مر گیا مردود فاتحه نه درود
Al-Risala, May 1977, pp. 35–43
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسری طرف ان کی ایک عزیزہ کا انتقال ہوا تو ان کی تاریخ وفات کے لئے یه شعر موزوں هو گیا :
پوچھا جو میں نے غیب سے ہاتف نے دی صدا آرام گاه عابده خلد بریں میں هو اس قسم کے اعدادی لطیفے کتاب الہی سے بھی برآمد کئے جاتے رہے ہیں۔ قاضی بیضاوی نے اپنی تفسیر میں حروف مقطعات کی تقریباً ایک درجن توجیہیں نقل کی ہیں ان میں سے ایک یه بھی هے که حساب جمل کے اعتبار سے قوموں کی عمریں اور ان کی موت اس سے نکلتی ہے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درباری علما رنے اس کی تائید کی تھی ۔ اس طرح اکبر کو باور کرایا گیا کہ قرآنی شریعت کا دور ختم ہوگیا ۔ شریعت کی ضرورت ہے حقیقی اسلام یہ ہے کہ آدمی خدا ہی کو سب سے بڑا سمجھے، اس سے ہر قسم کی امیدیں وابستہ مگر جب دین کی روح کمزور پڑ جاتی ہے تو عملیات زندہ ہوتے ہیں ۔ خدا پر بھروسہ باقی مخصوص قسم کے اعمال میں پر اسرار خواص کا یقین بڑھ جاتا ہے۔ وہ خدا کو مانتے ہوئے خدا کو چھوڑ دیتے ہیں۔ دین اور عملیات میں وہی فرق ہے جو قرآن اور جادو میں ۔
ٹائمز آف انڈیا کے صفحہ اول کی یہ کٹنگ ایک عبرتک مرقع پیش کر رہی ہے۔ ۲۰ مارچ ۱۹۷۷ء تک اس ملک پر جس شخص کا اقتدار اس طرح نا چھایا ہوا تھا کہ عدالت عالیہ بھی اس کے خلاف فیصلہ دینے کی ہمت نہیں کر سکتی تھی۔ جب زوال آیا تو اسی کا یہ حال ہوا کہ ایک معمولی ریٹرننگ افسر نے اس کے الیکشن ایجنٹ کی یہ درخواست مسترد کر دی کہ انتخابی نتیجہ کا اعلان ابھی نہ کیا جائے کیونکہ دد ووٹوں کو دوبارہ شمار کرنے کے لئے پٹیشن داخل کرنا چاہتے ہیں
ہر آدمی ایک فیصلہ کن انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔
ہندوستان کی آزادی سے بارہ سال پہلے ۱۹۳۵ میں جب آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو نے انگریزی جیل میں اپنی آپ بیتی مکمل کی تو اس کے آخر میں انھوں نے لکھا :
" میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہو گا۔ میں کیا ہو گا، اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کر سکتا ۔ کتاب زندگی کے اگلے ورق سر بمہر ہیں ۔ آٹو بائیو گرافی (لندن ۱۹۵۳) صفحہ ۵۹۷ نہرو کی زندگی کے اگلے اور اق کھلے تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیرِ اعظم انسانی آبادی کے چھٹے حصہ پر انھوں نے اپنی ساری عمر بلا شرکت حکومت کی ۔ ان کا اقتدار اتنا مکمل تھا کہ اپنی وزارتی کابینہ کے طاقت ور ترین شخص سردار پٹیل سے جب ان کے اختلافات ہوئے تو ہندوستان کے اس مردِ آہن نے بالآخر نہرو کے آگے ہتھیار ڈال دئے اور لکھ کر دے دیا کہ اختلافی معاملات میں عملاً میں اسی رائے کا پابند رہوں گا جو آپ کی رائے ہو گی ۔ اس قسم کے کامل اقتدار کے باوجود پنڈت نہرو اپنی آخری عمر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ شاید حقیقت کی کچھ اور منزلیں ہیں جہاں تک ان کی رسائی نہ ہوسکی ۔ جنوری ۱۹۶۴ میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانگریس نئی دہلی میں ہوئی تھی۔ اس میں ہندوستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کے بارہ سو ڈئلی گیٹ شریک ہوئے۔ نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا:
” میں ایک سیاست داں ہوں اور مجھے سوچنے کے لئے وقت کم ملتا ہے۔ پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے، کس لئے ہے۔ ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ یہ میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر بناتی ہیں“ (نیشنل ہیرلڈ ۶ جنوری ۱۹۶۴)
پنڈت نہرو کے انتقال کے بعد، ایک مختصر وقفہ کو چھوڑ کر، ہندوستان کا اقتدار دوبارہ ان کی صاحبزادی مسز اندرا گاندھی کے ہاتھ میں آیا اور گیارہ سال دو مہینے تک اتنی شان کے ساتھ انھوں نے حکومت کی کہ لوگ کہنے لگے کہ بیٹی باپ پر بھی بازی لے گئی ہے۔ قدرت نے ان کی سیاسی کتاب کو بھی اس طرح سر مہر کر دیا کہ وہ بھی دوبارہ اسی سوال سے دوچار ہیں جس سے ان کا باپ چالیس سال پہلے دو چار تھا ـــــــــ ” زندگی کیا ہے اور بالآخر آدمی کا انجام کیا ہونے والا تاریخ کے اندر بے شمار سبق ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہر آدمی ایک ایسی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں آدمی کی خوش فہمیاں اس کا ساتھ چھوڑ دیں گی۔ کوئی اقتدار کسی کے کام نہ آئے گا۔ وہاں فیصلہ کا سارا اختیار دوسری طاقت کے ہاتھ میں ہوگا۔ دنیا میں انسان کا انجام آخرت کے اسی انجام کا ابتدائی نمونہ ہے۔ ہر شخص جس کو زندگی کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ انتہائی نادانی کے ساتھ اسی عمل کو دہراتا ہے جو پچھلے تجربہ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔
سورہ طٰہ میں ارشاد ہے کہ پچھلے لوگوں کے حالات میں تمھارے لئے سبق ہے اور قرآن کی دعوت میں ایک مکمل نصیحت نامہ تمھارے لئے بھیج دیا گیا ہے۔ کھلا کھلا حق آجانے کے بعد بھی جو اس سے اعراض کرے، قیامت کے دن اس کو بہت بڑا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ اس دن جب کہ صور پھونکا جائے گا اور خدا تمام مجرموں کو اس طرح گھیر لائے گا کہ ان کی آنکھیں خوف و دہشت سے پتھرائی ہوئی ہوں گی۔ اس وقت دنیا کی زندگی ان کو اتنی حقیر اور مختصر معلوم ہوگی کہ آپس میں چپکے چپکے کہیں گے : ”دنیا میں مشکل سے ہم نے دس دن گزارے ہوں گے “ پھر کوئی بولے گا : ” نہیں، تمھاری دنیا کی زندگی تو بس ایک دن کی زندگی تھی “ جب قیامت آئے گی تو پہاڑوں کو خدا دھول بنا کر اڑا دے گا اور ساری زمین کو ایسا سپیشل میدان بنا دے گا کہ اس میں کہیں کوئی اونچ نیچ دکھائی نہ دے گی۔ اس دن تمام انسان پکارنے والے کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ کوئی کسی قسم کی اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ تمام آوازیں خدا کے آگے پست ہو جائیں گی ۔ سارے لوگ خاموش ہوں گے۔ چلنے کی ہلکی پھسپھسا ہٹ کے سوا تم کوئی آواز نہ سنو گے ۔ اس روز کوئی سفارش کسی کے لئے کار گر نہ ہوگی۔ تمام لوگوں کے سر اس حیّ قیوم کے آگے جھک جائیں گے۔ اس دن وہ شخص نا کام و نامراد ہوگا جو کسی ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہو۔ اور جو خدا پر ایمان رکھنے والا ہو اور نیک عمل کرے ، اس کے لئے کسی قسم کا کوئی خطرہ اس دن نہ ہوگا۔ وزیر داخله چرن سنگھ نے ۳۱ مارچ کو لوک سبھا میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا کہ انٹرنل ایمرجنسی کے نفاذ پر صدر جمہوریہ کے دستخط ۲۵ جون ۱۹۷۵ء کو ہوئے تھے اور مرکزی کابینہ کے سامنے منظوری کے لئے اس کو اگلے دن ۲۶ جون کو پیش کیا گیا۔ یہ دستور کی دفعہ ۳۵۲ (۱) کے صریح خلاف تھا۔ کیوں کہ اس کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ اولا وزراء کی کونسل میں ہونا
وزیر داخلہ کے اس بیان کے بعد جنتا پارٹی کے ممبروں کی طرف سے ”شرم شرم“ کے نعرے بلند ہوئے۔ مگر کانگریس کے بنچوں پر مکمل خاموشی طاری رہی۔ جب تمام آوازیں پست ہو جائیں گی پارٹی کے ممبران اپنی نشستوں پر اس طرح چپ بیٹھے ہوئے تھے جیسے ان کے پاس الفاظ ہی نہ ہوں۔ حالانکہ یہی لوگ ہیں جو ۲۰ مارچ سے پہلے اس طرح بولتے تھے جیسے ڈکشنری کے سارے الفاظ صرف انھیں کے لئے بنائے گئے ہیں۔ کہ انھوں نے اپنے آپ کو ۶۰ کروڑ باشندوں کے اس ملک کا مالک ثابت کرنے کے لئے یہ الفاظ بھی تلاش کئے تھے : ”اندرا از انڈیا، انڈیا از اندرا“ یہ خبر پڑھ کر راقم الحروف کو قرآن کی وہ آیت یاد آگئی
جس میں کہا گیا ہے کہ جب دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور تمام لوگ خدا وند عالم کے سامنے کھڑے کر دئے جائیں گے تو ہر ایک دم بخود ہو گا۔ وہ لوگ جن کے پاس دنیا میں ہر بات کا جواب دینے کے لئے الفاظ کا دفتر ہوا کرتا تھا، وہاں اس طرح خاموش ہوں گے جیسے ان کے منھ میں زبان ہی نہیں۔
آج لوگوں کا یہ حال صرف اتنی سی بات پر ہو رہا ہے کہ اقتدار کی کرسی سے ان کو ہٹا دیا گیا ہے۔ سیاسی اقتدار کے علاوہ زندگی کی تمام سہولتیں اب بھی ان کو پوری طرح حاصل ہیں۔ مگر قیامت کا دن تو وہ دن ہو گا جب کہ لوگوں سے صرف اختیارات ہی نہیں چھینے جائیں گے بلکہ ضرورت اور عیش کے تمام سامان بھی ان سے واپس لے لئے جائیں گے۔ اس وقت آدمی کے پاس اپنے جسم کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔ کیسا سخت ہو گا وہ دن۔ اتنا بڑا ظالم ہے کہ ایک لمحہ پہلے بھی ہوش میں آنے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان کو اس زمین پر مطلق اقتدار حاصل نہیں۔ اس دنیا کا نظام ہم سے ماورا ایک طاقت ور قانون کے تحت چل رہا ہے۔ ہم اگر یہاں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس کی ایک ہی وہ یہ کہ ہم اس بالاتر قانون کے ڈھانچہ میں اپنی زندگی کا نقشہ بنائیں۔ اگر ہم نے اس کو نظر انداز کرکے چلنا چاہا تو ہمارا وہی انجام ہو گا جو ایک انجینیر کا اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ ایک چلتی ہوئی لوہے کی مشین کے اندر اپنا ہاتھ ڈال دے۔ لوہے کی مشین کے مقابلہ میں حقیقت پسندی کا انداز اختیار کرنا کوئی نہیں ہوتا۔ یہی بات عظیم تر مسئلہ کے بارہ میں ہر شخص بھول جاتا ہے۔ مسلم اسپین کی تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں سے ایک کتاب کا نام ہے:
اخبار مجموعہ في فتح الاندلس وذكر امرائها رحمهم الله والحروب الواقعة بها بينهم یہ کتاب غالباً گیارھویں صدی عیسوی میں لکھی گئی اور ۱۸۶۷ء میں پہلی بار مجریط (میڈرڈ) سے شائع ہوئی۔ اموی دور حکومت میں افریقہ کے بربری قبائل کی بار بار بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے اس کا مصنف لکھتا ہے: ”بربری اپنے عُمال کی حرکتوں سے تنگ آکر اکثر بغاوت کر بیٹھتے تھے۔ اس زمانہ میں یہ دستور تھا کہ خلیفہ اور اس کے بیٹوں کو جب ضرورت ہوتی، وہ عُمال طنجہ سے ایسی کھالیں طلب کرتے تھے جو حاملہ بکریوں کا پیٹ چاک کرکے ان کے بچوں سے حاصل کی جاتی تھیں۔ ساتھ یہ شرط بھی لگا دیتے تھے کہ چمڑا شہد کے رنگ کا ہونا چنانچہ اکثر ایسا ہوتا کہ سو سو بکریاں ذبح کی جاتیں اور ان میں ایک چمڑا بھی شرائط کے مطابق نہ ملتا یہ بات بربریوں کی تکلیف اور ان کی برہمی کا باعث
انسان کو جب اقتدار ملتا ہے تو اپنی بڑائی کے زعم میں وہ کیسی کیسی حرکتیں کرتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ اس کے اوپر بھی ایک صاحبِ اقتدار ہے اور عنقریب اس حال میں اس کے یہاں حاضر کیا جائے گا کہ وہ اس کے سامنے بکری سے بھی زیادہ بے زور ہوگا اور ایک مرے ہوئے بچے سے بھی زیادہ بے حقیقت ۔ سب سے عجیب المیہ یہ ہے کہ انسان نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔
لگ خوش ہورہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے کوئی بہت بڑا قلعہ فتح کر لیا ہے۔ گویا فتح مبین دوبارہ نئی شکل میں واپس لوٹ آئی ہے۔ مگر میرا دل غم سے پھٹا جارہا ہے۔ شاید میرے جیسے آدمی کے لئے اب اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ وہ جنگل میں چلا جائے ۔ جنگل کے درخت کسی خدا کے بندے کے لئے زیادہ بہتر ہم نشیں ہیں۔ چڑیوں کے نغموں میں انسانوں کے قہقہوں اور تقریروں سے زیادہ بامعنی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ ایک انتہائی ہولناک قسم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہر اس شخص کا انتظار کر رہی ہے جس کی موت اس حال میں آجائے کہ اس کا خدا اس سے راضی نہ ہو۔ یہ یہی سارے انسانوں کا اصل مسئلہ ہے اور اسی سے تمام قوموں کو آگاہ کرنے کے لئے مسلمان، اس زمین پر خدا کے گواہ بنائے گئے ہیں۔ مسلمان کی فتح یہ ہے کہ وہ صحیح معنوں میں اس حقیقت کا گواہ بن کر لوگوں کے سامنے کھڑا ہو سکے۔ اس کی شکست یہ ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے ۔
مسلمان کے کسی عمل کی قیمت صرف اس وقت ہے جب کہ اس کے رب کے نزدیک اس کا کوئی تعلق گواہی کے نازک کام سے ثابت ہو سکے۔ اس حیثیت سے دیکھنے تو یہ سارے ہنگامے نہ صرف غیر متعلق ہیں بلکہ وہ ہمارے لئے جرم کا درجہ رکھتے ہیں مسلمان کو اس دنیا میں اس لئے کھڑا کیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو آخرت کے عذاب وثواب کی خبر دیں۔ "انقلابی" تحریکوں سے وہ لوگوں کو صرف دنیا کے عذاب و ثواب کی خبر دے رہے ہیں۔ کتاب آسمانی کے حامل گروہ کے لئے اس قسم کی سرگرمیاں بلاشبہ جرم کا درجہ یہ لوگوں کو مسائل آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے بجائے مسائل دنیا کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ یہ الٹی گواہی ہے جو قیامت کے دن ہمارے لئے بہت بڑا وبال بننے اس کی سنگینی ممکن ہے دنیا کی زندگی میں سمجھ میں نہ آئے مگر اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ مرنے کے بعد وہ اس تلخ حقیقت کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھ اگر چہ اس وقت کا دیکھنا ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ پھر دنیوی نتائج کے اعتبار سے بھی اس قسم کے ہنگاموں کی کوئی قیمت نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی سیاسی انقلاب خواہ وہ کتنا ہی کامیاب ہو، وہ صرف اسی کے حق میں مفید بنتا ہے جس نے انقلاب سے پہلے اس کے لئے تیاری کی ہو۔ یہ درس ہم کو دو سو برس پہلے مل چکا تھا۔ مگر حیرت انگیز بات ہے کہ لوگ آج بھی اس سے اتنا ہی بے خبر ہیں جتنا کہ وہ کبھی پہلے تھے۔ آج بھی وہ صرف "انقلاب زندہ باد" جیسے نعروں کے لئے جوش و خروش خود اپنی تعمیر و استحکام کے لئے ان کے اندر کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی جو کہ قوموں کے لئے کرنے کا اصل کام ہے۔
اٹھارویں صدی کے وسط (۷۹۔ ۱۷۷۴ء) میں شاہ ولی اللہ دہلوی نے احمد شاہ ابدالی کے ذریعے ملک کے
سکھوں اور مرہٹوں پر حملے کرائے۔ شاہ اسمٰعیل شہید اور ان کے ساتھیوں نے ۱۸۳۱ء میں سکھ راجہ سے مقابلہ کرتے ہوئے جان دے دی۔ ان کوششوں سے سکھوں اور مرہٹوں کا زور تو کسی درجہ میں ٹوٹ گیا مگر اس کے بعد ۱۸۵۷ء کے انقلاب نے جو چیز برآمد کی، ہماری امیدوں کے برعکس، انگریز تھے نہ کہ دہلی کی مغل سلطنت۔ وقت انگریز زیادہ تیار اور زیادہ منظم تھا۔ اس لئے وہی نئے حالات کا ماسٹر بن سکتا تھا۔
اب انگریزوں کو ختم کرنے کے لئے سو سالہ جدوجہد شروع ہوئی جس میں لاکھوں لوگ قربان ہو گئے۔ ۱۹۴۷ء میں جب تاریخ نے اپنا فیصلہ دیا تو معلوم ہوا کہ نئے انقلاب کے اندر سے نیشنل کانگریس کا راج برآمد ہو گیا ہے، نہ کہ ان لوگوں کا جن کو ہم نے بطور خود شیخ الہند، امام الہند اور مقنن اعظم کے خطابات دے رکھے تھے۔
اس کے بعد تیسرا دور آیا جب کہ نئے حکمرانوں کے تلخ تجربات نے "نان کا نگرس ازم" کی تحریک پیدا کی ہمارے بھائی دوسروں کے ساتھ، اس میں بھی پیش پیش تھے، ۱۹۶۹ء میں اس تحریک کو جزوی طور پر اور ۱۹۷۷ء میں کلی طور پر کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر اس کے بعد جو چیز برآمد ہوئی وہ جنتا کی جمہوریت تھی نہ کہ لوگوں کی خوش گمانی کے مطابق "خیرامت" کے لئے اس کا کھویا ہوا مقام۔ اس قسم کی منفی سیاست اتنی بار دہرائی گئی ہے اور اتنی بار ناکام ہوئی ہے کہ اب اس کو سیاست کہنا ہی، کم از کم میرے جیسے آدمی کے لئے، مشکل معلوم ہوتا ہے۔ اگر اسی کا نام سیاست ہو تو تجھے نہیں معلوم کہ حماقت پھر کس چیز کا نام ہوگا۔ وحید الدین خاں مارچ ۱۹۷۷ء کے الیکشن کے بعد ملک کی سیاست میں جو انقلاب آیا ہے، اس طرح کے انقلابات کی دو بڑی وجہیں قرآن میں بتائی گئی
کبھی اللہ تعالی اپنے کچھ بندوں کے بارہ میں ارادہ فرماتا ہے کہ نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی ان کو غلبہ عطا کیا جائے، اس وقت وہ غالب گروہ کو اقتدار کے مقام سے ہٹا دیتا ہے اور اس کی جگہ اپنے پسندیدہ گروہ کو بٹھا دیتا ہے جو ایک زمین میں کمزور سمجھے جا رہے تھے۔ ملک کے موجودہ حالات میں ایسی کوئی علامت نظر نہیں آتی کہ موجودہ انقلاب کو نصرت الہی کے اس قانون کے ذیل میں شمار کیا جائے۔
دوسری وجہ، اس طرح کے انقلابات کی امتحان اس دنیا میں ہر آدمی امتحان کی حالت میں ہے۔ قومیں اور جماعتیں بھی اپنے اپنے مقام پر اپنا امتحان دے رہی ہیں۔ فرد جب اپنا امتحان دے چکتا ہے تو موت کے فرشتے اس کو دارالعمل سے اٹھا کر دارالجزا میں پہنچا دیتے ہیں۔ اسی طرح کوئی قوم یا جماعت جب علم الہی کے مطابق اپنے امتحان کی مدت پوری کر لیتی ہے تو اس کو میدانِ عمل سے ہٹا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسرے فریق کو کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ وہی سنت جو اس سے پہلے مغلوں اور انگریزوں کے حق میں ظاہر ہوئی تھی اب نہرو خاندان کے حق میں ظاہر یہ امتحان کا معاملہ ہے نہ کہ انعام کا۔
ظفر الاسلام خان ایک عیسائی پادری کا قبولِ اسلام مصر کے ابراہیم خلیل فلپس اسلام لانے سے پہلے ایک اہم پادری شمار کئے جاتے تھے۔ انھوں نے مصری عیسائی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ۱۹۵۲ میں پرنسٹن یونیورسٹی (امریکہ) سے مسیحی علوم میں ایم۔ امریکہ سے واپسی پر وہ اسیوط کے کلیتہ الہوت میں پروفیسر ہوگئے۔ ان کا کام اسلام کے بارے میں اپنے طلبہ کو تیار کرنا تھا جو کہ کالج سے فارغ ہو کر پادری کی حیثیت سے مشرقی کنیسہ (مصر و حبشہ) کے لئے کام تدریس کے دوران ان کو یہ خیال ہوا کہ کیوں نہ مستشرقوں پر اعتماد کرنے کے بجائے وہ خود اسلام کا مطالعہ کریں تاکہ اس پر طعن و تشنیع بہتر طریقے سے لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ خود ان کے الفاظ میں: ’’نتیجہ کیونکہ میرا ایمان متزلزل ہونے لگا اور مجھے یوں محسوس ہونے لگا گویا میرے دل و دماغ میں کش مکش پیدا ہوگئی ہے۔ مجھے پتہ چلا کہ جو کچھ میں نے پہلے پڑھا اور پڑھایا تھا وہ سب محض تحریف اور جھوٹ تھا۔ 1954میں ابراہیم خلیل کو جرمن سوئس مشن کا مصر میں سیکرٹری جنرل بنا کر اسوان بھیج دیا گیا جہاں ان کا اصل کام اُس علاقے کے مسلمانوں کو عیسائی بنانا تھا۔ میں اگلے سال (۱۹۵۵) کی ایک شام کو ریڈیو سنتے ہوئے ابراہیم خلیل نے سورہ جن کی ابتدائی آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: کہو میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنات میں سے ایک گروہ نے قرآن کو سنا۔ پھر اپنی قوم سے جاکر کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو راہِ راست بتاتا ہے۔ سو ہم اس پر ایمان لے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے۔ ان آیتوں نے ان کے دل و دماغ میں ایک آگ لگادی اور انھوں نے اسی وقت قرآن شریف پڑھنا شروع کیا اور اگلی صبح تک پڑھتے ہی رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس آیت شریفہ تک پہنچے: اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَهُ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَهُمۡ فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ یَاۡمُرُهُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الْخَبَائِثَ وَيَضَعُ عَنۡهُمۡ اِصۡرَهُمۡ وَ الۡاَغۡلَالَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالۡـذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِهٖ وَ عَزَّرُوۡهُ وَ نَصَرُوۡهُ وَ اتَّبَعُوۡا النُّورَ الَّذِیۡ اُنۡزِلَ مَعَهٗ ۙ اُولٰٓئِکَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ وہ لوگ جو رسول نبی اُمّی کی پیروی کرتے ہیں جن کو وہ اپنے پاس توریت وا نجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے منع کرتا ہے اور وہ مصر کے ایک بڑے عیسائی پادری تھے۔ اسلام کا مطالعہ انھوں نے مستشرقین کی کتابوں کے ذریعہ کیا تھا۔ پھر ان کو خیال ہوا کہ اسلام کو براہ راست سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ جب انھوں نے اسلام کو قرآن و حدیث سے سمجھنے کی کوشش کی تو وہ اس کی باتوں سے اتنا متاثر ہوئے کہ اسلام قبول کر لیا۔
پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے حلال بتاتا ہے اور گندی چیزوں کو ان پر حرام کرتا ہے اور ان کے اوپر جو بوجھ اور طوق تھے، ان کو اُن سے دور کرتا ہے۔ سو جو لوگ ان رسول پر ایمان لائے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس کی مدد اور اس نور کا اتباع کرتے ہیں جو اس کے ساتھ بھیجا گیا ہے، ایسے لوگ ہی کامیاب ہونے والے ہیں (۱۵۷ : ۷)
اس آیت کو پڑھ کر انھوں نے اپنی زندگی کا اہم ترین فیصلہ کر لی۱۔ محمد صبح کو انھوں نے اپنی بیوی کو بتایا کہ انھوں نے طے کر لیا ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں ۔ وہ بھاگی بھاگی اسوان میں مسیحی مشن کے صدر کے پاس گئی جو کہ شاؤٹز نامی ایک سوئس آدمی تھا۔ اس نے گھبرا کر ان سے سوال کیا کہ کیا آپ کی بیوی کا کہنا درست ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ بالکل ٹھیک ہے۔ شاؤٹز نے اس کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن جب کامیاب نہ ہو سکا تو یہ کہتے ہوئے چلا گیا کہ آج سے اپنے آپ کو کام سے برخاست سمجھو ۔ اسی کے ساتھ ساتھ شاؤٹز نے سارے اسوان میں یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ ابراہیم خلیل پاگل ہو گئے ہیں۔ ابراہیم خلیل کو وہاں کے عیسائیوں نے اس قدر پریشان کیا کہ وہ اسوان چھوڑ کر یہاں وہ اسٹینڈرڈ اسٹیشنری کمپنی میں ڈیٹی نہ ہٹے اور مصری قانون کے مطابق گورنریٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنے یقین وارادہ کا اظہار کیا اور آخر کار ۳۱ مئی ۱۹۶۰ء کو باقاعدہ طور پر ابراہیم خلیل فلپس سے ابراہیم خلیل احمد ہو گئے ۔
اسلام لانے کے بعد جذبہ ایمانی سے سرشار ابراہیم خلیل نے مصری مسجدوں اور کالجوں میں تقریریں کرنا اور کتابیں لکھنا شروع کر دیں جن میں وہ اسلام کے محاسن بیان کرتے اور لوگوں کو استشراتی ومسیحی خیالات سے آگاہ کرتے۔ کوششوں سے بہت سے عیسائی نوجوانوں کو نور ہدایت ملا۔ ان کی سرگرمیوں سے پریشان ہو کر مصری کنیسہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کو روکا جائے۔ اس مرحلہ پر بات آجانے سے مصری وزارت داخلہ نے انھیں بلاک تنبیہہ کی اور انھیں وطنی اتحاد کے قانون (قانون الوحدة الوطنية) کی زد میں آنے کی دھمکی دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی۔ اس وجہ سے وہ سعودی عرب ہجرت کر گئے جہاں وہ کلیة الدعوة وأصول الدین میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں ۔