Al-Risala · April 1977

"اصلاحی مشین" صرف ان انسانوں

Al-Risala, April 1977, pp. 42–48

By Maulana Wahiduddin Khan

پر اپنا عمل دہرا سکتی ہے جو مقید چینپینزی کی طرح اس کے بس میں ہوں اپنے سیاسی آقاؤں کو پھر بھی وہ اپنا معمول نہیں بنا سکتی ۔

کیونکہ ڈاکٹر ڈیلیگاڈو کی مشینی پہرہ دار صرف ان انسانوں پر اپنا عمل دہرا سکے گا جو محبوس چمپینزی کی طرح اس کے بس میں ہٹلر اور اسٹالن جیسے انسانوں کو پھر بھی وہ اپنی مشین کا معمول نہیں بنا سکتا۔

آخری بات یہ ہے کہ انسان کے اندر فطرت نے جو صلاحیتیں رکھی ہیں، ان میں سے کوئی بھی بذات خود غلط نہیں صرف اس کا بے موقع استعمال اسے غلط کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر غصّہ اور جارحیت بذات خود کوئی مستقل صفت یہ دراصل اس صفت کا ایک بے جا ظہور ہے ۔ جو زیادہ بہتر طور پر شجاعت اور مردانگی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے ۔ اگر بالفرض انسان کی ذہنی صلاحیتوں میں تبدیلی لانا ممکن ہو، جب بھی یہ فطرت کے توازن کو بدلنے کی قیمت پر ہوگا ۔ آپ انسان کے اندر سے غصّہ کا مادہ نکال دیں تو آپ صرف غصّہ ہی کو اس کے اندر سے نہیں نکالیں گے بلکہ اسی کے ساتھ یقین، جوش، حوصلہ، عزم، اقدام، اصول پر جمنے کی خصوصیات کو بھی اس کے اندر سے کمزور کر دیں گے اس قسم کا مصنوعی انسان کسی کارخانے میں مشین کا ہینڈل گھمانے کا فرض شاید انجام دے سکے۔ مگر وہ زندگی کے پرشور معرکہ میں کوئی کارنامہ دکھانے کے قابل نہیں ہو سکتا۔

روس کا اخبار وہاں بھی پہونچ رہا تھا جہاں وہ خود یں پہنچ سکتا تھا روسی کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا واقعہ ہے مگر اس کے اندر بہت بڑی نصیحت چھپی

یہ اس وقت کا ذکر ہے جب روس میں اکتوبر ۱۹۱۷ء کا انقلاب نہیں آیا تھا روس میں بالشویکوں (جنرل) کا قدیم نام) کے بڑھتے ہوئے اثرات کو روکنے کے لیے شہنشاہ روس (زار) نے بالشویک پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا تھا۔ اور تمام بڑے بڑے لیڈروں کے نام گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیئے تھے۔

کچھ لیڈر گرفتار ہوئے، کچھ بچ کر جنگلوں اور غاروں میں روپوش ہو گئے۔ انھیں روپوش ہونیوالوں میں بالشویک پارٹی کا عظیم لیڈر لینن بھی تھا۔ جنگلوں اور غاروں کے ایک دور افتادہ علاقہ کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں روپوش ہو کر اخبار نکالنا شروع یہ اخبار دستی پریس میں چھاپ کر دستی طور پر اس کے شہروں میں خفیہ طور پر پہنچا دیا جاتا تھا۔ ایک روز کا واقعہ ہے۔ ایک شخص ایک روسی شہر میں پنساری کے یہاں کچھ سامان خریدنے گیا۔ وہ سامان خرید کر گھر لایا اور پٹریا کھولی تو اچانک اس کی نظر پٹڑیا والے کاغذ کے چھپے ہوئے الفاظ پر پڑی۔ ایک اخبار کا پھٹا ہوا صفحہ تھا جس میں آتشیں الفاظ اور گرما گرم عنوان کے ساتھ ایک عبارت چھپی ہوئی تھی۔ ردی کے اس ٹکڑے پر چھپی ہوئی عبارت پڑھ کر اس آدمی کے اندر عجیب کیفیت پیدا ہوئی، وہ بار بار اس کو پڑھتا رہا اور اس سے اپنے دل کو گرماتا رہا یہاں تک کہ اسے خیال ہوا کہ معلوم کرے کہ اس عبارت کا مصنف کون ہے اور یہ کس اخبار کا ٹکڑا ہے جو پنساری کی معرفت اسے ملا ہے۔

وہ تلاش میں لگ گیا۔ جو نندہ یا نیدہ، بالآخر اسے معلوم ہوا کہ یہ ردی کا ٹکڑا لینن کے اس اخبار کا پھٹا ہوا صفحہ ہے جو وہ روپوش ہو کر نہ نکال رہا ہے۔ اب اس کا اشتیاق اور بڑھا اور وہ تلاش کرتا ہوا اس غار میں پہنچ گیا جہاں چھپ کر لینن اخبار نکالا کرتا اس کے بعد سے آخر تک وہ لینن کا ساتھی بنا رہا۔ کے کتنے لوگ ہیں جن کو لینن نے صرف اپنے اخبار سے فتح کیا۔ لینن زار کی پولیس سے بچنے کے لیے غار کے اندر روپوش تھا مگر اپنے اخبار کی بدولت وہ ہر شہر میں پہنچا ہوا تھا۔ حتیٰ کہ بازار میں پنساری کی دکان بھی اس کے حق میں پروپیگنڈے کا مرکز بنی ہوئی تھی اس کا اخبار وہاں بھی پہنچ رہا تھا، جہاں وہ خود نہیں پہنچ سکتا تھا۔ یہ ہے موجودہ زمانے میں پریس کی قوت۔ حیرت انگیز بات ہے کہ پچاس برس پہلے باشعور لوگوں نے اس سے جو کام لیا تھا ابھی تک ہم وہاں بھی نہیں پہنچے ہیں اور آج کی زندہ قومیں پریس سے جو کام لے رہی ہیں اس کی تو عام مسلمانوں کو خبر بھی نہیں حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں دوسری قومیں ہم سے اتنا آگے ہیں کہ ہم ان کے پیچھے بھی نہیں۔ سمجھے ہونے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم بھی کہیں ہیں۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم ان کی نسبت سے کہیں نہیں ہیں۔

بادشاہوں کی مجلسیں علماءءءءءءء کی فقہی اور کلامی بحثوں سے معمور رہتی تھیں، جبکہ ٹھیک اسی وقت اسلام کی دعوت و اشاعت کا میدان سونا پڑا مسلمان بادشاہوں کی بدولت ہندوستان میں علماء اور صوفیا کو قدم جمانے اور اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے کا موقع ملا، - ہر دور میں بکثرت علماء پیدا ہوتے رہے، سلاطین دہلی کے ابتدائی دور میں علماء زیادہ تر نیشا پور، صغان غزنین، کاشان، بلخ، سجستان، خوارزم اور تبریز سے آئے، جیسا کہ ان کے ناموں سے ظاہر ہے، اور یہ اپنے ساتھ حنفی فقہ لائے، حجاز سے آنے والے علما کی تعداد کم رہی، اس لیے ہندوستانی فقہ میں عراقی اور ترکستانی اثرات زیادہ غالب رہے، اور یہی فقہ ہندوستان میں رائج رہی، جس کی باضابطہ تدوین فتاویٰ تاتار خانی اور فتاویٰ عالمگیری میں ہوئی ۔

سلاطین دہلی کی حکومت میں سب سے زیادہ علما علاؤ الدین خلجی کے دور میں تھے ان کا اتنا شاندار اجتماع ہو گیا تھا کہ ضیاء الدین برنی نے لکھا ہے کہ اس وقت کی اسلامی دنیا یعنی بخارا، سمرقند، مصر، خوارزم، دمشق، تبریز، صفاہان، رے اور روم میں یہاں کے جیسے علما نہیں پائے جاتے تھے جملہ علوم میں کامل دستگاہ رکھنے والے علما یہاں موجود تھے، مولانا ضیاء الدین برنی ان پر فخر کرتے ہوئے یہاں تک لکھ گئے ہیں کہ بعض علما تو امام غزالی اور امام رازی کے ٹکر کے تھے، اور فقہ کے بعض ماہرین کو امام ابو یوسف اور امام محمد کا مرتبہ حاصل تھا، خود امیر خسرو کو دہلی پر فخر تھا، انھوں نے اس کو قبلہ اسلام کہہ کر یاد کیا ہے، محمد تغلق کے زمانے میں علما کی تعداد اور بھی بڑھ گئی تھی، قلقشندی کا بیان ہے کہ دو سو فقہا سلطان کے دستر خوان پر موجود ہوتے تھے اور وہ ان زندگی ایک بازار ہے ۔ یہاں کوئی چیز اسی وقت ایک تحض کو ملتی ہے جب کہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لیے اس کی جیب میں پیسے موجود ہوں ۔ آپ کسی سے کچھ لینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ جانئے کہ آپ اس کو کیا چیز دے سکتے ہیں آپ کا دینے کی پوزیشن میں ہونا ہی آپ کے لیے پانے کا استحقاق پیدا کرتا ہے، نہ کہ شکایت اور مطالبہ ۔

سے مذہبی مذاکرے کیا کرتا تھا۔ فیروز شاہ تغلق فقہا سے اس قدر متاثر تھا کہ اس نے فتاوائے فیروز شاہی کے نام سے فقہ کی تدوین کرائی جو زیادہ مقبول نہ ہوسکی۔ سکندر لودی کی خواب گاہ میں روزانہ رات کو ستر علماءءءءءءءء جمع ہوا کرتے تھے اور وہ ان سے فقہی مسائل دریافت کیا کرتا تھا۔

عہد مغلیہ میں بھی علما کی تعداد زیادہ تھی، ملاً عبدالقادر بدایونی نے اپنے عہد کے جن ممتاز علما کے حالات لکھے ہیں ان کی تعداد ۶۹ ہے، اسی طرح مآثر رحیمی کے مؤلف نے ایسے ۳۲ علما کا ذکر کیا ہے جو عبدالرحیم خانخاناں کے دامن دولت سے وابستہ تھے۔ میں جو علما اس کے دربار میں مختلف خدمات پر مامور تھے ان کی تعداد ۴۴ ہے۔ عالمگیر کے زمانے سے مولانا شاہ عبدالرحیم کے خاندان سے جو سلسلہ الذہب چلا اس پر مسلمانوں کو آج بھی فخر ہے۔ ان علما کے ناموں پر نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور میں بھی شیراز، کاشان تبریز، گیلان، مشہد اور ترکستان سے کچھ علما ضرور آتے رہے، لیکن ان کے مقابلے میں ہندوستانی علما کی تعداد زیادہ رہی، اور حنفی فقہ کی ترویج اور اس کی باضابطہ تدوین فتاواے عالمگیری کی شکل میں ہوئی، جس کو عالمگیر کا ایک عظیم الشان علمی و فقہی کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ سے شافعی، مالکی، حنبلی اور شیعی فقہ کا تصادم ضرور ہوا۔ لیکن اکثریت حنفی فقہ کے ماننے والوں ہی کی رہی، اور مغلوں کی بادشاہت کا دلچسپ پہلو ہے کہ وزارت کے عہدہ پر زیادہ تر شیعہ امراء مامور رہے۔ محل ایک عرصہ دراز تک راجپوت شہزادیوں کے زیر نگیں رہا لیکن سلطنت پر حنفی فقہ کا غلبہ رہا۔

ناکامی کا سوال نہیں ۔

جو حرکت کرنا چاہے اس کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ گیس نیچے نہیں، سماتی تو اوپر اٹھ کراپنے لیے جگہ حاصل کرلیتی ہے۔ پانی کو اونچائی آگے بڑھتے نہیں دیتی تو وہ نشیب کی طرف بہہ کر اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ درخت سطح پر قائم نہیں ہوسکتا تو وہ زمین کو پھاڑ کر اس سے اپنے لئے زندگی کا حق وصول کرتا ہے۔

یہی طریقہ آپ کو بھی اختیار کرنا ہے، آپ کا پہلا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو سمجھیں، اپنی قوتوں کو صحیح ڈھنگ سے ترتیب دیں اور پھر ماحول کو سمجھ کر ماحول کے اندر اس طرح گھسیں کہ اس کے مقابلہ میں اپنی اہلیت ثابت کرنے کے لئے آپ پوری طرح مسلح حالات سے اپنی اہمیت منوانے کے لیے آپ نے ضروری سامان کر لیا ہو۔

لیاقت پیدا کیجئے اور دانش مندی کے ساتھ اپنے لئے راہ نکالئے، اس کے بعد آپ کو کبھی ماحول سے شکایت نہ ہوگی۔ زندگی کی کسی منزل پر آپ اپنے کو ناکام محسوس نہیں کریں گے۔ ناکامی اور مایوسی صرف وہیں آتی ہے جہاں زندگی کی ضروری شرطیں پوری کرنے میں کوئی کوتاہی رہ گئی ہو۔

حویطیب بن عبد العزی، فتح مکہ کے بعد، بیعت کرنے کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے اپنے قدیم ساتھی ابو ذرغفاری سے پوچھا، آپ کو سلام کس طرح کیا جاتا ہے۔ (کیف يقال اذا اسلم عليه) انھوں نے کہا، جب تم آپ کے پاس حاضر ہو تو اس طرح السلام عليك ايها النبی ورحمة وبركاته۔ یہ پیغمبر کا کام نہیں کہ وہ ہر ایک سے یہ بتائے کہ وہ کس طرح اس کو مخاطب کریں، یہ وہ کام ہے جو آپ کے ساتھیوں کو خود سے جاننا چاہئے۔

اہل نجران کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ملا تو انھوں نے غور و فکر کے بعد آپ کے پاس اپنا وفد بھیجا تاکہ وہ آپ سے صلح کی دفعات طے کرے۔ پہنچے تو انھوں نے اپنا سادہ سفری لباس تبدیل کیا اور ریشمی کپڑے اور سونے کی انگوٹھیاں پہن کر آپ سے ملنے کے لئے آئے۔ انھوں نے سلام کیا تو آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ وہ دیر تک آپ کے پاس بیٹھے رہے مگر آپ نے ان سے کوئی کلام نہ کیا۔ اس کے بعد وہ حضرت عثمان اور حضرت عبد الرحمن بن عوف سے ملے جن سے ان کی پہلے سے ملاقات تھی۔ ان لوگوں نے معاملہ کو سنا تو حضرت علی کو بلا کر مشورہ کیا۔ حضرت علی نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنے مزین کپڑے اور سنہری انگوٹھیوں کو اتار دیں اور اپنے سفری لباس پہن کر آپ کے پاس جائیں۔ چنانچہ انھوں نے ایسا اب آپ نے سلام کا جواب دیا اور ان سے بات چیت کی اور فرمایا:

والذی بعثنی بالحق لقد اتونی المرة الأولی وان اس خدا کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے، جب وہ پہلی مرتبہ میرے پاس آئے تو ان کے ساتھ شیطان تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ لباس فاخرہ کے ساتھ آپ کے پاس آئے تو آپ نے محسوس کیا کہ یہ چیزیں ان کے اندر احساسِ برتری پیدا کریں گی۔ ان کی متکبرانہ نفسیات کسی نتیجہ خیز گفتگو میں مانع ہوگی۔ مگر یہ بات آپ خود اپنی زبان سے نہیں کہہ سکتے تھے۔ حضرت علی نے اس حقیقت کو جانا اور اپنا کردار ادا کیا۔

سعد بن معاذ انصاری مدینہ کے ممتاز ترین شخصیت رکھنے والے آدمی تھے تھے(كان من اعظم الناس واطولهم امام احمد نے حضرت عائشہ کی روایت نقل کی ہے کہ غزوہ خندق میں وہ زخمی ہوئے۔ ابن العرقہ قریشی نے تیر مارا جس سے ان کی رگ اکحل کٹ گئی۔ اس وقت ان کی زبان سے دعا نکلی : اللهم لا تمتنى حتی تقر عینی من بنی قريظة خدایا مجھے موت نہ دے جب تک بنی قریظہ سے میری آنکھیں ٹھنڈی نہ ہو جائیں ۔

بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ تھا جو مدینہ کے اندر آباد تھا۔ وہ مسلمانوں کے خلاف مستقل سازشوں میں مشغول رہتا غزوہ خندق میں انہوں نے کھل کر قریش کا ساتھ یہ صریح طور پر ایک غداری کا فعل تھا۔ خندق سے فارغ ہوتے ہی آپ نے ان کے قلعہ کو گھیر لیا۔ ۲۵ دن کے محاصرہ کے بعد انہوں نے کہا کہ سعد بن معاذ جو

فیصلہ کر جس ہم کو منظور ہے۔ سعد بن معاذ اسلام سے قبل ان کے حلیف تھے۔ وہ زخمی حالت میں خچر پر سوار کرکے سعد بن معاذ نے تو رات کے مطابق فیصلہ کیا کہ ان کے قابل جنگ مردوں کو قتل کر دیا جائے۔ ان کی اولاد کو گرفتار کر لیا جائے اور ان کے اموال کو ضبط کر لیا جائے۔ اس کے بعد انھوں نے دعا کی :

اللهم ان كنت ابقيت علی نبياك من حرب قريش شيئا فابقني لها وان كنت قطعت الحرب بينه و بينهم فاقبضنی اليك اپنے نبی کے ساتھ قریش کی جنگ میں اگر تو نے کوئی حصہ باقی رکھا ہو تو مجھے اس کے لیے باقی رکھ۔ تو نے ان کے درمیان جنگ کو ختم کر دیا ہو تو مجھے اپنے پاس بلا لے ۔

اس دعا کا پس منظر یہ تھا کہ سعد بن معاذ اپنی شخصیت اپنی تاریخ اور یہود سے اپنے تعلق کی بنا پر مدینہ کے واحد شخص تھے جو ان کے اوپر اس قسم کے فیصلے کے لیے موزوں ہو سکتے تھے ، انھوں نے سوچا کہ میں آپ کے اس کام کو انجام دے لوں اس کے بعد اس دنیا سے جاؤں۔ کوئی دوسرا موزوں شخص اس کام کے لئے نہ ہو گا ۔ کس قدر با شعور تھے رسول اللہؐ کے یہ اصحاب !

آدمی اسی چیز کو کھو دیتا ہے جس کو وہ پانا چاہتا ہے ابن عبد البرنے استیعاب میں قتادہ کی روایت نقل کی ہے۔ عمر فاروق ؓ کہیں جا رہے تھے۔ راستہ میں ان کو ایک بڑھی خاتون ملیں۔ آپ نے ان کو سلام کیا۔ سلام کا جواب دینے کے بعد وہ بولیں: ” اے عمر! ، ایک وقت تھا جب میں نے تم کو بازارِ عکاظ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تم عمیر کہے جاتے تھے۔ لاٹھی ہاتھ میں لئے بکریاں چراتے پھرتے تھے۔ پھر زیادہ مدت نہیں گزری تھی کہ تم عمرؓ کہے جانے لگے۔ پھر ایک وقت آیا کہ تم امیر المومنین کہے جاتے ہو۔ دیکھو رعیت کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو اور یاد رکھو کہ جو اللہ کی وعید سے ڈرتا ہے ، اس کے لئے دور کا آدمی بھی قریبی رشتہ داروں کی طرح ہوتا ہے اور جو موت سے ڈرتا ہے ، اس کے حق میں اندیشہ ہے کہ وہ اسی چیز کو کھودے گا جسے وہ بچانا چاہتا ہے۔ جارود عبدی، جو اس وقت عمر فاروق ؓ کے ساتھ تھے ، یہ سن کر بولے: ” اے عورت تو نے امیر المومنین کے ساتھ بہت زبان درازی کی ، عمر فاروق ؓ نے فرمایا : انھیں کہنے دو، جانتے ہو یہ کون ہیں۔ ان کی بات تو سات آسمانوں کے اوپر سنی گئی تھی۔ عمر کو تو یہ رتبہ ادنیٰ سننا چاہئے “ یہ خاتون قبیلہ خزرج کی خولہ بنت ثعلبہ تھیں جن کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر ۵ کے شروع میں آیا ہے : ” بے شک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارہ میں ۔

ان کے پاس اپنی ہر غیر خدا پرستانہ روش کے لئے خدا کی کتاب میں دلیل موجود تھی !

مسیح کے ظہور سے پہلے یہودی حضرت مسیح کے منتظر وہ دعا کرتے تھے کہ " خدایا ! مسیح کو جلد بھیج" ، مگر جب مسیح ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئے تو انہوں نے ان کو ماننے سے انکار کر دیا۔ حتی کہ اپنے خیال سے آپ کو دار پر چڑھا دیا ۔ ( اور آپ کا نام بیل زبوب ( شیطان ) رکھا ۔ ایسا کیوں ہوا۔ اس کی وجہ وہی " شک " تھا جو مصریوں کو حضرت یوسف کی نبوت ماننے میں رکاوٹ بنا تھا۔ حضرت مسیح اپنے ساتھ دنیوی شان و شوکت لے کر ظاہر نہیں ہوئے عام انسانوں کی طرح وہ بھی ایک انسان تھے ۔ یہودیوں کی سمجھ میں نہ آ سکا کہ انھیں جیسا ایک انسان وہ عظیم انسان ہو سکتا ہے جس کی پیشین گوئی ان کی مقدس کتابوں میں کی گئی تھی۔ یہودیوں نے حضرت مسیح کے انکار کا ایک نہایت آسان راستہ نکالا ۔ ان کی کتابوں میں بعد کے دور کے لئے دو پیغمبروں کی پیشین گوئی کی گئی تھی ۔ ایک مسیح ، دوسرے " وہ نبی " انھوں نے یہ کیا کہ حضرت مسیح کو اُس معیار سے معیار حضرت مسیح پر راست نہیں آسکتا تھا۔ اعلان کر دیا کہ یہ ”جھوٹے مسیح“ ہیں۔ اگر وہ سچے مسیح ہوتے تو ضرور ہماری آسمانی کتابوں کی پیشین گوئیاں ان پر

انھوں نے کہا کہ مسیح کا ظہور تورات کی نص کے مطابق بعض نشانیوں کے ساتھ ہوگا۔ اور جب تک یہ نشانیاں ظاہر نہ ہوں، جو کوئی بھی مسیح ہونے کا دعوے دار ہوگا، وہ ان نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسیح ایک غیر معروف مقام سے ظاہر ہوگا۔ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ اس آدمی کا گھر ناصرہ میں ہے اور ناصرہ فلسطین کا ایک مشہور معروف شہر ہے۔ دوسری نشانی یہ ہے کہ وہ ایک لوہے کے عصا کے ساتھ حکومت کرے گا۔ یعنی وہ تلوار سے کام مگر اس مدعی مسیح کے پاس لکڑی کا ڈنڈا تک نہیں تیسری شرط یا نشانی یہ ہے کہ وہ داؤد کے تخت پر بیٹھ کر داؤد کی بادشاہت کو قائم کرے گا۔ جبکہ اس مسیح کا حال یہ ہے کہ اس کے پاس بیٹھنے کے لئے ایک چٹائی بھی نہیں اسی طرح ایک شرط یہ ہے کہ وہ تورات کی شریعت کو پھر سے قائم کرے گا۔ مگر اس شخص نے اس شریعت کو منسوخ ایک نشانی مسیح کی یہ ہے کہ اس کے عہد میں عدل و انصاف اس قدر ترقی پائے گا کہ نیکی اور ہمدردی انسان تو مفتی محمد عبدہ اپنا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار وہ کھانے کی ایک مجلس میں تھے۔ کے ساتھ اس دعوت میں اور بھی بڑے بڑے علماء تھے۔ مفتی محمد عبدہ نے چمچہ سے کوئی چیز اٹھ کر منہ میں ڈالی تو از ہر کے ایک عالم نے مستعجب ہو کر کہا: احلال هذا ام حرام (یہ حرام ہے یا حلال)

Printed page