Al-Risala · April 1977

ہاں ارشاد ہو،،

Al-Risala, April 1977, pp. 39–58

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو گرم پانی میں اچھی طرح جوش دے کر، چھان کر سوتے وقت پی لینا۔ اللہ نے چاہا تو پہلی ہی خوراک میں آرام محسوس ہوگا۔ بہت اچھا حضور اور دیکھو کل صبح آ کر اطلاع دینا،، دوسری صبح مریض پھر آیا، حکیم صاحب نے نبض پر ہاتھ رکھا اور پوچھا، کہو کچھ فرق محسوس ہوا۔ مریض نے کہا نہیں حضور کچھ فرق نہیں بلکہ آج تو تکلیف اور بڑھ گئی ہے“ یہ حکیم صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے، ماتھے پر ہاتھ رکھا، لمبی سانس لی اور کچھ یاس آمیز لہجہ میں کہا اچھا لاؤ نسخہ دکھاؤ۔

“ مریض بولا حضور نسخہ تو آپ کے ارشاد کے مطابق میں نے جوش دے کر پی لیا۔ حکیم صاحب نے گھبرا کر آنکھیں اوپر اٹھائیں کیا کہا! نسخہ پی لیا“ جی حضور نسخہ جوش دے کر پی لیا جیسا کہ آپ نے بتایا تھا کہ اس کو ...... ، ارے بدبخت، حکیم صاحب غصہ سے بولے کہیں نسخہ بھی جوش دے کر پیا جاتا ہے، نسخہ میں جو دوا لکھی جاتی ہے وہ استعمال کی جاتی ہے نہ کہ نسخہ کا کاغذ“

قارون ایک اسرائیلی خاندان میں پیدا ہوا۔ مگر وہ قبطی بادشاہوں کا حلقہ بگوش ہو گیا۔ کیونکہ دنیوی کامیابی کی کنجیاں اس وقت قبطی حکمراںوں ہی کے پاس تھیں ۔

قارون ایک اسرائیلی مسلمان تھا۔ مگر قرآن میں اس کا ذکر فرعون اور ہامان کے ساتھ کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بنی اسرائیل سے کٹ کر وقت کے ظالم حکمران فرعون سے جا ملا تھا۔ قارون کو بائبل اور تالمود میں قورح کہا گیا ہے۔ بائبل کی روایت (خروج ۶: ۲۱ - ۱۸) کے مطابق وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچازاد بھائی تھا، حضرت موسیٰ اور قارون کے والد ایک دوسرے کے سگے قارون بنی اسرائیل میں پیدا ہوا اور اس وقت کے لحاظ سے وہ مسلمان تھا۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی شخصیت اور زبردست صلاحیتیں عطا کی تھیں۔ اس طرح کے لوگوں میں اکثر نہایت خاموشی سے یہ کمزوری داخل ہو جاتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کی قیمت اسی موجودہ دنیا میں وصول کر لینا چاہتے ہیں۔ قارون میں بھی یہی کمزوری وہ دن بدن اسرائیل سے دور اور فرعون سے قریب ہونے لگا۔ کیونکہ دنیوی کامیابیوں کی کنجیاں اس وقت فرعون کے پاس تھیں ۔ اس کی اس پالیسی نے اس کے لئے دولت اور عزت کے دروازے کھول دیئے، اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ اقتدار پرستی اور مصلحت پسندی کی انتہا پر پہنچ گیا۔ فرعون کے وزیرِ اعظم ہامان کے بعد وہ قبطی شہنشاہیت کا تیسرا سب سے بڑا رکن تھا۔ خود اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا کہ یہ مرتبہ مجھے اپنی خصوصی صلاحیتوں (قصص ۔ ۷۸) کی بنا پر ملا ہے۔ یہ قومی غداری کی قیمت تھی۔ فرعون بنی اسرائیل کو مصر سے مٹا دینا چاہتا تھا۔ اس کو ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو بنی اسرائیل کا ہم قوم ہو۔ تاکہ جب وہ بنی اسرائیل کو مٹانے کے منصوبے زیر عمل لائے تو اس کے پاس یہ کہنے کا جواز ہو کہ یہ سب ہم ملک کی فلاح کے لئے کر رہے ہیں۔ اگر ہم کو بنی اسرائیل سے قومی و نسلی دشمنی ہوتی تو ہم انھیں کے ایک فرد کو اپنے دربار میں اتنا اونچا مقام کیوں دیتے۔ اس کو جو مرتبہ ملا وہ بنی اسرائیل کی بربادی کی قیمت پر تھا نہ کہ اپنی کسی صلاحیت کی بنا پر۔

قارون کے بارہ میں قرآن کا بیان حسب ذیل ہے: قارون، موسیٰ کی قوم میں سے تھا، پھر اس نے اپنی قوم سے بغاوت کی۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اٹھا سکتی تھی۔ جب اس کی قوم (بنی اسرائیل) کے لوگوں نے اس سے کہا: اپنی اس حیثیت پر نہ اترا، اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے، اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دنیا میں اپنے حصہ کو بھول نہ جا، اور احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔ نے جواب دیا: یہ سب کچھ جو مجھے ملا ہے اپنے اس علم کی بنا پر ملا ہے جو مجھے حاصل ہے۔

کیا قارون کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت و جمعیت والے تھے۔ اور مجرموں سے ان کے گناہ نہیں ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پورے ٹھاٹھ کے ساتھ نکلا۔ جو لوگ دنیوی زندگی کے طالب تھے، وہ اس کو دیکھ کر کہنے لگے: کاش ہم کو بھی وہ ساز و سامان ملا ہوتا جو قارون کو ملا ہے۔ واقعی وہ بڑا نصیب والا ہے۔ جن لوگوں کو حقیقت کا علم عطا ہوا تھا، انھوں نے کہا: تمھارا ناس ہو، خدا کے گھر کا ثواب اس سے کہیں زیادہ جو ایسے شخص کو ملتا ہے جو خدا پر یقین کرے اور اچھے کام کرے، اور وہ انھیں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے پھر ہم نے قارون اور اس کی محل سرا کو زمین میں سو کوئی ایسی جماعت نہ ہوئی جو اس کو اللہ کی پکڑ سے بچا لیتی ، اور نہ وہ خود اپنے کو بچا سکا۔ اور جو لوگ اس کے جیسے ہونے کی تمنا کرتے تھے، اس کا انجام دیکھ کر کہنے لگے، اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے، زیادہ روزی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے۔ پر اللہ کی مہربانی نہ ہوتی تو ہم کو بھی دھنسا دیتا، منکروں کو کبھی فلاح نہیں ہوتی۔ قصص ۸۲ - ۸۱ ہر آدمی کے لئے سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے۔

ابوتمام (۲۳۱ - ۱۸۸ھ دمشق کے قریب ایک نے محض اتفاقاً کیا تھا۔ ایک شخص کے یہاں ایک بار اس کو قیام کرنا پڑا۔ وہاں مختلف شعراء کے کلام کا ذخیرہ موجود تھا۔ کوئی دوسرا مشغلہ نہ ہونے کی وجہ سے اس نے انتخاب شروع گاؤں میں پیدا ہوا۔ وہ ایک غریب آدمی تھا اور قاہرہ کی مسجد عمرو بن عاص میں پانی بھرتا تھا۔ اپنے زمانہ کے مطابق شاعری میں طبع آزمائی کرنے لگا؛ یہاں تک کہ شاعر بن گیا۔ اس کے اشعار کا دیوان چھپ چکا ہے اس کے علاوہ اس کی دو تصانیف الحماسہ اور فتح الشعوار بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک کام میں اپنی عمر صرف کر دیتا ہے ۔ حالانکہ اس کی زیادہ قیمت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس کوئی دوسرا کام اس سے محض ضمنی طور پر ہو جاتا ہے اور وہ زیادہ قیمتی قرار پاتا ہے ۔

ہیں جن میں اس تے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام کے شاعروں کے کلام کا انتخاب درج کیا ہے۔ اتنا عمدہ ہے کہ جب وہ سامنے آیا تو لوگ کہنے لگے: "اس کا انتخاب اس کی اپنی شاعری سے بہتر ہے " الحماسہ کی شکل میں جو انتخاب ہے ، وہ اس اکثر اوقات آدمی کے لئے بہترین بات یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے طبع زاد کام کا کریڈٹ لینے کا شوق نہ کرے، بلکہ کسی دوسرے کے کام میں شریک و معاون مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت پسندی پر اپنے کو راضی کر سکیں ۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عوامی بھیڑ میں سچائی دُب کر رہ جاتی ہے حضرت مسیح کو اللہ نے بہت سے معجزے دیئے وہ مٹی کے پرندہ پر پھونک مارتے اور وہ سچ مچ پرندہ بن کر اڑنے لگتا۔ وہ اندھے اور کوڑھی پر ہاتھ پھیرتے اور وہ فوراً اچھے ہوجاتے اور دیکھنے لگتے، وہ مرے ہوئے انسان سے کہتے کہ اٹھ، اور وہ دوبارہ زندہ ہو کر کھڑا ہو جاتا۔ وہ بتا دیتے کہ کس کے پیٹ میں کیا ہے اور کس کے گھر میں کن چیزوں کا ذخیرہ ہے (آل عمران - 49) یہ حیران کن باتیں آپ کے فرستادہ الٰہی ہونے کا ثبوت تھیں مگر یہود نے ان کو آپ کے انکار کا بہانہ بنا لیا۔ انھوں نے کہا: یہ کوئی معلم دین یا قانون ساز نہیں، بلکہ شعبدہ باز ہے وگلیل کے سادہ مزاج باشندوں میں اس نے شہرت و مقبولیت حاصل کر لی ہے۔ تاہم فلسطین کے مشترک رومیو کا تاشرو دوسرا تھا، مشترک قوموں کا عام مزاج یہ رہا ہے کہ جس کے اندر کوئی غیر معمولی بات دیکھتی ہیں۔ اس کو خدا سمجھ لیتی ہیں۔ ہر نا با حواری کی انجیل میں بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح کے معجزوں کو دیکھ کر اس زمانہ کے مشرک رومی سپاہیوں نے آپ کو خدا اور بعض نے خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا تھا۔

حضرت مسیح کے بعد جب سینٹ پال آپ کے مذہب میں داخل ہوا تو اس کو مسیحیت کے پھیلانے کے لیے سب سے آسان نسخہ یہ سمجھ میں آیا کہ عوامی ذہن کی رعایت سے مسیحیت کی ایک ایسی تعبیر پیش کی جائے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابل قبول ہو۔ حضرت مسیح کی تعلیم کے مطابق آپ کے ابتدائی پیرو موسوی شریعت پر عمل کرتے تھے۔ سینٹ پال نے اعلان کر دیا کہ ایک عیسائی، شریعت یہود کی تمام پابندیوں سے آزاد ہے۔ اس زمانہ کے رومیوں اور یونانیوں کے مذہب متھرا پرستی (MITHRAS) کے عقائد کو صرف الفاظ بدل کر مسیحیت میں داخل کر لیا اور کہا کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے اور صلیب پر جان دے کر وہ اولاد آدم کے پیدائشی گناہ کا کفارہ ہوگئے ہیں، اب صرف ان پر ایمان لانا ہی نجات کے لیے کافی ہے۔

حضرت مسیح کے ابتدائی پیروؤں نے سینٹ پال کی اس خود ساختہ مسیحیت کی سخت مخالفت کی، مگر سینٹ پال نے اپنی گھڑی ہوئی مسیحیت میں اس وقت کے عوام کے لیے جو اعتقادی کشش اور سہولت رکھ دی تھی، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ کثرت سے مسیحی دین میں داخل ہونے لگے حتیٰ کہ جدید مسیحیوں کا ایک سیلاب امڈ پڑا ۔ ریلے میں سچے مسیحی جو تعداد میں بہت کم تھے، دب کر رہ گئے تاہم تیسری صدی عیسوی کے خاتمہ تک بہت سے ایسے لوگ موجود تھے جو حضرت مسیح کو بندہ اور رسول مانتے تھے اور آپ کی الوہیت کے عقیدہ کو غلط قرار دیتے تھے مگر چوتھی صدی کے آغاز میں جب مشرقی رومی شہنشاہ قسطنطین 272 بعض سیاسی محرکات کے تحت عیسائی بن گیا تو سینٹ پال کی ایجاد کردہ مسیحیت کو سیاسی اقتدار کی سرپرستی بھی حاصل ہو گئی ۳۲۵ء میں نیقیہ (NICAEA) کی کونسل میں ۳۱۸ مسیحی نمائندے جمع کئے گئے تاکہ مسیحیت کا سرکاری عقیدہ متعین کریں۔ اس میں ۳۱۳ نمائندوں نے سرکاری تشریح کی حمایت کی بقیہ اس کے خلاف ہے

پادری اے ریس (ARIUS) اس ک چیلنج کرنے کیلئے اٹھا تو قسطنطین نے یہ کہہ کر اس کو خاموش کر دیا کہ اگر تم اس کو نہیں مانتے تو دوسری چیز ہمارے پاس تلوار ہے و قسطنطین کے مسیحیت قبول کرنے کے بعد ساری رومی سلطنت میں مسیحی مذہب پھیل گیا ۔ یہ تمام مسیحی اسی نئے مسیحی مذہب پر ایمان لائے تھے جو اولاً سینٹ پال اور اس کے بعد تر تولین (۲۳۰ - ۱۵۰) وغیوہ نے وضع کیا تھا۔ اس عوامی طوفان میں سچے مسیحیوں کے لیے زندہ رہنے کی کوئی شکل نہ تھی۔ اولاً خاموش اور اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ختم ہو گئے۔

اسلام کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ خود اللہ نے قرآن کو محفوظ رکھنے کا ذمہ لیا ہے۔ (جبکہ پچھلی آسمانی کتابوں کو محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ان کے حاملین کے اوپر تھی) اسلام کے لیے یہ خطرہ نہیں کہ وہ کبھی بدل کر کچھ سے کچھ ہو جائے یا مٹ کر ختم ہو جائے۔ مگر حفاظت کا یہ وعدہ متن اسلام کے لیے ہے، اگر وہ اسلام کے لئے نہیں ہے یہ بالکل ممکن ہے کہ اسلام پر بھی ایسا زمانہ آئے کہ کتابی حیثیت سے تو متن اسلام (قرآن) مکمل طور پر محفوظ ہو مگر عملاً ایسا ہو کہ آسمانی مذہب کے بجائے ” بزرگوں کا مذہب “ اس طرح رائج ہو جائے کہ عملاً وہی قرآن کی جگہ لے لے۔ جیسا کہ دوسری قوموں میں ہوا ہے ۔ قرآن کی تلاوت تو خوب ہو رہی ہو مگر دین کو بزرگوں سے لیا جانے لگے حتی کہ یہ بھی ممکن ہے کہ اسلام کی یہ خود ساختہ شکل عوام میں اس قدر مقبول ہو کہ اسلام کے سچے پیرو اس کے طوفان میں دب کر رہ جائیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ رہ غلط ہے ، بہت سے لوگ اس لیے اس کے ساتھ لگ جائیں کہ عوامی کھیلاؤ کی وجہ سے دنیوی فائدے اس سے وابسته ہو گئے ہیں۔ علماء اس کے خلاف بولنے سے اس لئے ڈریں کہ ان کے مدرسوں کے چندے بند ہو جائیں گے۔ قائدین اس لئے اس سے قطع تعلق نہ کریں کہ انھیں اندیشہ ہو کہ ان کے استقبال کرنے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔ بہت سے کتاب اللہ کا علم رکھنے والے اس کو کتاب اللہ کے موافق نہ پائیں مگر اس لئے اس کے گروہ میں شامل رہیں کہ ملک کے اندر اور ملک کے باہر اس کے پھیلے ہوئے حلقہ سے وہ بہت سے مفادات حاصل کر سکتے ہیں۔

عوامی مقبولیت کبھی سچائی کی سند نہیں رہی ہے۔ بلکہ کسی تحریک کا زیادہ پھیلاؤ اکثر یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ اس کے اندر کوئی غلطی تو شامل نہیں، کیونکہ حق کو ماننے والے ہمیشہ کم ہوتے ہیں اور اس کو پانے والے اور

ورقہ بن نوفل نے پیغمبر اسلام سے کہا تھا: "کاش کہ اس زمانہ میں جب لوگ آپ کو قبیلہ سے نکال دیں گے میں زندہ رہوں۔ " یہ الفاظ ورقہ نے پیغمبر اسلام سے ۶۱۰ء میں کہے تھے اس کی پیشگوئی ۶۱۴ میں سامنے آگئی۔

اوپر کا فقرہ کوئستان در ثریل خارج کی کتاب "پیغمبر اسلام" سے ماخوذ ہے۔ پیغمبروں میں یہ صرف پیغمبر اسلام کی خصوصیت ہے کہ آپ کی زندگی کے ہر واقعہ کو سن اور تاریخ کی زبان میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ آپ کی زندگی تاریخ کا ایک صفحہ ہے نہ کہ محض روایاتی کہانیوں کا مجموعہ۔

یہ ۳۱ جنوری ۱۹۷۶ء کا واقعہ ہے جب کہ راقم الحروف لیبیا جاتے ہوئے ۳۶ گھنٹہ کے لئے روم روم(اٹلی) میں ٹھہرا تھا۔ روم کی یادوں میں سے ایک یاد وہ جرمن پادری ہے جس سے وہاں میری ملاقات ہوئی: Dr. Hans Georg Aamussen Beselerstraße 28-2240 Heide Telefon (0481) 3220 ایک موقع پر میں نے دیکھا کہ موصوف عربی انجیل کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس سے میں نے سمجھا کہ وہ عربی زبان جانتے ہیں گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مجھے بائبل اور اس سے متعلقہ لٹریچر کے مطالعہ کا شوق ہے۔ انگریزی میں چھپی ہوئی چیزیں موجود ہیں۔ مگر میں بائبل کا مکمل عربی ترجمہ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔

میرا مقصد صرف ناشر کا پتہ پوچھنا تھا تا کہ وہاں سے عربی بائبل منگائی جاسکے۔ مگر پادری موصوف نے ناشر کا پتہ بتانے کے بجائے خود میرا پتہ دریافت کیا اور اپنی ڈائری میں میرا پتہ نوٹ کرتے ہوئے کہا: میں آپ کو عربی بائبل بھجواؤں گا۔

اس واقعہ کو تقریباً ایک برس گزر چکا تھا اور میں نے سمجھ لیا تھا کہ پادری صاحب یا تو اپنا وعدہ بھول گئے یا انھوں نے کتاب روانہ کی اور وہ کسی وجہ سے مجھ تک نہیں پہنچی۔ مگر فروری ۱۹۷۷ء کی ایک تاریخ کو ڈاک میں ایک پیکٹ ملا۔ کھولا تو اس کے اندر پرانے دور نئے عہد نامہ پرمشتمل ” الکتاب المقدس “ کا ایک نیا نسخہ موجود تھا۔ فولڈنگ جلد کے ساتھ بائبل پیپر پر چھپا ہوا یہ خوبصورت نسخہ ۴۰۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کو دیکھنے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ روانگی میں تاخیر کا امکانی سبب کیا تھا۔ پرنٹ لائن کے مطابق بائبل کا یہ عربی نسخہ کوریا میں ابھی ۱۹۷۶ء میں چھپا ہے، غالباً پادری موصوف کے پاس یا ان کے ادارہ میں عربی نسخے ختم ہو گئے تھے اور جب کوریا سے چھپ کروہیں پہنچے ہیں تو حسب وعدہ انھوں نے فوراً اس کی روانگی کا انتظام کیا۔

پادری موصوف کے نام جب میں نے شکریہ کا خط روانہ کیا تو خیال آیا کہ کاش ہم بھی اسی طرح ” شکریہ کے خطوط“ وصول کرنے کی پوزیشن میں ہوتے۔ ساری دنیا میں بے شمار لوگ ہیں جو قرآن کو اپنی زبان میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر ہم ان کو قرآن کے ترجمہ ان کی زبان میں اس طرح فراہم نہیں کر سکتے جس طرح مسیحی حضرات دنیا کی تمام زبانوں میں اپنی مقدس کتاب کو

دوسروں تک پہنچار ہے ہیں۔

قرآن کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم بنتی آدم کی طرف خدا کے آخری منذر ( آگاہ کرنے والے) آپ نے قرآن کے ذریعے انذار کی یہ ذمہ داری ادا فرمائی اور اپنے بعد کتاب اللہ کو محفوظ حالت میں چھوڑ گئے کہ وہ قیامت تک لوگوں کے لئے آگاہی کا ذریعہ

آپ کے بعد یہ قرآن کس طرح لوگوں تک پہنچے گا۔ کا ذریعہ امت محمدی ہے۔ امت محمدی کی پہلی اور لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کی آواز کو تمام اقوام عالم تک مگر افسوس کہ آج ساری دنیا میں کوئی بھی دار خاص اس مقصد کے لئے قائم نہیں۔ حتی کہ مسلمان اپنی اس ذمہ داری کے شعور تک سے غافل ہو چکے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے تو یہ کہا تھا کہ میں "بنی اسرائیل کی کھوئی بھیڑوں" کے پاس بھیجا گیا ہوں، مگر آپ کے پیروؤں کے جوش تبلیغ نے مسیحیت کو ساری دنیا کے لئے قابل مطالعہ بنا دیا۔ اس کے برعکس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح لفظوں میں اعلان فرمایا کہ میری بعثت سارے عالم کے لئے ہے مگر آپ کے پیروؤں کے اندر یہ آگ نہیں بھڑکتی کہ آپ کے پیغام کو سارے عالم تک پہنچائیں۔ جرمن پادری کی طرف سے میں نے عربی بائبل کا نسخہ وصول کیا تو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ زبان حال سے کہہ رہا ہو: دیکھو تم اسلام کا پیغام پھیلانے میں ناکام رہ گئے اور ہم ساری دنیا میں مسیحیت کا پیغام

وحید الدین خاں (پیدائش ۱۹۲۵)

جمعتیہ بلڈنگ، قاسم جان اسٹریٹ۔ مولانا اخلاق حسین قاسمی قوموں کی قسمت خود اپنے کردار سے بنتی ہے۔ بھی پارٹی کے ساتھ لگ جایئے، کسی کے جھنڈے اٹھایئے، اس سے کچھ نہیں بنتا۔ ہمارے رہنما کچے پکے مکانوں پر بلڈوزر چلانے کا ماتم کر رہے ہیں، لیکن ان کو یہ نظر نہیں آ رہا ہے کہ جس قوم کے اخلاق کی عمارت بوسیدہ ہو جاتی ہے، اس پر کوئی رحم نہیں کرتا۔ اس پر قدرت کا بلڈوزر چلتا ہی ہے۔

ہمارے اسلاف نے بوسیدہ مکانوں میں رہ کر دلوں پر حکمرانی کی اور آج ہم فلک بوس عمارتوں میں رہ کر بھی محکوم اور غلام ہیں۔ یہ صرف اخلاقی بلندی اور پستی کا فرق ہے۔ دل کی بھڑاس نکال لیجئے۔ لیکن اس کی قیمت بہت بڑی چکانی پڑے گی۔

جو لوگ اعصابی اور مغلوب الغضب ہوں ان کے لئے میدانِ سیاست کا کارزار کسی طرح موزوں نہیں یہ تو وہ میدان ہے جہاں بے پناہ قوت برداشت

اس پارٹی کی فتح ہو یا اس پارٹی کی۔ اخلاق کا حال یہی ہے تو ہم شکست کھا گئے۔ اور کوئی جائے، لیکن یہ ملت ہندوستان میں ماتم ہی کرتی رہے گی:

کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے کہ امیرِ کارواں میں نہیں خُوئے دل نوازی

دسمبر ۱۹۷۶ء کے آخری ہفتہ میں میوات (ہریانہ) کے چند مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا : بھادس بر کلی پنگواں نیم کھیڑا، بڑھیڈ اور فیروز پور جھر کا ۔ ۲۰ دسمبر کی شب نیم کھیڑا (ضلع گوڑگاؤں) میں گزری۔ یہاں گاؤں کے کنارے اونچائی پر ایک مسجد ہے، جس کے شمالی جانب کشادہ صاف ستھرا کمرہ بنا ہوا ہے۔ یہاں مسجد میں نماز عشاء کے بعد ایک تذکیری مجلس ہوئی جس میں راقم الحروف نے بعض احادیث کی روشنی میں بتایا کہ اسلامی زندگی یہ ہے کہ آدمی تقویٰ کی رسی میں بندھ جائے۔ وہ ہر معاملہ میں بس وہیں تک جائے جہاں تک حدود اللہ اس کو اجازت اس کے آگے اس کا ایمان اور خوفِ آخرت اس کو روک لے۔

مولانا عبد الرحيم بڑھیڈوی اس مسجد میں امام اور مدرس کی حیثیت سے مقیم ہیں، گاؤں کے بچے قرآن اور دینی تعلیم کے لئے یہاں جمع ہوجاتے ہیں۔ ان کے مل کر پڑھنے سے ایک قسم کا تعلیمی نغمہ مسجد کی فضا میں گونجتا رہتا ہے۔ لوگ ملنے کے لئے کمرہ میں آتے رہے اور اس طرح گاؤں کے لوگوں سے دینی ربط جاری رہا۔ خاص طور پر جناب شمس الدین صاحب اور ان کے اہل خاندان سے جن کا مکان مسجد سے بالکل ملا ہوا ہے۔

کمرہ کا جائے وقوع ایسا ہے کہ صبح کو سورج نکلتے ہی دھوپ کمرہ کے اندر آگئی۔ سردی کے موسم میں صبح صبح چمکتا ہوا سورج جب اپنی سنہری کرنوں کے ساتھ ہماری قیام گاہ کے اندر داخل ہوا تو ایسا محسوس ہوا گویا زمین والوں کے ساتھ ہم آسمان والوں سے" سے بھی مربوط ہو گئے ہیں۔ مسجد کے باہر پھیلے ہوئے ہرے ہرے کھیت، ان میں جگہ جگہ کھڑے ہوئے درخت دور آسمان کو چھوتی ہوئی نیپ ائرا کی دیواریں ان قدرتی مناظر کے درمیان چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں، اس ماحول میں بیٹھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے خالق اپنی مخلوقات کے پورے کارخانے کے ساتھ ہماری پشت پر آ کر کھڑا ہو گیا ہے۔ شہری زندگی میں آدمی تمدن کی مصنوعی حد بندیوں میں گم رہتا ہے، مگر شہروں کے باہر قدرت کی جو پھیلی ہوئی دنیا ہے، وہاں اپنے کو پہنچا دیجئے تو زندگی اپنی تمام تنگیوں کے باوجود وسیع معلوم ہونے لگتی ہے، آدمی اپنے کو ایک آفاقی مملکت کا شہری سمجھنے لگتا ہے۔

شہر کے تمدنی بندھنوں میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک ایسے جال میں پھنسا ہوا ہے جس سے رہائی مگر دیہات کی کھلی فضا جہاں ہریالی، میدان چڑیوں کے چہچہے، پہاڑوں کی بلندیاں انسان کا استقبال کر رہی ہوں، جہاں آسمان کی وسعتیں خدا کی قدرت کو یاد دلاتی ہوں، زندگی کے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔ تنگیاں وسعتوں میں تحلیل ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ کے پیدا کئے ہوئے مسائل خدائی عظمتوں کے آگے حقیر ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ زندگی کی تاریکیاں کائنات کی تابناکیوں میں غائب ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ مختصر یہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا آدمی، انسان کے بنائے ہوئے وحشت کدہ سے نکل کر خدا کی پرسکون دنیا میں پہنچ گیا ہے۔ یہاں آکر زندگی کے معنی بالکل بدل جاتے ہیں۔

مگر کیسی عجیب بدقسمتی ہے کہ لوگوں کو ان حقائق کا وہ خدا کے پڑوس میں ہو کر بھی انسان کی بنائی ہوئی دنیاؤں میں گم رہتے ہیں۔ آسمان کی فضاؤں سے انھیں اپنی غذا نہیں ملتی۔ چڑیوں کے زمزمے میں انھیں کوئی پیغام سنائی نہیں دیتا۔ درختوں کی ہریالی میں انھیں زندگی کا کوئی سبق نہیں ملتا۔ پہاڑوں کی بلندی میں ان کے لئے نصیحت کا کوئی سامان نہیں ہے۔ انسانوں کی آواز سن سکتے ہیں۔ خدا اور فرشتوں کی آواز سننے کے لئے ان کے کان بہرے ہیں۔ خدا اپنی پوری کائنات کے ساتھ ان کے سامنے کھڑا ہوا ہے، مگر ان کی آنکھیں صرف انسانی مصنوعات کو دیکھ سکتی ہیں۔ کو دیکھنے کی صلاحیت ان کے اندر نہیں۔ خدا یہاں پہاڑ کی بلندیوں اور آسمان کی وسعتوں سے اعلان کر رہا ہے کہ: "میرے سائے میں آجاؤ، میرا جو اترہم ہے اور میرا بو جھ ہلکا"۔ مگر کوئی نہیں جو اس ربانی پیغام سے آشنا ہو۔ جاری رکھیں ۔

”میوات“ کا لفظ باہر کے لوگوں کے لئے ایک افسانوی نام بن گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میو قوم، جس کے نام سے یہ علاقہ منسوب ہے، اس ملک کی سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم ہے۔ جگہ جگہ قدیم طرز کی درگاہوں کی بڑی بڑی عمارتیں بتاتی ہیں کہ یہ علاقہ سیکڑوں برس سے بزرگوں کی توجہات کا مرکز رہا ہے۔ ایک میو سلام کے بعد مصافحہ کے لئے اپنا ہا تھ آپ کی طرف بڑھائے گا تو اس کے ہاتھ میں لٹکی ہوئی تسبیح بتائے گی کہ ان اصلاحی کاموں کے اثرات بھی اس قوم نے قبول کئے ہیں۔ مگر اور رشاذ و نوافل سے اوپر حقیقی دینی تبدیلیاں شاد و نادر ہی کہیں نظر آتی ہیں ہم گاؤں کے باہر نکلے تو حد نظر تک ہرے بھرے کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ ایک کھیت میں گیہوں کی فصل نہایت عمدہ کھڑی ہوئی تھی۔ ”یہ کس کا کھیت ہے“ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا: ”سر من کا کھیت ہے جو ایک مسلمان مسجد اور گاؤں میں کچھ لمحات گزارنے کے بعد میری سمجھ میں آیا کہ قرآن کی آیت وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قِبْلَةً وَأَقِيمُوا الصَّلَوةَ کا مطلب کیا ہے یعنی حالات جب اہل ایمان کو اتنا پیچھے دھکیل دیں کہ عملاً ان کے لئے گھر اور مسجد کے سوا کوئی اور میدان کار باقی نہ رہے تو تو انھیں چاہئے کہ اسی ملے ہوئے دائرے کو اپنے عمل کے لئے خاص کر لیں ۔ خارجی دنیا کے خلاف شکایت اور احتجاج کا میمورنڈم مرتب کرنے میں وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں بلکہ گھروں اور مسجدوں کو مرکز بنا کر ایک طرف اپنے رب کے ساتھ اور دوسری طرف اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ جڑ جائیں اور جو دائرہ بھی ان کے لئے باقی رہ گیا ہے ، اس کے اندر دینی بیداری کی کوشش نے دوسرے مسلمان سے لیا ہے،" یہ سنتے ہی میری خوشی مجھے حدیث یاد آئی: كل لحم نبت من السحت فالنار اولی به (ہر جسم جو حرام سے پلے اس کے لئے آگ ہی بہتر ہے) تاہم اس علاقہ کے لئے یہ کوئی انوکھی مثال نہیں۔ "داڑھی اور تسبیح" والے اسلام کی کثرت کے باوجود یہاں اس قسم کی بے شمار خرابیاں عمومیت کے ساتھ جاری ہیں۔

اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ دنیوی عقل، جو آدمی کے گردو پیش کے حالات خود اپنے زور پر اس کو سکھا دیتے ہیں ، اس سے بھی یہ قوم ابھی تک

یہ قوم ایک انتہائی برباد قوم ہے۔ اس کی بربادی

کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کو زمانہ کا شعور نہیں۔ کے درمیان ایک مثل مشہور ہے:

جاٹ کہے سن جاٹنی یائی گاؤں میں رہنا اونٹ بلیا لے گئی، ہاں جی ہاں جی کہنا اس شعر میں جس مفاہمت اور حقیقت پسندی کا ذکر ہے وہ میووں کے روایتی تصور میں دبی ہوئی قوموں کا طریقہ تھا میووں کا خیال اپنے بارہ میں یہ رہا ہے کہ ہمیں دوسروں سے مفاہمت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، ان کی لاٹھی، ان کے نزدیک ، اس قسم کی "بزدلی" کا بہترین بدل تھی۔ آج زندگی کے معنی بالکل بدل گئے مگر میو اب بھی انھیں روایتی تصورات اور رومانی خیالات میں جی رہے ہیں۔ آج بھی اگر کوئی معاملہ پیش آجائے تو وہ فوراً لڑنے بھڑنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں، خواہ اس کا نتیجہ یہ کیوں نہ نکلے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ برے حال کو پہنچا دیئے جائیں۔ دین، اپنی حقیقی شکل میں، دنیا کا بھی شعور بیدار کرتا ہے اور آخرت کا بھی۔ مگر اس قابل رحم قوم کے حصہ میں ایک ایسا دین آیا ہے جس نے اس کو دنیا کا صحیح شعور دیا اور نہ آخرت کا۔ آپ لکڑی کو توڑیں تو وہ دو ٹکڑے ہو کر رہ جائے گی۔ مگر ایک زندہ امیبا جب ٹوٹتا ہے تو وہ دو زندہ امیبا بن جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ تقسیم اور شکست اس دنیا میں صرف مردہ چیزوں کے لئے مقدر ہیں۔ ایک چیز جو زندہ ہو، اس کو کبھی توڑا نہیں زندہ چیز اگر ٹوٹتی ہے تو اس کا ہر حصہ ایک نئے زندہ وجود کی شکل اختیار کر لیتا ہے، اور پہلے سے بھی زیادہ عظیم بن جاتا ہے۔

Printed page