ایک نفسیاتی کم زوری جو
Al-Risala, May 1977, pp. 36–32
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہارا دین ان کے دین سے بہتر ہے اور تم ان سے اور ان کے پیروؤں سے زیادہ ہدایت یاب ہو (نسار - ۵۱) شک اور انکار ہیں مبتلا کردیتی ہے قرآن میں یہود کا کردار بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نبی آخرالزمان کے ظہور سے پہلے وہ آپ کا انتظار کر رہے حق کے مخالفین کا غلبہ دیکھ کر کہتے تھے کہ افسوس اہل حق کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں ۔ دعا کرتے تھے کہ دورِ آخر میں جو مصلحِ اعظم آنے والا ہے، اس کو بھیج دے تاکہ اس کے ذریعہ سے اہل حق کو طاقت ملے اور دنیا میں دوبارہ تیرے سچے دین کا بول بالا ہو۔ مگر جب نبی عربی کی شکل میں وہ مصلحِ اعظم آیا تو انھوں نے آپ کا انکار کر دیا۔ حتی کہ آپ کے مخالف ہو کر آپ کے دشمنوں سے جاملے۔ ابن اسحاق نے ابن عباس کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ غزوہ احزاب سے پہلے قریش، غطفان، بنو قریظہ ، بنو نضیر نے آپ کے خلاف محاذ قائم کر لیا تھا۔ اس سلسلے میں قریش کو ابھارنے کے لئے یہودِ مدینہ کے سرداروں کا ایک وفد اس میں حیی بن اخطب، سلام بن ابی حقیق، ابو رافع، ربیع بن ابی حقیق، ابو عمارہ، ہودۃ بن قیس یہ سب لوگ بنو نضیر سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ مکہ پہنچے تو قریش نے کہا: هولاء احبار اليهود د بنوی نے لکھا ہے کہ جب ابو سفیان نے کعب سے اس کی بابت پوچھا۔ تو کعب نے کہا کہ مجھ سے اپنا دین بیان کرو ابو سفیان نے کہا:
نحن ننز للحجیج الكى ماء ونستقيهم الماء ونقر الضیف ونفك العانی ونصل الرحم و نعمر بیت ربنا ونطوف به ونحن اهل الحرم ومحمد فارق دین آبائه و قطع الرحم وفارق المحرم ودیننا القدیم دین ہم حاجیوں کے لئے بہترین جانور ذبح کرتے ہیں۔ ان کو پانی پلاتے ہیں ، مہمانوں کی عزت کرتے ہیں۔ قیدیوں کو چھڑاتے ہیں، رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں، بیت اللہ کی تعمیر کرتے ہیں، اس کا طواف کرتے ہیں۔ ہم اہل حرم میں اور محمد نے باپ دادا کے دین کو ترک کر دیا اور قطع رحمی کی اور حرم کو چھوڑ دیا۔ ہمارا دین قدیم ہے، محمد کا دین نیا ہے۔ یہ سن کر کعب نے کہا:
والله انتم اهدى سبيلا مما عليه محمد :
خدا کی قسم محمد جس راستہ پر ہیں، اس سے تمھارا راستہ بہتر ہے یہود کے جس کردار کا ذکر قرآن میں ہے، وہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر دور میں ایسا ہو سکتا ہے۔ میں ایسے لوگ پائے جاسکتے ہیں جو اس قسم کی نفسیاتی کمزوری اھل العلم بالکتاب الاولی فاستسلوا ھم ادینا خیر ام دین محمد یہ یہود کے علماء ہیں اور قدیم آسمانی کتابوں کے جاننے والے ہیں ان سے پوچھو کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد کا دین) ۔ علما یہود نے اس سوال کے جواب میں کہا: دینکم خیر من دینه وانتم اھدی منه وممن تبعه کا ثبوت دیں جو یہود سے ظاہر ہوئی تھی ۔ مزید یہ کہ ایسے لوگ جب خود اپنی دعاؤں اور تمناؤں کے خلاف ایک دعوت حق کا انکار کر رہے ہوں گے تو ان کے پاس اپنے رویہ کے درست ہونے کی بہت معقول تو جیہہ موجود ہوگی ۔ ہم اسلاف کے پیرو ہیں، ہم دینی اداروں کے محافظ ہیں۔
خدمت خلق کر رہے ہیں، ہم اتحاد ملت کے علم بردار ہیں وغیرہ اسی کمزوری کی ایک صورت وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر ۴۰ میں کیا گیا ہے۔
فرعون اور موسیٰ کی کش مکش جب آخری مرحلہ میں پہنچ گئی تو فرعون نے ارادہ کیا کہ آنجناب کو قتل کر دے۔ وقت فرعون کے دربار کا ایک شخص کھڑا ہو گیا۔ کی دعوت کو حق پا کر وہ اندر سے ایمان لا چکا تھا مگر ابھی تک اپنے ایمان کو ظاہر یں کیا تھا۔ اب حضرت موسیٰ کے قتل کی بات ہونے لگی تو وہ کھل کر سامنے آگیا اور آپ کی حمایت میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس موقع پر اس رجل مومن نے جو کچھ کہا، اس میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ــــ موسیٰ سے پہلے تمھارے ملک مصر میں یوسف بھیجے گئے۔ انھوں نے کھلی کھلی نشانیاں دکھا کر ثابت کیا کہ وہ بلاشبہ خدا کے رسول ہیں۔ بادشاہ کے خواب کی صحیح تعبیر دے کر تم کو سات سالہ قحط سے بچایا، ایسی برکت اور انصاف والی حکومت قائم کی جو تم نے کبھی اپنے ملک میں نہیں دیکھی تھی، ان کا علم، ان کا اخلاق، ان کی شخصیت تمھارے یہاں ضرب المثل بن گئی۔ تا ہم ان کی زندگی میں تم ان پر ایمان نہ لائے یہاں تک کہ جب خدا نے ان کو اٹھا لیا تو تم کہنے لگے کہ " اب ان کے بعد خدا ایسا کوئی رسول ہرگز نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان سب کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والے اور شبہات میں گرفتار رہنے والے ہیں۔ وہ جو اللہ کی باتوں میں جھگڑتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند ہو نہ یہ اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔ اس طرح اللہ ہر متکبر اور سرکش کے دل پر مہر کر دیتا ہے"
قرآن کا یہ ٹکڑا ایک اعتبار سے حضرت موسیٰ کی دعوت و تاریخ کا ایک صفحہ ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ انسان کی ایک کمزوری کو بتاتا ہے جو اکثر انسانوں کے لئے دعوت حق کو قبول کرنے میں مانع بن جاتی ہے۔ یہ ہے معاصرت کا فتنہ۔ وہ لوگ جو عزت، دولت، آرام، سب چیز بس ابھی دنیا میں حاصل کر لینا چاہتے ہیں، ان کے اندر دھیرے دھیرے ایک نفسیاتی پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر چاہنے لگتے ہیں کہ عزت اور اقتدار سب کا سب انہیں کو مل جائے۔ اس کا فطری نتیجہ ہوتا ہے کہ ان چیزوں میں کسی کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھنا انہیں گوارا نہیں ہوتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی دوسرے کے لئے اگر انہوں نے مان لیا کہ وہ حق پر ہے یا اس کو فکری وعلمی برتری حاصل ہے تو ان کی اپنی حیثیت گھٹ جائے گی۔ یہ چیزیں انہیں اپنے معاصرین کے لئے کوئی کمال تسلیم کرنے میں مانع رہتی ہے۔ ہوئے لوگوں کی بڑائی کے آسانی سے معترف ہو جاتے ہیں مگر زندہ لوگوں کی بڑائی ماننے میں انھیں اپنی بڑائی کا مینار گرتا ہوا دکھائی دینے لگتا ہے۔ اپنے ہم زمانہ لوگوں کو چھوٹا دکھانے کے لئے کبھی کہتے ہیں " اب بھلا ویسے لوگ کہاں پیدا ہوں گے" اگر کوئی کھلی ہوئی نشانی سامنے آجاتی ہے تو لایعنی قسم کی بحثیں چھیڑ کر اس کو غلط یا حقیر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ان کی نفسیاتی کمزوری انھیں ایک دائمی شبہ میں مبتلا رکھتی ہے، وہ اس گمان کے سہارے اپنا عزت کا محل قائم رکھتے ہیں کہ پچھلے بزرگوں کو تو ہم مانتے ہیں۔ شخص ایسا ہے ہی نہیں، ورنہ ہم اس کو بھی مان لیتے" ان کا متکبرانہ مزاج اور ان کی سرکش طبیعت ان کے لئے ایک قسم کی مہر بن جاتی ہے جو کسی معقول بات کو ان کے دل و دماغ میں داخل ہی نہیں ہونے دیتی۔ کھلی کھلی علامتوں کو دیکھ کر بھی وہ اندھے بنے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسی حال میں مر جاتے ہیں۔
صل1ة التسبيح کیفیت سے بھری ہوئی عبادت کا نام ہے نہ کہ کسی لفظ کو تین سو بار دہرانے کا عبداللہ بن مبارک کے استاد عبدالعزیز ابن ابی رواد کا قول ہے :
"جو شخص جنت کا ارادہ کرے اس کو ضروری ہے کہ صلاۃ التسبیح کو مضبوط پکڑے ، تابعین کے دور سے لے کر اب تک کثرت سے لوگ اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کوئی شخص زندگی میں ایک بار بھی اگر صلاۃ التسبیح پڑھ لے تو اس کی نجات ہو جائے گی ۔ یہ عقیدہ بعض روایتوں سے بنا ہے مثلاً ابوداؤد، ابن ماجہ ، بیہقی وغیرہ نے یہ روایت نقل کی ہے: عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال للعباس بن عبد المطلب، یا عباس یا عماہ الا اعطیک الا امنحک الا اخبرک الا افعل بک عشر خصال اذا انت فعلت ذلك غفر الله لك ذنبك اوله وآخره قديمه وحديثه خطأه وعمده صغيره وكبيره سره وعلانيته، ان تصلی اربع ركعات ۔
حضرت عباس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن مطلب سے کہا، اے عباس اے میرے چچا، کیا میں تمہیں ایک عطیہ دوں ، ایک بخشش کروں ، ایک بات کی خبر دوں ، کیا میں تمہیں دس خصلتوں کا مالک بناؤں ۔ جب تم اس کو کرو گے تو خدا تمھارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ پہلے اور پچھلے، نئے اور پرانے، غلطی سے کئے ہوئے اور جان کر کئے ہوئے، چھوٹے اور بڑے پوشیدہ اور علانیہ ، وہ کام یہ ہے کہ تم چار رکعت نماز (صلاة التسبیح) پڑھو ۔
اس کے بعد روایت میں اس مخصوص نماز کی ترکیب بتائی گئی ہے ، وہ یہ کہ الحمد اور سورہ پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ چاروں کلمے سبحان اللہ ، الحمد للہ ، لا اله الا الله ، اللہ ا کبر پڑھے۔ پھر رکوع میں سبحان ربی العظیم کے بعد انھیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھے ۔ رکوع سے کھڑے ہو کر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد کے بعد ان کو دس مرتبہ پڑھے ۔ پھر دونوں سجدوں میں سبحان ربی الاعلی کے بعد ان کو دس دس مرتبہ پڑھے۔ پھر دونوں سجدوں کے درمیان جب بیٹھے تو ان کو دس مرتبہ پڑھے ۔ پھر جب دوسرے سجدہ سے اللہ اکبر کہتا ہوا اٹھے تو کھڑا ہونے کے بجائے بیٹھ جائے اور اس حالت میں دس مرتبہ ان کلمات کو پڑھ کر اللہ اکبر کہے بغیر کھڑا ہو جائے ۔ دو رکعت کے بعد ، اسی طرح چوتھی رکعت کے بعد ان کلموں کو دس دس مرتبہ پڑھے، پھر التحیات پڑھے۔ اس طرح تسبیح الہی کے یہ کلمات ان چار رکعتوں میں تین سو بار ادا کئے جاتے ہیں ۔ اسی طرح کسی قدر فرق کے ساتھ ایک اور طریقہ بھی بتایا گیا ہے ا صلاۃ التسبیح کے سلسلے میں سب سے پہلی قابل لحاظ بات یہ ہے کہ بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا ہے جو حدیث کی سب سے زیادہ مستند کتابیں سمجھی
اگر صحابہ کے زمانہ میں اس کا رائج ہوتا تو ضرور اس کو صحیحین کے اندر جگہ پانا چاہئے۔ وجہ سے بعض علماء کا یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ صلاۃ التسبیح ان نئے طریقوں میں سے ہے جو تبع تابعین کے دور میں رواج ہوئے۔ حتیٰ کہ ذہبی اور ابن جوزی نے صلاۃ التسبیح کی روایتوں کو موضوع قرار دیا ہے۔ کے رواۃ میں احمد بن داؤد کا نام ہے جس پر کذب کا الزام اسی طرح ابن سمعان کا نام ہے جس کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
2 علماء کی ایک تعداد نے صلاۃ التسبیح کی حدیث کا اس بنا پر انکار کیا ہے کہ اتنا زیادہ ثواب صرف چار رکعت پر ناقابل فہم ہے اس حدیث کے جو الفاظ نقل کئے گئے ہیں، ان میں کلام نبوت کی شان نظر نہیں آتی۔ کوئی بھی شخص جس کی نظر احادیث رسول پر ہو، اس کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ آپ کا کلام عام طور پر اس انداز کا نہیں ہوتا جیسا کہ صلاۃ التسبیح کی روایتوں میں دکھائی دیتا ہے۔ راقم الحروف کی تحقیق اس سلسلے میں یہ ہے کہ صلاۃ التسبیح بذات خود بے اصل نہیں۔ کیونکہ خود قرآن میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ اس کی وہ شکل یقینی طور پر بے اصل ہے جس کو نجات کا طلسماتی ذریعہ سمجھ کر عوام اختیار کئے ہوئے ہیں۔ قرآن کی صراحت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو متعدد بار حکم دیا گیا کہ نماز کی تسبیح کرو (ق۔ ۴۰) مگر کسی بھی صحیح روایت سے یہ ثابت ایک عرب کے پاس جب کوئی مہمان آتا ہے اور وہ اس کے سامنے کھانے پینے کی کچھ چیزیں رکھتا ہے تو ”کلوا“ نہیں کہتا بلکہ ”تفضلوا“ کہہ کر کھانا شروع کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ اسی طرح ہندوستان میں مہمان کے سامنے کھانا رکھنے کے بعد ”کھائیے“ نہیں کہتے بلکہ ”برکت دیجیے“ اور ”بخشش کیجئے“ کے الفاظ بولتے ہیں۔ اس کا مقصد صرف مہمان کی عزت و تکریم ہے۔ ایسا نہیں کہ جب کہا جائے تو آدمی عام طریقے سے بیٹھ کر کھائے اور جب ”تفضلوا“ یا ”برکت دیجیے“ کہا جائے تو پہلے وہ تین سو بار لفظ ”طعام“ کا ورد کرے، اس کے بعد کسی خاص انوکھی ہیئت سے بیٹھ کر ایک خاص ڈھنگ سے کھانا شروع کرے اور خاص ڈھنگ سے اس کو ختم کرے۔ کلام کا یہ انداز جو تمام زبانوں میں رایج ہے، اسی پر صلاۃ التسبیح کے معاملہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔ قرآن میں کہیں کہا گیا ہے اقِمِ الصلوٰۃ اور کہیں کہا گیا ہے سبح بالعشی والابکار۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اقامت صلوٰۃ سے کوئی اور نماز مراد ہے اور تسبیح صلوٰۃ سے کوئی دوسری نماز۔ دونوں لفظوں سے وہی عام نماز مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے اور جو ساری عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب پڑھتے رہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کبھی حکم کے پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے نماز ادا کرو کہا جاتا ہے اور کبھی اس کی حقیقت و معنویت کے پہلو پر زور دینے کے لئے نماز کی تسبیح کرو کہہ دیا جاتا ہے۔ یعنی وہ نماز پڑھو جس میں روح صلوٰۃ پوری طرح اترائی ہو۔ معنوں میں خدا کی تسبیح بن گئی ہو جو کہ نماز کا اصل مقصود ہے۔
نہیں کہ آپ نے کبھی اس قسم کی "چار رکعت" نماز پڑھی ہو جو عام طور پر صلاۃ التسبیح کے نام سے مشہور ہے ۔ یہی واقعہ یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ صلوٰۃ تسبیح سے مراد کوئی علیحدہ طریقہ سے ادا کی ہوئی نماز نہیں بلکہ وہی عام نماز ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ پڑھا کرتے تھے ۔ یہ نا ممکن ہے کہ نبی کو خدا کی طرف سے ایک حکم دیا جائے اور وہ اس کی تعمیل نہ کرے۔ کی زندگی میں " صلاۃ تسبیح " کے نام سے کسی علیحدہ نماز کا ثبوت نہیں ملتا تو لازماً ماننا پڑے گا کہ آپ کی وہی نماز آپ کی صلاۃ تسبیح تھی جو روزانہ آپ مسجد میں اور گھر کے اندر ادا فرماتے تھے اور ساری عمر ادا فرماتے رہے۔ تسبیح کی نماز (صلاۃ التسبیح) کوئی پُر اسرار اور انوکھی چیز نہیں۔ ہر نماز صلاۃ التسبیح ہے بشر طیکہ وہ حقیقی کیفیات کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔ یہ اسی قسم کا ایک معاملہ ہے جس کا ذکر دوسرے اعمال شریعت کے سلسلہ میں کیا گیا ہے ۔ شریعت کے جو اعمال ہیں ان میں سے ہر ایک کی ایک ظاہری شکل ہے۔ مگر یہ اعمال اصلاً اپنے ظاہر کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہیں بلکہ اپنی باطنی کیفیات کے اعتبار سے مطلوب ہیں۔ عمل اگر صرف ظاہری ڈھانچہ کی تکمیل کی حیثیت سے ادا کیا جائے تو اس کی کوئی قیمت خدا کی نظر میں نہیں ہوتی۔ مگر اسی عمل کے اندر جب خوف خدا اور فکر آخرت کی روح حج یا روزہ کا نام نہیں ہے۔ ہر وہ حج جو صحیح ہو حج مبرور اسی طرح ہر وہ روزہ جو حقیقی ہو صوم احتساب ہے۔ حقیقت اور کیفیت سے بھری ہوئی نماز کے لئے صرف صلاۃ التسبیح کا لفظ ہی نہیں آیا ہے بلکہ اس کے لئے قرآن میں اور بھی کئی الفاظ آئے ہیں:
صلاۃ وسطیٰ (بقره - ۲۲۸)
صلاة خشوع (مومنون - ۲)
صلاۃ انابت (روم - ۳۱)
صلٰوۃ ذکر (طہ - ۱۴)
صلٰوۃ تسبیح (نور - ۳۶)
تسبیح کے معنی عربی زبان میں پاکی بیان کرنے کے ہیں۔ کے سامنے اس کی بڑائی اور اس کی نعمتوں کے اظہار کو بتانے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس کو ”کرنا“، یا ”پڑھنا“ جیسے الفاظ میں ذکر کیا جائے، دوسرے یہ کہ اس کو تسبیح کے لفظ سے تعبیر کیا جائے۔ اردو میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ ”خدا کا نام لو“ کے بجائے ”خدا کے نام کی پاکی بیان کرو“ کے الفاظ میں ظاہر کرنا۔ اسی دوسرے طریقے کا نام تسبیح ہے۔ اگر صلاۃ وسطی کا یہ مطلب نہیں کہ جب نماز پڑھو تو فلاں ترکیب سے مختلف رکعتوں میں اتنے سو بار ”وسطیٰ وسطیٰ“ کہو یا صلاۃ خشوع اور صلاۃ انابت سے یہ مراد نہیں کہ وقت خاص میں ایک ایسی نماز پڑھو جس میں خشوع اور انابت کے الفاظ کی اتنے سو بار تکرار کی گئی ہو تو صلاۃ تسبیح کا مطلب یہ کیونکر ہوگا کہ اسے نماز پڑھو جس میں تسبیح کا مطلب یہ چیز بن جاتی ہے، اور دوسری چیز بن جائے، یا بھر جائے تو وہ بالکل صحیح ارمانات، رسوم کی دوسری پیرائی بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی پسندیدہ ہو جاتی ہے۔ وجہ ہے کہ تقریباً ہر عمل کے لئے اس قسم کے الفاظ آئے ہیں مثلاً حج مبرور اور صوم احتساب وغیرہ ۔ مبرور یا صوم احتساب کسی پر اسرار طریقہ پر کئے ہوئے کے کلمات مقررہ ترکیب کے تحت تین سو بار دہرائے گئے ہوں۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے تمام تر تسبیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں "صلّوا" (نماز پڑھو) بہت کم کہا اس کے بجائے زیادہ تر أَقِمِ الصَّلَوٰةَ (نماز قائم
کرو) یا سَبِّح بِحمدِ رَبِّک( (اللہ کے نام کی پاکی بیان کرو) جیسے لفظوں میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ تسبیح کسی علیحدہ نماز کا نام نہیں ہے۔ بلکہ ہر اس نماز کا نام ہے جس میں نماز کی حقیقت پوری طرح مجسّم ہو گئی ہو۔ جب کسی نمازی کو یہ توفیق ملے کہ اس کا وجود سراپا اللہ کی عظمت و کبریائی کے تصور میں ڈھل جائے، جب اس کی نماز قرآن کے لفظوں میں صلاۃ سہو (ماعون) یا صلاۃ کسل (دنسار) نہ ہو بلکہ ہمہ تن ذکر اور انابت کی نماز بن جائے، تو اسی کا نام صلوٰۃ التسبیح ہے۔
صلاۃ تسبیح کی مروجہ شکل دراصل ایک کیفی حقیقت کو کیمیائی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش ہے۔ صحیح ہے کہ عوام کے لئے قابل فہم بنانے کے آسان اور تدریجی دوسری طرف بندہ اپنے عجز کا سارا سرمایہ لئے ہوئے اپنے آپ کو اس طرح اس کے آگے ڈال دیتا ہے جہاں زمان و مکان کی تمام قیود ختم ہو جاتی ہیں۔ ڈھانچے کی تمام پابندیاں اضافی معلوم ہونے لگتی ہیں۔ انسان موجودہ دنیا میں رہتے ہوئے ایک اور دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ وہ بندہ رہتے ہوئے رب العالمین سے جا ملتا ہے۔ وہ اس وقت تسبیح خواں نہیں ہوتا بلکہ خود سراپا تسبیح بن جاتا ہے۔ اس کا قیام و قعود اور اس کا رکوع و سجدہ محض جسمانی عمل نہیں رہتا بلکہ اپنے سارے وجود کو خدا کی ہستی میں گم کر دینے کے ہم معنی ہوتا یہ وہ لمحہ ہے جب کہ بندگی اور خدائی کی سرحدیں اتنی قریب آ جاتی ہیں کہ اقامت سے سرا قدم آگے بڑھ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی واقعہ ہے کہ کیفیت کو کمیاتی زبان میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ خصوصاً دینی کیفیات کو کمیاتی الفاظ میں مقید کرنے کی کوشش تو بدعت بھی ہے جو خدا اور رسول کے نزدیک قطعا مقبول نہیں ۔
صلاۃ تسبیح جس کیفی نماز کا نام ہے، اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم اشاراتی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ وہ نماز ہے جب کہ بندے کے اوپر خدا کی عظمت وہیبت کا شدید غلبہ ہوتا ہے۔ نماز میں قرآن کی تلاوت اور تسبیح و دعا کے کلمات اس کے لئے محض کلمات نہیں رہتے بلکہ براہ راست خدا سے عرض و معروض بن جاتے ہیں ۔ بنیادی ڈھانچہ کے اعتبار سے اگر چہ اس وقت بھی آدمی مقررہ نماز ہی پڑھ رہا ہوتا ہے، مگر خدا سے حضوری کا غلبہ اور کیفیات کا امنڈتا ہوا سیلاب ساری رسمیات کو توڑ دیتا ہے۔ اس وقت ایک طرف خدا اپنے تمام جلال و جبروت کے ساتھ اس کے سامنے آجاتا ہے ، اور گویا آخرت سے پہلے بندے نے خدا کو دیکھ لیا ہو۔ صلاۃ التسبیح پوری زندگی کا نذرانہ ہے، نہ کہ چار رکعت نماز کا ایک وقتی کرشمہ۔ یہ نماز اس طرح نہیں پڑھی جاتی کہ آدمی کسی وقت ’’میں نیت کرتا ہوں چار رکعت صلاۃ التسبیح کی‘‘ کے الفاظ بول کر قبلہ رخ کھڑا یہ نماز کسی بندہ خدا کے اندر سے اس وقت ابلتی ہے جب اس کا وجود ہمہ تن خدا کے خوف اور فکر آخرت میں ڈھل گیا ہو، جب اس نے اپنے آپ کو اپنے رب کی رضا کے لئے ملیامیٹ کر ڈالا ہو۔ صلاۃ التسبیح کو ادا کرنے کے لئے خاک و خون کے دریا سے گزرنا پڑتا ہے۔ صرف نماز کی تصغیر ہوگی بلکہ نعوذ باللہ خدائے ذو الجلال کی عظمتوں کا بھی کمتر اندازہ ہوگا اگر اس کو مقررہ کلمات کی چند سو بار تکرار کے ہم معنی سمجھ لیا جائے ــ عبادت بارگاہ الہیٰ میں بندے کا ہدیہ ہے۔ اس کی وہی تعبیر صحیح ہوسکتی ہے جو اللہ العالمین کی عظمت و کمال کے شایانِ شان ہو۔
آٹھ سال پہلے کی الرسالہ کے زیر نظر شمارہ میں صفحہ اول پر جو مضمون درج ہے، وہ پچھلے نومبر ۱۹۷۹ میں لکھا گیا تھا۔ وہ ہمارے پرنٹر پبلشر کے سامنے آیا تو انھوں نے اس کو چھاپنے کی رائے نہ دی۔ انھوں نے کہا: "سنسر شپ کے ذمہ دار اس کو اندرا گاندھی کے خلاف سمجھیں گے اور ہماری شامت آجائے گی"، مگر اس تحریر میں جو بات چھ ماہ پہلے لکھی گئی تھی، وہ آج واقعہ بن چکی ہے۔ سنسر شپ اور ایمرجنسی کے نفاذ سے بھی تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے۔ راقم الحروف نے اپنے دوست شری داس جیون ایم۔ اے (دہلی) کے سامنے سابق وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی سیاست پر کچھ تنقید کی، وہ فوراً بولے: ”ارے صاحب، اندرا جی کو کچھ نہ کہئے، ہم ان کو درگا دیوی کے روپ میں دیکھتے ہیں“ ابھی تھوڑے دنوں پہلے تک یہ حال تھا کہ لوگوں کو یہ بات ناممکن سی نظر آتی تھی کہ اس ملک سے اندرا گاندھی کا اقتدار ختم ہو جائے گا۔ مگر خدا کا قانون جب ظاہر ہوتا ہے تو وہ کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کرتا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے: لن يفلح قوم ولو امراة وہ قوم فلاح نہیں پاسکتی جو عورت کو اپنا حکمراں بنائے اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے راقم الحروف نے ۸ سال پہلے ہفت روزہ الجمعہ (۵ اگست ۱۹۶۹) میں شریمتی اندرا گاندھی کی انتخابی شکست میں لوگوں کو صرف سیاست کا منظر نظر آرہا ہے۔ لیکن اگر دیکھنے والی آنکھیں ہوں تو اللہ تعالی نے اس کے ذریعہ سے لوگوں کو قیامت کا منظر دکھا دیا ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس جے ایم ایل سنہا نے ۱۲ جون ۱۹۷۵ء کو ایک فیصلہ دیا جس میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے الیکشن (۱۹۷۱ء) کو ناجائز قرار دیا گیا تھا۔ مگر اندرا گاندھی کی اولو العزم طبیعت نے ہار نہیں مانی۔ انھوں نے اپنے عہدہ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ۲۵ جون ۱۹۷۵ء کی رات کو ایمرجنسی لاگو کردی۔ اب سارے ملک میں ایک نیا عمل شروع کر دیا گیا۔ تمام ناپسندیدہ افراد جیلوں میں بند کر دیئے گئے۔ جماعتوں کو خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ پریس پر سنسر قائم کر دیا گیا۔ ہر قسم کے اشاعتی ذرائع کو مکمل طور پر سرکاری پروپیگنڈے کے لئے وقف کر دیا گیا۔ عدالت کو ایک آزاد ادارہ کی حیثیت سے ختم کر دیا گیا۔ دستور میں ترمیم کر کے اس کو مکمل طور پر اپنے موافق بنالیا گیا۔ ایسے قوانین جاری ایک مضمون شائع کیا تھا ۔ اس میں کہا گیا تھا : " جب بھی عورتوں کو مطلق اختیار دیا گیا ، انھوں نے ریاست اور قوم کے اندر تباہی برپا کی ہے۔ بہت سے واقعات ہیں جو (لارڈ ایکٹن کے) اس مقولہ کی تصدیق کرتے ہیں کہ " اقتدار بگاڑتا ہے اور کامل اقتدار بالکل بگاڑ دیتا ہے " یہ کامل اقتدار اگر عورتوں کو مل جائے تو