الاہرام ۲۳ اپریل ۱۹۴۵ء
Al-Risala, April 1977, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان حیوانوں میں بھی پائی جائے گی۔ جب کہ مسیح کے زماوہ میں یہ حال ہے کہ ہر طرف ظلم اور نا انصافی کا دور دور ہے اسی طرح ایک نشانی یہ ہے کہ مسیح کے وقت خدا پرست اتنے کامیاب ہوں گے کہ تمام دنیا کی قوموں پر فتح پائیں گے۔ مگر ہم نہایت ذلت اور غلامی کی حالت میں رومیوں کے پھر یہ شخص وہ مسیح کیسے ہو سکتا ہے جس کی تورات میں پیشین گوئی ہے۔
یہ جتنے معیار یہودیوں نے پیش کئے، وہ سب تورات میں لکھے ہوئے ہیں، مگر وہ " وہ نبی" کے ہیں نہ کہ مسیح کے۔ نے " وہ نبی " کے معیار کو مسیح کے انکار کے لئے استعمال کیا۔ مگر جب " وہ نبی " عرب کے ایک غیر معروف شہر میں محمد بن عبداللہ" کی صورت میں پیدا ہوئے اور خدا نے آپ پر نہ تمام نشانیاں مکمل طور پر پوری کر دیں جو تورات میں لکھی ہوئی تھیں تو انھوں نے آپ کی نبوت کا انکار کرنے کے لئے ایک اور وجہ تلاش کر لی۔ انھوں نے کہا: " اب تک تمام انبیاء اسرائیل کے خاندان میں آئے، پھر اسمٰعیل کے خاندان میں کیسے کوئی نبی پیدا ہو سکتا ہے ؟
یہود نے حضرت مسیح کے انکار کے لئے یہ کیا کہ پیغمبر آخر الزمان کی علامتوں کو آپ پر چسپاں کیا جو ظاہر ہے کہ آنجناب پر چسپاں نہیں ہو سکتی تھیں۔ اس کے بعد جب پیغمبر آخر الزمان کا ظہور ہوا تو آپ کو ان علامتوں سے جانچا جو ان کی کتاب میں حضرت مسیح کے لئے بتائی گئی اس طرح انھوں نے دونوں نبیوں کا انکار کر دیا۔ اور دونوں مواقع پر ان کے پاس یہ کہنے کے لئے کافی الفاظ موجود تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں کتاب اللہ کی روشنی میں کر رہے ہیں۔ ہم نے خدا کی کتاب سے ہٹ کر اپنے لئے کوئی موقف اختیار نہیں کیا ہے !