۵۔ پریس کی طاقت کا استعمال
Al-Risala, April 1977, pp. 62–63
By Maulana Wahiduddin Khan
پریس کا مطلب ایک شخص کے تحریری کام کو کروڑوں سے ضرب دینا ہے۔ اس دریافت نے تاریخ میں پہلی بار ایک نیا امکان کھول دیا ہے۔ نے دعوت کے عمل کو مقامی پیغام رسانی کے دور سے نکال کر عالمی پیغام رسانی کے دور میں داخل کر دیا ہے اگر اس امکان کو اعلیٰ معیار کے مطابق بھر پور طور پر استعمال
کیا جائے تو سالوں کے اندر وہ کام انجام دیا جاسکتا ہے جس کے لیے پہلے صدیاں درکار ہوتی تھیں۔ ۶ - افراد کی ذہنی تربیت آج مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۹۵ کروڑ ہے دنیا کے تمام انسان ایک قطار میں کھڑے کیے جائیں تو ان میں سے ہر پانچواں شخص مسلمان ہوگا۔ کے اندر یہ شعور زندہ ہو کہ وہ دعوت حق کے امین ہیں اور وہ اس امانت کو دوسروں تک پہنچانے کے لیے آواز لگائیں تو سارا عالم ان کی آواز سے گونج اٹھے۔ مگر اس کثرت کے باوجود خدا کا دین غیر اعلان شدہ پڑا ہوا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر یہ شعور نہیں کہ ان کی حیثیت داعی اور پیغام بر کی ہے۔ ہے کہ تمام ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے مسلمانوں کے اندر اس شعور کو زندہ کیا جائے۔ انھیں تیار کیا جائے کہ وہ صاحب نظر یہ افراد کی حیثیت سے اپنی پڑوسی قوموں کے درمیان رہ سکیں۔
۷ - مسلم قوموں کے اندر مقصدی یگانگت دنیا بھر میں تقریباً تین درجن مسلم ممالک ہیں۔ اگر ان کے درمیان مقصدی یگانگت ہو تو دعوت اسلامی کے کام کو انتہائی مؤثر طور پر انجام دیا جاسکتا ہے مگر اسلام کے نام پر سیاسی جھگڑے ان کو باہم قریب نہیں ہونے دیتے ۔ ضرورت ہے کہ ہر قسم کے مادی اور سیاسی جھگڑوں سے اسلام کو الگ کر دیا جائے۔ اسلام کو دنیوی مہم کے بجائے اخروی مہم کے طور پر سامنے لایا جائے ۔ طرح اندرونی طور پر جماعتوں اور حکومتوں اور بیرونی طور پر مختلف مسلم قوموں کا باہمی ٹکراؤ ختم ہو جائے گا اور اسلامی خدمت کی ایسی سطح وجود میں آئے گی جہاں ہر ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد و اشتراک کر سکے۔