Al-Risala · May 1977

دوسری جگہ ہے

Al-Risala, May 1977, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

فهم احرار فى شهاداتهم ومنا كحا تهم و مواريتهم وجميع احكا مهم یہ سب لوگ اپنی شہادتوں میں، نکاح کے معاملات اور وراثت کے قانون میں غرض اپنے تمام قواعد و قانون میں آزاد تھے ۔ اس زمانہ کے ایک نسطوری پادری نے اپنے تحفظات کے بارے میں یہ تاثرات قلم بند کئے ہیں۔ "یہ طائی (عرب) جنھیں خدا نے آج کل حکومت عطا فرمائی ہے وہ ہمارے بھی مالک بن گئے ہیں۔ لیکن وہ عیسائی مذہب سے مطلق بر سر پیکار نہیں ہیں، بلکہ اس کے برخلاف وہ ہمارے دین کی حفاظت کرتے ہیں، ہمارے پادریوں اور مقدس لوگوں کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے گرجاؤں اور کلیساؤں

کو جاگیریں عطا کرتے ہیں "

کی می سے بحال رکھا اور حکومت کا مزاج بدل جانے کے پروفیسر واکر قانون بین الممالک کی تاریخ میں لکھتے ہیں بعد ان سب نے ظلم و ستم کی راہیں چھوڑ دیں۔ علامہ مقریزی " ", متمدن اور مہذب سلطنتوں پر وحشیوں کا دھاوا بولنا اور غالب آکر سلطنت و حکومت کا مالک بن جانا تاریخ کا ایک عادی واقعہ ہے، لیکن جرمنوں، تاتاریوں وغیرہ وحشیوں کے برخلاف عجیب بات یہ ہے کہ عرب کے بدو جب اپنے صحرائی براعظم سے باہر کی دنیا میں امنڈ نے لگے تو ان عربی فاتحین کو عام تصور کے وحشی فاتحین میں کسی ط نہیں شامل کیا جا سکتا، کیوں کہ ان وحشی بدڑوں میں پہلے ہی دن سے ان کے مفتوحوں سے بھی بڑھ کر تہذیب اور اخلاق حسنہ نظر آتے ہیں۔ کلیسائی تاریخ و جغرافیہ کے قاموس میں ایک رُومن کیتھولک پادری نے لکھا ہے:

"مسلمان عربوں کو یعقوبی (جاکوبائٹ) عیسائیوں نے بھی اپنے نجات دہندوں کی حیثیت سے ہاتھوں ہاتھ لیا، مسلمانوں کی سب سے اہم جُدت جس کا یعقوبی عیسائیوں نے دلی خوشی سے استقبال کیا یہ تھی کہ انھوں نے ہر مذہب کے پیروؤں کو ایک خود مختار وحدت قرار دیا اور اس مذہب کے سرداروں کو ایک بڑی تعداد میں دنیاوی اور عدالتی اقتدارات عطا کئے " غیر مسلموں کو ملکی انتظامات میں شریک و دخیل بنایا۔ كتب عمر بن الخطاب الى اهل الكوفة يبعثون اليه رجلا من اخيرهم واصلحهم والى اهل البصرة كذلك والى اهل الشام كذلك حضرت عمر رض نے اہل کوفہ و بصرہ اور اہل شام کو لکھا کہ اپنے میں سے بہتر اور صاحب صلاحیت افراد کو منتخب کر کے بھیجیں ۔ اسی طرح اکثر سابق غیر مسلم افسران کو مقامی باشندول فکانت جبایتہم بالتعدیل ان افسروں کی وصول تحصیل عدل وانصاف کے ساتھ ہوگئی تھی ۔ (امت مسلمہ کی رہنمائی)

حضرت عمر رض نے فرمایا:

ان كثيرا من الخطب من شقاشق الشيطان بہت سے خطبے (وعظ) شیطانی ہیجان سے ہیں۔ شقاشق (جمع شقشقہ) اس جھاگ کو کہتے ہیں جو مستی کے وقت اونٹ کے منھ سے باہر آتا ہے چنانچہ شاہ ولی اللہ رح کہتے ہیں۔

شیطان کے ساتھ اس شخص کو تشبیہہ دی جو اپنے کلام کو وسیع کرتا اور صدق و کذب کی پروا نہیں کرتا ۔

حضرت عمر ؓذبح خانے خود تشریف لے جاتے اور جس کو دو دن گوشت خریدتے دیکھتے، درّے سے اس کو سزا دیتے تھے ۔

فاذا رای رجلا اشتری لحماً يومين متتابعین ضربه الدرّة جب کسی شخص کو دیکھتے کہ وہ دو دن مسلسل گوشت خرید رہا ہے تو اس کو درّے مارتے اور یہ فرماتے تھے الاطويت بطنك لجارك وابن عمك تو نے اپنے پڑوسی اور چچیرے بھائی کیلئے کیوں کفایت نہیں کی۔

Printed page