف ماضی بلکہ حال کے بارہ میں بھی نہیں، جس کو مطلق صداقت کہا جا سکے ۔ اگر کوئی شخص اس قسم کی غلط فہمی میں مبتلا ہو تو اس کے بارہ میں یہی کہا جائے گا کہ وہ انسانی علم کی حدود کو جانتا اور نہ تاریخ کے موضوع کی نزاکتوں کو۔ تاریخ میں یہ بات ایک مسلمہ حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے ، اس لئے آپ کو یہ اصرار نہیں کرنا چاہئے کہ کوئی شخص جب تاریخ کے بارہ میں اپنا حاصل مطالعہ پیش کرے تو آخر میں یہ جملہ بھی لکھ دے : قارئین اس کو محض TENTATIVE سمجھ کر میرے خیالات کا مطالعہ کریں۔

خدا سے ڈر کی پہچان یہ ہے کہ آدمی انسان سے ڈرنے اس معنی میں نہیں کہ جو زور آور ہو یا جس سے کوئی مفاد وابستہ ہو، اس سے آپ یہ تو دنیا پرستی بلکہ شرک ہے۔ ڈرنے کا مطلب صاحب حقوق سے ڈرنا ہے۔

یہ سمجھ کر لوگوں سے معاملہ کرنا کہ ہر آدمی کے پیچھے اس کا خدا کھڑا ہوا ہے اور وہ ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا ہے جس کی حق تلفی کی جائے ۔

دورِ جدید پیدا اور اس کے مقابلہ میں اسلام کے مسئلہ کا آغاز سولہویں صدی عیسوی میں ہوتا ہے جبکہ پرتگالیوں نے یورپ اور ہندوستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کر کے بحر ہند اور بحر عرب پر قبضہ کر لیا اور عربوں کی تجارت مشرقی ایشیا سے کاٹ دی۔ سترھویں صدی میں اسٹیم انجن کی دریافت اور اٹھارھویں صدی میں جدید سائنس کا وجود میں آنا یورپ کے لئے طاقت کا نیا میدان کھل جانے کے ہم معنی تھا۔ اس کے بعد ١٨٦٩ میں جب نہرِ سوئز بنی اور اس نے بحر روم اور بحر احمر کے درمیان سیدھا راستہ کھول دیا تو عالم اسلام پر مغرب کے غلبہ کا عمل اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ جب تک یہ عمل تجارتی منڈیوں پر قبضہ اور غیر سیاسی میدانوں میں نفوذ کی صورت میں ہورہا تھا، لوگ اس سے بے خبر رہے۔ مسلم رہنماؤں کو اس واقعہ کی خبر صرف اس وقت ہوسکی جب اس نے اپنے استینار کو مکمل کر کے عالم اسلام کے اوپر اپنا سیاسی جھنڈا لہرا دیا۔

انیسویں صدی کے آخر میں مسلم دنیا میں مختلف قسم کی تحریکوں کا ظہور ہوتا ہے۔ مگر اس پوری مدت میں جو بے شمار تحریکیں مسلمانوں کے درمیان اٹھیں، تقریباً سب کی سب ردعمل کی نفسیات کے تحت اٹھنے والی تحریکیں نظر ان میں کوئی تحریک ایسی نہیں ملتی جو ایجابی فکر کے تحت پیدا ہوئی ہو، خارجی طاقت کی دراندازی نے مسلم معاشرہ کے لئے جو مسائل پیدا کئے، ان سے متاثر ہو کر کچھ لوگ بس جوابی ذہن کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے وہ اصلا خارجی حالات کی پیدا وار تھے نہ کہ اسلامی تعلیمات اور سیرتِ رسول پر مثبت غور و فکر کی پیدا وار۔ رد عمل کی یہ نفسیات جن جن صورتوں میں ظاہر ہوئی، ان کو سمجھنے کے لئے ہم چار عنوانات کے تحت ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں:

تعمیر و استحکام مقابلہ آرائی کے ذہن نے سیاسی آزادی کی تحریکوں کی صورت اختیار کی۔ سید جمال الدین افغانی (۱۸۳۸ء سے لے کر ابوالکلام آزاد (۱۹۵۸ - ۱۸۸۸) تک بے شمار ایسے قائدین پیدا ہوئے جنھوں نے اپنی تقریروں اور تحریروں سے پوری مسلم دنیا کو جوش و خروش سے بھر دیا۔ جمال الدین افغانی کا نعرہ تھا: مصر للمصريين (مصر مصریوں کے لئے)۔ لیبیا میں اٹلی کے سیاسی اقتدار (۱۹۱۱ء) کے زمانہ میں سلیمان البارونی نے آواز لگائی: موتوا اليوم اعزار قبل ان تموتوا اغدا اذلار (آج عزت کے ساتھ مرجاو قبل اس کے کہ کل تم ذلت

کے ساتھ مرو) الفاظ بدل کر اس دور کے تمام سیاسی لیڈروں کا نعرہ بےی تھا۔ کروڑوں لوگوں نے اجنبی اقتدار سے رہائی حاصل کرنے کے نام پر اپنی جانیں دے دیں اور کھربوں روپے کے نقصانات کو برداشت کیا۔ آج یہ جدوجہد اپنے مقررہ نشانہ کے مطابق تقریباً تمام ملکوں میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اگر چہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جس چیز نے مغربی استعمار سے آزادی کی جدوجہد کو کامیاب بنایا وہ بڑی حد تک خود مستعمرین کی باہمی لڑائیاں تھیں، جزوی طور پر جنگ عظیم اول (۱۹۱۸-۱۹۱۴) اور زیادہ بڑے پیمانے پر جنگ عظیم ثانی (۱۹۴۵-۱۹۳۹)

تاہم آزادی کی تحریکوں کی کامیابی ان امیدوں کو پورا نہ کرسکی جن کے لئے الجزائر میں ۲۵ لاکھ اور ہندوستان میں دو لاکھ مجاہدین نے اپنے کو قربان کر دیا تھا۔ مسلم قوموں پر مغربی قوموں کا غلبہ آج بھی بدستور باقی ہے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ پہلے یہ غلبہ فوجی اور سیاسی معنوں میں تھا، اب اس نے اقتصادی اور صنعتی روپ اختیار کر لیا ہے۔ غلبہ اتنا شدید ہے کہ مسلم ملکوں کی سیاسی پالیسیاں بھی حقیقی معنوں میں آزاد پالیسیاں نہیں ہٹیں وہ عملاً انہیں مغربی قوموں کے ہاتھ میں ہیں جن سے ہتھیار خرید کر وہ اپنا دفاع کرتے ہیں، جن کی تکنیکی امداد سے وہ اپنے تمدنی شعبوں کو چلا ان کے اثرات اب بھی اتنے گہرے ہیں کہ وہ جب چاہیں احمد و بلو (۱۹۶۶) یا شاہ فیصل (۱۹۷۵) کو قتل اردن (۱۹۷۱ء) اور شام (۱۹۶۶ء) کے ہاتھوں فلسطینی تحریک کو کچل ڈالیں۔ ایران کے عوامی انقلاب (۱۹۵۱) کو ناکام بنا دیں۔ مصر کو اپنے اس دشمن سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیں جس کے بارے میں جمال عبد الناصر (۱۹۶۰ - ۱۹۱۸) نے فخریہ کہا تھا : نحن ابناء الفراعنة سنريكُم فى البحر هم فرعونوں کی اولاد ہیں، تم کو سمندر میں پھینک دیں گے) وغیرہ۔ ۲- تحفظ کی تحریکوں نے عام طور پر تعلیم دین کا رخ اختیار کیا، مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴-۱۸۵۷) نے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو میں اپنی تقریر میں کہا تھا : ’’دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ وہ آگے بڑھیں، آگے بڑھیں ،ہماری ترقی یہ ہے کہ ہم پیچھے نہیں پیچھے ہیں۔ یہاں تک کہ دور نبوت سے جاملیں اس ذہن کے تحت تمام ملکوں میں یہ شمار مدارس قائم کئے گئے۔ ان مدارس کا مقصد یہ تھا کہ مسلم نسلوں کو عربی زبان اور اسلامی علوم کی تعلیم دی جائے اور ان کو کم از کم ذہنی حیثیت سے دور نبوت تک پہنچا دیا جائے۔ توقع یہ تھی کہ جو لوگ ان مدارس میں تربیت پا کر نکلیں گے، وہ زمانہ کے اثرات سے اپنے کو بچانے کے لائق بن سکیں گے۔

یہ تحریک ان معنوں میں پوری طرح کامیاب رہی کہ اس نے ساری مسلم دنیا میں دینی مدرسوں کا جال بچھا دیا اور کوئی بستی ایسی نہ رہی جو ان درس گاہوں میں تعلیم پائے ہوئے علماء و فضلاء سے خالی ہو۔ مگر جہاں تک اسلامی ذہن اور اسلامی طرز فکر کا سوال ہے، ان مدارس کی کامیابی حد درجہ مشکوک ہے۔ ان مدارس سے فراغت کے بعد جن خوش نصیبوں کو خود ان مدارس یا ان سے ملتے جلتے کسی ادارہ میں جگہ مل گئی ، انھوں نے بلاشبہ مدرسہ کے دیئے ہوئے ظاہری لبادہ کو باقی رکھا کیونکہ ان اداروں میں قیام و ترقی کے لئے یہی لبادہ ان کی قیمت تھی۔ مگر جن لوگوں کے حالات انہیں ان اداروں سے باہر لے گئے۔ وہ کسی بھی معنی میں غیر دینی مدارس کے فارغین سے مختلف ثابت نہ ہو سکے۔ کیر سیرزم ان کا دین بھی رہا اور ان کا بھی۔

اس کی دو بڑی وجہیں ہیں ۔ اول یہ کہ دینی تعلیم کے رہنما اس واقعہ کا پوری طرح اندازہ نہ کرسکے کہ اسلامی تعلیم کا مسئلہ ، مروجہ زمانہ میں ، صرف اسلامی زبان یا اسلامی احکام سے واقف کرانے کا مسئلہ نہیں ہے ۔ نظام حاضر کے فکر میں اسلام کو اس کی جگہ دلانے کا مسئلہ ہے ۔ انھوں نے اپنے اداروں میں جو نسل تیار کی ، وہ اگر چہ اسلام کے روایتی علوم کی ماہر تھی ، مگر اسلام اس کے حقیقی ذہن کا جز و نہیں بنا تھا ۔ کیونکہ وہ اس کو اس فکری مستوی کے مطابق دکھائی نہیں دیتا تھا جس کے اندر وہ عملاً سانس لے رہا تھا ۔ جو اسلام اسے دیا گیا وہ اس کے لئے ایک قسم کا معلوماتی ضمیمہ تھا نہ کہ فکری غذا ۔ ظاہر ہے کہ عالمی افکار کے سیلاب میں کوئی شخص اس قسم کے ذہنی ضمیمہ کو دیر تک باقی نہیں رکھ سکتا۔ دوسرے یہ کہ جدید تبدیلیوں نے موجودہہ دینی تعلیم کا رشتہ اقتصادیات سے کاٹ دیا اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کوئی تعلیمی نظام جو اقتصادی بنیادوں سے محروم ہو ، زندگی کے نظام میں مؤثر مقام حاصل نہیں کرسکتا ۔

۳ - 3۔ احیاء کی تحریکوں سے میری مراد وہ تحریکیں ہیں جو اسلامی نظام کے قیام کا مقصد لے کر اٹھیں ۔ کی ماشومی پارٹی، مصر کی الاخوان المسلمون ، پاکستان کی جماعت اسلامی اس کی مثالیں ہیں ۔ ان تحریکوں کا کہنا تھا کہ موجود زمانہ میں مسلمانوں کو جتنے مسائل پیش آرہے ہیں ، وہ صرف اس لئے ہیں کہ اسلامی قانون کی حکومت زمین پرقائم نہیں ہے ۔ اگر مسلم ملکوں میں اسلامی قانون کی بنیاد پر معاشرہ کی تنظیم کر دی جائے تو نہ صرف ہمارے تمام اندرونی مسائل حل ہو جائیں گے بلکہ عالمی سطح پر مسلمان دوبارہ وہی مقام حاصل کر لیں گے جو ماضی میں ایک ہزار برس تک انھیں حاصل تھا ۔

ان تحریکوں نے اسلام کی تعلیمات کو جس طرح سیاسی اصطلاحوں میں بیان کیا وہ ، خاص طور پر موجودہ صدی کے نصف اول کے ماحول میں ، بہت سے مسلمانوں کو اسلام کے حق میں وقت کا بہترین قصیدہ معلوم ہوا ۔ وہ سیاسی شاعرہ کے اس اسلامی پنڈال میں آسانی سے جمع ہو گئے ۔ تاہم یہ مشاعرہ دیر تک باقی نہ رہ سکا ۔ ان تحریکوں کا ذہن چوں کہ اسلام کی سیاسی تشریح سے بنا تھا ، قدرتی طور پر ایسا ہوا کہ وہ بہت جلد اپنے ملکوں کی غیر اسلامی حکومتوں سے ٹکرا گئیں ۔ یہ ٹکراؤ ہر ایک کے حق میں چھری اور خربوزے کا ٹکراؤ ثابت ہوا۔ مصر کے انور السادات نے اقتدار پر قبضہ کے بعد ( ۱۹۷۱ء) اپنے سیاسی حریفوں کو انتباہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جو میری مخالفت کرے گا ، میں اس کو قیمہ بنا دوں گا ( حافز مہ) مسلم حکمرانوں کے یہ ارادے سب سے زیادہ جن کے حق میں صحیح ثابت ہوئے ہیں ، وہ یہی اسلامی نظام کی علم بردار جماعتیں ہیں۔ انھوں نے ہر ملک میں ان جماعتوں کو قیمہ بنا کر رکھ دیا ہے ، اب کسی بھی ملک میں ان کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں ۔

اسلام کا نظام کی علم بردار جماعتوں کی یہ ناکامی محض ان کے سیاسی حریفوں کی شقاوت کا نتیجہ نہیں ہے ۔ خود ان کے رہنماؤں کا یہ انتہائی غلط اندازہ شامل ہے کہ انھوں نے سمجھا کہ وہ مقامی مسلمانوں کے ووٹ سے اسلامی حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔ وہ اس تاریخی حقیقت کو بھول گئے کہ حکومتیں ہمیشہ وقت کے غالب افکار

کے __چلو میں بنتی ہیں ۔ موجودہ زما کا فکری ڈھانچہ تمام تر سیکولر بنیادوں پر قائم ہے ۔ ایسی حالت میں کسی کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے ملک میں اسلام کا سیاسی جزیرہ بنا سکے، جب تک وہ زمانی افکار کے ڈھانچہ کو توڑنے میں کامیاب نہ ہو گا۔ تعمیر و استحکام سے میری مراد وہ فکری حلقہ ہے جس کا کہنا تھا کہ اجنبی اقتدار سے براہ راست سیاسی تصادم نہ کیا جائے ۔ اس کو بطور چھتری استعمال کرتے ہوئے غیر سیاسی دائروں میں اپنے کام کو جاری رکھا جائے ۔ بدقسمتی سے یہی وہ ذہن ہے جو موجودہ دور کے مسلمانوں میں سب سے کم پایا گیا ہے۔ مفتی محمد عبدہ نے پیرس میں زمانہ قیام (۱۸۸۸ء) سے متعلق اپنے استاد جمال الدین افغانی کا ایک تاثر نقل کیا ہے۔ محمد عبدہ نے ایک گفتگو کے دوران اپنے استاد سے کہا کہ انگریزیوں اور فرانسیسیوں سے سیاسی تصادم کا بظاہر کوئی فائدہ دکھائی نہیں دیتا۔ جب کہ دوسری طرف ہمارے لیے کام کا ایک ایسا میدان کھلا ہوا ہے جس میں ہم یقینی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی تبلیغ ۔ ہم کیوں نہ ایسا کریں کہ اپنے کو سیاسی نشانہ سے ہٹادیں اور خاموشی سے تبلیغ و تعلیم کے کام میں لگ جائیں ۔ جمال الدین افغانی کی انقلابی طبیعت کو یہ تجویز حقیر معلوم ہوئی۔ انھوں نے کہا: انما انت مثبط (تم پست حوصلگی کی باتیں کرتے ہو)

اس پورے دور میں تعمیر واستحکام کے مقصد کے تحت اٹھنے والی کوئی قابل لحاظ تحریک نہیں آتی۔ رہنماؤں کا حال یہ رہا کہ وہ " نہ زمانہ باتونساز نہ تو بازمانہ ستیز " جیسے رومانی تصورات پر فدا ہوتے رہے، کسی کی سمجھ میں وہ حقیقت پسندانہ طریقہ کار نہ آسکا جس کو بدنام طور پر پرچائی (۱۸۳۷۔ ۱۹۱۴ء) نے ان لفظوں میں بیان کیا تھا: جلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی۔

ہندوستان میں اس سلسلہ میں مستثنیٰ مثالیں ملتی ہیں، وہ بھی بدنام شخصیتوں کی۔ میری مراد سرسید احمد خاں ۱۸۱۷ء) اور مرزا غلام احمد قادیانی (۱۹۰۸ء۔ ۱۸۳۵ء) سے ہے۔ اول الذکر کا کہنا تھا کہ انگریز نے اگرچہ سیاسی کام کا راستہ بند کر رکھا ہے مگر سیاست کے علاوہ دوسرے میدانوں میں تعمیر و ترقی کے دروازے کھلے ہوئے ہیں: حکومت نے آزادیاں تم کو دی ہیں ترقی کی راہیں سراسر کھلی ہیں تعلیم اور اقتصادیات ، جو بقیہ چیزوں کی اساس ہے، ان میں ہم کسی رکاوٹ کے بغیر آگے بڑھ سکتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی امکان کو ایک اور میدان میں تلاش کیا۔ یہ دعوت و تبلیغ کا میدان تھا۔ ان کا خیال تھا کہ دعوت کی راہ سے ہم نہ صرف ملک کے طبقات میں اپنے لئے کام کے مواقع پاسکتے ہیں بلکہ حکمراں قوم کے اندر بھی ہمارے لئے جد وجہد کا میدان کھلا ہوا ہے۔ مزید یہ کہ یہ کام خود اسلام کا اہم ترین مقصود ہے اور بالآخر اس غلبہ تک بھی پہنچانے والا ہے جہاں ہم سیاسی زور آزمائی کے ذریعہ ناکام طور پر پہنچنا چاہتے ہیں۔

یہ دونوں تحریکیں، اپنی ابتدائی شکل میں ، نہایت مفید اور دور رس تحریکیں تھیں۔ مگر بدقسمتی سے وہ عام مسلمانوں کو اپنے ساتھ نہ لے سکیں۔ اس کی وجہ دو طرفہ تھی۔ ایک طرف ہمارے رہنماؤں کا ذہن سامراج دشمن خیالات سے اتنا زیادہ ماؤف ہو چکا تھا کہ کسی اور انداز سے سوچنا ان کے لئے ممکن نہ رہا تھا۔ ہر وہ شخص انھیں سامراج کا ایجنٹ

دکھائی دیتا تھا، جو سامراج سے سیاسی مقابلہ کی بات کرے۔ اس کی آخری حد یہ ہے کہ علی گڑھ کے سابق استاد پروفیسر آرنلڈکی قیمتی کتاب پر پیکنگ آف اسلام ہمارے رہنماؤں کو سامراجی اغراض کے تحت لکھی ہوئی کتاب نظر نہ آئی، کیونکہ اس میں تلوار کے بجائے پرامن تبلیغ کو اسلام کی اشاعت کا ذریعہ بتایا گیا تھا !

دوسری وجہ یہ ہوئی کہ اس نظریہ کے دونوں علم بردار اس اہلیت کا ثبوت نہ دے سکے کہ وہ اپنے نقطہ نظر کی صحیح وکالت کر سکتے ہیں۔ سرسید احمد خاں نے اپنے موقف کی حمایت کے لیے یہ نادانی کی کہ قرآن کو انیسویں صدی کے مغربی افکار پر ڈھالنا شروع کر دیا۔ ان کے اخلاص کے ثبوت کے لیے یہ کافی ہے کہ انھوں نے "تہذیب الاخلاق" کو اپنے ذاتی فکر کا نمائندہ قرار دے کر اس کو علی گڑھ کالج سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی۔ مگر یہ تقسیم عملی طور پر ممکن نہ ہوسکی اور ایک صحیح کام کے لئے غلط استدلال نے ان کے مشن کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ بنا دیا۔

اسی قسم کی غلطی دوسری شکل میں مرزا غلام احمد قادیانی نے کی۔ انھوں نے اپنے کام کا آغاز کیا تو یہ وہ وقت تھا جبکہ سارے مسلم رہنما انگریز کے خلاف جہاد حریت میں مصروف تھے۔ ان پر جوش مجاہدین کو محسوس ہوا کہ قادیانی مشن مسلمانوں کو مقدس جہاد کے محاذ سے ہٹا کر پرامن تبلیغ کے میدان میں لگا دینا چاہتا ہے۔ مرزا صاحب نے اس کے جواب میں کہا کہ جہاد بمعنی سیاسی مقابلہ) کوئی مستقل شرعی حکم نہیں ہے۔ وہ صرف دفاعی ضرورت کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ مجاہدین حریت کے لئے یہ جواب تشفی بخش ثابت نہ ہوسکا اور انھوں نے فتویٰ دیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کے ایجنٹ اب مرزا صاحب نے ایک اور قدم بڑھایا۔ انھوں نے اپنی بات کو مستند ثابت کرنے کے لئے کہنا شروع کیا کہ ان پر وحی آتی ہے اور وہ جو کچھ بولتے ہیں خدا کی طرف سے بولتے ہیں۔ یہ دعویٰ اپنی تمام تر غلطی کے باوجود، قدیم زمانہ میں انوکھا نہ تھا کیونکہ ہمارے بہت سے بزرگ، مثال کے طور پر شاہ ولی اللہ (۱۷۶۳ء - ۱۸۰۲ء) بھی، (الهمنی ربی (میرے رب نے مجھ کو الہام کیا) جیسی زبان میں کلام کرتے ہیں۔ تاہم مرزا صاحب کی غلطی میں مزید شناعت اس لئے پیدا ہو گئی کہ انھوں نے صاف لفظوں میں اپنے رسول اللہ ہونے کا دعویٰ کر دیا جو ، ختم نبوت کے بعد، اجماعی طور پر کفر کو مستلزم ہے۔ ان چیزوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ دو فریقوں کے درمیان جو گفتگو " حالات کے لحاظ سے اسلامی عمل کی منصوبہ بندی " کے عنوان پر ہونی چاہئے تھی، وہ قرآن کی تفسیر جدید اور نبوت محمدی کے بعد دوسری نبوت جیسے مسائل پر مرکوز ہو گئی۔ میں اگر سرسید احمد خاں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مخالفین غلطی پر تھے تو آخر میں سرسید اور مرزا قادیانی شدید تر غلطیوں کا شکار ہوگئے اور ملت کے حصہ میں کفر و فسق کے فتووں کے سوا اور کچھ نہ آیا ۔

مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے زیر اہتمام ۲۲ - ۲۵ جنوری ، ۱۹۷۰ء ایک سیمینار ہوا۔ عنوان تھا :

" اسلام ایک تغیر پذیر دنیا میں " ISLAM IN A CHANGING WORLD یہ مقالہ اس موقع پر ۲۵ جنوری کی نشست میں پڑھا گیا۔

اخبار نیو یارک (۳ مارچ ۱۹۵۱ میں ایک دلچسپ رپورٹ شائع ہوئی تھی ۔ اس کے ایڈیٹر نے اطلاع دی تھی کہ اس کو بذریعہ ڈاک ایک مشین وصول ہوئی جس کے نام اس کے موجد نے READING EASE CALCULATOR رکھا ہے ۔ اس مشین کی خاصیت یہ تھی کہ اس کے کسی رکن (JOSE M.R. DELGADO) کے ڈاکٹر جوزڈ ملیگانڈو نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے انسان کی مشینی تطہیر (MECHANICAL PURGING) کا ایک نیا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کو وہ ای۔ یعنی دماغ کی برقیاتی تحریک (ELECTRICAL STIMULATING OF BRAIN) ۔ اس مشین کی خاصیت یہ تھی کہ اس کو کسی بھی رکھ لیتی ہے ۔ تحریری مواد پر استعمال کرکے اس تحریر کی کیفیت معلوم کی جاسکتی مشین کے موجد نے داخلی قدر و قیمت کے تمام پہلو حذف کر دیئے تھے ۔ قیاسڑ بڑے بڑے مشاہرہ کے لٹریری ایڈیٹروں کی ضرورت کو بھی ختم سمجھ لیا گیا تھا۔ وہ سب کچھ جو اس مشین کو عمل میں لانے کے لیے کرنا تھا، وہ یہ کہ مخصوص ہدایات کے مطابق ایک چھوٹے سے ڈائل کو سیٹ کیا جائے۔ ایک انڈیکیٹر کو خاص طریقے سے گھمایا جائے اور اس کے بعد مشین کے فیصلے کو پڑھا جائے جو چار میں سے کسی ایک شکل میں سامنے آتا تھا۔ بہت سخت، سخت، آسان اور بہت آسان ۔ ہدایات کا کتا بچہ بتاتا تھا کہ اس کی بنیاد مواد کی خوبیوں پر تھی یعنی سب سے آسان کا مطلب تھا سب سے عمدہ اور سب سے سخت کا مطلب سب سے خراب۔ نیو یارک کے ایڈیٹر نے لکھا تھا کہ اس مشین کا سب سے پہلا استعمال اس نے اسی کتابچہ پر کیا جو مشین کے ساتھ مشین کے تعارف اور ترکیب استعمال کے لیے آیا تھا۔ مشین نے بتایا بہت سخت اور کم سے کم اس معاملے میں اس نے مشین کے فیصلے کو قبول کر لیا۔

اس مثال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا یہ رجحان کہ ہر چیز کو مکینکل بنایا جائے کس قدر بے معنی ہے۔ انسان کو مشین فرض کرنے کے نتیجہ میں آج کا اہلِ علم کیسی کیسی نادانیاں کر رہے ہیں، اس کی ایک تازہ مثال یہ ہے کہ ایل یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن (نیویارک) کا نام دیتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ اس طریقہ کو استعمال کر کے ایک زیادہ پر امن سماج بنایا جا سکتا ہے۔

ان کے اس یقین کی بنیاد ان کی وہ کامیابی ہے جو انھوں نے کمپیوٹر کے ذریعہ چھینپزی کے دماغ سے غیر حسیاتی ربط (NON-SENSORY CONNECTION) قائم کرنے میں حاصل کی ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ذی حیات کا دماغ جو اب تک صرف اس کے اپنے حواس سے مربوط سمجھا جاتا تھا اب خارج میں پیدا کردہ ریڈیائی لہروں کے ذریعہ بھی اس سے ربط قائم کیا جا سکتا ہے۔ نے ایک چھینپزی کے دماغ کے جارحانہ مرکز سے ربط پیدا کیا اور اس کو اس حد تک متاثر کیا کہ اس کی جارحانہ طنیت جاتی رہی ۔ ان کے اس طریقہ کو "غیر حسیاتی تحریک بذریعہ کمپیوٹر" کا نام دیا گیا ہے ۔ بمبئی کے ایک اخبار " بھارت جوتی" ۱۸ ستمبر ۱۹۶۹ ء نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ تجربہ اپنے اندر بہت غیر معمولی متضمنات رکھتا ہے ۔ ہے کہ انسانی دماغ میں برقی تحریک پیدا کر کے بہتر انسان (BETTER MAN) اور بہتر سماج کی تخلیق کی جاسکتی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ڈاکٹر ڈ مِلگا ڈو کی دریافت کو انسان پر استعمال کرنے کی صورت کیا ہوگی ۔ کے "نا پسندیدہ جذبات " کو دائمی طور پر ختم کر دیا جائیگا۔ یا ہر آدمی کے ساتھ ایک اور آدمی لگا دیا جائے گا جو ڈاکٹر ڈیلگاڈو کی مشین لیے ہوئے ہر وقت منتظر رہے گا کہ کب اس کے اندر

کوئی ناممکن کوپسندیدہ جذبہ ابھرے اور فوراً مشين کو عمل میں لاکر اس کو ٹھنڈا کر دیا جائے۔ اگر پہلی صورت ہو تو وہ نا ممکن ہے ایک ایسی دنیا جہاں ہر روز بے شمار لوگ پیدا ہوں اور بے شمار لوگ مرجاتے ہوں، آخر کس طرح اس کو ممکن بنایا جائے گا کہ ساری انسانی آبادی کی مسلسل تطہیر ہوتی رہے۔ انسانیت کے موجودہ تمام وسائل بھی اس کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے نا کافی ہیں اور اگر صرف کچھ " ناپسندیدہ لوگوں کو اس مشين کا معمول بننے کے لیے چنا جائے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ نیا علم ان لوگوں کے ہاتھوں غلط استعمال کا شکار نہ ہوگا جو اس کام کے ذمہ دار بنائے جائیں گے ایک مصنف اس ایجاد کے نتائج پر شک کرتے ہوئے لکھتا ہے: KNOWLEDGE AND MORAL RESPONSIBILITY ARE NOT NECESSARILY. INTERLINKED یعنی علم اور اخلاقی ذمہ داری لازمی طور پر ایک دوسرے سے بندھے نہیں ہوتے ہیں۔ اور اخلاقی ذمہ داری لازم وملزوم ہوتے تو ایٹمی توانائی کی دریافت ایٹم بم کی صورت اختیار نہ کرتی۔ اگر اس دریافت کے معنی یہ ہوں کہ وقتی مواقع پر انھیں استعمال کیا جائے یعنی جب کسی انسان کے اندر کوئی ناپسندیدہ جذبہ ابھرے اس وقت مشین اس کے دماغ سے لگا دی جائے تو یہ اور بھی زیادہ ناقابل فہم ہے۔ کے لیے ڈاکٹر ڈیلیگاڈو کو موجودہ تین ارب نسل انسانی کے لیے مزید تین ارب انسان پیدا کرنے ہوں گے کیونکہ یہ کسی ایک کا نہیں بلکہ سارے ہی انسانوں کا مسئلہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر آدمی کے ساتھ ایک اور آدمی موقع کے انتظار میں اس کے ساتھ لگا رہے۔ تا ہم اس نا ممکن بنا دینے کے بعد بھی اصل مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

Printed page