Al-Risala · May 1977

تلاش کر لیتا ھے

Al-Risala, May 1977, pp. 12–25

By Maulana Wahiduddin Khan

اس جواب کا ایک ہی اداس ہے، کر لیا ہے عثمان بن عفان کی شہادت کے بعد علی بن ابی طالب کو خلیفہ بنایا گیا۔ تمام ممالک اسلامی کے لوگ آپ کے حق میں بیعت ہو گئے، صرف شام باقی رہا جہاں معاویہ بن ابی سفیان خون عثمان کا مطالبہ کر رہے تھے اور خلیفہ چہارم سے صلح کی ہر پیش کش کو رد کر رہے تھے۔

بالآخر صفین کے مقام پر علی و معاویہ کی فوجوں میں جنگ ہوئی ۔ سارے قرائن و دلائل ثابت کر رہے تھے کہ اس معاملہ میں علی بن ابی طالب حق پر ہیں۔ حتی کہ قتال کے درمیان بعض ایسے واقعات پیش آئے جو نص صریح کی سطح پر آنجناب کی حقانیت کی تصدیق کر رہے تھے۔ مخالف گروہ کے پاس الفاظ کی کمی نہ تھی، اس نے ہر ایسی چیز کی تردید میں ایک جواب تلاش کر لیا۔

خلیفہ چہارم کے ساتھیوں میں جو لوگ قتل ہوئے، ان میں ایک صحابی عمار بن یاسر بھی تھے۔ یہ نوے سال کے ہو چکے تھے۔ مگر اس بڑھاپے کے باوجود انتہائی بہادری کے ساتھ لڑے۔ جنگ کے وقت یہ رجزیہ اشعار ان کی زبان پر تھے :

من رائح الی الجنة جنت کون چلتا ہے اليوم القی الاحبة آج میں دوستوں ملنے جا رہا ہوں محمد اوحزبه محمد اور ان کی جماعت سے عمار بن یاسر کا اس جنگ میں قتل ہونا صریح طور پر شہادت دے رہا تھا کہ اس مقابلہ میں حق کس کے ساتھ ہے ، کیوں کہ مہاجرین وانصار کے درمیان یہ واقعہ مشہور تھا کہ مدینہ میں مسجد تعمیر کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمار کے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے اور کہتے جاتے تھے :

افسوس اے ابن سمیہ! تجھ کو باغیوں کی عمار یاسر اور سمیہ کے لڑکے تھے جن کو مکہ میں اسلام دشمنوں نے سخت ترین تکلیفیں پہنچائیں ، یہاں تک کہ دونوں شہید ہو گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ مکہ کے ابتدائی دور میں ایک بار شہادت پر فائز ہوئے، ماں باپ کا روح فرسا انجام دیکھنے کے باوجود عمار کے عزم میں کوئی فرق نہ آیا۔ وہ مزید یقین کے ساتھ اسلام پر جم گئے۔ راویان آثار و سیر کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آل یاسر کی طرف سے ایسے وقت میں گزرے جب کہ ان پر تشدد کیا جارہا تھا۔ یاسر کے منہ سے صرف اتنا نکلا :

یا رسول اللہ! بس یہ ہے دنیا۔

راویان سیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

آل یاسر صبر کرو، تم سے جنت کا وعدہ ہو چکا ہے،" یاسر اور ان کی بیوی سمیہ اسلام میں سب سے پہلے مرتبہ عمار بن یاسر پہلے کئی مسلمان ہیں جنہوں نے اپنے گھر میں مسجد اسباب نزول کی روایات کے مطابق ذیل کی آیت انھیں کے بارے میں اتری تھی :

بھلا جو شخص اپنی راتوں کو سجدہ و قیام کی حالت میں گزار رہا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہو (وہ اور غافل لوگ یکساں ہیں) کہو کیا علم والے اور بے علم والے دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔ وہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو عقل والے ہیں ،، (زمر)

ایک جماعت قتل کرے گی۔

انصار کے ایک مرد صالح خزیمہ بن ثابت صفین کے وقت علی بن ابی طالب کے ساتھ تھے۔ مگر جنگ میں شریک ہریں کیوں کہ ان کا دل شک سے پوری طرح خالی نہ ہو سکا مگر جب عمار کو انھوں نے اہل شام کی تلواروں سے قتل ہوتا ہوا دیکھ لیا تو بے اختیار پکار اٹھے: ’’حق ظاہر ہو گیا‘‘ اس کے بعد وہ علی بن ابی طالب کے لشکر میں شامل ہوئے اور لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

تاہم معاویہ بن ابی سفیان اور عمروبن العاص نے ایک جواب تلاش کر لیا۔ انھوں نے کہا:

’’ہم نے کب عمار کو قتل کیا ہے، ان کو تو ان لوگوں نے قتل کیا ہے جو ان کو یہاں لڑنے کے لئے لائے تھے‘‘۔ ایسا نہ ہو کہ خدا کا قانون ہمیں پکڑلے گائے بھینس پالنے والوں کے سامنے ایک مسئلہ یہ رہتا ہے کہ مویشی کے دودھ کو اس کے بچہ سے کس طرح کا ایک طریقہ بعض علاقوں میں یہ ہے کہ بچہ کے سر پر ایک سینگ نما دو شاخہ لکڑی باندھ دیتے ہیں جس کو کٹیلا (کانٹے والا) کہتے ہیں۔ بچہ جب دودھ پینے کے لئے جانور کے تھن کے پاس اپنا منہ لے جاتا ہے تو اس کے منہ سے پہلے اس کا کٹیلا جانور کے تھن سے ٹکراتا ہے اور جانور بدک کر ہٹ جاتا ہے۔ کٹیلا باندھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ اور اس کی ماں کا تھن، دونوں ایک دوسرے سے ملنے ہی نہیں پاتے۔

ایسا ہی کچھ معاملہ اس وقت مسلمانوں کا ہو رہا ہے۔ دوسری اقوام ان کے لئے مدعو (جس کو دعوت پہنچانی تھی) کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ ان کے اوپر حق کے داعی ہیں۔ مگر مسلمانوں نے عرصہ سے اپنی مدعو اقوام سے سیاسی اور معاشی لڑائی چھیڑ رکھی ہے، نہ جگہ وہ ان کے دنیوی اور مادی حریف بنے ہوئے ہیں۔ ٹکراؤ کی یہ سیاست ان کے ملی وجود کے اوپر ایک قسم کا کٹیلا بن گئی ہے۔ مسلمان اور دوسری قوموں کے افراد ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں تو قبل اس کے کہ وہ مسلمانوں کی اسلامی حیثیت کو جانیں، ان کا نوکدار”کٹیلا ’’کٹیلا‘‘ ان سے ٹکرا جاتا ہے اور وہ ان سے متوحش ہو کر الگ ہو جاتے ہیں۔ وہ قضا بننے کی نوبت ہی نہیں آتی جس میں دوسری قومیں مسلمانوں کے دینی پیغام سے متعارف ہوں اور اس پر غیر جانب دارانہ انداز سے غور کریں۔ اگر ہم کو یقین ہے کہ آخرت آنے والی ہے اور لوگوں سے ان کے اعمال کی پوچھ ہونی ہے تو ہمارے اوپر لازم ہے کہ اس کٹیلا کو اپنے اوپر سے اتاریں۔ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو سخت اندیشہ ہے کہ خدا کا قانون ہم کو پکڑلے اور ہمارے اپنے جرائم کے ساتھ دوسری قوموں کا عذاب بھی ہمارے اوپر ڈال دیا جائے۔

خدا کی مدد کی ایک شکل یہ بھی ہے اہلِ ایمان کو لازماً خدا کی مدد حاصل ہوتی ہے، مگر یہ مدد انہی لوگوں کے لئے ہے جو نفسانی محرکات سے اوپر اٹھ چکے ہوں۔ جو اللہ کو سر بلند کرنے کے لئے کام کریں نہ کہ اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے لئے۔ ہجرت کے چھٹے سال حدیبیہ کے مقام پر جو دس سالہ معاہدہ کیا گیا، اس کی ایک دفعہ یہ تھی : " قریش کا جو شخص اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائے گا ، اس کو آپ واپس کر دیں گے اور آپ کے ساتھیوں میں سے جو شخص قریش کے پاس چلا جائے گا اس کو وہ واپس نہ کریں گے " اس معاہدہ کی تکمیل کے وقت قریش کی نمائندگی سہیل بن عمرو کر رہے تھے۔ معاہدہ ابھی لکھا ہی جا رہا تھا کہ سہیل بن عمرو کے لڑکے ابو جندل آ گئے۔ وہ مسلمان ہو گئے تھے۔ مگر مکہ والوں نے ان کو قید کر رکھا تھا۔ مکہ سے حدیبیہ (موجودہ شمیسی) تک ۱۳ میل کا فاصلہ طے کر کے وہ اس طرح آپ کے کیمپ میں پہنچے کہ اب بھی ان کے پیروں میں بیڑیاں تھیں اور جسم پر مار پیٹ کے نشانات تھے۔ نے آپ سے فریاد کی کہ مجھ کو اس قید سے نجات دلائی جائے۔ صحابہ کے لئے بھی اپنے مومن بھائی کی یہ حالت دیکھ کر ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔ مگر سہیل بن عمرو نے کہا کہ معاہدہ کی تحریر چاہے مکمل نہ ہوئی ہو، شرائط تو ہمارے آپ کے درمیان طے ہو چکی ہیں اس لئے میرے لڑکے کو میرے حوالے کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے ابو جندل کو ان کے حوالے کر دیا اور وہ روتے ہوئے مکہ واپس گئے۔ اسی طرح ابو بصیر اور دوسرے مسلمان جو قریش کی قید سے بھاگ کر مدینہ آئے ، ان کو حسب معاہدہ قریش کو واپس کیا جاتا رہا۔

مگر اس کے برعکس مسلمان عورتوں کے معاملہ میں اس اصول کی پابندی نہیں کی گئی۔ قرآن میں آیت اتری: ”اے ایمان والو! جب مومن عورتیں ہجرت کر کے تمھارے پاس آئیں تو ان کی جانچ کر لو، پھر جب تمھیں معلوم ہو جائے کہ وہ مومن ہیں تو ان کو کفار کی طرف واپس نہ کرو“ (ممتحنہ۔ اس سلسلہ میں، مثال کے طور پر یہ واقعہ آتا ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچیں۔ والوں کو معلوم ہوا تو انھوں نے معاہدہ کا حوالہ دے کر ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ام کلثوم کے دو بھائی ولید بن عقبہ اور عمارہ بن عقبہ انھیں واپس لے جانے کے لئے مدینہ آئے۔ اس کے باوجود ان کو واپس نہیں کیا گیا۔

بظاہر یہ معاہدہ کی خلاف ورزی تھی۔ کے لئے زبردست موقع تھا کہ وہ آپ کی بد عہدی کا شور مچا کر آپ کو بدنام کریں۔ مگر قریش آپ کے ساتھ انتہائی دشمنی کے باوجود، بالکل خاموش ہو گئے۔ اس کے خلاف احتجاج تک نہیں کیا۔ ایسا کیونکر ہوا؟ اور تفسیر کی عام کتابوں میں اس کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ قاضی ابو بکر ابن عربی نے لکھا ہے کہ قریش اس لئے خاموش ہو گئے کہ اللہ تعالی نے بطور معجزہ اس معاملہ میں ان کی زبان بندی کر دی تھی۔ بلاشبہ یہ اللہ تعالی کی مدد تھی مگر ان معنوں میں نہیں جن معنوں میں لفظ ”معجزہ“ عام طور

پربولا جاتا ہے ۔

معاہدہ کے الفاظ پر غور کر کے اس کی حقیقت سمجھی دوسری اکثر روایات کی طرح معاہدہ حدیبیہ کی شرائط بھی اکثر راویوں نے اپنے اپنے الفاظ میں بیان مثال کے طور پر زیر بحث شرط کے متعلق مختلف روایتوں کے الفاظ ملاحظہ ہوں :

من جاء منكم لم نردد ه عليكم ومن جاءكم منا رد تموه علينا من اتی رسول الله من اصحابه بغیر اذن ولیه رد ه عليه من اتی محمدامن قريش بغیر اذن ولیه على ان لا ياتيك منا رجل وان كان على دينك الا ردد ته الينا آخری روایت بخاری (کتاب الشروط، باب الشروط فی الجہاد والمصالحه) کی ہے اور باعتبار سند قوی ہونے کی بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ غالباً معاہدہ کی مذکورہ شرط کے اصل الفاظ یہی تھے۔ اگر یہ مان لیا جائے تو اس فقرہ میں رجل (مرد) کے لفظ نے مسلمانوں کو موقع دیا کہ وہ مکہ سے آئی ہوئی مسلم خواتین کو اس دفعہ سے مستثنیٰ قرار دے سکیں۔ معاہدہ کی یہ شرط مسلمانوں کی طرف سے نہ تھی، بلکہ مکہ والوں کی طرف سے تھی۔ ان کی جانب سے سہیل بن عمرو نے معاہدہ میں دفعہ کے یہ الفاظ لکھوائے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ دفعہ کے الفاظ لکھواتے وقت سہیل کے ذہن میں کوئی شخص کا مفہوم ہو جس میں عورت اور مرد دونوں شامل ہوتے ہیں۔ مگر اپنے اس ذہنی مفہوم کو لفظ کی شکل دیتے ہوئے اس کی زبان سے جو لفظ نکلا وہ " رجل " تھا جو عربی زبان میں صرف مرد کے لئے بولا جاتا ہے، غالباً یہی وجہ ہے کہ ام کلثوم بنت عقبہ کے مدینہ پہنچنے کے بعد جب ان کے بھائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی بہن کی واپسی کا مطالبہ کیا ، تو امام زہری کی روایت کے مطابق ، آپ نے ان کو واپس دینے سے انکار کر دیا اور فرمایا : كان الشرط في الرجال دون النساء شرط مردوں کے بارہ میں تھی نہ کہ عورتوں کے بارہ میں ( احکام القرآن لابن عربی ، تفسیر رازی)

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تک خود قریش بھی غالباً اس غلط فہمی میں تھے کہ معاہدہ کی یہ دفعہ ہر طرح کے مہاجرین کے بارہ میں ہے ۔ خواہ وہ مرد ہوں یا عورت ۔ مگر جب آپ نے توجہ دلائی کہ معاہدہ میں رجل (مرد) کا لفظ لکھا ہوا ہے۔ تو انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک لفظ کے ذریعہ مسلم خواتین کو ذلت کی واپسی سے بچا لیا۔

تاہم قریش کی اخلاقی بلندی کا اعتراف کرنا بھی ضروری اس معاملہ میں مسلمانوں کے پاس صرف ایک لفظی دلیل تھی اور وہ دشمن ہوتے ہوئے اس کے آگے تھک گئے حالاں کہ بحث و تاویل کا دروازہ اتنا وسیع ہے کہ نہ ماننے والے ذہن کو کسی مقام پر بھی جھکنے کی ضرورت نہیں ، وہ اپنے زرخیز ذہن کو استعمال کر کے ہر بات کو اپنے مفید مطلب معنی پہنا سکتا ہے خواہ اس کے الفاظ کچھ بھی ہوں۔ اسی کے لئے دلیل ہے جو اس کے آگے جھکنے کے لئے تیار ہو۔ جو جھکنے کے لئے تیار نہ ہو، اس کے لئے کوئی دلیل، دلیل نہیں۔ قریش اگر ہٹ دھرمی کرتے تب بھی خدا کی مدد آتی۔ ظالم کی مدد پرسی مظلوموں کیلئے نصرت الہی کا دروازہ بند نہیں کرتی الا یہ کہ مظلوم خود ہی اپنی بداعمالی سے نصرت کا استحقاق کھو دے۔

اسلام کیا ہے؟

اسلام کوئی نیا مذہب نہیں۔ یہ اسی مذہب کا زیادہ جامع اور صحیح ایڈیشن ہے جو خدا کے دوسرے رسول پچھلے زمانوں میں لے کر آتے رہے۔

انسان اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے تخلیق کا شاہکار ہے۔ مگر صلاحیتوں کے ظہور کے اعتبار سے انسان اس دنیا کی سب سے زیادہ ناکام مخلوق ہے۔ ایک درخت ہزار برس تک ہرا بھرا کھڑا رہتا ہے۔ مگر انسان سو سال سے بھی کم مدت میں مر جاتا ہے۔ خوشیوں اور لذتوں سے ہم سیر نہیں ہو پاتے کہ وہ اچانک ہمارا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں۔ انسان جب اپنے علم، تجربہ اور پختگی کی آخری انتہا کو پہنچتا ہے تو اچانک اس کی موت آجاتی ہے۔ کیا انسانی زندگی ایک المیہ ہے۔ جواب یہ ہے کہ نہیں۔ علم الموت (THANATOLOGY) اور سائنیکل ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ موت انسانی زندگی کا خاتمہ نہیں۔ مذہب اس دریافت کو مکمل کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ ہماری موجودہ زندگی، اصل منزل کی طرف محض ایک سفر ہے۔ انسانی زندگی کی مثال تودہ برف (ICE BERG) کی سی ہے۔ جس کا بہت تھوڑا حصہ اوپر نظر آتا ہے اور زیادہ حصہ سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا ہماری مدت حیات کا وہ مختصر حصہ ہے جس میں ہم اپنی اگلی طویل تر زندگی کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ ہماری زندگی کو ہمارے خالق نے دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک، پیدائش سے لے کر موت تک۔ دوسرا موت کے بعد۔ ہماری صلاحیتوں کے ظہور کے لئے نامکمل ہے۔ وہ زوال اور فنا کے قانون سے بندھی ہوئی ہے۔ یہاں ہم اپنی امنگوں اور سرگرمیوں کو آخری حد تک پورا نہیں کر پاتے۔ اسی کے ساتھ دوسری چیز یہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسی کار فرماتوت نہیں جو بھلے اور برے کو اپنے اپنے دائرہ میں رکھے۔ جو اس بات کی نگرانی کرے کہ عزت اور سر بلندی، انہیں کو ملے جو واقعی اس کے حق دار ہیں اور وہ لوگ لازماً اس سے محروم رہیں جنہوں نے اپنے اندر اس کا واقعی استحقاق پیدا نہیں کیا ہے۔ زندگی کا اگلا مرحلہ انھیں کیوں کی دائمی تلافی ہے۔

دنیا کی موجودہ صورت حال کی وجہ یہ ہے کہ خالق نے انسان کو یہاں آزادی اور اختیار دے رکھا ہے اور اپنے آپ کو عارضی طور پر غیب کے پردہ میں چھپا لیا ہے۔ جب تمام پیدا ہونے والے انسان پیدا ہو کر اپنے امتحان کی مدت پوری کر چکے ہوں گے تو زمین و آسمان کا قانون بدل دیا جائے گا۔ اور خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک ایسا عالم بنایا جائے گا جہاں موجودہ دنیا کی تمام کمیوں کو ختم کر کے اس کو ایک مکمل دنیا بنا دیا جائے گا اور انسان براہ راست خدا کے زیر حکم آجائے گا جس طرح آج بھی بقیہ دنیا براہ راست خدا کے زیر حکم ہے۔ کے الفاظ میں انسانی بادشاہت ختم ہو کر ” آسمانی بادشاہت “، شروع ہوگی۔ اس کے بعد انسان اپنی تمناؤں کی دنیا میں اپنی زندگی شروع کرے گا اور وہ سب کچھ مزید اضافہ کے ساتھ پالے گا جس کا آج وہ صرف خواب دیکھ سکتا مگر اس جنتی زندگی میں صرف انھیں لوگوں کو حصہ ملے گا جنہوں نے اپنی موجودہ زندگی میں اس کی تیاری کی ہو۔

جنھوں نے غفلت یا سرکشی میں موجودہ مواقع کو کھو دیا ہو، ان کے لئے اس اگلی زندگی میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ انسان کے سوا جو کائنات ہے، وہ آج بھی ہر قسم کے نقص سے خالی ہے۔ انسانی بستیوں سے دور فطرت کی دنیا کتنی حسین ہے۔ صبح کے وقت جب پہاڑوں اور درختوں کے اوپر سورج اپنی سنہری کرنیں پھیلاتا ہے اور چڑیوں کے چہچہے کے ساتھ نئے دن کا آغاز ہوتا ہے تو یہ ایسا بے پناہ منظر ہوتا ہے کہ دیکھنے والاچاہنے لگتا ہے کہ خود بھی اس آفاقی حسن کے اندر جذب ہو جائے۔ زمین کے سبزہ زاروں سے لے کر آسمان کےجگمگاتے ہوئے ستاروں تک کی یہ دنیا براہِ راست خدا کے زیر حکم ہے۔ یہ کثافت (POLLUTION) اور بدعنوانی (CORRUPTION) سے پاک ہو کر اپنا عمل کر رہی ہے۔ اس کے برعکس انسانی دنیا میں عارضی طور پر انسان کو اختیار ملا ہوا ہے ۔ اس اختیار اور آزادی نے انسانی دنیا کو جہنم کدہ بنا دیا ہے۔ جب اس صورت حال کو ختم کرکے انسانی دنیا میں بھی خدائی اقتدار قائم ہو جائے گا تو یہاں بھی اسی طرح ایک حسین دنیا وجود میں آجائے گی جس کا مشاہدہ ہم اپنے سے باہر کی دنیا میں کر رہے ہیں۔ جس طرح انڈے کے بظاہر سادہ خول کے اندر ایک مکمل زندگی کا امکان چھپا ہوا ہوتا ہے اور یہ امکان اتنا قوی ہوتا ہے کہ حالات کی مساعدت پاتے ہی خول توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ اسی طرح ہماری موجودہ دنیا کے اندر ایک اور زیادہ مکمل دنیا کا امکان چھپا ہوا ہے۔ جب وقت آئے گا تو یہ امکان اپنے تمام ظاہری پردوں کو پھاڑ کر ظاہر ہو جائے گا۔ ”دنیا کے اندر دوسری دنیا کا چھپا ہونا“ ایک ایسی حقیقت ہے جو آج کے انسان کے لئے جانی بوجھی چیز بن چکی ہے۔ آج جب ہم ریڈیو یا ٹیلی وژن کھولتے ہیں تو اچانک ہم دریافت کرتے ہیں کہ ہمارے گرد پیش ایک ایسی دنیا موجود تھی جس سے ہم اپنا سیٹ کھولنے سے پہلے بالکل بے خبر تھے۔ جدید سائنسی انقلاب نے ثابت کیا ہے کہ ہماری دنیا کے اندر ایک اور، زیادہ مکمل دنیا، چھپی ہوئی تھی، مگر انسان صرف سو برس پہلے تک اس امکان سے قطعا بے خبر تھا۔ انسان اس زمین پر نامعلوم مدت سے آباد ہے اور تقریباً ۲۵ ہزار برس کے واقعات تو کسی نہ کسی درجہ میں تاریخی ریکارڈ میں آچکے ہیں۔ مگر اس طویل ترین تاریخ میں انسان کی واقفیت صرف ان ذرائع جہات تک محدود تھی جو ظاہری طور پر اس کو اپنی آنکھوں سے دکھائی دے رہے تھے۔ اب سے چند برس پہلے اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ بیسویں صدی میں ہماری موجودہ دنیا ایک بالکل مختلف قسم کی دنیا میں تبدیل ہو جائے گی جہاں منصوبہ بند شہر ہوں گے۔ دبانے سے مکانات روشن ہو جایا کریں گے۔ انسان ہوا میں اڑے گا۔ وہ ریڈیائی لہروں کے ذریعہ خلائی راکٹوں کو کنٹرول کرے گا۔ انسان کی آواز ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں پورے کرہ ارض کا چکر لگالے گی۔ زمین کے کسی بھی حصہ میں رہنے والا ایک آدمی کسی بھی دوسرے حصہ کے ایک آدمی سے اس طرح بات کرے گا جیسے دونوں آمنے سامنے انسان کی ہو بہو تصویریں اتاری جائیں گی اور وہ چاند اور دوسرے سیاروں کا سفر کرے گا۔ تو اس قسم کی باتیں لوگوں کو جادو اور طلسم کی باتیں معلوم ہوتیں ۔ مگر آج ہماری سابقہ دنیا کے اندر سے یہ دوسری دنیا نکل کر ہماری آنکھوں کے سامنے آچکی ہے۔

یہ ہے انسانی زندگی کی اصل حقیقت ۔ اس حقیقت سے انسان کو باخبر کرنے کے لئے خالق نے پہلا انتظام

یہ کیا کہ خود انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک برتر زندگی کا تصور رکھ دیا تا کہ وہ اپنی اندرونی طلب کے تحت اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا رہے۔ ساری انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ ایک برتر زندگی کا خواب انسان کے اندرون میں اس طرح پیوست ہے کہ وہ کسی طرح اس کو نکال نہیں سکتا۔

اس برتر زندگی کو انسان کس طرح پاسکتا ہے ، اس کو بتانے کے لئے خالق نے یہ انتظام کیا کہ رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا۔ ابوالبشر آدم نہ صرف پہلے انسان تھے بلکہ خدا کے رسول بھی تھے، جن کو خدا نے شعوری طور پر اپنی مرضی کا علم دیا تھا۔ اس کے بعد نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ، اور دوسرے ہزاروں پیغمبر ہر ملک میں اور ہر بستی میں آئے اور ہر زمانہ میں انسان کو زندگی کی حقیقت بتاتے رہے اور اس واقعہ سے آگاہ کرتے رہے کہ یہ کائنات کس خاص منصوبہ کے تحت بنائی گئی ہے اور بالاخر اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ مگر ان پیغمبروں کے ذریعہ جو خدائی تعلیم انسان کے پاس بھیجی گئی، اس کو انسان بار بار ضائع کرتا رہا۔ یا تو اصل آسمانی متن ہی گم ہو گیا یا اس میں انسانی کلام اس طرح مل گیا کہ یہ معلوم کرنا ممکن نہ رہا کہ کون سا حصہ خدائی کلام کا ہے اور کون سادہ ہے جو انسان کے ہاتھوں اضافہ ہوا ہے۔ یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب انسانیت دورِ تاریخ میں پہنچ گئی۔ اس وقت خدا نے پیغمبر عربی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ آخری کتاب بھیجی اور اپنی خصوصی مدد سے دوسرے تمام ادیان کو زیر کر کے اس کتاب کی بنیاد پر ایک طاقت ور سلطنت قائم کردی جو ایک ہزار سال تک پوری شان کے ساتھ چلتی رہی اور خدا کی آخری کتاب کی حفاظت کرتی رہی۔ اس کے بعد وہ وقت آیا جب انسانی تاریخ ایک قدم اور آگے بڑھی اور پریس کے دور میں پہلے قرآن کا ہر نسخہ الگ الگ ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ اب یہ ممکن ہوگیا کہ ایک صحیح نسخہ لکھ کر اس سے کروڑوں نسخے چھاپ لئے جائیں۔ اس طرح قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی کا امکان ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا۔ عرب کے پیغمبر جو دین خدا کی طرف سے لائے، اس کی حیثیت کسی نئے دین کی نہیں۔ یہ ٹھیک وہی دین ہے جس کو پچھلے نبیوں نے اپنے اپنے زمانہ میں پیش کیا تھا۔ قرآن کی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ پچھلی آسمانی تعلیمات کا مستند ایڈیشن پیغمبر عربی نے خدا کے دین کو تاریخ کی حیثیت دے دی ہے ، جب کہ اس سے پہلے خدا کا دین محض افسانوی روایات کے مجموعہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی طرح پچھلے صحیفوں میں تحریف یا الحاق کے ذریعہ جو غلطیاں داخل ہوگئی تھیں ان کی اصلاح کی اور اس میں تکمیلی احکام کا اضافہ کر کے اس کو ایسا جامع صحیفہ بنا دیا جو قیامت تک انسان کی ضرورت پوری کرتا رہے۔ اسرائیلی انبیاء کے ذریعہ خدا نے پہلے ہی فرما دیا تھا کہ بعد کے زمانہ میں میں نیا عہد باندھوں گا جو میرا " ابدی عہد " ہوگا۔ ۱۴: ۱۶) موجودہ بائبل میں انجیل کو "نیا عہد نامہ" کہا جاتا ہے۔ مگر خدا کا نیا عہد نامہ حقیقتًہ قرآن ہے۔ انجیل تو صرف اس نئے عہد نامہ کی بشارت تھی نہ کہ خود نیا عہد نامہ تھی۔

اسلام کا ئنات کا دین ہے، وہ ہر انسان کے دل کی آواز ہے۔ وہ خدائی تعلیمات کا مستند ایڈیشن ہے

دونوں میں کشتی ہوئی ۔ پیغمبر اسلام نے رکانہ کو رکانہ کو بڑی حیرت ہوئی۔ اس کا خیال تھا کہ محمد اگر سچے بھی ہوں تو وہ زیادہ سے زیادہ روحانی آدمی ہوں گے۔ ان کو جسمانی طاقت سے کیا تعلق۔ سمجھا کہ شاید کسی اتفاقی سبب سے وہ کامیاب ہو گئے اس لئے وہ دوبارہ کھڑا ہو گیا ۔ اور بولا : ”ایک بار اور لڑوں گا! پیغمبر اسلام دوبارہ اس سے لڑے اور پھر اس کو پٹخ دیا۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ محمد سے جیت نہیں سکتا۔ آپ نے اس کو وعدہ یاد دلایا۔ وعدہ سے پھر گیا اور یہ کہتا ہوا چلا گیا : ” تم جادوگر ہو ، بڑے جادو گر ہو “ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ باطل کی طرف سے حق کو جو چیلنج درپیش ہو، اہل حق کو ٹھیک اسی میدان میں اہل باطل کو شکست دینی چاہئے۔ اس کے بغیر حق کی طرف سے حجت کا اتمام نہیں ہو سکتا۔ اس معاملہ میں اہل حق کی تیاری اتنی اعلیٰ معیار کی ہونی چاہئے کہ اہل باطل کسی حال میں ان پر غالب نہ آسکیں۔ حتی کہ اگر تعصب اور ہٹ دھرمی کسی کے لئے قبول حق میں رکاوٹ بن جائے تب بھی یہ کہہ کردہ حق کی برتری کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو : ”یہ تو جادو ہے جادو۔ جس میدان میں چیلنج درپیش ہو اسی میدان میں باطل کو شکست دینا ہے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عرب میں ایک مشہور پہلوان تھا۔ اس کا نام رکانہ تھا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ آپ مکہ کی گھاٹی سے گزر رہے تھے۔ وہاں رکانہ مل گیا۔ آپ لوگوں کی اصلاح و ہدایت کے انتہائی حریص تھے۔ جب بھی کوئی شخص ملتا، آپ چاہتے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے سامنے اللہ کی بات پیش کر دیں۔ آپ نے بڑھ کر رکانہ سے ملاقات کی اور اس کے سامنے اللہ کا دین پیش کیا۔ اور کہا کہ اگر نجات اور کامیابی چاہتے ہو تو اس راستہ کو اختیار کر لو۔

رکانہ بولا : ”محمد! اگر یہ ثابت ہو جائے کہ آپ حق پر ہیں تو میں آپ کی بات مان لوں گا۔ “ وہ پہلوان اس کے نزدیک سب سے بڑی دلیل جسمانی آپ نے اس کے اپنے ذہن کے مطابق اس کو جواب دیا : ”اگر میں کشتی میں تمہیں زیر کر دوں تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ “ اس نے کہا ہاں۔

”سادھارن گنوں سے اسادھارن منش بنتے ہیں“ یہ ہندی کی ایک سوکتی ہے عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بڑا انسان بننے کے لئے کوئی بڑا واقعہ چاہئے جو اس کو اخبار کی شاہ سرخی میں جگہ دے سکے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اکثر معمولی باتوں میں غیر معمولی انسان بننے کا راز چھپا ہوتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں

اندروفات حالات پیداہوتے ہیں، اس ذریعہ سے دین اسلام | کی غلط فہمیاں دور ہوں اور خدا کے دین سے متوحش ہونے | نے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر ایک کتاب لکھی یہ کتاب نہایت مہمل ہے اور زہر سے بھری ہوئی ہے۔ ایک ناول نگار کو کیا ضرورت پیش آئی کہ وہ پیغمبرِ اسلام کی سیرت پر اس قسم کی کتاب لکھے۔ اس کا جواب ڈاکٹر ہیوگو کے حالات زندگی سے ملتا ہے۔

ڈاکٹر ہیوگو کے زمانہ میں الجزائر پر فرانس نے قبضہ کر لیا تھا اور سیاسی لیڈروں کی تقریروں کی وجہ سے وہاں کے عام لوگوں میں فرانس کے خلاف سخت نفرت پیدا ہو گئی تھی۔ ایک روز ایسا ہوا کہ ڈاکٹر ہیوگو کسی ہوٹل وہاں ایک الجزائری مسلمان بھی تھا۔ کسی بات پر دونوں میں جھگڑا ہو گیا۔ ڈاکٹر ہیوگو نے مسلمان کو مارنے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ مگر الجزائری مسلمان پہلے ہی اس کے اوپر جھپٹ پڑا اور اس کی خوب پٹائی کی۔ اس موقع پر وہاں کچھ اور بھی الجزائری مسلمان موجود تھے۔ ایک فرانسیسی کے پٹ جانے پر وہ خوب خوش ہوئے اور تالیاں بجائیں۔ ڈاکٹر ہیوگو نے کہا " اب تو میں تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جلد ہی میں ایک ایسا کام کروں گا جو نہ صرف تم سے بلکہ تمھاری نسلوں تک سے اس کا انتقام لے لے۔

اس جھگڑے کے پانچ ماہ بعد وہ کتاب منظرِ عام پر آئی جس کے ایک ایک فقرے میں پیغمبرِ اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔

پاکستان کے سفیر برائے فرانس قدرت اللہ شہاب نے اس کتاب کی تردید میں ایک کتاب شائع کی ہے ۔ مسلمان معاندین اسلام کے خلاف جوابی کتاب لکھنے والے خدا کے دین کے قریب آنے لگیں ۔

"استعمار" کے خلاف پچھلی صدیوں میں جو سیاسی ہنگامے کئے گئے ہیں ان سے اسلام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا، البتہ یہ بہت بڑا نقصان ہوا کہ دوسری قوموں کے لئے اسلام پر غور و فکر کا ماحول ختم ہو گیا۔ مغربی قومیں ہمارے لئے دعوت کا موضوع بننے کے بجائے نفرت کا موضوع بن گئیں۔ مغرب کے لوگوں کو ہم نے اس نظر سے نہیں دیکھا کہ خدا کے یہ بندے ہمارے لئے مدعوکی حیثیت رکھتے ہیں اور ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کو خدا کا پیغام پہنچائیں۔ اس کے برعکس ہم سمجھنے لگے کہ یہ بدترین مخلوق ہیں۔ انھیں ذلیل کرنا اور ان سے دور رہنا ہی تقدس کی بہترین نشانی ہے۔ مولانا مملوک علی کو اپنی ملازمت کی وجہ سے کبھی کبھی انگریز سے مصافحہ کرنا پڑتا مگر اس کے فوراً بعد وہ غسل خانہ میں جاکر ہاتھ دھوتے ان کا خیال تھا کہ انگریز کو چھونے کی وجہ سے ان کا ہاتھ نجس ہو گیا ہے = دوسروں کے مقابلہ میں آپ کو کوئی بڑائی یا عزت مل جائے ، تو دوسروں کو حقیر نہ کیوں کہ بڑے اور چھوٹے دونوں بالآخر برابر ہو جانے والے ہیں ۔ بعد بڑائی اسی کے لئے ہوگی جس کو خدا بڑا بنائے ۔ اور چھوٹا وہ ہوگا جو خدا کے نزدیک چھوٹا قرار پائے ۔

نفرت کے جواب میں نفرت پیدا ہوتی ہے اور محبت کے جواب میں محبت۔ اسی لئے اسلام نے یہ طریقہ سکھایا ہے کہ کسی کو غلطی کرتے دیکھو تو اس کو حکمت و محبت کے ساتھ سمجھاؤ جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو سمجھاتا ہے عبداللہ ابن مسعود کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں فجر کی جماعت میں اس لئے پیچھے رہ جاتا ہوں کہ فلاں صاحب ہماری مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں اور وہ اس کو بہت لمبا کر دیتے ہیں آپ یہ سن کر غضبناک ہو گئے ۔ حتیٰ کہ اس زیادہ غضبناک میں نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ پھر آپ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا :

یا ایھا الناس ان منکم منفرین، فمن ام منکم الناس فليتجوز، فان خلفه الضعیف والکبیر و

لوگو، تم میں کچھ ایسے ہیں جو لوگوں کو دین سے دور کر دیتے ہیں۔ تم میں سے جو شخص لوگوں کی امامت کرے ، اس کو چاہئے کہ مختصر نماز پڑھائے، کیونکہ اس کے پیچھے کوئی کمزور ہے، کوئی بوڑھا، کوئی ضرورت مند۔ حضرت جابر سے ایک روایت میں بتاتے ہیں کہ معاذ بن جبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی مسجد میں نماز پڑھتے تھے، یہاں سے واپس ہو کر جاتے اور اپنے محلہ والوں کی امامت کرتے۔ ایک دن انھوں نے عشاء کی نماز پڑھائی اور اس میں سورہ بقرہ پڑھی۔ ایک آدمی لمبی قرات سے گھبرا کر نماز سے الگ ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت معاذ اس سے کھنچے کھنچے رہنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ نے اس آدمی کو کچھ نہیں کہا۔ معاذ کی بابت فرمایا: فتان، فتان، فتان (فتنہ انگیز، فتنہ انگیز، فتنہ انگیز)۔ اس سلسلے کا سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ ہے جب کہ ایک دیہاتی شخص آیا اور مسجد نبوی میں پیشاب لوگ اس کی طرف دوڑے تو آپ نے لوگوں کو روکا۔ جب وہ پیشاب سے فارغ ہو چکا تو آپ نے گندگی کی صفائی کرائی اور صحابہ سے فرمایا:

انما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین (بخاری) تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو سختی کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔

قدیم زمانہ میں کعبہ کی عمارت ایک بار بارش کی زیادتی سے گر گئی تھی۔ قریش نے دوبارہ بنایا تو سامان کی کمی کی وجہ سے اصل بنائے ابراہیمی پر نہیں بنایا، بلکہ چھوٹا کر کے بنایا۔ آپ چاہتے تھے کہ اس کو دوبارہ بنائے ابراہیم کے مطابق بنوادیں مگر اس اندیشہ سے کہ کعبہ کی عمارت کے ساتھ جو تقدس شامل ہے اس کی وجہ سے لوگ شاید اس کے انہدام کا تحمل نہ کر سکیں، آپ اس سے باز رہے۔ ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا :

لولا حد اثة قومك بالكفر لنقضت البيت ثم لبنيته على اساس ابراهيم اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر سے نہ نکلی ہوتی تو میں بیت اللہ کو توڑ کر پھر سے ابراہیم کی بنیاد کے مطابق بنا دیتا۔ جس اسلام میں انسان کی رعایت کا یہ حال تھا، اس اسلام کے علم بردار آج انسان کو متنفر کرنے ہی کا نام اسلام

تعارف و تبصرہ تاریخ میو چھتری - مجلد ازمولانا حکیم عبدالشکور مرحوم صفحات ۶۱۴، ، ( قیمت درج نہیں )

پتہ : چودھری حسین میوہائی اسکول، نوح ضلع گڑ گاؤں کتاب کے مصنف مولانا حکیم عبدالشکور صاحب مرحوم ( ۱۹۴۱ ء - ۱۸۷۶ء ) نے اپنے مقدمہ میں اس کی تالیف کا مقصد پس ماندہ میو قوم کو بیدار کرنا بتایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ” میرا یقین ہے کہ وہ قوم جو تاثرات اور انقلابات کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہو جاتی ہے، وہ ضرور ایک نہ ایک دن فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ کسی قوم کا مستقبل اس وقت تک شان دار نہیں بن سکتا جب تک اس کے شان دار ماضی کا نقشہ اس کے سامنے نہ ہو۔ “ صفحہ ۷ مصنف نے میوات اور میو قوم کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لئے جو غیر معمولی محنت کی ہے، وہ یقیناً ان کے اخلاص کا ثبوت ہے۔ انھوں نے ” پیدائش انسان“ کے مسئلہ سے اپنی تحقیق کا آغاز کیا ہے۔ پھر انھوں نے دکھایا ہے کہ ” آریہ اقوام عربی الاصل اور آل ابراہیم ہیں“ اور یہ کہ ”حضرت ابراہیم اور بر ہماجی دونوں ایک ہیں “ اس طرح کی باتیں نہ صرف متنازعہ فیہ ہیں بلکہ کتاب کے موضوع سے خارج بھی ہیں۔ تاہم بحیثیت مجموعی کتاب اپنے موضوع پر قابل قدر ہے۔ جغرافیہ میوات، میو سماج، میواتی زبان و ادب، میوات کے آثار قدیمہ، میووں کے گوت پال، وغیرہ پر ان کی تحقیقات ان لوگوں کے لئے کافی دل چسپی کا باعث ہیں جو میووں کے بارے میں جاننے کا شوق رکھتے ہوں ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے جو معلومات جمع کی ہیں، وہ بلاشبہ اس قابل ہیں کہ ان کی داد دی جائے۔

تاریخی حیثیت سے کتاب کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے مقصد تالیف کی حیثیت سے اس کی افادیت کو سمجھنا تبصرہ نگار کے لئے مشکل ہے۔ مؤلف کتاب نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ میو قوم کو اس کا " شاندار ماضی" یاد دلا کر اس کے اندر مستقبل کی تعمیر کا جوش وخروش پیدا کیا جاسکتا مگر سوال یہ ہے کہ میوؤں کا وہ شاندار ماضی کیا ہے جس کو یاد دلا کر آپ یہ مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں : وہ شاندار ماضی یہ ہے کہ ان کے آبا و اجداد اول روز سے راجاؤں اور حکمرانوں سے جنگ کرتے رہے اور اس بے معنی تصادم کے نتیجہ میں مسلسل برباد ہوتے رہے۔ اس قسم کی تاریخی خوراک اس کے سوا اور کیا کر سکتی ہے کہ قوم کے اندر جنگ جوئی کا ذہن باقی رکھے اور دوبارہ جب اس کے سامنے کوئی ناخوش گوار صورت آئے تو پھر وہ یہی کرے کہ حقیقت پسندانہ انداز سے نمٹنے کے بجائے لڑنے بھڑنے کے لئے تیار ہو جائے۔

مؤلف کتاب نے صفحہ ۳۱ پر "میو قوم کی معرکہ آرائیوں " کا عنوان قائم کیا ہے اور ان معرکہ آرائیوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے جو پچھلے تقریباً ایک ہزار برس سے یہ پسماندہ قوم جاری رکھے ہوئے ہے ۔

میو قوم پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں مسلمان اس سے پہلے بھی یہ قوم لڑائی بھڑائی اور لوٹ مار کے لئے مشہور تھی ۔ اس کا یہ کردار اسلام کے بعد بھی قائم شہاب الدین غوری، پرتھوی راج چوہان، قطب الدین ایبک، ناصر الدین محمود، غیاث الدین بلبن، بابر، اکبر، جہانگیر، شاہجہاں ، ہر ایک سے اس کا ٹکراؤ جاری رہا ۔ بھر تپور اور الور کے راجاؤں سے وہ مڈبھیڑ کرتی رہی۔ اس کے بعد انگریزوں کا دور آیا تو اس زمانہ میں بھی میوؤں

کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے انگریزوں سے ان کی لڑائیاں آخر میں میوؤں کے چودھری محمد یسین خاں (۱۹۷۰- ۱۸۹۷) کے اس کارنامہ کوئلی مؤلف کتاب نے اہتمام کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ان کی تحریک الور‘‘ نے مہاراجہ سوائی جے سنگھ آف الور کو ریاست کے اقتدار سے محروم کر دیا تھا !

مگر سوال یہ ہے کہ لڑائی بھڑائی کے ان ہزار سالہ شان دار کارناموں سے میو قوم کو کیا ملا ؀ جہالت بد نظمی، معاشی تباہی، ویران بستیاں، حقیقت پسندانہ فکر سے محرومی ، اس قسم کے منفی نتائج کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی لمبی فہرست میں شامل کی جاسکتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ میو قوم کو آج ایسی تاریخ میوات کی ضرورت ہے جو ان کے ماضی کا تنقیدی جائزہ لے، نہ کہ انہیں "شان دار قومی کارنامہ، قرار دے کر دوبارہ ان کے اندر وہی مزاج پیدا کر دے جس نے ماضی میں ان کو کچھ نہیں دیا اور نہ آئندہ انہیں اس طرح کچھ مل سکتا ہے۔ وہ شہر کی ایک پر رونق سڑک کے کنارے کھڑا تھا۔ لوگ پیدل اور سواریوں پر ادھر سے اُدھر جاتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ " یہ نازک چہرے، یہ خوب صورت جسم ، یہ ہنستی ہوئی مورتیں مرنے کے بعد بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دی جائیں گی ! " یہ سوچ کر بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔

اور پھر ایک آہ کے ساتھ اس کی زبان سے وہ الفاظ نکلے جن کو انسانوں کے سوا پوری کائنات نے سنا : " کیا اس سے بڑی کوئی بات ہے جس کے لئے آدمی تڑپے ، کیا اس سے بڑی کوئی خبر ہے جس کو بتانے والے دوسروں کو بتائیں۔ کیسی عجیب بات ہے۔ آدمی اُسی بات سے بے خبر ہے جس کو اسے سب سے زیادہ اُسی خبر کو دوسروں تک پہنچانے کے لئے کوئی نہیں اٹھتا جس کو سب سے زیادہ دوسروں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

اپنے معاملہ میں ہوشیار دوسرے کے معاملہ میں بیوقوف یوگنڈا کے صدر عیدی امین نے وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کو مبارک باد کا خط بھیجا ہے۔ اسی کے ساتھ اٹھوا نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نام بھی ایک خط روانہ کیا ہے جس میں اس بات کا شکریہ ادا کیا ہے کہ ان کی حکومت نے ہندوستان اور یوگنڈا کے درمیان اچھے تعلقات قائم رکھے۔

صدر عیدی امین نے اندرا گاندھی کے نام اپنے خط میں لکھا ہے:

I personally support those who have described you as a very intelligent leader, because soon after accepting defeat you and your government lifted at the right time the 21 month state of emergency imposed by yourself and which brought im- prisonment without trial. This timely decision by yourself and your government to lift the emergency relieved our minds because it would have been possible for the same emergency regulations to be used against those who have now lost power. Hindustan Times, March 30, 77 " میں ذاتی طور پر ان لوگوں سے اتفاق کرتا ہوں جن کی رائے یہ ہے کہ آپ نہایت ذہین لیڈر ہیں کیونکہ اپنی شکست تسلیم کرنے کے فوراً بعد آپ نے اور آپ کی حکومت نے نہایت صحیح وقت پر اکیس ماہ کی ایمرجنسی کو ختم کر دیا جس کو آپ نے نافذ کیا تھا اور جس کے تحت لوگوں کو بغیر عدالتی کارروائی کے قید کیا جا سکتا تھا۔ ایمرجنسی کو ختم کرنے کے بارے میں آپ اور آپ کی حکومت کے اس بروقت اقدام کے بعد ہم نے اطمینان کا سانس لیا، کیونکہ یہ ممکن تھا کہ اسی ایمرجنسی کے قوانین کو نئی حکومت ان لوگوں کے اوپر استعمال کرے جنھوں نے اب اقتدار کھو دیا ہے۔ اندرا حکومت سے الیکشن کا نتیجہ سامنے آنے سے پہلے ایمرجنسی ہٹانے کے لئے کہا جاتا تھا تو اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایمرجنسی کے جاری رہنے سے کسی کا کیا نقصان مگر ۲۰ مارچ کی شب کو جب الیکشن کے نتائج کا اعلان ہوا تو اس حکومت کو ایمرجنسی کی حقیقت سمجھنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں لگی۔ اس نے راتوں رات میٹنگ کر کے ایمرجنسی کے مکمل خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاملہ میں آدمی کتنا ہوشیار ہوتا ہے اور دوسرے کے معاملہ میں کتنا بے وقوف۔ آج کی دنیا میں جس شخص کا بھی تجربہ کیجئے، تقریباً بلا استثناء آپ پائیں گے کہ وہ اپنے موافق پہلو کو سمجھنے کے لئے انتہائی ذہین ہے۔ برعکس جب معاملہ دوسرے کے موافق پہلو کو سمجھنے کا ہو تو وہ ایسا بے وقوف بن جاتا ہے، جیسے اس کو کچھ آتا ہی جیسے کہ وہ اینٹ پتھر ہے نہ کہ انسان ۔ ہوشیاری کی قسم آدمی کے اوپر بہت بڑا وبال ایسا کر کے دراصل وہ حاکم حقیقی کے آگے اپنے خلاف خود حجت قائم کر رہا ہے۔ اگر آدمی اپنی باتوں میں بھی بے وقوفی ظاہر کرتا تو شاید وہ خدا کی پکڑ سے مگر اپنی باتوں میں ہوشیاری اور دوسرے کی باتوں میں بے وقوفی اس کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی ۔ کیونکہ اپنی باتوں میں ہوشیاری دکھا کر وہ ثابت کر چکا ہے کہ دوسرے کی باتوں میں بھی وہ اتنا ہی ذہین اور ہوشیار ہو سکتا تھا۔

آپ کون سا درخت اگا رہے ہیں دنیا کا نظام اللہ تعالیٰ نے محکم قوانین کے تحت بنایا ہے اور اس کا فیصلہ ہے کہ وہ ان قوانین میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کرے گا۔ (فاطر - ۴۳) انھیں قوانین الہیٰ میں سے ایک قانون یہ ہے کہ اس نے مقرر کر دیا ہے کہ جو لوگ سطحی نعروں اور جذباتی تقریروں پر اپنی قوم کو اٹھائیں گے ، ان کی قومی زندگی برسا تی جھاڑ جھنکاڑ کی طرح ہوگی۔ وقتی طور پر تو وہ بہت نمایاں دکھائی دیں گے۔ مگر ان کے اندر کوئی پائیداری نہیں ہوگی۔ فاتحانہ نعروں پر اٹھنے والے لوگوں کے حصہ میں بالآخر صرف یہ فریاد آئے گی کہ " فلاں نے میرے درخت کو اکھاڑ دیا ہے "۔

اس کے برعکس جو لوگ گہری جڑوں اور دور رس منصوبوں پر اپنی قومی تعمیر کریں گے ، ان کو مضبوط درختوں کی سی پائیداری حاصل ہوگی ، جس کو کوئی اکھاڑ نہیں سکتا اور جو صدیوں تک انسانیت کو اپنا سایہ اور پھل دیتے رہتے ہیں۔ (ابراہیم : ۲۴ - ۲۶)

اگر آپ دنیا میں کوئی حقیقی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے حقیقی بنیادوں پر اپنی تعمیر کی منصوبہ بندی اس صحیح مقام کو دریافت کیجیے جہاں سے صحیح اور پائیدار جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے۔ اگر آپ نے اپنے آغاز کو پایا تو آپ اپنے اختتام کو بھی پالیں گے ، کیونکہ صحیح آغاز ہی کا دوسرا نام صحیح اختتام ہے۔

فضائی جاسوسی میں جو ہوائی جہاز استعمال ہوتے ہیں ان میں بہت نازک قسم کے کیمرے لگے رہتے ہیں۔ انتہائی بلندی پر اڑان کرنے کے باوجود ان کی تصویریں اتنی مکمل ہوتی ہیں کہ آدمی کے چہرے پر جذبات کا اتار چڑھاؤ تک دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ آواز سے تیز رفتار ہوائی جہاز عموماً دشمن کا نشانہ بننے سے بچ جاتے ہیں۔ سے آگے پرواز کرنے کی وجہ سے ان کا پتہ زمین پر کھڑے ہوئے لوگوں کو اس وقت ملتا ہے جبکہ ہوائی جہاز ان کے اوپر سے گزر کر بہت دور پہنچ گیا ہو ۔ گویا زندگی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ آپ اپنا سفر اس طرح طے کریں کہ آپ کا حریف آپ کی کارگزاریوں سے صرف اس وقت واقف ہو جب کہ آپ اپنا کام پورا کر چکے ہوں ۔

Printed page