Al-Risala · April 1977
۲۔ شاکلہ کو بدلنا
Al-Risala, April 1977, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر دور کا ایک شاکلہ (طرز فکر) ہوتا ہے جس کے مطابق انسان سوچتا ہے اور مختلف مسائل میں رائے قائم کرتا ہے۔ قدیم زمانہ میں شرک کا شاکلہ دنیا میں رائج تھا۔ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں نے طاقتور فکری سیلاب برپا کر کے اس شاکلہ کو توڑ دیا۔ یہاں تک کہ تاریخ ایک نئے رخ پر چل پڑی۔ دوبارہ الحاد کا شاکلہ دنیا بھر میں چھا گیا ہے۔ علم و عمل کے تمام شعبوں میں رائے قائم کرنے کے لیے غیر خدائی معیاروں کو برتری حاصل ہوگئی ہے۔ ضرورت ہے کہ فکری اور عملی جدوجہد کے ذریعہ دوبارہ شاکلہ الحاد کو توڑا جائے جیسے جس طرح ہمارے اسلاف نے شاکلہ شرک کو توڑا تھا۔ اس کے بعد ہی وہ ذہنی زمین بن سکتی ہے جب کہ خدا پرستانہ انداز فکر دوبارہ دنیا میں اپنی جگہ پاسکے۔