Al-Risala · January 1977

نمائندے یہ تھے :-

Al-Risala, January 1977, pp. 27–49

By Maulana Wahiduddin Khan

مولاناسیدابوالحسن علی ندوی مولاناسید اسعد مدنی مولانا سعیدالرحمن ندوی ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مولانا وحیدالدین خاں ان میں اول الذکر اور دونوں آخرالذکرشریک نہ ہوسکے جس کا کانفرنس کے اعضاء کو شدید افسوس رہا۔ راقم الحروف کولیبیا کی طرف سے دعوت ملی تھی ۔ کانفرنس کے ساتھ ساتھ جامعۃ الامام محمد بن سعود نے اسلامی کتابوں کی نمائش کا بھی انتظام کیا تھا جس میں ۱۶ ملکوں کے ناشرین نے شرکت کی۔ کانفرنس اپنی جگہ بہت اہم تھی اور عمدہ اور طویل تیاریوں کی وجہ سے مکمل طور سے منظم و پرسکون سعودی عرب کے ممتاز اسلامی ہفت روزہ " الدعوة " نے اس کانفرنس کو لقاء قمة على المستوى الفکری (اسلامی فکر کی چوٹی کانفرنس) سے تعبیر کیا۔

کانفرنس کے آخر میں ہم لوگوں نے اصرار کرکے یہ قرارداد بھی پاس کی کہ جامعۃ الامام محمد بن سعود میں کانفرنس کا دائمی آفس کھولا جائے جس کی ذمہ داری قرار دادوں کو نافذ کرنا اور کرانا ہو۔ جامعہ کے ذمہ داروں سے مجھے یہ احساس ملاکہ وہ لوگ عزم صادق سے اس امانت کو نبھانے والے ہیں لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وہ مرکزی نقطہ جس کے گرد دنیا بھر کے خدا پرستوں کا قائم ہوتا ہے۔

ہندوستان سے ریاض کی مؤتمر میں شریک ہونے والوں میں دو صاحبان مولانا سعیدالرحمن اعظمی (ایڈیٹر البعث الاسلامی) اور مولانا اسحاق جلیس ندوی (ایڈیٹر تعمیر حیات) تاخیر سے ریاض پہنچے تھے ۔ دوسرے بزرگ مولانا سید اسعد مدنی کی "مصروفیا " کے بارے میں جو مفصل رو داد روزنامہ جمیعتہ (۱۸ - ۱۹ نومبر) میں کا وقت ہوگا جب وہ تشریف لائے ۔ ان کی تقریر کے ساتھ کانفرنس کا آغاز ہوا جو چالیس منٹ تک جاری رہی ۔ کے بعد وزیر تعلیم سعودی عرب نے تقریر کی ۔ آخر میں تمام مندوبین کی جانب سے ترکی مندوب ڈاکٹر عبد اللہ عید الحسن نے تقریر کی ۔ اور ساڑھے پانچ بجے کے قریب یہ افتتاحی دو قسطوں میں شائع ہوئی ہے وہ یہاں مکمل طور پر نقل کی جارہی ہے۔ اجلاس ختم ہوا۔

۲۴ اکتوبر: اتوار یکم ذیقعد کی شب میں ناجیرا کہ کے کچھ لوگ اس کمرے میں بھیج دیئے گئے جس میں حضرت مولانا اسعد مدنی کے ہمراہ قیام فرماتے تھے۔ رات کو چار بجے جب ہم لوگوں کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ وہ لوگ قبلہ کی طرف پشت کر کے نوافل پڑھ رہے ہیں۔ چنانچہ ان کو صحیح رخ بتایا پھر فجر ہونے پر حضرت مولانا کے ہمراہ ہم سب نیچے اترے کہ شاید باجماعت نماز کا بندوبست ہو۔ ہر طرف دیکھا مگر سب لوگ کمروں میں ہی تھے۔ کوئی نہیں نکلا تھا۔ لوگوں نے اپنے کمرے میں آکر جماعت کی۔ نماز فجر کے بعد مولانا اسعد صاحب ٹہلنے کے لئے تشریف لے گئے ان کی واپسی تک ہم لوگوں نے انتظار کیا اور اس کے بعد ناشتہ کے لئے بیٹھے۔

ناشتہ کے بعد ہم لوگ نیچے گئے جہاں حضرت مولانا مدظلہ العالی اور دوسرے لوگوں نے سب کمیٹیوں میں اپنے اس کے بعد مختلف مندوبین سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا جو بہت دیر تک جاری رہا۔ کھانا کھا کر ہم لوگوں نے کچھ دیر آرام کیا کیونکہ تیسرے پہر افتتاح ہونا تھا۔

۳بجے افتتاح کا وقت مقرر تھا۔ جب ہم موتمر کے صبح کی نماز کے بعد حضرت مولانا اسعد مدنی نائجیریا کے مندوب ملحی لقانی کے ہمراہ سیر کو تشریف لے گئے ۔ واپس آکر غسل کیا۔ ناشتہ سے فارغ اس کے بعد حضرت مولانا ابوظبی کے قاضی القضاۃ شیخ احمد عبد العزيز آل مبارک سے ملنے تشریف لے گئے آدھے گھنٹے تک ان سے ملاقات رہی اور مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی ۔ وہاں سے واپس آکر حضرت نے کانفرنس میں شرکت کے لئے تیاری شروع کی، اور سب کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے۔

کانفرنس کی تیسری سب کمیٹی اقتصادی مسائل پر غور کرنے کے لئے بنی ہے۔ اس میں حضرت مولانا تقریبًا دو گھنٹے تک شریک رہے۔ حضرت مولانا نے اس اجلاس میں جو مقالہ پیش فرمایا تھا مصری علماء کی گفتگو میں بھی کم وبیش وہی دلائل تھے۔ مگر وہ ارتجالاً احادیث و فقہ سے ایسے نظائر پیش کرتے تھے کہ حیرت ہوتی تھی۔ دوپہر میں اعضاء مكتبہ جامعۃ الرياض دیکھنے گئے ہم لوگوں نے کھانے سے فراغت پا کر کچھ دیر آرام کیا۔ کے وقت بیدار ہوئے۔ نماز پڑھی ۔ چائے پی، کچھ لوگ کمرہ کچھ ادھر ادھر چلے گئے ۔ حضرت مولانا اسعد مدنی سید یوسف سید ہاشمہ الرفاعی سے ملنے کے لئے ہال میں بچے تو ٹھہریا ہال جڑا ہوا تھا اور تمام لوگوں کی آمد کے لئے چشم براہ تھے وہ ابھی نہیں پہنچے تھے۔ میاں سید یوسف سعید صاحب ایم ایس سی لے۔ تشریف لے گئے اور تقریبا آدھے گھنٹے تک وہاں ٹھہرے۔

عشاء کی نماز کو جاتے ہوئے طیب صاحب سے ملاقات ہوئی پہلے وہ مصری سفارت خانہ میں تھے۔ اب یہاں آگئے ہیں۔ ہندوستانی سفارت خانہ نے انھیں ہم لوگوں کی خیر خبر کے لئے مامور کیا تھا کہ کون کون آیا ہے، کہاں ٹھہرا ہے۔ بہت دیر تک مولانا ان سے گفتگو فرماتے رہے۔ اس کے بعد جلسہ عام میں شرکت کے لئے تشریف لے گئے وہاں کچھ مقالات شیخ ابن باز کی تقریر ہوئی۔ صبح کے معمولات سے فراغت کے بعد آٹھ بجے جلسات میں شرکت کی اور پونے ۱۰ بجے کے قریب تمام مندوبین ایک جگہ جمع ہوگئے اور پھر تمام مہمانان حکومت کےروں کے ایک قافلہ کی صورت میں قصر ملکی کی طرف روانہ ہوئے اور غالباً ۱۰ منٹ میں سب وہاں پہنچ گئے۔ سب کو ایک بہت بڑے اور شان دار ہال میں بٹھایا گیا جہاں سب کی قہوہ سے مدارات کی گئی۔

ساڑھے دس بجے کے قریب امیر فہد (جو ولی عہد سلطنت اور نائب رئیس الوزراء ہیں اور جنھیں جلالۃ الملک شاہ خالد اپنی جگہ قائم مقام بنا کر مصر گئے ہیں) تشریف لائے اور سب سے فرداً فرداً مصافحہ ہوا اور ولی عہد امیر فہد سے جب سب لوگ فرداً فرداً ملاقات کرچکے تو اس کے بعد دو مختصر تقریریں ہوئیں۔ مصری مندوب نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ بینکوں کے سود کا کاروبار ختم کر دو یہ حرام ہے اور تم اللہ کے یہاں جواب دہ اس پر انھوں نے فرمایا دعا کرو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ ایک دوسرے مغربی نے دعائیہ تقریر کی اس پر انھوں نے بھی دعائیہ کلمات فرمائے۔

اس کے بعد پھر چائے اور قہوہ کا دور چلے۔ پہلے قہوہ آیا پھر چائے چلی، پھر قہوہ آیا۔ اس میں خود امیر فہد بھی شریک رہے یہ ختم ہوا تو امیر فہد نے تقریر فرمائی۔

امیر فہد کی مختصر تقریر اسلامی نظام، اسلامی محاسن، اس کی رفاہیت اور امن وغیرہ موضوعات سے متعلق تھی اور فرمایا کہ اس طرح کی کانفرنس جب یہاں یا کسی اور جگہ ہوگی تو ہم حاضر ہیں انشاء اللہ پورا پورا تعاون دیں گے۔

مندوبین کی طرف سے جواب میں ابو ظبی کے قاضی القضاة احمد بن عبد العزيز آلِ مبارک نے حمد و ثنا اور شکر کے بعد کہا کہ تم لوگوں کو چاہئے کہ ملوک ورؤ ساء مسلمین کو شریعتِ حقہ کے نفاذ پر توجہ دلاؤ، تمھاری آواز بھی سنی جاتی ہے۔ اور یہ تمھاری ذمہ داری انھوں نے یہ بھی کہا کہ تم اللہ تعالی کے یہاں سرخرو ہو گے اور اس کا اجر بھی ملے گا۔

شام کو جلسہ عام ہوا۔ اس کا اہتمام ایک بہت بڑے ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ حاضرین بھی بہت بڑی تعداد میں تھے۔ ۲۷ اکتوبر : حضرت مولانا اسعد مدنی کا مقالہ پہلے ہی شائع ہو چکا تھا۔ صبح کو جب لجنات کے جلسے ہوئے تو اس میں حضرت مولانا کے مضمون کا خلاصہ پڑھا گیا۔ اس کے بعد اس پر بحث مباحثہ ہوا۔

شام کو امام محمد بن سعود یونیورسٹی کے مدیر مکتبات کی طرف سے عصرانہ تھا اس کے بعد برج ریاض میں مغرب کی نماز اور رات کا کھانا کھایا۔ یہ برج سولہ منزلہ ہے اور امریکہ کے بعد دنیا کا سب سے بڑا برج بتایا جاتا ہے سقف مدور حصہ کی ہر طرف کم از کم پچاس پچاس فٹ ہوگی اور اس کے بعد کھلا ہوا ہر طرف کم از کم پچاس فٹ چوڑا حصہ ہے مسقف حصہ اپر کنڈیشنڈ ہے وہیں مغرب کی نماز با جماعت ہوئی بعد ازاں وہیں ضیافت کا اہتمام ہوا یہیں یہ اطلاع بھی ملی کہ تمام وفود کو عمرہ کے لئے جایا جا رہا ہے۔

۲۸ اکتوبر :- ناشتے کے بعد لجنات ( کمیٹیوں) کی میٹنگیں شروع ہوئیں اور عہدیداران لجنة تجویزوں کی تیاری میں مصروف بعد عصر شیخ عبد الفتح ابو غدہ کے یہاں عصرانہ تھا۔ ایک ڈاکٹر صاحب نے فرمائش پر تفصیل کے ساتھ بتایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تین قرن ایسے گزرے ہیں کہ جس کی کوئی تاریخ پھر یہود کی سازش، کچھ لوگوں کا ایک اجتماع ہوا، اور کیتھولک مذہب شروع ہوا اور مختلف لوگ مختلف قسم کے نسخے لے کر کھیل گئے۔ لیکن جب قسطنطین اول کی ماں سے عیسائیت قبول کرنے کے لئے کہا گیا تو اس نے یہ عذر کیا کہ کس انجیل کو مانے اور اس پر عمل کرے اور اصل عیسائی مذہب کون سا ہے۔ مشورے کے بعد

ڈھائی ہزار لوگ جمع کئے گئے اور تقریباً سو نسخے انجیلوں کے جمع کئے گئے جن میں سے چائے شلیٹ کے موقر نسخے تھے۔ تقریباً ساٹھ حاضرین کے اتفاق رائے سے چار نسخے مانے گئے باقی رد کر دیئے گئے۔ شخص نے جس کا اثر شام اور ترکستان پر تھا وہ موحد تھا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو بشر مانتا تھا اس نے اختلاف رائے کیا۔ آخر یہ اجتماع ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد دوبارہ ان ساٹھ کا اجتماع ہوا جس میں اس موحد کو خارج از نصرانیت اور واجب القتل قرار دیا گیا اور ان ہی یہودیوں کی سازش سے کیتھولک سے پروٹسٹنٹ اور شاخ در شاخ ہوتے ظہور اسلام کے بعد اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو گئے اور تمام صلیبی جنگوں میں ان کا ہاتھ رہا ہے۔ یہی عیسائیوں کو ابھارتے، یہی ان سے خفیہ معاہدے کرتے اور ان کو قرض دے کر ان کے لشکروں کو مسلح کرتے اور لڑائیاں کراتے رہے۔

آج کا جلسہ عام بہت پر جوش تھا۔ اس میں مستشرقین کے بارے یہ طریقہ ہے کہ زوال سے قبل اذان دے کر خطبہ شروع کر دیتے ہیں اور زوال ہوتے ہی نماز جمعہ شروع ہو جاتی ہے۔ نماز کے بعد محمد نقشبندی صاحب کے یہاں دوپہر کی دعوت میں تشریف لے گئے اور ہوٹل واپس آگئے۔ عصر کے بعد نیچے اترے تو مغرب کی نماز میں دو ندوی حضرات سے ملاقات ہوئی۔ یہ حضرات کل تشریف لائے ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ عبدالمحسن ترکی سے بھی ملاقات ہوئی۔ ابھی ان کے ساتھ بیٹھے ہی تھے کہ شیخ محمود صوفی تشریف لے آئے۔ ہم نے گزشتہ شب کے مستشرقین سے متعلق مقالہ پر مبارک باد دی۔ یہاں سے اٹھنے کے بعد قطر کے نمائندے سے ملاقات ہوئی اور مختلف امور پر گفتگو ہوتی رہی۔

۳۰ اکتوبر :۔ آج موتمر کا اجلاس عام تھا۔ اس میں تجاویز پر غور و بحث تھی۔ تجاویز اراکین کو تقسیم کی گئیں اور چند منٹ ان کے مطالعہ کے لئے دیئے گئے۔ پھر ان کی اجمالی منظوری لے لی گئی۔ بعد ایک ایک جز پر بحث و ترمیم اور ووٹنگ کا سلسلہ شروع ہوا اور تقریبًا آٹھ گھنٹے لگاتار یہ تبادلہ خیال اور ٹٹنگ ہوتی رہی۔ میں مقابلہ تھا یہ جس طرح اسلام کو نرخ کر کے ابہامات پیدا کرنے ، اسلوب ڈالنے عقائد میں تزلزل پیدا کرتے اور نوجوانوں میں بد اخلاقی پھیلانے اور مغربی تہذیب میں جذب کرنے کا کام پورے انہماک ، لگن اور جوش و جذبے کے ساتھ کرتے ہیں ۔ نیز ممالکِ اسلامیہ کو برباد کرنے کی لگن میں (اور تقریباً ڈھائی گھنٹے تک چلا۔ آخر میں تجاویز کو ایک پانچ نفری کمیٹی کے سپرد کیا گیا کہ وہ اس پر مزید غور و بحث کر کے اس کو آخری صورت دیں۔ ظہر کے وقت جلسہ ختم ہوا۔ عصر کے وقت ہم لوگ ایک پرانی آبادی کو دیکھنے گئے اور مغرب بعد امیرِ علاقہ ریاض امیر سلیمان بن عبدالعزیز کی لگے رہتے ہیں۔

دوسرا مقالہ صہیونیت پر تھا، تاریخی، فکری اور عملی طور پر اس تحریک کے تحت کیا کچھ ہوا ہے اور کتنے خطرات اس تحریک میں مضمر ہیں حاضرین میں سے کم وبیش ہر شخص اس پر بولنے کے لئے بے چین تھا، چنانچہ لوگ وقت لے لے کر بولے۔ سب کے اندر بڑا جوش وخروش پایا جاتا تھا لوگ جلسہ ختم نہیں کرنا چاہتے تھے۔

آج جمعہ تھا۔ صبح ہی سے حضرت مولاناکو متعدد طرف سے ضیافت کا اہتمام تھا۔ ریاض سے کئی میل دور کھلے میدان میں خیمہ لگا کر قالین وغیرہ کا پرانے طرز پر انتظام کیا گیا تھا۔ سب کا استقبال کیا۔ قہوہ اور چار چلی۔ اسی اثنا میں اذان ہوگئی۔ سب نے جماعت سے نماز پڑھی، پھر برابر کے خیموں میں چلے گئے، جہاں پہلے سے دستر خوان بچھے تھے اور عربی اور اسلامی طریقہ پر زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا گیا۔ متعدد اقسام کے نہایت لذیذ کھانے تھے۔ بعد قہوہ کا دور ہوا اور پھر سب سے رخصت ہو کر ہوٹل واپس آئے۔ تبیعیفون آنے رہے۔ ریاض صادق کے بعد ہی جب ہم حضرت مولانا اسعد مد کے ہمراہ نیچے اترے تو دیکھا کہ ہال عمرہ کے لئے جانے والوں سے بھرا تھا۔ اسی وقت فجر کی نماز جماعت سے ہوئی ۔ اس کے بعد وہ لوگ روانہ ہوئے۔ حضرت مولانا عمرہ کے لئے تشریف نہیں لے گئے۔ چونکہ آپ کو ابھی قیام کرنا ہے اور فریضہ حج بھی ادا کرنا ہے۔ حضرت مولانا ناشتہ سے فارغ ہو کر نہا دھو کر ڈاکٹر عبد الحنان کے ساتھ شہر تشریف لے گئے۔ ماہنامہ جنوری ۱۹۷۷ء ۳۱ نومبر - ظهر کے بعد ادواری اجلاس ہوا، جس میں توصیاد قراررات پڑھی گئیں، وزیر تعلیم سعودی عرب اور مدیر ءجامعہ امام محمد بن سعود الاسلامیہ نے تقریریں کیں ۔ وفود کی طرف سے بھی تقریریں ہوئیں ۔ قصیدہ ہوا اور شیخ احمد بن باز کی دعا پر جلسہ ختم ہوا ۔ بعد عشا جامعہ کے طلبا کی طرف سے جلسہ اور کھانے کی دعوت تھی کھانے کے بعد یہ مجلس چار پر ختم ہوئی ۔ ( روزنامہ الجمعیۃ )

صنعتی تمدن کا حکمراں: تیل عربوں کے پاس علاؤالدین کا چراغ تیل کی قیمت میں اگر دس فی صد بھی اضافہ ہوا تو ہندوستان کا درآمدی بل ۱۲۵ کروڑ روپے سالانہ تک بڑھ جائے گا۔ (مرکزی وزیر پٹرولیم) نے کہا۔ تیل کا موجودہ خرچ سالانہ ۲۲ ملین ٹن ہے۔ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ان تمام ملکوں کی اقتصادیات کو شدید طور پر متاثر کیا ہے جو تیل کے معاملہ میں خود کفیل نہیں ہیں، جن کو ضرورت ہے کہ اپنی صنعتی اور تمدنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے باہر سے تیل خریدیں۔

اقوام متحدہ میں امریکی ترجمان نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کے لئے اوپیک ممالک کے پاس کوئی جواز نہیں۔ اگر وہ موجودہ قیمتوں کو برقرار رکھیں جب بھی، اندازہ کے مطابق ۱۹۷۷ میں ان کے پاس تقریباً ۵۰ بلین ڈالر فاضل موجود ہوں گے D

کائنات کا عظیم اور حیرت انگیز کار خانہ گواہی دے رہا ہے کہ اس کا کوئی چلانے والا ہے نظام شمسی، اجرام سماوی کے اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس کے درمیان ایک روشن ستارہ ہو اور اس کے گرد غیر روشن سیارے مخصوص مدار میں گھوم رہے ہوں۔ معلوم نظام شمسی ابھی تک صرف ایک ہے جس میں ہماری زمین واقع ہے۔ تاہم فلکیات دانوں کا قیاس ہے کہ اس قسم کے مزید ایک ملین نظام شمسی کائنات میں ہو سکتے ہیں۔ نظام کہکشاں اس مجموعہ کو کہتے ہیں جس میں روشن ستارے ایک مخصوص نظام کے اندر گردش کر رہے ہوں۔ ہماری قریبی کہکشاں جو رات کے وقت سفید دھاری کی شکل میں دکھائی دیتی ہے ، اس کے اندر تقریباً ایک کھرب آدمی اگر کائنات کی وسعتوں پر غور کرے تو اس کو اپنا وجود اتنا حقیر نظر آئے گا کہ اپنی بڑائی کا کوئی بھی خیال اس کو مضحکہ خیز حد تک بے معنی معلوم ہوگا۔

اس خاکے میں درمیان میں سورج ہے۔

اس کے گرد نظام شمسی کے نو سیاروں کو بیضوی دائرہ میں گردش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سورج سے ان سیاروں کا فاصلہ بالترتیب یہ ہے:

ستارے ہیں، ہمارا نظام شمسی اسی میں واقع ہے ۔ سورج ہماری کہکشاں کی پلیٹ پر اپنے تمام سیاروں کو لئے ہوئے ۵۷۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے دوڑ رہا ہے۔ ہماری کہکشاں اتنی وسیع ہے کہ اس تیز رفتاری کے باوجود کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر پورا کرنے میں ہمارے نظام شمسی کو ۲۰ کروڑ سال لگ اس قسم کی ایک بلین سے زیادہ کہکشائیں وسیع کائنات میں پائی جاتی ہیں اور ہر کہکشاں کے اندر ۷۱۰ ملین میل

لی بلین انتہائی بڑے بڑے ستارے ہیں۔

کہکشاں کے اندرستارے اتنے بعید فاصلوں پر واقع ہیں کہ ہمارے سورج سے قریب ترین ستارہ کی روشنی جو ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کر رہی ہو، زمین تک اس کو پہنچنے میں چار سال سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔

اجرام سماوی کے اتنے بڑے نظام کو کیا چیز تھامے ہوئے ہے، فلکیات دانوں کا کہنا ہے کہ وہ اجرام سماوی کی باہمی کشش ہے۔ ہماری کہکشاں کی چوڑائی فلکیاتی پیمائش کے قاعدہ کے مطابق ایک بلین سال نور ہے دم دار ستارے بھی نظام شمسی کا حصہ ہیں، مریخ کا فاصلہ زمین سے ۴۹ ملین میل ہے ۔

سورج کا قطر ۸۶۴۰۰۰ میل ہے۔ نظام شمسی کے مادہ (ماس) کا ۹۹ فیصد حصہ سورج پر مشتمل ہے۔ کا مادہ، زمین کے مادہ سے ۳۰۰,۰۰۰ گنا زیادہ ہے۔ اندرونی سیارے (مرکری، وینس، مریخ، زمین) تقریباً ایک حجم کے ہیں ۔ اس کے بعد چار بڑے سیارے سیٹرن، یورینس اور نیپچون ہیں۔ پلوٹو، جو سب آخر کا سیارہ ہے، اس کا حجم تقریباً زمین کے برابر ہے۔ کائناتی گردش کا نظام ناقابل قیاس حد تک

سورج اس کہکشاں کا نسبتاً چھوٹا ستارہ ہے جس کی حرارت چودہ ملین ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ گرد نو سیارے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار چھوٹے چھوٹے سیارچوں کا ایک حلقہ بھی اس کے گرد گھوم اکثر سیاروں کے ساتھ چاند بھی ہیں۔ زمین کا چاند ۱، مریخ ۲، جوپیٹر ۱۳، سیٹرن ۱۰، یور ینس ۵، نیپچون ۳، اس کے علاوہ ایک لاکھ ملین حیرت انگیز ہے، چاند اپنے سیارے کے گرد گھوم رہا ہے۔ سیارہ سورج کے گرد، سورج اپنے پورے نظام کو لئے ہوئے کہکشاں کی پلیٹ پر گردش کر رہا ہے۔ اپنی ساری وسعتوں اور بے شمار ستاروں کے ساتھ وسیع تر دائرہ میں گردش کر رہی ہے۔ اتنی عجیب ہے کہ بعض اوقات ایک پورا کہکشانی نظام گردش کرتے ہوئے دوسرے کہکشانی نظام کے اندر سے گزر جاتا ہے اور کوئی حادثہ پیش نہیں آتا۔ یورنیس ۵، نیچون ۳۷۵ اس کے علاوہ ایک لاکھ سن لذر چاہا ہے اور ٹوبی حادثہ میں ہیں اماں

عبدالدار عبد مناف ۴۳۰ - ت ابو سفیان العباس عبد الله ابولهب ابو طالب الحارث معاویه عقیل علی جعفر یزید الحسین الحسن اُم کلثوم رقیہ زینب محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان

جنگ قادسیہ (۱۳ھ) میں جب دونوں فوجیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی تھیں۔ ایرانی لشکر سے ان کا ایک مشہور پہلوان گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا۔ اسلامی لشکر سے عاصم بن عمرواس کے مقابلہ کے لئے باہر آئے۔ ایک دو وار ہی ہوئے تھے کہ ایرانی شہ سوار بھاگا۔ عاصم بن عمرونے اس کا پیچھا ہیا وہ اپنے لشکر کی صف اول کے قریب تک جاچکا تھا کہ عاصم بن عمرو پہنچ گئے۔ انھوں نے اس کے گھوڑے کی دم کو پکڑ کر اس کو روک لیا۔ سوار کو اس کے اوپر سے اٹھایا اور زبردستی اپنے گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا اور اس کے بعد گھوڑا دوڑاتے ہوئے اپنے لشکر میں آگئے ۔ اس قسم کے بہادر لوگ صفین وجمل (۳۶ھ) کی باہمی لڑائیوں میں ۹۰ ہزار کی تعداد میں کٹ گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر خلافت راشدہ کے آخر میں آپس کی لڑائیاں شروع نہ ہو گئی ہو تیں تو طاقت و قوت کا بے پناہ سیلاب جو عرب سے اٹھا تھا، ایشیا، افریقہ اور یورپ کے تمام علاقوں کو توحید کا علاقہ بنا دیتا۔ صرف آسٹریلیا اور امریکہ کی ممکن طور پر اس سے مستثنیٰ رہ جاتے جو وسیع سمندروں کے دوسری طرف قدیم زمانہ میں ناقابل عبور تھے ۔

وہ کیا چیز تھی جس نے اس سیلاب کے رخ کو باہر کے بجائے خود اپنی طرف موڑ دیا۔ یہ کہنا بڑی حد تک صحیح ہوگا کہ یہ ایک خاندانی جھگڑا تھا جس نے بڑھ کر قومی جھگڑے کی شکل اختیار کرلی اور بالآخر ساری اسلامی تاریخ پر چھا گیا۔ ۶۲۰ء میں سیلِ عرم سے یمن میں عام تباہی آئی۔ یہاں کے باشندوں نے اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا انہی میں سے قبیلہ خزاعہ مکہ آیا اور حضرت اسمعیل (۱۹۳-۳۷۰۲ء ق م ) کی اولاد کو بے دخل کرکے مکہ پر قابض اس کے بعد مقامی باشندے ادھر ادھر منتشر ہو گئے۔ تقریبا ڈھائی سو سال تک قبیلہ خزاعہ مکہ پر قابض رہا۔ قصی بن کلاب پہلا شخص ہے جس نے قریش کی بکھری ہوئی طاقت کو دوبارہ منظم کیا اور ۴۸۰ء میں لڑ بھڑ کر خزاعہ سے مکہ کی سرداری چھین لی۔

قصی نے خانہ کعبہ کی مرمت کی۔ رفادہ، سقایہ، حجابہ اور قیادہ کے عہدے قائم کئے ۔ قومی نشان کے طور پر قومی اسمبلی قائم کی جس کو دار الندوہ کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد قدرتی طور پر قصی کو تمام قبائل قریش کی سرداری حاصل ہو گئی۔

قصی کے بعد قریش کی سرداری ان کی اولاد میں جاری رہی ۔ تا ہم تیسری نسل میں قصی کے خاندان میں سرداری پر جھگڑا شروع ہو گیا۔ قصی کا پوتا ہاشم نہایت لائق اور شان دار شخصیت کا آدمی تھا۔ اس نے تجارت کرکے نہ صرف اپنے مال میں اضافہ کیا بلکہ قریش کو بھی بین اقوامی تاجر کے مقام پر پہنچا دیا۔ اس نے اپنے بھائیوں کی مدد سے شاہ غسان، شاہ حبش، امرارمین اور عراق و فارس کی حکومتوں سے تجارتی معاہدے کئے اور خصوصی مراعات حاصل کیں وہ قیصر روم سے یہ پر فانہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ قریش کا تجارتی مال شام وفلسطین میں بغیر کسی ٹیکس کے

داخل ہوتا رہے گا۔ اب قریش کے تجارتی قافلے گرمی کے زمانے میں شام کی طرف جانے لگے، کیونکہ وہ ٹھنڈا اور شاداب علاقہ تھا اور جاڑے میں یمن کی طرف سفر کرنے لگے جو کہ گرم علاقہ ہے۔ (قریش - ۲) ہاشم کے حسن تدبیر سے قریش کی اقتصادیات نے بہت تیزی سے ترقی کی اور نتیجہً سایۂ قبیلہ میں ان کی عظمت قائم ہو گئی۔

ہاشم کی اس عزت و ترقی نے خاندان کی دوسری شاخ کے اندر ان کے خلاف منافست پیدا کر دی۔ بھائی عبد شمس اور ان سے زیادہ ان کے بیٹے امیہ کو ہاشم کی سرداری ناپسند تھی۔ امیہ نے اس کو اپنے چچاسے چھیننے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہو سکے حتیٰ کہ اسی رنج و غم میں وہ ایک بار مکہ چھوڑ کر شام چلے گئے اور دس سال تک وہاں پڑے رہے۔

ہاشم کے بعد دوبارہ ان کے بیٹے عبد المطلب اپنی وجاہت و صلاحیت کی بنا پر قریش کے سردار ہو گئے اور امیہ کی اولاد اس سے محروم رہی، اس طرح سرداری قصی کی ہاشمی شاخ میں چلتی رہی اور اس کی اموی شاخ کو حاصل نہ ہوسکی۔ ھ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار اصحاب کے ساتھ فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ نے ایک موقع پر اپنے چچا عباس سے کہا کہ ابو سفیان کو لے کر راستہ میں کسی گھاٹی پر بیٹھ جائیں تاکہ ابو سفیان، جوید کے بعد قریش کے سب سے بڑے لیڈر تھے، اسلامی فوج کو گزرتے ہوئے دیکھیں۔ حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ ابو سفیان کو لے کر ایک تنگ پہاڑی راستہ کی طرف گئے اور وہاں بیٹھنے کے لئے کہا تو ابو سفیان کو اندیشہ ہوا۔ ان کی زبان سے بے ساختہ نکلا :

غدراً يا بني هاشم بنی ہاشم ! کیا غداری کا ارادہ ہے۔

اس کے بعد جب دس ہزار کی تعداد میں مسلح فوج سامنے سے گزری، تو ابو سفیان پر ہیبت طاری ہو گئی۔ انھوں نے کہا : لقد اصبح ملك ابن اخيک العظيمة عظيما تمھارے بھتیجے کی حکومت آج بہت عظیم ہو گئی۔

خاندان عبد مناف کی ان دو شاخوں میں یہ چپقلش اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ زمانہ جاہلیت میں یمن کا ایک شخص کچھ سودا لے کر مکہ آیا، ایک شخص نے اس کا سودا خریدنے کے لئے لیا اور پھر اس کو نہ قیمت دی اور نہ سودا واپس کیا وہ ایک ٹیلہ پر چڑھ کر چیخنے لگا۔ یہ واقعہ عرب آن کے انتہائی خلاف تھا، چنانچہ بنو ہاشم کے کچھ لوگ اس کی مدد کے لئے اٹھے۔ انھوں نے آپس میں عہد کیا کہ مکہ میں اگر کسی مسافر اور اجنبی کو ستایا گیا تو وہ اس کی پوری حمایت کریں گے۔ بنو ہاشم کے ساتھ اس معاہدہ میں بنو اسد، بنو زہرہ، بنو تیم بھی شریک ہو گئے۔ مگر عبد شمس کا خاندان بنو ہاشم کے خلاف اپنی جلن کی وجہ سے معاہدہ میں شریک نہیں ہوا۔

اس طرح کے واقعات جو تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں، وہ بنوامیہ اور بنوہاشم کے درمیان اسی خاندانی کشمکش کے مظاہر ہیں۔

قصی بن کلاب کے خاندان کی دو شاخوں میں سرداری کی منافست جاری رہی، اکثر چھوٹے چھوٹے جھگڑے بھی یہاں تک کہ ہاشم کے خاندان میں پیغمبر پیدا ہو گئے۔ اب اموی خاندان کی جلن اپنے شباب پر پہنچ گئی۔

پہلے انھوں نے نبوت کی مخالفت کر کے بنو ہاشم کو زیر کرنا چاہا۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام مخالفین کو شکست دے کر مکہ پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ظاہر ہو گیا کہ نبوت کی مخالفت کرنا فضول ہے۔ ان کے لڑکے معاویہ اور دوسرے امویوں نے اسلام قبول کر لیا۔ تاہم یہ احساس لوگوں کے اندر باقی رہا کہ نبوت کے بعد سیاسی اقتدار بنی ہاشم کے ہاتھ میں نہ جانے دیں گے۔

حضرت عمرؓ نے اپنے بعد علیؓ بن ابی طالب کو خلافت کے لئے موزوں ترین شخص سمجھتے تھے۔ مگر اسی اندیشہ کی بنا پر وہ آنجناب کو نامزد نہ کر سکے۔ حضرت عثمان جو خاندان امیہ کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے، ان کی شہادت کے بعد جب حضرت علیؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو بنی امیہ کے لئے یہ بالکل ناقابل برداشت تھا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد قصاص کے مسئلہ نے ان کو فوری طور پر ایک کامیاب سیاسی حربہ دے دیا ۔ اس جذباتی نعرہ پر انھوں نے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد کو اپنے گرد اکٹھا کر لیا۔ اگرچہ وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے کہ خلیفہ چہارم کو منصب خلافت سے تاہم معاویہ بن ابی سفیان بن حرب بن امیہ نے اپنی گورنری سے فائدہ اٹھا کر مملکت اسلامی کے نصف سے زیادہ حصہ کو سیاسی طور پر کاٹ لیا۔ حضرت عثمان کی شہادت کے نام پر عوام میں ایسی آگ بھڑکائی کہ کچھ لوگوں نے مجنونانہ طور پر حضرت علیؓ کو قتل کر دیا۔ جنگ جمل اور جنگ صفین جس میں ۹۰ ہزار مسلمان کٹ گئے اور دس سال کے لئے اسلام کی توسیع کا سیلاب رک گیا ، وہ دراصل امویوں اور ہاشمیوں کی اسی خاندانی لڑائی کا شاخسانہ تھا جس نے پوری ملت مسلمہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

حسن بن علیؓ اس راز کو اچھی طرح سمجھتے تھے یہی وجہ ہے کہ وہ امیر معاویہ کے حق میں خلافت سے دست بردار ہو گئے۔ انھوں نے اپنے چھوٹے بھائی حسین بن علی کو بھی مشورہ دیا کہ خلافت کے معاملہ سے بالکل الگ ہو جائیں کیونکہ لوگ اس کے لئے تیار نہیں ہیں کہ نبوت اور خلافت دونوں کو علوی خاندان میں جمع ہونا برداشت کر لیں۔ مگر حضرت حسین کی رائے یہ تھی کہ حق کے لئے جان دے دینا باطل کے آگے سر جھکانے سے زیادہ بہتر ہے۔ انھوں نے خلافت کی راہ میں اپنی جان دے دی۔ یہ واقعہ ؁۶۱ ھ کا ہے۔

اس کے بعد اموی حکومت قائم ہو گئی۔ مگر بنو امیہ کو بنو ہاشم کے خلاف جو بغض و عناد تھا، وہ ان کے انتظام ملکی میں ظاہر ہوتا رہا۔ حتی کہ ان کا ذہن یہ بن گیا کہ ہاشم کی اولاد کا خاتمہ کر دو تا کہ مستقبل میں کوئی خلافت کا دعوے دار باقی نہ رہے۔ ان وجوہ سے وہ فضا پیدا نہ ہو سکی جس میں بنو ہاشم اپنی سیاسی حق تلفی کو بھول جاتے۔ اندر اندر ان کے دل میں مخالفت کی آگ سلگتی رہی۔ یہاں تک کہ ۱۳۲ھ کے خاتمہ نے یہ دوسرا انقلاب دیکھا کہ بنو عباس نے ایرانیوں کی مدد سے بنوامیہ کا خاتمہ کر دیا۔

بنو امیہ کا فتنہ انتہائی شدید تھا۔ مگر وہ تمام تر سیاسی تھا۔ اس لئے سیاست کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو گیا ۔ بنو ہاشم سے یہ جوابی غلطی ہوئی کہ خلافت کو اپنا حق ثابت کرنے کے لئے انھوں نے خلافت کو عقیدہ کا مسئلہ بنا دیا۔ اس غلطی نے ایک سیاسی قضیہ کو مذہبی حیثیت دے دی اور اس امکان کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا کہ دوسرے سیاسی

جھگڑوں کی طرح یہ جھگڑا صرف وقتی نقصان پہنچائے اور بعد کی نسلوں کے لئے محض تاریخ کا موضوع بن کر رہ جائے ۔ سیاست کو مذہب بنانے کی اس غلطی نے اسلام کو جو نقصانات پہنچائے ان کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ طور پر وضع حدیث کا فتنہ سب سے پہلے اسی محرک کے تحت شروع ہوا ۔ بے شمار حدیثیں دونوں طرف سے گھڑی گئیں ایک طرف بنو ہاشم نے حضرت علی کی فضیلت میں یہ حدیث نکالی :

انا مدینۃ العلم وعلی بابها میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں دوسری طرف فریق ثانی نے ایک روایت گھڑی اور کہا کہ پوری حدیث دراصل اس طرح ہے :

انا مدینة العلم وابوبکراساسها وعمر حيطانها وعثمان سقفها وعلى بابها میں علم کا شہر ہوں، ابو بکر اس کی بنیاد ہیں، عمر اس کی دیوار ہیں، عثمان اس کی چھت ہیں ، علی اس کا دروازہ ہیں اس قسم کی چیزوں سے اسلام کو جو عملی نقصان پہنچا، اس کی تلافی اب ممکن نہیں۔ تاہم یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے اپنی رحمت خاص سے قرآن کو محفوظ کر دیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان جھگڑوں اور ان کے پیدا کردہ فتنوں میں دین حق گم ہو جاتا اور اللہ کے بندے قیامت تک کے لئے بے آمیز سچائی کو جاننے سے محروم ہو جاتے ۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی حدیث نبوی کو ہم ایک طرح کا روز نامچہ اور اس ۲۳ سالہ زندگی کا بولتا ہوا مرقع کہہ سکتے ہیں جو آپ نے نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد اس کرہ ارض پر گزاری۔ یہ محتاط ریکارڈ ہمیں بتاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح زندگی گزارتے تھے اور آپ کے شب و روز کے معمولات کیا تھے ۔ اسی طرح ہم اس سے اخلاق نبوی کی باریکیاں عادات و رجحانات، جذبات و خیالات ، قول و عمل کی وہ تفصیلات جان سکتے ہیں جو ہم عہد ماضی بلکہ حال کی بھی بہت سی معاصر شخصیتوں کے متعلق نہیں جان سکتے ۔ اس کے ذریعہ کوئی بھی انسان اپنے نبی کو اس طرح جان پہچان سکتا ، آپ کی صحبت سے مستفید اور آپ کے انفاس قدسیہ سے فیض یاب ہو سکتا ہے کہ گویا وہ آپ کی مجلس میں حاضر ہے اور آپ کی باتیں سن رہا ہے اور آپ کے ساتھ رہ رہا ہے ۔ یہ طریقہ حفاظت و تعارف ان تمام خطرات و مفاسد سے پاک ہے جو تصویر کشی اور مجسمہ سازی میں پائے جاتے ہیں اور جن کی دہ چھلی امتیں بری طرح شکار جنھوں نے اپنے پیغمبروں اور روحانی پیشواؤں کی یاد قائم رکھنے کے لئے تصویر کشی اور مجسمہ تراشی کا سہارا لیا اور بالآخر کھلی بت پرستی میں ملوث ہوگئیں ۔ (منصب رسالت، ۲۱۱)

لیکن گائے سے زیادہ دودھ لینے کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں ، اسی کے ساتھ خوراک کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ خوراک کا مطلب یہ نہیں کہ گھاس بھوسہ کھلا کر کسی نہ کسی طرح آپ جانور کا پیٹ بھر دیں۔ اس کے لئے متوازن خوراک انتہائی ضروری ہے۔ ہری گھاس ، بھوسہ ، دانہ اور اسی کے ساتھ ضروری مثلاً گائے کی خوراک میں اگر آپ ترنگ شامل نہ کریں تو اس کے دودھ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح کیلشیم اور فاسفورس وغیرہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ ایک ہیکڑ زمین سے ، ادویہ مویشیوں کے لئے سال بھر تک متوازن چارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

خدا نے اپنی اس دنیا میں انسان کے لئے بے حساب امکانات رکھ دیئے ہیں۔ مگر انسان اپنی بے دانشی یا محنت کی کمی کی وجہ سے ملے ہوئے امکانات کا پورا فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔

Printed page