Al-Risala · April 1977

مقاصد

Al-Risala, April 1977, pp. 40–61

By Maulana Wahiduddin Khan

عربی، انگریزی، اردو اور دوسری زبانوں میں رسائل کا اجراء جس کے ذریعہ مسلمانوں کو ان کی دعوتی ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا جاسکے اور اسلام کو جدید اسلوب اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق مدلل کیا جائے۔ قرآن کے ترجمے دنیا کی تمام زبانوں میں شائع کرنا اور ان کو رعایتی قیمت کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا۔ قرآنی علوم کی تدوین اور اسلامی انسائیکلو پیڈیا

حدیث، سیرت، حالات صحابہ، تاریخ اسلام (نہ کہ تاریخ فتوحات) پر سادہ، واقعاتی انداز میں کتابوں کی تیاری اور ان کو مختلف زبانوں میں شائع کرنا۔

ایسی درس گاہ کا قیام جس میں قرآن، حدیث، سیرت تقابلی مذہب، عربی زبان اور دوسری زبانوں کی تعلیم کا انتظام ہو۔

اسلامیات اور مختلف مذاہب کے مطالعہ کے لئے ایک مکمل لائبریری کا قیام۔

مختلف علاقوں اور ملکوں میں تبلیغی وفود بھیجنے کا انتظام۔ اسلام کے تاریخی آثار اور دستاویزات کا میوزیم قائم کرنا۔ علمی طرز فکر اور حقیقت پسندانہ مزاج پیدا کرنا۔ جدید طرز کے پریس کا قیام جہاں مختلف زبانوں میں اعلی چھپائی ہو سکے۔

ایسے ادارہ کی تشکیل جہاں تمام ضروری دینی شعبے قائم ہوں اور غیر مسلم وہاں آکر اسلام کو سمجھ سکیں۔ الرسائل اپریل ۱۹۷۷ء ضرورت ہے کہ اسلام کو دنیوی مہم کے بجائے اخروی مہم کے طور پر سامنے لایا جائے دعوت اسلامی ہی ایک ایسا کام ہے جس پر تمام مسلمانوں متحد کیا جا سکتا ہے

سمندر میں برف کے بہت بڑے بڑے تودے ہوتے ہیں جن کو آئس برگ کہا جاتا ہے۔ برفانی پہاڑوں کا دس میں سے نو حصہ پانی میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے اور صرف ایک حصہ پانی کے اوپر دکھائی ایسی ہی کچھ مثال انسانی زندگی کی ہے۔ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے دائمی مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ اور پھر اس کی زندگی کے نہایت مختصر حصہ تقریباً سو سال کو موجودہ دنیا میں رکھ کر بقیہ تمام عمر کو آخرت کی دنیا میں ڈال دیا۔ موت وہ دروازہ ہے جس سے ہم اپنی موجودہ مدت حیات پوری کرنے کے بعد دوسری دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔

یہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انسان کی کامیابی کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ آخرت رخی زندگی (AKHIRAT ORIENTED LIFE) کو اپنی زندگی اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے وسائل اور اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرے جو اس کی زندگی کے اگلے مرحلے کو بہتر بنانے والا ہو۔ اگر اس نے ایسا نہ کیا تو اس کے تمام کارنامے اسی دنیا میں رہ جائیں گے اور موت کے بعد دوسری دنیا میں وہ اس حال میں پہنچے گا کہ آخرت کی طویل تر زندگی میں اپنی جگہ بنانے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ ہوگا۔ یہی وہ نازک مسئلہ ہے جس سے انسان کو باخبر کرنے کے لیے خدا نے پیغمبروں کا سلسلہ جاری کیا۔ ہر دور میں خدا کے نمائندے آئے اور آسمانی کتابیں اتاری گئیں تاکہ موت کے دروازے میں داخل ہونے سے پہلے انسان کو بتادیا جائے کہ اس کو بالآخر کہاں جانا ہے۔ اور اپنی مستقل کامیابی کے لئے اسے کیا کرنا چاہئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ۔ تاہم جہان تک پیغمبرانہ کام کا تعلق ہے، اس کی ضرورت بدستور باقی ہے ۔ آج بھی یہ مطلوب ہے کہ خدا کے بندوں کو اس اہم ترین حقیقت سے باخبر کیا جائے تاکہ آخرت میں خدا کے اوپر کسی کی حجت باقی نہ

خدا کے اس پیغام کو اس کے بندوں تک پہنچانے کے لیے اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں ہے ۔ مسلمہ اس کی ذمہ دار ہے۔ خاتم النبیین کی امت کا اصل مشن دنیا میں یہی ہے کہ وہ اس پیغمبرانہ ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے اٹھے ۔ یہ اس کا ایسا ناگزیر فریضہ ہے جس سے غفلت کسی حال میں معاف نہیں ہوسکتی ۔ اسلام کا قیام اس لئے عمل میں آیا ہے کہ امت مسلمہ کو اس کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرے اور تمام ممکن ذرائع سے حق کا پیغام لوگوں تک پہنچائے ۔ پیغام رسانی کا یہ عظیم کام صرف اس وقت مؤثر طور پر انجام دیا جا سکتا ہے جب کہ اس کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے مکمل تیاری کی جائے اور اس کے لئے تمام ضروری تدابیر عمل میں لائی جائیں ۔ اسلامی مرکز نے اس سلسلے میں اپنے سامنے جو نقشہ کار رکھا ہے، اس کو مختصر ا یہاں درج کیا جاتا ہے۔

Printed page